اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

اکٹرس

ایک شہرۂ آفاق بنگالی اہل قلم کے دلکش اور سبق آموز فسانہ کو ہندی کے واسطہ سے عالمگیر کے لئے اردو میں پیش کیا جاتا ہے۔ اردو عبارت کے لطف کے خیال سے ترجمہ میں لفظی پابندی نہیں کی گئی۔ (ابو محمد امام الدین)1

دوارکا پرشاد کے سہ منزلہ مکان کے بالائی حصہ میں ان کے لڑکے گوپی ناتھ کی بیوی رہتی ہے۔ سونے کے کمرے کے جنوبی دروازہ کے سامنے گملوں میں بیلا اور گلاب کے پودے لگے ہوئے ہیں۔ چھت کے اوپر چہار جانب اونچی دیواریں گھری ہوئی ہیں۔ جن میں باہر کے مناظر دیکھنے کے لئے جالیاں چھوڑ دی گئی ہیں۔ سونے کے کمرے کے اندر ولایتی عورتوں کی خوبصورت تصویریں آویزاں ہیں۔ دروازے کے سامنے لگے ہوئے قدم آدم آئینہ میں داخل ہوتے وقت گھر کی مالکہ کا جو عکس پڑتا ہے۔ وہ بھی خوبصورتی میں کسی تصویر سے کم نہیں ہوتا۔

گوپی ناتھ کی بیوی کا نام موہنی تھا۔ موہنی کا حسن روشنی کی شعاعوں کی طرح حیرت انگیز منظر کی طرح نیند کھلنے پر ہوش کی طرح یکبارگی آنکھوں کے آگے آ کر ایک ٹکر مارتا ہے۔ اس کے دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا میں اسے دیکھنے کے لئے پہلے سے تیار نہ تھا۔ ہمیشہ سے جو صورتیں ہر طرف نظر آتی ہیں۔ گویا ان سے وہ ایک علیحدہ صورت ہے۔ جھنکار میں، ہنسنے میں، دیکھنے میں غرض ہر شے اور ہر ادا میں گویا ایک قسم کا جادو بھرا ہوا ہے۔ اور وہ جوانی کے نشہ میں سرشار رہتی ہے۔

وہ اکثر ایک ہلکے رنگ کی ریشمی ساڑھی باندھے ہوئے چھت کے اوپر بلا ضرورت ادھر ادھر کبک‌چکور کی طرح خرام ناز کرتی رہتی ہے۔ جیسے اس کے روح کے کسی غیر محسوس نغمہ کی ہر لے پر اس کے تمام اعضاء رقص کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کو اپنے اعضاء کے طرح طرح سے ہلانے، گردش دینے اور مٹکانے میں ایک خاص لطف آتا ہے۔ گویا وہ اپنے لبریز شباب جسم میں ہر طرف ایک ہلچل برپا کر کے گردش کرتے ہوئے خون کے غیر معمولی جوش و خروش کا تجربہ کرنا چاہتی ہے۔ وہ ٹہلتے ٹہلتے کسی پودے سے پتا توڑتی ہے۔ اور دائیں ہاتھ سے مل کر اسے اوپر اچھال دیتی ہے۔ جس کے ساتھ ہی اس کی چوڑیاں بج اٹھتی ہیں اور آنچل کھسک جاتا ہے اور اس کے اس موزوں اور گول ہاتھ کی ادا پنجرے سے اڑتے ہوئے پرند کی طرح فضا کی سمت اڑ جاتی ہے۔ یکایک وہ گملے سے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھا کر بیکار ہی ایک طرف پھینک دیتی ہے۔ پیروں کی انگلیوں کے سہارے اچک کر جالیوں کے باہر کے سین کو ایک مرتبہ دیکھ لیتی ہے۔ پھر چکر کاٹتی ہوئی آنچل میں بندھی ہوئی کنجیوں کے گچھے کو نچاتی بجاتی کمرے میں چلی جاتی ہے۔

وہ کبھی کبھی آئینے کے سامنے بندھے ہوئے جوڑے کو فضول کھول ڈالتی ہے۔ اور بے وقت ہی اسے باندھنے بیٹھ جاتی ہے۔ جوڑے بالوں میں ڈوری گوندھ کر دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھا کر جوڑا باندھتی ہے۔ جب کوئی کام نہیں رہتا۔ تو کسل کے مارے جا کر پلنگ پر لیٹ جاتی ہے۔ اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا چاندنی پلنگ پر پھیلی ہوئی ہے۔

موہنی کو ابھی اولاد نہیں ہوئی ہے۔ وہ رئیس کی لڑکی ہے اور رئیس ہی کی بیوی ہے۔ گھر میں اس کے لئے کوئی خاص کام کرنے کو نہیں ہے۔ وہ گویا ان سب سے مبرا اکیلی لگاتار اپنی جوانی کو اپنے اندر جمع کر رہی ہے۔ اور اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جوانی اس کے سنبھالے نہیں سنبھلتی۔ شوہر ہے لیکن اس کے بس میں نہیں ہے۔ بچپن ہی سے ایسی حسین مستِ شباب موہنی نہیں معلوم اپنے شوہر کو کیوں اپنے قابو میں نہیں کر سکتی۔

بلکہ لڑکپن میں جب شادی ہوئی تھی۔ گوپی ناتھ موہنی کو چاہتا تھا۔ اس وقت وہ سکول سے بھاگ کر سوتے ہوئے بڑے بوڑھوں کی آنکھ بچا کر تنہا مقام میں دوپہر کو اپنی کمسن بیوی سے ملنے آتا تھا۔ ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود رنگین بیل بوٹے دار لیٹر پیپر پر موہنی کو خط لکھا کرتا تھا۔ موہنی بھی شوہر کو خوش کرنے کے لئے خطوط کا جواب لکھا کرتی تھی۔ اپنے سکول دوستوں کو وہ خط دکھا کر گوپی ناتھ پھولا نہیں سماتا تھا۔ چھوٹی چھوٹی فرضی باتوں پر دونوں آپس میں روٹھ بھی جاتے تھے۔

اسی درمیان میں دوارکا پرشاد مر گئے۔ اور گوپی ناتھ خود مختار ہو گیا۔ کچی لکڑی میں جلد گھن لگ جاتا ہے۔ خام حالت میں گوپی ناتھ آزاد ہو گیا۔ تو بہت سے کیڑے مکوڑوں نے آ کر اسے گھیر لیا۔ آہستہ آہستہ اندر کا جانا کم ہو چلا۔ کیونکہ گوپی ناتھ کو باہر ہی کے گھومنے سے فرصت نہ تھی۔

کسی جماعت کی امارت ہو۔ اس کا ایک نشہ ہو جاتا ہے۔ آدمی کو آدمی کا نشہ بڑا بے ڈھب ہوتا ہے۔ بے شمار انسانوں کے دلوں پر اور تاریخ کے صفحات پر اپنا سکہ جمانے کا جیسا نشہ نپولین کو تھا۔ اسی طرح ایک چھوٹی سی نشستگاہ میں بیٹھے ہوئے نوجوان رئیس کو بھی اپنے چھوٹے سے گروہ پر اپنا اثر ڈالنے کا نشہ ہو سکتا ہے۔ دونوں نشے ایک ہی حیثیت کے ہیں۔ اپنے گرد و پیش ناکارے خوشامدی خود غرض مصاحبوں کو جمع کر کے ان پر سیادت قائم کرنے اور ان کی زبان سے جھوٹی واہ واہ سننے کے لئے ایک قسم کا جوش پیدا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں بہت سے لوگ صحبت کے مزے اڑانے کے لئے گھر پھونکنے، مقروض ہونے اور سر پر فضیحت کی گٹھڑی لینے کو بھی تیار ہو جاتے ہیں۔

گوپی ناتھ ایسے ہی دوستوں کے گروہ کا میر مجلس بن کر اپنے کو بھول گیا۔ وہ دوستوں سے اپنی تعریف سننے کے لئے روزانہ ایک نئے کرشمے میں صدہا روپے برباد کرنے اور دوستوں کا گھر بھرنے لگا۔ یار لوگ کہنے لگے کہ دنیا میں کھانے اور کھلانے کے سوا ہے کیا۔ جس نے یہ نہ کیا وہ گویا دنیا میں پیدا ہی نہیں ہوا۔ اچھا اس معاملہ میں تو دور دور تک ہمارے سیٹھ جی کا مقابلہ کرنے والا نہیں نکل سکتا۔ اس قسم کے بڑھاوے میں آ کر گوپی ناتھ روز و شب اپنے باپ کی دولت اور عزت خاک میں ملانے لگا۔

اس طرف موہنی اپنے تمام عالم فتح کر لینے کی طاقت رکھنے والے حسن کو لئے ہوئے گھر کے اندر سونے کے تنہا کمرے میں اکیلی پڑی رہتی ہے۔ وہاں سے اٹھ کر ادھر ادھر ٹہل کر پتے توڑ کر مٹی کے ڈھیلے پھینک کر انگڑا کر ،ججا کر، باہر جھانک کر اپنی طبیعت کی شوخی کا اظہار کرتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ قدرت نے اس کو حسن کی سلطنت دی ہے۔ وہ سمجھتی تھی کہ جالیوں کے سوراخوں کے باہر جو وسیع دنیا نظر آتی ہے۔ اس کو ایک وار میں فتح کر لینے کی اس میں قوت ہے لیکن افسوس کہ وہ اس دنیا میں ایک شخص کو بھی اپنے قبضہ میں نہیں کر سکی۔

موہنی کی ایک خوش طبع کہارنی ہے۔ وہ دن بھر اس کے پاس رہتی ہے۔ اس کا نام گلبیا ہے۔ وہ گاتی تھی بجاتی تھی۔ ناچتی تھی نوٹنکی کے چوبولے2 کہتی تھی۔ مالکہ کے حسن کی تعریف کرتی تھی۔ وہ اکثر یہ کہہ کر افسوس ظاہر کیا کرتی تھی کہ ناقدرے کے ہاتھ پڑ کر ایسی جوانی اور ایسی خوبصورتی بیکار ہی ضائع ہو جاتی تھی۔ گلبیا کے بغیر ایک منٹ بھی موہنی نہیں رہ سکتی تھی۔ الٹ پلٹ کر سوال پر سوال کر کے وہ گلبیا کے منہ سے اپنے چہرے کی خوبصورتی، بدن کی موزونی اور رنگ کی صفائی وغیرہ کی تعریف سنا کرتی تھی۔ اور درمیان درمیان میں اس کی تردید بھی کرتی جاتی تھی۔ اور دل ہی دل میں مسرور ہو کر گلبیا کو جھوٹی خوشامدن کہنا بھی نہیں بھولتی تھی۔ اس وقت گلبیا صدہا قسمیں کھا کھا کر اپنے قول کی تائید کرنے لگتی تھی۔ موہنی کو اس طرح اپنی تعریف سننے کی عادت ہو گئی تھی۔

گلبیا موہنی کو گانا سنایا کرتی تھی۔

چرن تیرے ہیہ میں رہت میری پیاری

اتی اوکہار جان جئے اپنے راکھے ہر دئے منجھاری

بنا دام کے ہے گلام یہ ناگر رسک بہاری

(اس میں شاعر نے یہ منظر دکھانے کی سعی کی ہے کہ عاشق اپنے معشوق کے پیروں کو پیار کر رہا ہے۔ اور انتہائے پیار میں کہہ رہا ہے کہ میں نے تمہارے پاؤں کو حد سے زیادہ نازک سمجھ کر ان کو اپنے دل میں رکھ لیا ہے۔ اور میں تمہارا بے دام کا غلام ہو گیا ہوں۔)

اس گانے میں اپنے مہاور3 سے مزین نازک پیروں کی تعریف و توصیف سن کر تصور کے ذریعہ سے موہنی کے دل میں اس کے پیروں پر لوٹتے ہوئے ایک بے دام کے غلام کی تصویر کھینچ جاتی تھی۔ لیکن افسوس وہ دونوں پیر سونی چھت پر پازیب کی جھنکار کرتے ہوئے ادھر ادھر چکر لگایا کرتے ہیں۔ پھر بھی اپنی خواہش سے بکا ہوا کوئی بے دام غلام انہیں اپنے دل میں نہیں رکھتا۔