خط (1) — 6 اکتوبر 1911ء (جلد اوّل، خط 82)
لاہور
6؍ اکتوبر 11ء
مخدوم و مکرّم جناب قبلہ سیّد صاحب۔ السلام علیکم
کل ظفر علی خاں صاحب سے سُنا تھا کہ جناب کو چوٹ آگئی۔ اسی وقت سے میرا دل بے قرار تھا اور میں عریضہ خدمتِ عالی میں لکھنے کو تھا کہ جناب کا محبّت نامہ ملا۔ دست بدعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس تکلیف کو رفع کرے اور آپ کو دیر تک زندہ رکھے، تاکہ ہندوستان کے مسلمان اُس قلب کی گرمی سے متاثر ہوں جو خدا نے آپ کے سینے میں رکھا ہے۔
میں آپ کو اُسی نگاہ سے دیکھتا ہوں جس نگاہ سے کوئی مرید اپنے پیر کو دیکھے اور وہی محبّت و عقیدت اپنے دل میں رکھتا ہوں۔ خدا کرے وہ وقت جلد آئے کہ مجھے آپ سے شرفِ نیاز حاصل ہو اور میں اپنے دل کو چیر کر آپ کے سامنے رکھ دوں۔ لاہور ایک بڑا شہر ہے لیکن میں اِس ہجوم میں تنہا ہوں۔ ایک فردِ واحد بھی ایسا نہیں جس سے دل کھول کر اپنے جذبات کا اظہار کیا جا سکے۔
|
طعنہ زن ہے ضبط اور لذّت بڑی افشا میں ہے |
ہے کوئی مشکل سی مشکل راز داں کے واسطے |
لارڈ بیکن1 کہتے ہیں ’’جتنا بڑا شہر ہو اتنی ہی بڑی تنہائی ہوتی ہے‘‘2 سو یہی حال میرا لاہور میں ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ ماہ میں بعض معاملات کی وجہ سے سخت پریشانی رہی اور مجھے بعض کام اپنی فطرت اور طبیعت کے خلاف کرنے پڑے اور ان ہی میں طبعِ سلیم میرے لیے شکنجے کا کام دے گئی۔ کیا خوب کہا گیا ہے عرفیؔ:
|
رُستم ز مدّعی بقبولِ غلط ولے |
در تابم از شکنجۂ طبعِ سلیمِ خویش3 |
ناتمام نظم کے اشعار آپ نے پسند فرمائے۔ مجھے یہ سن کر مسرت ہوتی ہے کہ آپ میرے اشعار پسند فرماتے ہیں۔ ’’غرّۂ شوال4‘‘ پر چند اشعار لکھے تھے۔ زمیندار اخبار کے عید نمبر میں شائع ہوئے اُن کو ضرور ملاحظہ فرمائیے۔ میں نے چند اشعار آخر میں ایسے لکھے ہیں کہ ترکی و اٹلی کی جنگ نے اُس کی تصدیق کر دی ہے۔ اگر زمیندار اخبار آپ تک نہ پہنچا ہو تو تحریر فرمائیے، بھجوا دوں گا۔
خواجہ حسن نظامی واپس تشریف5 لے آئے۔ مجھے بھی اُن سے محبّت ہے اور ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتا ہوں۔ خدا آپ کو اور مجھ کو بھی زیارتِ روضۂ رسولؐ نصیب کرے۔ مدّت سے یہ آرزو دل میں پرورش پا رہی ہے۔ دیکھیے کب جوان ہوتی ہے۔ شیخ عبدالقادر لائل پور میں سرکاری وکیل ہو گئے۔ اب وہ لاہور سے وہاں چلے گئے۔ کچھ دن ہوئے یہاں آئے تھے مگر ان سے نہ مل سکا۔ آرڈر6 قائم کرنے کا خیال تھا اور اب تک ہے مگر اس راہ میں مشکلات بے حد ہیں اور سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس مذاق کے لوگ کہاں ہیں۔ بہرحال میں ہم خیال پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف ہوں اور کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں دیتا۔ آپ دعا کریں۔
خیریت مزاج سے مطلع کیجیے۔ مجھے اس خط کے جواب کا انتظار رہے گا۔ خدا آپ کو صحتِ کامل کرامت فرمائے۔
دعا گو محمد اقبال۔ بیرسٹر۔ لاہور
(اقبال نامہ)
خط (2) — 9 نومبر 1911ء (جلد اوّل، خط 85)
لاہور
9؍ نومبر 11ء
مخدومی السّلام علیکم۔ آپ کے دونوں نوازش نامے یکے بعد دیگرے موصول ہوئے۔ الحمدللہ کہ جناب خیریت سے ہیں۔
ترکوں کی فتح کا مژدۂ جانفزا پہنچا۔ مسرت ہوئی۔ مگر اس کا کیا علاج کہ دل کو پھر بھی اطمینان نہیں ہوتا۔ معلوم نہیں روح کیا چاہتی ہے اور آنکھوں کو کس نظارے کی ہوس ہے۔ میں ایک زبردست تمنّا کا احساس اپنے دل میں کرتا ہوں گو اس تمنّا کا موضوع مجھے اچھی طرح سے معلوم نہیں۔ ایسی حالت میں مجھے مسرت بھی ہو تو اس میں اضطراب کا عنصر غالب رہتا ہے۔ لاہور کی بستی میں کوئی ہمدمِ دیرینہ نہیں۔ نام و نمود پر مرنے والے بہت ہیں۔ قومی جلسوں سے بھی پہلو تہی کرتا ہوں۔ ہاں آپ کے خطوط جو میرے پاس سب محفوظ ہیں بار بار پڑھا کرتا ہوں اور تنہائی میں یہی خاموش کاغذ میرے ندیم ہوتے ہیں۔ کئی دفعہ ارادہ کیا ہے کہ آپ کی خدمت میں استدعا کروں کہ خط ذرا لمبا لکھا کیجے مگر میں خود لمبا خط لکھنے سے گھبراتا ہوں۔ پھر میرا کوئی حق نہیں کہ آپ کو لمبا خط لکھنے کی زحمت دوں۔ یہ ایک قسم کی روحانی خود غرضی ہو گی جس کا ارتکاب میرے نزدیک گناہ ہے۔ آپ کی ملاقات کے لیے دل تڑپ رہا ہے۔ خدا جلد کوئی سامان پیدا کرے۔ کیا آپ دربار کے موقع پر دہلی تشریف لائیں گے؟ زمیندار میں یہ پڑھ کر نہایت افسوس ہوا کہ ’’اُردو شاہنامہ‘‘ تلف ہو گیا۔ جو شعر اس میں سے شائع ہوئے ہیں وہ بڑے زور کے ہیں۔
|
رگِ موج سے خون جاری کریں |
اس مصرع پر تو فردوسی اور نظامی بھی رشک کرتے۔ ہاشم7 طال عمرہٗ8 کو میری طرف سے بہت بہت پیار کیجیے۔ میری روح کو اس نام سے ایک خاص تعلّق9 ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کی عمر دراز کرے اور دین دنیا میں اسے بامراد کرے۔ سکول کی خواندگی میں اُس کا وقت ضرور ضائع ہوتا ہو گا۔ مگر باوجود اس کے کس قدر خوش نصیب لڑکا ہے کہ پیرانِ مشرق سے فیض کی نظر لے رہا ہے۔ یہی نظر صبغۃ اللہ ہے و احسن فی صبغۃ اللہ10
اب کوئی دن جاتا ہے کہ پیرانِ مشرق دنیا میں نہ رہیں گے اور آیندہ زمانے کے مسلمان بچّے نہایت بدنصیب ہوں گے۔
میاں ہاشم! اب وقت ہے اس کی قدر کرنا اور جو کچھ پیرِ مشرق سے لے سکتے ہو لے لینا۔ یہ وقت پھر نہیں آئے گا۔ اس تربیت کے فیض سے زندگی بھر تمہاری روح لذّت اُٹھائے گی۔
خادم محمد اقبال
لاہور
(اقبال نامہ)
خط (3) — 16 جولائی 1914ء (جلد اوّل، خط 114)
لاہور 16؍ جولائی 14ء
مخدوم و مکرم حضرت قبلہ مولانا۔ السّلام علیکم
آپ کا نوازش نامہ ابھی ملا جس کو پڑھ کر بہت مسرّت ہوئی۔ حضرت! میں آپ کو اپنا پیر و مرشد تصوّر کرتا ہوں۔ اگر کوئی شخص میری مذمّت کرے جس کا مقصد آپ کی مدح سرائی ہو تو مجھے اس کا مطلق رنج نہیں بلکہ خوشی ہے۔ جب آپ سے ملاقات اور خط و کتابت نہ تھی اس وقت بھی میری ارادت و عقیدت ایسی ہی تھی جیسی اب ہے اور ان شاء اللہ جب تک زندہ ہوں ایسی ہی رہے گی۔ اگر ساری دنیا متفق اللّسان ہو کر یہ کہے کہ اقبال پوچ گو ہے تو مجھے اِس کا مطلق اثر نہ ہوگا کیوں کہ شاعری سے میرا مقصد بقول آپ کے حصولِ دولت و جاہ نہیں محض اظہارِ عقیدت ہے۔
عام لوگ شاعرانہ انداز سے بے خبر ہوتے ہیں اُن کو کیا معلوم کہ کسی شاعر کی داد دینے کا بہترین طریق یہ ہے کہ اگر داد دینے والا شاعر ہو تو جس کو داد دینا مقصود ہو، اُس کے رنگ میں شعر لکھے۔ یا بالفاظِ دیگر اُس کا تتبّع کر کے اُس کی فوقیّت کا اعتراف کرے۔ میں نے بھی اِس خیال سے چند اشعار آپ کے رنگ میں لکھے ہیں، مگر عوام کے رجحان اور بدمذاقی نے اس کا مفہوم کچھ اور سمجھ لیا اور میرے اِس فعل سے عجیب و غریب نتائج پیدا کر لیے۔ سوائے اس کے کیا کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سمجھ عطا کرے۔ نقّاد کو جو خط آپ نے لکھا ہے۔ میں اُسے شوق سے پڑھوں گا۔ اگر وہ شائع ہو جائے تو رسالہ کی کاپی بھیج دیجیے گا۔ میرے پاس نقّاد نہیں آتا۔
سبحان اللہ
|
غم بڑا مدرکِ حقائق ہے |
زندگی کا سارا فلسفہ اِس ذرا سے مصرع میں مخفی ہے۔ زیادہ کیا عرض کروں۔ خدا کے فضل و کرم سے خیریت ہے۔ لاہور میں اب کے بارش بالکل نہیں ہوئی۔ ابر روز آتا ہے مگر لاہور کی چار دیواری کے اندر اُسے برسنے کا حکم نہیں ہے۔ اگست کے ابتدا میں چند روز کے لیے شملہ جانے کا قصد ہے کچہری تین اگست سے بند ہو جائے گی۔
والسّلام
آپ کا خادم محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (4) — 17 دسمبر 1914ء (جلد اوّل، خط 123)
لاہور 17؍ دسمبر 14ء
مخدومی! السّلام علیکم
کل خط لکھ چکا ہوں۔ مگر آپ کے اس شعر کی داد دینا بھول گیا
|
جہاں ہستی ہوئی محدود لاکھوں پیچ پڑتے ہیں |
عقیدے، عقل، عنصر سب کے سب آپس میں لڑتے ہیں |
سبحان اللہ! کس قدر باریک اور گہرا شعر ہے۔ ہیگل11 جس کو جرمنی والے افلاطون سے بڑا فلسفی تصوّر کرتے ہیں اور تخیّل کے اعتبار سے حقیقت میں ہے بھی افلاطون سے بڑا۔ اس کا تمام فلسفہ اسی اُصول پر مبنی ہے۔ آپ نے ہیگل کے سمندر کو ایک قطرہ میں بند کر دیا یا یوں کہیے کہ ہیگل کا سمندر اس قطرے کی تفسیر ہے۔
ہیگل لکھتا ہے کہ اصولِ تناقض ہستیٔ محدود کی زندگی کا راز ہے اور ہستیٔ مطلق کی زندگی میں تمام قسم کے تناقض جو ہستیٔ محدود کا خاصہ ہیں، گداختہ ہوکر آپس میں گھُل مل جاتے ہیں۔
