ایک، نہایت مخلص نوجوان یہاں لاہور میں ہے، تاجرِ کتب ہے اور مجھ سے کہتا ہے کہ شکوہ اور جوابِ شکوہ کو پھر شائع کرنا چاہیے مگر مولانا اکبر دیباچہ لکھیں میں نے آپ کی طرف سے ہر چند عذر کیا مگر وہ مصر ہے۔ آخر میں نے اُس سے وعدہ کیا کہ مولانا کی خدمت میں عرض کروں گا۔ ایسی فرمایش کرتے ہوئے حجاب آتا ہے کہ مجھے آپ کے ضعف و ناتوانی کا حال معلوم ہے۔ تاہم اگر کسی روز طبیعت شگفتہ ہو اور آلام و افکار کا احساس شگفتگیٔ طبع سے کم ہو گیا ہو تو دس پندرہ سطور اس کی خاطر لکھ ڈالیے۔ یہ لڑکا آپ کا غائبانہ مرید ہے۔
کلکتہ کے فساد کے حالات اخبار میں پڑھے تھے آج مزید حالات پڑھے۔ خدا تعالیٰ مسلمانوں پر فضل کرے اور اُن کے لیڈروں کو آنکھیں عطا فرمائے کہ وہ اس زمانے کے میلانِ طبیعت کو دیکھیں۔ مجھے بھی کلکتہ سے بلاوا آیا تھا اور میں جانے کو قریباً تیّار بھی تھا۔ مگر جب مطبوعہ خط کا مضمون والدِ مکرّم کو سُنایا تو انھوں نے فرمایا کہ حکّام غالباً یہ جلسہ بند کر دیں گے۔ بعد میں ایسا ہی ہوا۔
|
نادیدنی کی دید سے ہوتا ہے خونِ دل |
بے دست و پا کو دیدۂ بینا نہ چاہیے |
مخلص محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (14) — 28 اکتوبر 1918ء (جلد اوّل، خط 306)
لاہور 28؍ اکتوبر 18ء
مخدومی السلام علیکم
نوازش نامہ دو تین روز ہوئے موصول ہُوا۔ الحمدللہ کہ خیریت ہے۔ لاہور میں وبائے انفلوئنزا کی بہت شدّت ہے۔ یہاں تک کہ گورکن میسّر نہیں آتے۔ دوا سے بھی اس مرض کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ اوّل تو معلوم ہی نہیں کہ اس کا علاج کیا ہے۔ دوسرا دوا موجود نہیں اور ڈاکٹر خود اس کا شکار ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے۔ پنجاب میں اس وقت اس کا حملہ نہایت شدید ہے لاہور میں قریباً ڈھائی سو اموات روزانہ ہیں اور ابھی کمی کے کوئی آثار نہیں۔ امرت سر میں بھی یہی کیفیت ہے۔ امید کہ الہ آباد میں خیریت ہوگی۔ مسلمانوں پر خصوصیت سے زیادہ نظرِ عنایت ہے۔ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم فرمائے۔
زمانے میں49 ریویو دیکھا تھا۔ خیر اچھّا ریویو تھا مگر آپ کی شاعری پر ریویو لکھنے کا حق آج تک کوئی دوسرا ادا نہیں کر سکا۔ زمانے نے جو اشعار انتخاب کیے وہ دو چار روز ہوئے بار روم میں مزے لے لے کر پڑھے گئے۔ وقت کی مصلحت نہیں۔ ورنہ آپ کے اشعار پر کچھ نہ کچھ ضرور لکھتا اور زندگی رہی تو ان شاء اللہ کچھ ضرور لکھوں گا۔
مطلع آپ کا لاجواب ہے
|
کم ہیں جو سمجھتے ہیں کہ مقصود وہی ہے |
سبحان اللہ والیہ المصیر50
معارف میں کسی ہندو شاعر کا شعر نظر سے گزرا
|
بسکہ از شرمِ تو در پروازِ رنگِ گلشن است51 |
رشتۂ نظّارہ بندد در ہوا گلدستہ را |
اور کچھ عرصہ ہوا اخبار الخلیل میں کسی نے ایک نہایت عمدہ شعر لکھا تھا
|
شب چو اندازِ ہم آغوشیٔ اُو یاد کنم52 |
خویش را تنگ بہ بَر گیرم و فریاد کنم |
للہِ دَرُّ مَن قال53
زیادہ کیا عرض کروں۔ امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔
مخلص محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (15) — 28 نومبر 1918ء (جلد اوّل، خط 313)
لاہور 28؍ نومبر 1918ء
مخدومی! السلام علیکم
نوازش نامہ مل گیا اور اس سے پیشتر بھی ایک خط ملا تھا۔ جواب لکھنے میں تاخیر ہوئی جس کے لیے معافی چاہتا ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ آج کل معمول سے زیادہ مصروفیت ہے۔ اسلامیہ کالج لاہور کے پروفیسر فلسفہ ڈاکٹر ہیگ چیچک کی بیماری سے دفعتہً انتقال کر گئے اور انجمنِ حمایتِ اسلام لاہور کے اصرار پر دو ماہ کے لیے کالج کے ایم۔ اے کی جماعت مجھ کو لینی پڑی۔ امید ہے دو ماہ تک نیا پروفیسر مل جائے گا۔ یہ لڑکے شام کو ہر روز میرے مکان پر آ جاتے ہیں۔ دن میں جو تھوڑی بہت فرصت ملتی ہے اُس میں اُن کے لیکچر کے لیے کتب دیکھتا ہوں۔ لیکچر کیا ہیں، انسان کی ذہنی مایوسیوں اور ناکامیوں کا افسانہ ہے، جسے عرفِ عام میں تاریخِ فلسفہ کہتے ہیں ابھی کل شام ہی میں اُن کو آپ کا یہ شعر سُنا رہا تھا۔
|
میں طاقتِ ذہن غیر محدود جانتا تھا خبر نہیں تھی |
کہ ہوش مجھ کو ملا ہے تُل کر نظر بھی مجھ کو ملی ہے نپ کے |
سبحان اللہ! کیا خوب کہا ہے۔ جزاک اللہ!
بہرحال ان لیکچروں کے بہانے سے اِن لڑکوں کے کان میں کوئی نہ کوئی مذہبی نکتہ ڈالنے کا موقع مل جاتا ہے۔
|
جان حاضر ہے مگر راہِ خدا ملتی نہیں |
میں آپ کا مقصود خوب سمجھتا ہوں۔ سیدھے سادے الفاظ میں حقائق بیان کر دینا آپ کا خاص حصّہ ہے۔ یہ بات بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔
آپ کی رباعی
|
اور شُکر یہ ہے کہ موت آجاتی ہے |
بہت عرصہ سے میں نے نوٹ کر رکھی ہے۔
بہت عرصہ سے کوئی شعر نہیں لکھا۔ مثنوی کا تیسرا حصّہ لکھنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔ دو شعر یاد آئے ہیں جو دو یا تین ماہ ہوئے لکھے تھے۔ عرض کرتا ہوں:
|
در جہاں مانند جوئے کوہسار |
از نشیب و ہم فراز آگاہ شو |
|
یا مثالِ سیلِ بے زنہار خیز |
فارغ از پست و بلندِ راہ شو54 |
باقی خدا کے فضل و کرم سے خیریت ہے۔ بال بچے سب یہیں ہیں اور الحمدللہ خیریت سے ہیں۔ آج 28؍ نومبر ہے۔ فتح کی خوشی میں بہت بڑا جلسہ ہونے والا ہے۔ شاید شام کو میں بھی اس جلسے میں جاؤں۔ والسّلام
امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔
مخلص محمد اقبال، لاہور
(اقبال نامہ)
خط (16) — 20 اپریل 1919ء (جلد دوم، خط 23)
لاہور 20؍ اپریل 19ء
مخدومی! السلام علیکم
والا نامہ مل گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور خط آپ کا ملا۔ اس وقت تک خدا کے فضل و کرم سے ہر طرح خیریت ہے۔ اُمید کہ آنجناب بخیر و عافیت ہوں گے۔ لاہور کے حالات آپ نے اخباروں میں دیکھ لیے ہوں گے۔ گاندھی صاحب کا خاموش مقابلہ یہاں تک رنگ لایا ہے کہ حکّام لاہور اور پنجاب کے دیگر مقامات میں مارشل لا55 (آئینِ عسکری) کے اجراء پر مجبور ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ فضل کرے۔ عجب زمانہ آ رہا ہے۔
|
ز چہا گذشتہ باشی بچہا رسیدہ باشی56 |
ٹھیک ہے۔ جو شخص
|
ز جہاں گذشتہ باشی بجہاں رسیدہ باشی57 |
پڑھتا ہے، وہ زبان اور شعر دونوں کے ذوق سے معرّا ہے۔
آپ سے ملنے کو بہت دل چاہتا ہے۔ مگر یہ زمانہ گھر سے باہر نکلنے کا نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس ملک کے لوگوں کی حالت پر رحم کرے!
|
مومن کو چاہیے کہ خدا ہی کا ہو رہے |
چند روز ہوئے ایک مصرع ذہن میں آیا تھا۔ دوسرا مصرع نہیں ہو سکا۔
|
ایں سرِ خلیل است بآذر نتواں گفت58 |
غور فرمائیے۔ کچھ ذہن میں آئے تو مطلع کیجیے۔ خواجہ صاحب کا خط بھی آج آیا ہے۔ وہ خیریت سے ہیں۔
مخلص محمد اقبال
(اقبالنامہ)59
خط (17) — ستمبر 1921ء (جلد دوم، خط 157)
’’آپ کی زبان سے جو الفاظ نکلتے ہیں، وہ نہایت پُر معنی اور مفید ہوتے ہیں۔ ان کو جمع کر لینا چاہئے تاکہ آئندہ نسلیں ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ بڑی ضرورت ہے کہ ایک منشی کاغذ اور قلم دوات لے کر آپ کے پاس ہر وقت بیٹھے اور جو بات آپ فرمائیں اُسے نوٹ کر لے۔ اگر میں الہ آباد میں قیام کر سکتا تو آپ کے لیے وہ کام کرتا جیسا باسویل60 BOSWEL نے ڈاکٹر جانسن61 DR. JOHNSON کے لیے کیا تھا62۔‘‘
(اوراق گم گشتہ)
