اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

اکبر الہ آبادی کے نام

پہلی قسم کی بے خودی تو ایک حد تک مفید بھی ہو سکتی ہے مگر دوسری قسم تمام مذہب و اخلاق کے خلاف اور33 جڑ کاٹنے والی ہے۔ میں ان دو قسموں کی بے خودی پر معترض ہوں اور بس۔ حقیقی اسلامی بے خودی میرے نزدیک اپنے ذاتی اور شخصی ’میلانات‘، رجحانات و تخیلات کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند ہو جانا ہے۔ اس طرح پر کہ اس پابندی کے نتائج سے انسان بالکل لاپروا ہو جائے اور محض رضا و تسلیم کو اپنا شعار بنائے۔ یہی اسلامی تصوّف کے نزدیک ’فنا‘ ہے۔ البتہ عجمی تصوّف فنا کے کچھ اور معنی جانتا ہے جس کا ذکر اُوپر کر چکا ہوں۔ خواجہ حافظؒ پر جو اشعار مَیں نے لکھے تھے ان کے مقاصد کچھ اور تھے۔ آیاتِ قرآنی جو آپ نے لکھی ہیں زیرِ نظر ہیں۔ میں ان کے وہی معانی سمجھتا ہوں جو آپ کے ذہن میں ہیں۔ حیاتِ دُنیا بیشک لہو و لعب ہے۔ میں نے بھی پہلے حصہ میں (اسرارِ خودی) یہی لکھا ہے۔

در قبائے خسروی درویش زی34

دیدہ بیدار و خدا اندیش زی

پھر دوسرے حصے میں ہے جس میں حضرت عمرؓ کا ایک قول منظوم کیا ہے:

راہ دشوار است سامان کم بگیر35

در جہاں آزاد زی، آزاد میر

سبحۂ اقلِل من الدُّنیا شمار

از تعِش حُرّاً شوی سرمایہ دار

غرض یہ ہے کہ سلطنت ہو، امارت ہو، کچھ ہو، بجائے خود کوئی مقصد نہیں ہے بلکہ یہ ذرائع ہیں اعلیٰ ترین مقاصد کے حصول کے جو شخص ان کو بجائے خود مقصد جانتا ہے وہ رَضُوا بالحیوٰۃِ الدُّنیا36 میں داخل ہے۔ کوئی فعل مسلمان کا ایسا نہ ہونا چاہیئے جس کا مقصد اعلائے کلمۃ اللہ کے سوا کچھ اور ہو۔ مسلمان کی تعریف پہلے حصے میں یوں کی گئی ہے۔ (اسرار خودی):

قلب را از صبغۃ اللہ رنگ دہ37

عشق را ناموس و نام و ننگ دہ

طبعِ مسلم از محبّت قاہر است

مسلم ار عاشق نباشد کافر است

تابعِ حق دیدنش، نا دیدنش38

خوردنش نوشیدنش خوابیدنش

در خیالش مرضیِ حق گم شود

ایں سخن کے باورِ مردم شود

زیادہ کیا عرض کروں، سوائے اس کے کہ مجھ پر عنایت فرمائیے، عنایت کیا رحم کیجیے اور اسرارِ خودی کو ایک دفعہ پڑھ جائیے۔ جس طرح منصور کو شبلی کے پتھر سے زخم آیا اور اس کی تکلیف سے اُس نے آہ و فریاد کی39 اسی طرح مجھ کو آپ کا اعتراض تکلیف دیتا ہے۔ والسّلام

مخلص محمد اقبال

(اقبال نامہ)


خط (11) — 25 جولائی 1918ء (جلد اوّل، خط 296)

لاہور 25؍ جولائی 18ء

مخدومی! السّلام علیکم

والا نامہ کل ملا تھا۔ الحمدللہ کہ خیریت ہے۔ گرمی کی یہاں بھی شدّت ہے۔ برسات اب کے خالی جاتی معلوم ہوتی ہے۔

خواجہ حسن نظامی صاحب کا خط مجھے بھی آیا تھا اور میرا قصد بھی فاتحہ جناب امیر40 میں شریک ہونے کا تھا۔ مگر افسوس ہے کہ میری بیوی کچھ عرصہ سے بیمار ہے، اور ابھی تک رو بصحت کامل طور پر نہیں ہوئیں۔ خواجہ صاحب کو بھی میں نے یہی لکھا تھا کہ وہ اچھی ہو گئیں تو حاضر ہوں گا۔ اگر اب نہ جا سکا تو تعطیلوں میں انشاء اللہ دہلی جانے کا قصد ہے کہ ایک مدّت سے آستانۂ حضرت محبوبِ الٰہیؒ پر حاضر ہونے کا ارادہ کر رہا ہوں۔ کیا عجب ہے کہ ان گرما کی تعطیلوں میں اللہ اس ارادے کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ خواجہ حسن نظامی سے مجھے دلی محبّت ہے۔ جس پر اختلافِ خیال قطعاً کوئی اثر نہیں کر سکتا۔ اور اصل بات تو یہ ہے کہ وہ اختلاف بھی کم از کم میرے علم اور سمجھ کے مطابق کوئی ایسا اختلاف نہیں۔ وہ کچھ عرصہ ہوا، یہاں تشریف لائے تھے۔ میں نے اصرار کیا کہ وہ ایک روز قیام فرمائیں لیکن وہ ٹھہر نہ سکتے تھے۔ زبانی باتیں ہوتیں تو بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جاتیں۔ لیکن جو کچھ بھی ہو، اس سے اس محبت میں کمی واقع نہیں ہو سکتی جو مجھ کو اُن سے ہے۔ وہ ایک نہایت محبوب آدمی ہیں اُن کو جان کر اُن سے محبت نہ رکھنا ممکن نہیں۔

غم بڑا مُدرکِ حقائق ہے41

اس مصرعہ کی پہلے بھی داد دے چکا ہوں آپ کے اکثر اشعار میں حقائقِ حیات اس سادگی اور بے تکلفی سے منظوم ہوتے ہیں کہ شکسپیئر42 اور مولانا رومؒ یاد آ جاتے ہیں۔

آپ کے اس شعر ’’جہاں ہستی ہوئی محدود الخ‘‘ پر ریویو کرتے ہوئے میں نے کسی انگریزی فلسفی کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ خیالات و افکار بھی آپس میں برسرِ پیکار رہتے ہیں۔ کل مثنوی مولانا روم دیکھ رہا تھا کہ یہ شعر نظر پڑا:

ہر خیالے را خیالے مے خورد43

فکر ہم بر فکرِ دیگرے مے چرد

سبحان اللہ! ایک خاص باب میں انھوں نے یہ عنوان قائم کیا ہے کہ باری تعالیٰ کے سوا ہر ہستی آکل و ماکول ہے اور اِس ضمن میں شوپن ہار44 (فلاسفر جرمنی) کے فلسفے کو اس خوبی سے نظم کر گئے ہیں کہ خود شوپن ہار کی روح پھڑک گئی ہوگی۔

کل شام ایک محفل میں آپ کے شعر:

دل اُس کے ساتھ ہے کہ خدا جس کے ساتھ ہے الخ

پر دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اگرچہ یہ شعر مشاعرے میں پڑھا نہیں گیا تاہم تمام شہر میں مشہور ہے۔

بن خاکِ راہ، ناچ کیا کر ہوا کے ساتھ

پر آج گفتگو رہے گی۔ یہ شعر بھی حقائق سے خالی نہیں۔ ایک فارسی رباعی ہو گئی تھی۔ عرض کرتا ہوں

گل گفت کہ عیشِ نوبہارے خوشتر45

یک صبحِ چمن ز روزگارے خوشتر

زان پیش کہ کس ترا بدستار زند

مُردن بکنارِ شاخسارے خوشتر

زیادہ التماسِ دعا۔

مخلص محمد اقبال

(اقبال نامہ)


خط (12) — 13 اگست 1918ء (جلد اوّل، خط 299)

سیالکوٹ 13؍ اگست 18ء

مخدومی! السلام علیکم۔ والا نامہ لاہور سے ہوتا ہُوا ملا۔

الحمدللہ کہ جناب کا مزاج بخیر ہے۔ واقعی آپ نے سچ فرمایا کہ ہزار کتب خانہ ایک طرف اور باپ کی نگاہِ شفقت ایک طرف۔ اسی واسطے تو جب کبھی موقع ملتا ہے اُن کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں اور پہاڑ پر جانے کی بجائے اُن کی گرمیٔ صحبت سے مستفید ہوتا ہوں۔

پرسوں شام کھانا کھا رہے تھے اور کسی عزیز کا ذکر کر رہے تھے جس کا حال ہی میں انتقال ہو گیا تھا، دورانِ گفتگو میں کہنے لگے ’’معلوم نہیں، بندہ اپنے رب سے کب کا بچھڑا ہوا ہے‘‘۔ اِس خیال سے اس قدر متاثر ہوئے کہ قریباً بیہوش ہو گئے اور رات دس گیارہ بجے تک یہی کیفیت رہی۔ یہ خاموش لیکچر ہیں جو پیرانِ مشرقی سے ہی مل سکتے ہیں۔ یورپ کی درسگاہوں میں ان کا نشان نہیں۔ اگست کے آخر تک اِن شاء اللہ یہیں قیام رہے گا۔

تہذیبِ نسواں46 یا صحیح معنوں میں تخریبِ نسواں نے اگر کچھ لکھا ہے تو اس کا بہترین جواب خاموشی ہے۔ تردید کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ پرچہ قدیم اسلامی شعار کو بنگاہِ حقارت دیکھتا ہے۔ گو ابھی صاف لکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔

میں نے سُنا ہے سید عبدالرؤف لاہور تشریف لائے تھے اور چیف جج صاحب سے بھی ملے تھے۔ گورنمنٹ میں نام ضرور پیش ہے اور بعض حکّام مائل بھی ہیں مگر مجھے باوجود ان سب باتوں کے امید نہیں۔ اسی واسطے اس موقع پر میں کسی سے نہیں ملا اور میرے بعض احباب مجھ سے ناراض ہیں کہ شملہ جانے کی جگہ سیالکوٹ آگیا ہوں۔ مگر میں اُن احباب کو معذور جانتا ہوں کہ وہ میری قلبی کیفیات سے آگاہ نہیں ہیں۔ بہر حال جو کچھ علمِ الٰہی میں ہے ہو جائے گا اور وہی اَنسب و اَولیٰ47 ہو گا۔

باقی خدا کے فضل و کرم سے خیریت ہے، خیریت سے آگاہ کیجیے کل شام سے طبیعت نہایت مشتعل ہے۔ ’وکیل‘ اخبار لکھتا ہے کہ کسی انگریزی اخبار نے مدینہ منوّرہ کی بہت توہین کی ہے۔ کمزوروں کے پاس سوائے بددعا کے اور کیا ہے۔ والدِ مکرّم سلامِ شوق عرض کرتے ہیں۔

مخلص محمد اقبال

(اقبال نامہ)


خط (13) — 14 ستمبر 1918ء (جلد اوّل، خط 301)

لاہور 14؍ ستمبر 18ء

مخدومی! السلام علیکم

والا نامہ ابھی ملا۔ الحمدللہ کہ خیریت ہے۔ ابھی تو مسلمانوں کو اور ان کے لٹریچر کو آپ کی سخت ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عمرِ خضر عطا فرمائے۔

میں 9؍ ستمبر کو لاہور واپس آگیا تھا۔ مگر ترشی کے زیادہ استعمال سے دانت میں سخت درد ہو گیا۔ جس نے کئی روز تک بیقرار رکھا۔ اب خدا کے فضل سے بالکل اچھا ہوں۔ رسالہ ایسٹ اینڈ ویسٹ‌East and West (انگریزی) کے اگست کے نمبر میں ڈاکٹر عبدالرحمٰن48 صاحب نے ایک ریویو دونوں مثنویوں پر لکھا ہے۔ نہایت قابلیت سے لکھا ہے۔ اگر اس ریویو کی کوئی کاپی مل گئی تو ارسالِ خدمت کروں گا۔ آج زمانہ میں ایک ریویو نظر سے گزرا۔ زمانے کے اسی نمبر میں آپ کے اشعار بھی دیکھے۔ جن کو کئی دفعہ پڑھا ہے اور ابھی کئی بار پڑھوں گا بالخصوص اس شعر نے

جب علم ہی عاشقِ دُنیا ہوا، الخ

بہت اثر دل پر کیا۔ مگر اس شعر کو

یہ صلحِ کُل فقیری، فقر یا شاہی لطیفہ ہے

آپ کے اشعار میں دیکھ کر بہت تعجّب ہوا۔ یہ کس کا شعر ہے؟ شاہی لطیفہ کی داد دینا میرے قلم کے امکان سے باہر ہے۔