آپ کا والا نامہ مل گیا ہے۔ میں تصوف کی تاریخ پر ایک مبسوط مضمون لکھ رہا ہوں جو ممکن ہے ایک کتاب بن جائے۔ چونکہ خواجہ حسن نظامی نے عام طور پر اخباروں میں میری نسبت یہ مشہور کر دیا ہے کہ میں صوفیائے کرام سے بدظن ہوں اس واسطے مجھے اپنی پوزیشن صاف اور واضح کرنی ضروری ہے۔ ورنہ اس طویل مضمون کے لکھنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ چونکہ میں نے خواجہ حافظ پر اعتراض کیا ہے۔ اس واسطے ان کا خیال ہے میں تحریکِ تصوّف کو دنیا سے مٹانا چاہتا ہوں۔ ’’اسرارِ خودی کے عنوان سے انھوں نے ایک مضمون خطیب میں لکھا ہے جو آپ کی نظر سے گذرا ہو گا۔ جو پانچ وجوہ اُنھوں نے مثنوی سے اختلاف کرنے کے لکھے ہیں۔ انھیں ذرا غور سے ملاحظہ فرمایئے۔ تاریخِ تصوّف21 سے فارغ ہو لوں تو تقویۃ الایمان22 کی طرف توجہ کروں فی الحال جو فرصت ملتی ہے وہ اسی مضمون کی نذر ہو جاتی ہے۔ افسوس کہ ضروری کتب لاہور کے کتب خانوں میں نہیں ملتیں۔ جہاں تک ہو سکا۔ میں نے تلاش کی ہے۔ اور مجھے امید ہے کہ آپ اس مضمون کو پڑھ کر خوش ہوں گے۔ منصور حلاج کا رسالہ کتاب الطواسین نام فرانس میں شائع ہو گیا ہے۔ وہ بھی منگوایا ہے امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہو گا۔ فی الحال مثنوی کا دوسرا حصہ بھی ملتوی23 ہے۔ مگر اس میں عالمگیر اورنگ زیبؒ کے متعلق جو اشعار لکھے ہیں ان میں سے ایک عرض کرتا ہوں:
|
درمیانِ کارزارِ کفر و دیں24 |
ترکشِ ما را خدنگِ آخریں |
آپ کا قطعہ ’’حضرت اقبال اور خواجہ حسن‘‘ بہت خوب رہا۔ صرف ایک بات ہے کہ خواجہ صاحب کو تو کبھی رقص اور سُکر نصیب ہوتا ہو گا میں اس نعمت سے محروم ہوں۔
والسلام
آپ کا خادم محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (9) — 11 جون 1918ء (جلد اوّل، خط 292)
لاہور 11؍ جون 18ء
مخدومی! تسلیمات
کل ایک خط ڈاک میں ڈال چکا ہوں۔ آج اور کل دو اور خط آپ کے موصول ہوئے۔ میں نے خواجہ حافظؒ پر کہیں یہ الزام نہیں لگایا کہ اُن کے دیوان سے میکشی بڑھ گئی۔ میرا اعتراض حافظؒ پر بالکل اور نوعیت کا ہے۔ اسرارِ خودی میں جو کچھ لکھا گیا، وہ ایک لٹریری نصب العین کی تنقید تھی۔ جو مسلمانوں میں کئی صدیوں سے پاپولر ہے۔ اپنے وقت میں اس نصب العین سے ضرور فائدہ ہوا اِس وقت یہ غیر مفید ہی نہیں بلکہ مضر ہے۔ خواجہ حافظؒ کی ولایت سے اس تنقید میں کوئی سروکار نہ تھا نہ ان کی شخصیت سے۔ نہ اُن اشعار میں ’مے‘ سے مراد وہ ’مے‘ ہے جو لوگ ہوٹلوں میں پیتے ہیں۔ بلکہ اُس سے وہ حالتِ سُکر (NARCOTIC) مراد ہے جو حافظؒ کے کلام سے بحیثیتِ مجموعی پیدا ہوتی ہے۔
چونکہ حافظؒ ولی اور عارف تصور کیے گئے ہیں اس واسطے ان کی شاعرانہ حیثیت عوام نے بالکل ہی نظرانداز کر دی ہے اور میرے ریمارک تصوّف اور ولایت پر حملہ کرنے کے مرادف سمجھے گئے۔
خواجہ حسن نظامی ... نے ایسا سمجھ کر اخباروں میں لکھا۔ اس واسطے مجھے مجبوراً تصوّف پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا پڑا۔
پہلے عرض کر چکا ہوں کہ کون تصوّف میرے نزدیک قابلِ اعتراض ہے۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے، وہ کوئی نئی بات نہیں۔ حضرت علاؤالدّولہ سمنانیؒ25 لکھ چکے ہیں، حضرت جنید بغدادیؒ لکھ چکے ہیں۔ میں نے تو محی الدین اور منصور حلّاج کے متعلق وہ الفاظ نہیں لکھے جو حضرت سمنانی اور جنید نے ان دونوں بزرگوں کے متعلق ارشاد فرمائے ہیں ہاں ان کے عقائد اور خیالات سے بیزاری ضرور ظاہر کی ہے۔ اگر اسی کا نام مادیّت ہے تو قسم بخدائے لایزال، مجھ سے بڑھ کر مادہ پرست دنیا میں کوئی نہ ہوگا۔ معاف کیجیے گا، مجھے آپ کے خطوط سے یہ معلوم ہوا ہے (ممکن ہے غلطی پر ہوں) کہ آپ نے مثنوی اسرارِ خودی کے صرف وہی اشعار دیکھے ہیں جو حافظؒ کے متعلق لکھے گئے تھے۔ باقی اشعار پر نظر شاید نہیں فرمائی۔ کاش آپ کو اُن کے پڑھنے کی فرصت مل جاتی تاکہ آپ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محفوظ رہتے۔
عجمی تصوّف سے لٹریچر میں دلفریبی اور حسن و چمک پیدا ہوتا ہے مگر ایسا کہ طبائع کو پست کرنے والا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی تصوّف دل میں قوت پیدا کرتا ہے اور اس قوت کا اثر لٹریچر پر ہوتا ہے۔
میرا تو یہی عقیدہ ہے کہ مسلمانوں کا لٹریچر تمام ممالکِ اسلامیہ میں قابلِ اصلاح ہے (PESSIMISTIC LITERATURE)26 کبھی زندہ نہیں رہ سکا۔ قوم کی زندگی کے لئے اس کا اور اس کے لٹریچر کا (OPTIMISTIC27) ہونا ضروری ہے۔ اسرارِ خودی میں حافظؒ پر جو کچھ لکھا گیا ہے اس کو خارج کر کے اور اشعار لکھے ہیں۔ جن کا عنوان یہ ہے:
’’درحقیقتِ شعر و اصلاحِ ادبیاتِ اسلامیہ‘‘
ان اشعار کو پڑھ کر مجھے یقین ہے کہ بہت سی غلط فہمیاں دُور ہو جائیں گی اور میرا اصل مطلب واضح ہو جائے گا۔
امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔
پنڈت کشوری لعل سے بہت عرصہ ہوا ملاقات ہوئی تھی۔ معلوم نہیں وہ آج کل کہاں ہیں۔ کعبہ و کاشی کے سوا کوئی اور مقام بھی ہوگا مگر خدارا آج کل صرف کعبہ ہی بتائیے۔ ورنہ مسلمانوں کی جمعیت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ اس وقت اسلام کا دشمن سائنس نہیں (جیسا کہ بعض لوگ نادانی سے سمجھے بیٹھے ہیں۔ اسلام کی پوزیشن سائنس کے خلاف نہایت مضبوط ہے) مگر اس کا دشمن یورپ کا TERRITORIAL NATIONALISM ہے۔ جس نے ترکوں کو خلافت کے خلاف اکسایا، مصر میں، مصر مصریوں کے لئے، کی آواز بلند کی اور ہندوستان کو PAN-INDIAN DEMOCRACY کا بے معنی خواب دکھایا۔ آپ تو گروہ بندی پر بڑا زور دیتے ہیں بلکہ ایک جگہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے ’’مذہب کیا ہے گروہ بندی ہے فقط‘‘ گو مجھے اس مصرع سے اتفاق نہیں تاہم مذہبِ اسلام کا ایک نہایت ضروری پہلو قومیت ہے جس کا مرکز کعبۃ اللہ ہے۔ اگر آپ کے نزدیک مذہب کا مقصد صرف گروہ بندی ہے اور کچھ نہیں، جیسا کہ مذکورہ بالا مصرع سے معلوم ہوتا ہے تو آپ کے قلم و زبان سے یہ بات زیب نہیں دیتی۔ کعبہ و کاشی کے سوا کوئی اور مقام بھی ہے۔ آپ کے نزدیک تو کعبہ کے سوا کوئی اور مقام نہ ہونا چاہیئے
یہی میرا بھی مذہب ہے۔
خیریت مزاج سے آگاہ کیجیے۔
مخلص محمد اقبال لاہور
(اقبال نامہ)
خط (10) — 20 جولائی 1918ء (جلد اوّل، خط 295)
لاہور 20؍ جولائی 18ء
مخدومی! نوازش نامہ کل ملا تھا۔ اس سے پیشتر ایک پوسٹ کارڈ بھی ملا تھا۔ آپ مجھے تناقض کا ملزم گردانتے ہیں۔ یہ بات درست ہے مگر میری نہیں بلکہ میری بدنصیبی یہ ہے کہ آپ نے مثنوی اسرارِ خودی کو اب تک نہیں پڑھا۔ میں نے کسی گزشتہ خط میں عرض بھی کیا تھا کہ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محترز رہنے کے لئے میری خاطر سے ایک دفعہ پڑھ لیجیے اگر آپ ایسا کرتے تو یہ اعتراض نہ ہوتا۔
|
آں چناں گم شو کہ یکسر سجدہ شو!28 |
اور اسرارِ خودی میں کوئی تناقض نہیں۔
یہ بات تو میں نے پہلے حصہ میں اس سے بھی زیادہ واضح طور پر بیان کی ہے۔
|
اندکے اندر حرائے دل نشیں29 |
ترکِ خود کن سوئے حق ہجرت گزیں |
|
محکم از حق شو سوئے خود گام زن |
لات و عزّائے ہوس را سر شکن |
|
ہر کہ در اقلیمِ لا آباد شد |
فارغ از بندِ زن و اولاد شد |
(اسرارِ خودی)
میں اس خودی کا حامی ہوں جو سچّی بیخودی سے پیدا ہوتی ہے یعنی جو نتیجہ ہے ہجرت الی الحق کرنے کا، اور جو باطل کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح مضبوط ہے۔
|
بندۂ حق پیشِ مولا لاستے30 |
پیشِ باطل از نعم بر جاستے |
دوسرے حصے میں عالمگیر کی ایک حکایت ہے۔ اس میں یہ شعر ہے:
|
ایں چنیں دل خود نما و خود شکن31 |
دارد اندر سینۂ مومن وطن |
مگر ایک اور بیخودی ہے جس کی دو قسمیں ہیں:
(1) ایک وہ جو DYRIC POETRY32 کے پڑھنے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ اس قسم سے ہے جو افیون و شراب کا نتیجہ ہے۔
(2) دوسری وہ بے خودی ہے جو بعض صوفیہ اسلامیہ اور تمام ہندو جوگیوں کے نزدیک ذاتِ انسانی کو ذاتِ باری میں فنا کر دینے سے پیدا ہوتی ہے اور یہ فنا ذاتِ باری میں ہے، نہ احکامِ باری تعالیٰ میں۔
