کیمبرج کی تاریخِ ہندوستان کے لیے جو مضمون اُردو لٹریچر پر مجھے لکھنا ہے، اُس میں اس شعر کا ضرور ذکر کروں گا۔ اسی رنگ کے فلسفیانہ اشعار اور بھی لکھیے کہ خود بھی لذّت اٹھاؤں اور اوروں کو بھی اس لذّت میں شریک کروں۔ آج مہاراجہ کشن پرشاد کا خط آیا تھا۔ معلوم ہوا کہ خواجہ نظامی حیدر آباد سے اورنگ آباد چلے گئے خلد آباد کی زیارت مقصود ہوگی۔ میں بھی وہاں گیا تھا اور عالمگیر علیہ الرحمۃ کے مزارِ پاک پر حاضر ہوا تھا۔ میرے بڑے بھائی بھی ساتھ تھے۔ کہنے لگے، میں قنات کے اندر نہ جاؤں گا (مزار کے گرد قنات تھی) کہ میری ڈاڑھی غیر مشروع ہے۔
والسّلام
مخلص محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (5) — 18 اکتوبر 1915ء (جلد اوّل، خط 159)
لاہور 18؍ اکتوبر 15ء
مخدومی! تسلیم
آپ کا نوازش نامہ مل گیا تھا۔ مجھے اس بات سے تردّد ہے کہ آپ کی علالت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جلد صحتِ کامل عطا فرمائے۔ آپ کے خطوط سے مجھے نہایت فائدہ ہوتا ہے اور مزید غور و فکر کی راہ کھلتی ہے۔ اسی واسطے میں ان خطوط کو محفوظ رکھتا ہوں کہ یہ تحریریں نہایت بیش قیمت ہیں اور بہت لوگوں کو اُن سے فائدہ پہنچنے کی توقّع ہے۔ واعظِ قرآن بننے کی اہلیت تو مجھ میں نہیں ہے۔ ہاں اس مطالعہ سے اپنا اطمینان (خاطر) روز بروز ترقی کرتا جاتا ہے۔ گو عملی حالت کے اعتبار سے بہت سست عنصر واقع ہوا ہوں۔ آپ دعا فرمائیں۔
شیعوں کے متعلق آپ نے خوب لکھا۔ میرا مدّت سے یہی خیال ہے۔ امامت کا مسئلہ سوسائٹی کو انتشار سے محفوظ رکھنے والا ہے۔ خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ مذہبی حقائق کا معیار عقل ہو۔ میں نے کئی دفعہ یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ صوفی بننے کی نسبت شیعہ ہو جانا ضروری ہے۔ اگر تقلید ضروری ہے تو اولادِ علی مرتضٰے سے بڑھ کر اور کون امام ہوگا۔ البتہ امامت کے اصول میں ایک نقص ہے اور وہ یہ کہ عوام کو مجتہدین سے تعلّق رہتا ہے اور قرآن سے تعلّق کم ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بالکل کوئی تعلّق نہیں رہتا۔ ’’مذہب بغیر نبوّت کے محض ایک فلسفہ ہے‘‘ یہ نہایت صحیح مسئلہ ہے اور حقیقت میں مثنوی لکھنے کے لیے یہی خیال محرّک ہوا۔ میں گزشتہ دس سال سے اسی پیچ و تاب میں ہوں۔
انیس احمد کو میں جانتا ہوں۔ انہوں نے ایک رسالہ تعلیمِ قرآن پر بھی لکھا تھا۔ اچھا رسالہ تھا۔ مگر بعض لوگ اُن پر بدظن ہیں۔ چند روز ہوئے لاہور میں بھی آئے تھے۔ مجھ سے نہیں ملے۔ معراج الدین کہاں سے دستیاب ہوتی ہے؟
قرآن کے متعلق عربی میں بعض نہایت عمدہ کتابیں ہیں مگر افسوس ہے کہ لاہور میں دستیاب نہیں ہوتیں۔ جرمنی کے علما نے بھی بہت کچھ لکھا ہے مگر جنگ کی وجہ سے وہاں سے نہیں آ سکتیں ان شاء اللہ بعد از جنگ بہت سی کتابیں علومِ قرآن کے متعلق وہاں سے منگواؤں گا۔ مدت ہوئی چند شعر فارسی کے لکھے تھے عرض کرتا ہوں:
|
خوش آنکہ رختِ خرد را ز شعلۂ مے سوخت12 |
مثالِ لالہ متاعے ز آتشے اندوخت13 |
|
تو ہم ز ساغرِ مے چہرہ را گلستان کن |
بہار خرقہ فروشی بہ صوفیان آموخت14 |
|
دلم تپید ز محرومیٔ فقیہِ حرم |
کہ پیرِ میکدہ جامے بہ فتوی نہ فروخت15 |
|
مسنج قدرِ سرود از نوائے بے اثرم |
ز برقِ نغمہ توان حاصلِ سکندر سوخت16 |
|
فزون17 قبیلۂ آن پختہ کار باد کہ گفت |
چراغِ راہِ حیات است جلوۂ امید |
|
بیار بادہ کہ گردوں بکامِ ما گردید |
مثالِ غنچہ نواہا ز شاخسار دمید |
|
خورم بہ یادِ تنک نوشی امامِ حرم |
کہ جز بصحبتِ یارانِ رازدان نہ چشید |
|
چناں ز نقشِ دوئی شست لوحِ خاطرِ خویش |
کہ وحشی تو ہم از آہوئے خیال رمید |
|
نواز حوصلۂ دوستاں بلند تر است |
غزل سرا شدم آنجا کہ ہیچ کس نشنید |
|
ترجمہ میری نوا دوستوں کے حوصلے سے بلند تر ہے، میں وہاں غزل سرا ہوا جہاں کسی نے نہ سنا۔ |
|
غالباً یہ اشعار آپ کے لیے نئے نہ ہوں گے کیونکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ شاید کچھ عرصہ ہوا میں نے یہ اشعار آپ کی خدمت میں تحریر کیے تھے خیریتِ مزاج سے مطلع فرمائیے۔
آپ کا خادم محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (6) — 25 اکتوبر 1915ء (جلد اوّل، خط 161)
لاہور 25؍ اکتوبر 15ء
مخدومی! السّلام علیکم
نوازش نامہ ملا۔ دونوں اشعار لاجواب ہیں:
|
فطرت کی زبان جس کو سمجھو |
سبحان اللہ! یہ طرز اور معنی آفرینی خاص آپ کے لیے ہے کوئی دوسرا یہاں مجالِ دم زدن نہیں رکھتا۔ اور دوسرا شعر
|
غضب یہ ہے کہ کبھی محتسب بھی ہوتی ہے18 |
کئی دفعہ پڑھ چکا ہوں۔ اس کا لطف کم ہونے میں نہیں آیا۔
کبھی موقع ہوتا ہے تو دل کا دُکھڑا آپ کے پاس روتا ہوں۔ یہاں لاہور میں ضروریاتِ اسلامی سے ایک متنفس بھی آگاہ نہیں۔ یہاں انجمن اور کالج اور فکرِ مناصب کے سوا اور کچھ نہیں۔ پنجاب میں علماء کا پیدا ہونا بند ہو گیا ہے۔ اور اگر خدا تعالیٰ نے کوئی خاص مدد نہ کی تو آئندہ بیس سال نہایت خطرناک نظر آتے ہیں۔ صوفیا کی دکانیں ہیں مگر وہاں سیرتِ اسلامی کی متاع نہیں بکتی۔
کئی صدیوں سے علماء اور صوفیا میں طاقت کے لیے جنگ رہی۔ جس میں آخر کار صوفیا غالب آئے۔ یہاں تک کہ اب برائے نام علماء جو باقی ہیں وہ بھی جب تک کسی نہ کسی خانوادے میں بیعت نہ لیتے ہوں، ہر دلعزیز نہیں ہو سکتے۔ یہ روش گویا علماء کی طرف سے اپنی شکست کا اعتراف ہے۔ مجدّد الف ثانی۔ عالمگیر اور مولانا اسمٰعیل شہید رحمۃ اللہ علیہم نے اسلامی سیرت کے احیا کی کوشش کی۔ مگر صوفیا کی کثرت اور صدیوں کی جمع شدہ قوّت نے اس گروہِ احرار کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ اب اسلامی جماعت کا محض خدا پر بھروسہ ہے۔ میں بھلا کیا کر سکتا ہوں۔ صرف ایک بے چین اور مضطرب جان رکھتا ہوں۔ قوتِ عمل مفقود ہے۔ ہاں یہ آرزو رہتی ہے کہ کوئی قابل نوجوان جو ذوقِ خداداد کے ساتھ قوتِ عمل بھی رکھتا ہو مل جائے۔ جس کے دل میں اپنا اضطراب منتقل کر دوں۔ زیادہ کیا عرض کروں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
آپ کا خادم محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (7) — 27 جنوری 1916ء (جلد اوّل، خط 175)
لاہور
27؍ جنوری سنہ 16ء
مخدومی! السلام علیکم
آپ کا نوازش نامہ ملا۔ الحمد للہ کہ خیریت ہے ان شاء اللہ اختلافِ رائے کا اثر پرائیویٹ تعلقات پر نہ ہو گا۔ میں نے تو صرف ایک دو خط شائع کیے تھے اور وہ بھی اس وقت جب19 خواجہ حسن نظامی نے خود مضامین لکھے اور اپنے جناب سے لکھوائے۔ ان مضامین کی مجھے کوئی شکایت نہیں شکوہ صرف اس امر کا تھا کہ پرائیویٹ خطوں میں تو وہ مجھے لکھتے تھے اور لکھتے ہیں کہ تمہاری نیت پر کوئی حملہ نہیں۔ لیکن اخباروں میں اس کے برعکس لکھتے ہیں میں نے خود خواجہ حسن نظامی سے اس امر کی شکایت کی تھی، اور نہایت صاف باطنی کے ساتھ لکھا تھا کہ آپ میرے ساتھ نا انصافی نہ کریں علمی بحث ہونی چاہیئے، حریف کو بدنام کرنا مقصود نہ ہونا چاہیئے۔ بلکہ اس کو قائل کرنا اور راہ راست پر لانا۔
بہرحال وہ معذور ہیں اور صوفی ضرور ہیں مگر تصوف کی تاریخ و ادبیّات و علوم القرآن سے مطلق واقفیت نہیں رکھتے۔ اس واسطے مجھے ان کے مضامین کا مطلق اندیشہ نہیں ہے۔
علّامہ ابن جوزیؒ نے جو کچھ تصوّف پر لکھا ہے اس کو شائع کر دینے کا قصد ہے۔ اس کے ساتھ تصوّف کی تاریخ پر ایک مفصّل دیباچہ لکھوں گا۔ ان شاء اللہ اس کا مصالحہ جمع کر لیا ہے۔ منصورؒ حلّاج کا رسالہ ’’کتاب الطواسین‘‘ فرانس میں مع نہایت مفید حواشی کے شائع ہو گیا ہے۔ دیباچہ میں اس کتاب کو استعمال کروں گا۔ فرانسیسی مستشرق20 نے نہایت عمدہ حواشی دیے ہیں۔ رہبانیت کے متعلق جو آیۂ شریفہ آپ کے خیال میں ہو ضرور لکھیے۔
|
وائے بر ہستی اگر مقصودِ ہستی ہو چکا |
نہایت خوب ہے۔ سیدھے آسان اور مختصر الفاظ میں حقائق بیان کرنا آپ کا کمال ہے۔ عبدالماجد صاحب نے جو شعر آپ کا پسند کیا نہایت خوب ہے۔ میں نے بھی اسی مضمون کا ایک شعر لکھا تھا۔
|
گل تبسّم کہہ رہا تھا زندگانی کو مگر |
شمع بولی گریۂ غم کے سوا کچھ بھی نہیں |
خادم محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (8) — 4 فروری 1916ء (جلد اوّل، خط 178)
لاہور 4؍ فروری 16ء
مخدوم و مکرم حضرت مولانا! السلام علیکم
