اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

اقسامِ حدیث

(تہذیب الاخلاق بابت یکم ذی الحجہ 1288ھ‌11 فروری 1872ء)

انسان کی روحانی ترقی اور دنیوی بہبود اور حسنِ معاشرت اور علم و تجربہ کا کمال بہت کچھ اس کے مسائلِ مذہبی کی تنقیح پر موقوف ہے۔ اوہامِ مذہبی کی تاریکی انسان کے دل کو سیاہ اور اس کے دماغ اور عقل کو کند اور خراب کر دیتی ہے، اس لیے جو لوگ کہ مسلمانوں کی ترقیٔ علوم اور ترقیٔ تہذیب و شائستگی پر بحث کرتے ہیں ان کو ایسے مسائلِ مذہبی سے بحث کرنا جو غلطی سے ان چیزوں کے مانع خیال کیے جاتے ہیں، ناگزیر ہوتا ہے۔

منجملہ ان ہی موانع کے بہت سے مسائل ہیں جن کی بنیاد غلط یا نا معتبر حدیثوں پر مبنی ہوتی ہے۔ مسلمانوں میں یہ ایک عام خیال ہو گیا ہے کہ جو بات کسی حدیث میں آئی ہے اس سے انکار کرنا کفر یا خوفِ معصیت ہے مگر اس بات پر خیال نہیں کیا جاتا کہ جب ہم یہ بات سنیں کہ فلاں بات کسی حدیث میں ہے تو اول اس بات کی بھی تحقیق کریں کہ آیا وہ حدیث بھی معتبر ہے یا نہیں؟ اور در حقیقت وہ قول یا فعل یا تقریر رسول اللہ صلعم کی ہے یا نہیں؟

غالباً لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ تحقیقِ حدیث کا زمانہ گذر گیا اور جو کچھ کہ اگلے علماء تحقیق کر کر لکھ گئے ہیں وہی احادیثِ محققہ ہیں۔ اب ہمارے لیے صرف اتنی بات کا جاننا کافی ہے کہ وہ حدیث کتبِ حدیث میں مندرج ہے اور علماء نے اس کو صحیح لکھا ہے۔

ہمارا بھی مطلب اس مقام پر کسی نئی تحقیق سے نہیں ہے، بلکہ ہم ان ہی حدیثوں کی نسبت جو کتبِ احادیث میں مندرج ہیں، یہ بات دیکھنی چاہتے ہیں کہ ان میں سے کونسی حدیث در حقیقت قول یا فعل یا تقریر رسولِ خدا صلعم کی ہے؟ اور کون سی ان کی نہیں ہے، بلکہ دوسرے شخص کی ہے؟ تاکہ ہم اپنے رسولِ مقبول کے کلام کو دوسرے شخص کے کلام سے بالکل جدا کر لیں۔

پس اسی مراد سے ہم اقسامِ حدیث کو جو علمائے حدیث نے بیان کی ہیں، اس مقام پر لکھتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ان اقسام کی جتنی حدیثیں ہیں، ان میں سے کسی پر اس بات کا یقینِ کامل نہیں ہو سکتا کہ در حقیقت پیغمبرِ خدا صلعم کی حدیث ہے، بلکہ بعض قسموں کی نسبت تو یقین ہے کہ وہ آنحضرت صلعم کی حدیث نہیں ہے اور بعض قسمیں مشتبہ ہیں۔ ممکن ہے کہ پیغمبرِ خدا صلعم کی حدیث ہوں اور ممکن ہے کہ نہ ہوں۔ چنانچہ اقسامِ مذکورہ یہ ہیں:—

اول حدیث بالمعنی۔ تمام علماء اور محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ روایت احادیث کی بلفظہ نہیں ہے، بلکہ بالمعنی ہے، یعنی احادیثِ مرویہ کے لفظ بعینہ وہ لفظ نہیں ہیں جو رسولِ خدا صلعم نے فرمائے تھے، بلکہ راویوں نے اُن کا مطلب اپنے لفظوں میں بیان کیا ہے اور بخاری اور مسلم کی حدیثیں بھی ایسی ہی ہیں اور اسی طرح پر روایت ہوئی ہیں۔ پس ہم اُس کے ہر ہر لفظ کو صاحبِ وحی کی طرف منسوب نہیں کر سکتے، بلکہ صحابی و تابعی کی طرف بھی بالعزم نسبت نہیں کر سکتے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ الفاظ سب سے اخیر راوی کے ہوں جس نے بخاری یا مسلم یا اور کسی سے روایت کی، بلکہ کیا عجب ہے کہ بعض مقام پر خود بخاری یا دوسرے مصنفِ جامعِ حدیث کے لفظ ہوں۔

اس کی تصدیق خود بخاری کی بہت سی حدیثوں کے آپس میں مقابلہ کرنے سے ہوتی ہے۔ چنانچہ اس مقام پر تمثیلاً ہم دو حدیثوں کا آپس میں مقابلہ کرتے ہیں۔

حدیث اول۔ حدثنا بشر من خالد قال اخبرنا محمد عن شعبة عن سلیمان عن ابی وائل۔ قال ابو موسیٰ لعبد اللہ ابن مسعود اذا لم یجد الماء لا یصلی قال عبد اللہ نعم ان لم اجد الماء شہراً لم اصل لو رخصت لہم فی ہذا کان اذا وجد احدہم (احدکم البرد) قال ہکذا، یعنی تیمم و صلی قال قلت فاین قول عمار لعمر قال انی لم ار عمر قنع بقول عمار۔

حدیث دوم۔ حدثنا عمر بن حفص ثنا ابی قال قال ثنا الاعمش قال سمعت شقیق بن سلمة قال کنت عند عبد اللہ و ابی موسیٰ فقال لہ ابو موسیٰ ارایت یا ابا عبد الرحمن اذا اجنب فلم یجد ماء کیف یصنع فقال عبد اللہ لا یصلی حتی یجد الماء فقال ابو موسیٰ فکیف تصنع بقول عمار حین قال لہ النبی صلی اللہ علیہ و سلم کان یکفیک قال الم تر عمر لم یقنع بذالک منہ فقال ابو موسیٰ فدعنا من قول عمار کیف تصنع بہذہ الایة فما دری عبد اللہ ما یقول فقال انا لو رخصنا لہم فی ہذا لاوشک اذا برد علی احدہم الماء ان یدعہ وتیمم فقلت لشقیق فانما کرہ عبد اللہ لہذا فقال نعم۔

دونوں حدیثوں میں وہ گفتگو مذکور ہے جو در بابِ تیمم کے ابو موسیٰ اور عبد اللہ ابن مسعود میں ہوئی تھی۔ پہلی حدیث میں تو مجملاً یہ بیان ہوا ہے کہ ابو موسیٰ نے عبد اللہ ابن مسعود سے کہا کہ کیا جس شخص کو نہانے کی حاجت ہو جب اُس کو پانی نہ ملے تو وہ نماز نہ پڑھے۔ عبد اللہ ابن مسعود نے کہا کہ ہاں اگر مجھ کو مہینہ بھر پانی نہ ملے تو میں نماز نہ پڑھوں۔ اگر میں اُن کو تیمم کی اجازت دوں تو اُس وقت دوں کہ کسی کو سردی ہو گئی ہو۔ کہا کہ ایسا یعنی تیمم کیا اور نماز پڑھی۔ ابو موسیٰ نے کہا کہ میں نے عبد اللہ ابن مسعود سے کہا کہ پھر وہ کیا بات ہوئی جو عمار نے عمر سے کہی تھی۔ عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ عمر عمار کی بات سے راضی نہیں ہوئے تھے۔

دوسری حدیث میں اسی واقعہ کو دوسری تقریر سے بیان کیا ہے کہ ابو موسیٰ نے عبد اللہ بن مسعود سے کہا کہ تم کیا خیال کرتے ہو اے عبد الرحمن کے باپ کہ جب کسی کو نہانے کی حاجت ہو جائے اور اُس کو پانی نہ ملے تو کیا کرے۔ تب عبد اللہ بن مسعود نے کہا نماز نہ پڑھے، جب تک پانی نہ ملے۔ ابو موسیٰ نے کہا کہ تو آپ عمار کے قول کو کیا کریں گے جب کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و سلم نے اُن کو فرمایا تھا کہ تیمم ہی تجھ کو کافی تھا۔ عبد اللہ نے کہا کیا تم نہیں دیکھتے کہ عمر اُن سے اس بات پر راضی نہیں ہوئے تھے۔ ابو موسیٰ نے کہا کہ ہم عمار کے قول کو چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ قرآن کی آیت میں (جس میں تیمم کا حکم ہے) کیا کریں گے۔ پھر عبد اللہ کی کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہیں۔ پھر کہا کہ جب ہم اُن کو تیمم کی اجازت دیں کہ پانی کسی کو سردی پہنچائے کہ اُس کو چھوڑ دے اور تیمم کر لے۔

اب دیکھو کہ ایک ہی حدیث ہے اور ایک ہی مطلب ہے جس کو ایک راوی نے ایک تقریر سے اور دوسرے راوی نے دوسری تقریر سے بیان کیا ہے اور اس سے بخوبی ثابت ہے کہ حدیث کی روایت بلفظہ نہیں ہوتی تھی، بلکہ بالمعنی ہوتی تھی۔

اس بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس قدر احکام احادیث کے لفظوں سے بخصوصیتِ الفاظ یا بوجہ تقدیم و تاخیرِ الفاظ یا بوجہ خاصیتِ ابواب وغیرہ از روئے قواعدِ صرف و نحو و معانی و بیان نکالے جاتے ہیں وہ سب احکامِ اجتہادی ہیں جو علماء نے الفاظِ موجودہ سے نکالے ہیں، مگر امکان ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و سلم کا وہ مقصود نہ ہو۔ پس اس قسم کے تمام احکام منصوص نہیں ہو سکتے بلکہ اجتہادی ہیں یحتمل الخطاء والصواب1۔

دوم۔ در حکمِ مرفوع2، یعنی در حقیقت حدیثِ مرفوع تو وہ ہوتی ہے کہ جس میں بالتصریح یہ بات کہی گئی ہو کہ رسولِ خدا صلعم نے فرمایا ہے یا خود کیا ہے یا آپ کے سامنے ہوا ہے، لیکن اگر کسی حدیث میں یہ بات بالتصریح نہ بیان ہوئی ہو، بلکہ کسی صحابی یا تابعی نے کوئی ایسی بات کہی ہو یا کی ہو کہ عقل اور اجتہاد سے اس کو کچھ تعلق نہ ہو، بلکہ منقولات میں سے ہو، مثلاً قیامت کا حال یا آئندہ کی خبر یا کوئی صحابی یا تابعی یوں کہے کہ پیغمبرِ خدا صلعم کے زمانہ میں ہم یوں کرتے تھے یا اس طرح پر کرنا سنت ہے تو یہ حدیث بھی در حکمِ مرفوع ہے اور بعض علماء کا یہ قول ہے کہ ایسی حدیث سے یہ بھی احتمال ہے کہ صحابہ اور خلفائے راشدین کی سنت مراد ہو۔