اقبال کا کلام مردہ قوموں کے جمود و سکون کو توڑنے کے لیے اکسیر کا حکم رکھتا ہے۔ اس کے شعروں کے پڑھنے سے رگوں میں، بجائے خون کے زندگی بجلیوں کی طرح کوندنے لگتی ہے۔ اسی باعث اقبال موجودہ دنیا کے بہترین شاعروں میں شمار ہوتا ہے۔
اقبال کی تازہ تصنیف ”بال جبریل“ درحقیقت اس کے نظریوں کی تکمیل، اس کے معتقدات و خیالات کی معراج اور اس کے ملک کا نہایت صحیح عکس ہے۔ ”بانگ درا“ کے مطالعہ سے اقبال کی غیر معمولی قوتِ متخیلہ، بے نظیر روانیِ طبع اور جوش، لاجواب اُپج اور لاثانی استعدادِ شاعری کا حال معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس میں وہ سوز و گداز نہیں پایا جاتا جو بال جبریل کا طرۂ امتیاز ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اقبال نے ابھی اپنا کوئی خاص نصب العین قرار نہیں دیا تھا۔ وہ ہنوز اپنی اور کائنات کی اہمیت و اصلیت سے پوری طرح واقف نہ تھا۔ اسی لئے صبح کا سماں، شام کی کیفیت، گورِ غریباں کا منظر، آبِ جُو کا نظارہ اور اسی قبیل کی دوسری کیفیتیں اس کے حساس دل کو بہت زیادہ متاثر کرتی تھیں۔ چونکہ اس نے ابھی منزلِ مقصود مقرر نہیں کی تھی، اس لیے وہ ہر نقشِ قدم پر سجدے کرتا اور ہر نغمے پر آپے سے باہر ہو جاتا تھا۔ اس دور میں وہ رہنما اور رہزن میں کم فرق کر سکتا تھا۔ اس کی نظروں میں ابھی تک ”خودی“ کے جلوے نہیں سمائے تھے۔ اس لیے وہ اس کی بے پناہ قوت سے باخبر نہ تھا۔ بانگ درا بیشک اقبال کی شاعری کے شباب کا مرقع ہے لیکن اس میں رنگینی، جوش اور زور کے ساتھ کہیں کہیں جوانی کی بے راہ روی اور نا تجربہ کاری بھی جھلکتی ہے۔ بانگ درا میں اقبال ایک ڈھونڈھنے والے کی طرح بے چین ہے اور بال جبریل میں وہ ایک پانے والے کے مانند مطمئن۔ بانگ درا زیادہ تر رنگ ہے اور ”بال جبریل“ تمام تر رس۔
اب اقبال خود آگاہ بھی ہے اور خدا آگاہ بھی۔ وہ مسلسل جدوجہد کے بعد ٹھوکریں کھا کھا کر منزل مقصود پر پہنچ چکا ہے اور دوسروں کو بھی اسی طرف چیخ چیخ کر بلا رہا ہے۔ راستے کے خطروں سے سب کو خبردار کر رہا ہے اور ان کی سچی رہنمائی کرنے کے لئے بیتاب ہے۔ اس کے نزدیک منزل مقصود تک صحیح سلامت پہنچنے کے لیے ”احساسِ خودی“ اور سخت کوشی، ازبس ضروری ہیں۔ اور اقبال کے پیام کے یہی دو اہم اجزا ہیں۔
آج اقبال ایک شاعر اور مصلح کی صورت میں نہیں بلکہ ایک پیغمبر کی حیثیت سے اپنے صحیفہ ”بال جبریل“ کے ذریعہ اہل عالم کو پیامِ زندگی سنا رہا ہے۔ اب اس کی ہر بات تجربے پر مبنی ہے۔ سوسائٹی کے امراض کے استیصال کے لیے وہ اپنے آزمودہ نسخے تجویز کرتا ہے۔ چونکہ اب اس کا اندازِ بیان نہایت ہی یقین انگیز اور مدلل ہے۔ اس لئے وہ اپنے نظریوں کی بالکل آزادانہ تبلیغ کر رہا ہے۔ ایک سچے آدمی کی طرح اب اس کا طرزِ کلام صاف، پرجوش اور بےباکانہ ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ”بال جبریل“ میں بانگ درا کا سا جوش اور رنگینی اور تنوع نہیں ہے۔ یہ اعتراض ایک حد تک صحیح بھی ہے۔ لیکن بیان کی سلامت پیام کی ہم آہنگی اخلاقی اور حکیمانہ مضامین اور طرز ادا کی بیباکی کے لحاظ سے بال جبریل کو بانگ درا پر فوقیت حاصل ہے۔
بال جبریل کے بیشتر اشعار ”مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ1“ اور ”لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی2“، انھی دو نظریوں کی تشریح اور تفسیر ہیں۔ برخلاف اس کے بانگ درا میں شاعر نے کوئی مستقل پیام اس زور و شور کے ساتھ نہیں پیش کیا۔ یہ سچ ہے کہ بانگ درا کے چند نغمے انسان کو آپے سے باہر کر دیتے ہیں لیکن بال جبریل کی بعض جنبشیں، چشم زدن میں انسان کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہیں۔ بانگ درا کے اکثر شعروں کے پڑھنے سے دل پر ایک چوٹ سی لگتی ہے اور منہ سے بے اختیار واہ! یا آہ! نکل جاتی ہے۔ لیکن بال جبریل کے اشعار سے قلب پر ایسی کاری ضرب پڑتی ہے کہ انسان میں پھر آہ بھرنے یا واہ کرنے کی سکت ہی باقی نہیں رہتی۔ بانگِ درا میں ایک پہاڑی ندی کا سوز و شور پایا جاتا ہے اور بالِ جبریل میں ایک میدانی دریا کی سی وسعت، گہرائی اور سنجیدگی نظر آتی ہے۔
تعمیر خودی
اقبال نے تعمیرِ خودی اور احساسِ خودداری کی بڑی پرجوش تبلیغ کی ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ دنیا کسی انسان کی اہمیت کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرتی جب تک وہ اپنی اہمیت خود منوا نہیں لیتا۔ اس کے نزدیک وہی لوگ دنیا میں باعزت اور باوقار ہیں جو اپنی حقیقی عزت جانتے اور اپنے جوہر کو پہچانتے ہیں:
|
زمانے میں کھوٹا ہے اس کا نگیں |
جو اپنی خودی کو پرکھتا نہیں |
اس خودی کے معنی ”میں پن“ نہیں بلکہ اس کا مفہوم خودشناسی اور ”خودداری“ ہے۔ یہ خودی دراصل نیاز مندی کی ایک شکل ہے:
|
خودی کی شوخی و تندی میں کرّو ناز نہیں |
جو ناز ہو بھی تو بے لذت نیاز نہیں |
اقبال ترکِ دنیا، ترکِ خودی، اور تن بہ تقدیر رہنے کا مطلق قائل نہیں۔ وہ ان خیالات کی شدید مخالفت کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب یہ عقائد کسی قوم کی فطرت میں جگہ پکڑ لیتے ہیں تو وہ قوم بہت جلد فنا ہو جاتی ہے۔ برخلاف اس کے جن قوموں میں احساسِ خودی ہوتا ہے وہ دنیا پر حکمرانی کرتی ہیں کیونکہ ان کو اس احساس کی بدولت ہر طرف کامیابی ہی کامیابی نظر آتی ہے۔ اقبال ساری دنیا کو خودی کی زد میں خیال کرتا ہے۔ پیغمبری، ولایت اور قلندری کو وہ خودی کے مختلف مظاہر سمجھتا ہے:
|
خودی کی خلوتوں میں مصطفائی |
خودی کی جلوتوں میں کبریائی |
|
زمین و آسمان و کرسی و عرش |
خودی کی زد میں ہے ساری خدائی |
ایک معمولی انسان احساسِ خودی کی بدولت ترقی کے اعلیٰ ترین مدارج حاصل کر سکتا ہے اور اس احساس کے فقدان کے باعث ایک عالی مرتبہ شخص تنزل کی ادنیٰ ترین منزل تک پہنچ جاتا ہے:
|
رائی زورِ خودی سے پربت |
پربت ضعف خودی سے رائی |
خودی ایک بحرِ ناپیدا کنار ہے، جس میں غرق ہو جانا ہی انسان کے حق میں عین کامیابی ہے۔ جس شخص نے اپنی خودی کے علاوہ کسی دوسری شے سے محبت کی یا اس کے حاصل کرنے میں سرگرم رہا، حقیقت میں اس نے اپنی زندگی ضائع اور اپنی اوقات خراب کی۔ اپنی خودی سے محبت کرنا ہی زندگی اک حقیقی مقصد ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے سب ہیچ ہے:
|
عشقِ بتاں سے ہاتھ اٹھا، اپنی خودی میں ڈوب جا |
نقش و نگارِ دیر میں خونِ جگر نہ کر تلف |
یا:
|
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں |
تو آبجُو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں |
مگر ساتھ ہی ساتھ اقبال یہ بھی جتا دیتا ہے کہ اس سمندر میں تیرنا کھیل نہیں۔ یہاں عالی ظرفی اور حوصلہ مندی درکار ہے:
|
خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں |
مگر یہ حوصلۂ مردِ ہیچ کارہ نہیں |
انسان کی عزت اور زندگی کا تمام تر دارومدار ”حفظِ خودی“ پر موقوف ہے:
|
تری زندگی اسی سے، تری آبرو اسے سے |
جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو رو سیاہی |
موتی کے گراں بہا ہونے کا راز اس کا ”حفظ خودی“ ہے ورنہ حقیقت میں وہ ایک سنگریزے سے زیادہ قیمت نہیں رکھتا:
|
گراں بہا ہے تو حفظِ خودی سے ہے ورنہ |
گہر میں آبِ گہر کے سوا کچھ اور نہیں |
جس انسان میں ابھرنے اور ترقی کرنے کی خواہش نہیں، اس کی حیات موت کے مترادف ہے۔ اس لئے کہ زندگی نام ہے کشمکشِ مسلسل اور سعیِ پیہم کا۔ کائنات کا ہر ذرہ حرکت ہی کے سبب سے زندہ ہے۔ یہی اضطرار اس کی زندگی کی دلیل اور اس کی حیات کا عین مقصد ہے:
|
بے ذوق نمود زندگی موت |
تعمیر خودی میں ہے خدائی |
خودی کے مسلک کو اختیار کرنے کے بعد سالک کو راستے کے سیمیائی جلوؤں کو دیکھ کر تھٹھک نہ جانا چاہیئے بلکہ اس کی نظر میں وسعت اور خیالات میں رفعت ہونی چاہیے۔ خودی کا اعلیٰ ترین یہ وہ ہے جہاں پہنچنے کے بعد ”بے طلب“ عطا کی نوبت آتی ہے:
|
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے |
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟ |
خودی کے ہتھیار کی دھاک سے انسان ساری دنیا کو اپنے قبضے میں لا سکتا ہے۔ خودی اسرارِ الہیٰ کے مخفی خزانوں کی کنجی ہے:
|
خودی کے زور سے دنیا پہ چھا جا! |
مقام رنگ بو کا راز پا جا! |
لیکن سارے عالم کو مطیع کر کے اور یہاں کے تمام رازوں سے واقف ہونے کے بعد اگر انسان یہیں کے جھمیلوں میں پھنس جائے اور اسی کو اپنا مقصدِ زندگی سمجھنے لگے تو یہ سخت غلطی ہے بلکہ دسترس حاصل ہونے پر بھی اسے گزشتی نہ گزشتی سمجھے ورنہ مقصدِ حیات فوت ہو جائے گا:
|
برنگِ بحرِ ساحل آشنا رہ! |
کفِ ساحل سے دامن کھینچتا جا! |
