Article Image

بالِ جبریل

فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر مَلکوتی

خاکی ہُوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند

درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی

گھر میرا نا دلی نہ صفاہان نہ ثمرقند

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق

نہ اَبلہِ مسجد ہُوں، نہ تہذیب کا فرزند

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش

میں زہرِ ہَلاہِل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

مشکل ہے کہ اک بندۂ حق بین و حق اندیش

خاشاک کے تودے کو کہے کوہِ دماوند

ہُوں آتشِ نمرود کے شُعلوں میں بھی خاموش

میں بندۂ مومن ہوں، نہیں دانۂ اسپند

پُر سوز و نظرباز و نِکوبین و کم آزار

آزاد و گرفتار و تہی کِیسہ و خورسند

ہر حال میں میرا دلِ بے قید ہے خُرّم

کیا چھینے گا غُنچے سے کوئی ذوقِ شکر خند!

ان مختلف اشعار کے علاوہ بعض مسلسل نظمیں مثلاً نین ذوق شوق، ساقی نامہ فرشتے آدم وک جنت سے رخصت کرتے ہیں روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے جبریل و ابلیس جاوید کے نام اور مولینی لاجواب ہیں ان میں اقبال کے عقائد کے نقوش زیادہ گہرے ہیں۔

بعض اشعار

اب یہاں ہم وہ اشعار درج کرنا چاہتے ہیں جو گذشتہ سرخیوں کے تحت نہیں آسکے، مثلاً طاقتور کی حکومت کامیاب ہوتی ہے کیونکہ اس کی نافرمانی کی جرات بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظریہ بالکل پہلے کی طرح اب بھی صحیح ہے:

تازہ پھر دانش حاضر نےکیا سحر قدیم

گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب حکیم

حکومت تو پھر حکومت ہے قوم کی اصلاح بھی بغیر قوت نہیں ہو سکتی:

رشی کے فاقون سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم

عصا نا ہو تو کلیمی ہے کار بے بنیاد

نو گرفتارِ محبت بارگاہِ حسن کے آداب سے پوری طرح واقف نہیں ہوتا۔ اس کو کیا خبر کہ روئے محبوب کو بیباکی سے دیکھنا کتنا بڑا جرم ہے۔ وہ تشنگیِ دیدار بجھانے کی خاطر بار بار چہرۂ دوست کی طرف نظریں دوڑاتا ہے۔ ابھی اس کا دل ایک حد تک اس کے قابو میں ضرور ہوتا ہے لیکن اپنی آنکھوں پر اس کا مطلق نہیں چلتا۔

میں تو نیاز ہوں مجھ سے حجاب ہی اولیٰ

کہ دل سے بڑھ کے ہے میری نگاہ ہے قابو

موجودہ زمانہ کا مسلمان جس کے قوائے عملی تقریباً مفلوج ہو چکے ہیں اپنے اسلاف کے کارناموں پر ناز کرتا اور پدرم سلطان بود کا بے ہنگام راگ الاپتا پھرتا ہے اقبال اس سے یوں خطاب کرتا ہے:

ترا اندیشہ افلا کی نہیں ہے

تری پرواز بولا کی نہیں ہے

یہ مانا اصل شاہانی ہے تیری

تری آنکھوں میں بیباکی نہیں ہے

جب تک مسلمانوں میں اس کے اسلاف کے جوہر پیدا نہ ہوں گے وہ ذلیل و خوار ہی رہیں گے موجودہ مسلمان گفتار اور کردار کی صفت میں بھی اپنے آبا و اجداد سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے پھر ان کی زندگی کیونکر خوشگوار ہو سکتی ہے۔

اے لاالہ کے وارث باقی نہیں تجھ میں

گفتار دلیرانہ کردار قاہرانہ

بعض اوقات انسان کو دشمنوں سے زیادہ دوستوں سے نقصان پہنچتا ہے۔ گھر کے بھیدی ہمیشہ سے لنکا ڈھاتے چلے آئے ہیں۔

خزاں میں بھی کب آسکتا تھا میں صیاد کے بس میں

ممری غماز تھی شقاخ نشیمن کی کم اوراقی

چھپانے کی کوشش میں رازِ عشق اور بھی زیادہ آشکار ہوتا ہے۔

کہہ گئی راز محبت پردہ داری بائے شوق

تھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغان سمجھا تھا میں

عقل و عشق کا کس قدر پر لطف موازنہ ہے۔

عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے

عشق بیچارہ نہ ملا ہے نہ زاہد نہ حکیم

ایک سراپا نیاز پاش و خوار اپنے ساقیِ باوقار سے کس لجاجت کے ساتھ شراب مانگ رہا ہے۔

تو میری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ

تیرے پیمانہ میں ہے ماہ تمام اے ساقی

انسان اگر اپنی ناکامیوں اور مصیبتوں پر روتا ہی رہے تو اس کو اس کام کے لیے اپنی عمر بھی کافی نہ ہو گی اس لیے ہر افتاد پر رنج و غم کرنا مصیبت کی اولیت میں زیادہ شدت پیدا کرتا ہے۔

اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم

مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں

انسان کو حقیقی آزادی کبھی میسر نہیں آسکتی۔ جس طرح اس زندگی میں ایک مرتبہ مرنے پر انسان مجبور ہے اسی طرح دوسری زندگی میں وہ جینے پر مجبور ہے۔

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا

یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی

بال جبریل بیشک بیسویں صدی کی بہترین تصنیفوں میں شمار ہونے کے قابل ہے اس کے ہر صفحہ پر زندگی کا ایک زبردست تلاطم نظر آتا ہے۔ اشعار کیا ہیں طوفانِ حیات کی فلک بوس موجیں ہیں جن میں مردہ قوموں کا جمود خس و خاشاک کی طرح چشم زدن میں بہہ سکتا ہے۔ جس شد و مد کے ساتھ اس کتاب میں درس عمل پیش کیا گیا ہے اس کی نظر پیش کرنے سے کم از کم اردو ادب تو قاصر ہے۔ یہ کتاب دراصل انقلابات و حوادثِ روزگار کے اسباب و علل کا آئینہ ہے۔