Article Image

بالِ جبریل

خدا کی خدائی میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے، پھر بھی انسان کی ہزاروں آرزوؤں کا روزانہ خون ہوتا رہتا ہے، جو تمنائیں پوری ہوتی ہیں وہ نفی کے برابر ہیں۔ اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ عطا کے مقابلے میں فطرت نہایت ہی بخیل واقع ہوئی ہے؎

غضب ہے عین کرم میں بخیل ہے فطرت

کہ لعل ناب میں آتش تو ہے شرارہ نہیں

ایک مفلوک الحال آدمی اگر کسی فقیر کو ایک پیسہ بھی دے تو یہ اس کی سخاوت کہلائے گی، برخلاف اس کے اگر مسٹر فورڈ کسی فنڈ میں ایک سو ڈالر بھی جمع کرائیں تو یہ ان کی بخالت سمجھی جائے گی، بالکل اسی طرح قدرت جس کے خزانے لاتعداد اور جس کی قوت لامحدود ہے اگر عطا پر آجائے تو تمام دنیا کے سائل اپنی کوتاہیِ دامن کا شکوہ کرتے پھریں لیکن حقیقت میں مانگنے والوں کو جو ملتا ہے وہ نہ ملنے کے برابر ہے، اس لیے اقبال بگڑ کر لکھتا ہے؎

تیرے شیشے میں مے باقی نہیں ہے

بتا کیا تو میرا ساقی نہیں ہے

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم

بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے

سیاسیات

اقبال کو انسان کی موجودہ پستی کا شدید احساس ہے۔ اس کی یہ دلی تمنا ہے کہ انسان حقیقی معنوں میں اشرف المخلوقات بنے، اس لیے وہ انسانی زندگی کے ہر شعبے کے متعلق مختلف خیالات پیش کرتا ہے۔ وہ کبھی علم و اخلاق کے خاص خاص نظریوں کی تلقین کرتا ہے تو کہیں تصوف کا درس دیتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف زندگی کی گتھیوں کو سلجھانے کی تدبیریں بتاتا ہے تو دوسری طرف انسان کو اس کی اصلی عظمت یاد دلا کر اس کی حمیت کو جوش میں لاتا ہے۔

اس کا عقیدہ ہے کہ مذہب کو سیاسیات سے علیحدہ کرنا بڑی اہم غلطی ہے۔ حکومت کی کوئی شکل بری نہیں بشرطیکہ حکمراں طبقہ اپنے دل میں حقیقی معنوں میں احساسِ مذہب رکھتا ہو۔ مذہب سے الگ رہ کر کوئی نظامِ حکومت عرصہ تک مفید نہیں رہ سکتا؎

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو

جدا ہوویں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

مذہب معلمِ اخلاق ہے۔ جب سیاست اس کے تحت آجاتی ہے تو اہلِ سیاست اخلاق کی قائم کردہ حدود سے باہر نکلتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ رفتہ رفتہ وہ ان پابندیوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب ان کو مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہوتا اس صورت میں وہ اپنی پسند کو قانون اور اپنے مخصوص مسلک کو مذہب کی خلعت عطا کر کے اس کو رائج کرنے کی جان توڑ کوشش کرتے ہیں۔ ہر نیا حکمران اپنے نئے مسلک کی ترویج پر زور دیتا ہے۔ اس سے تھوڑی تھوڑی مدت کے بعد انقلابات ہوتے رہتے ہیں جو امنِ عامہ کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔ آج دنیا میں کسی جگہ اشتراکیت کا ڈھول پٹ رہا ہے تو کہیں جمہوریت کا نقارہ بج رہا ہے۔ کہیں فاسطیت کے دف کی آواز آرہی ہے تو کسی جگہ نازیت کے دمامے پر مسلسل ضربیں پڑ رہی ہیں۔ دنیا میں ایسا کون برذوق ہے جو اس عظیم الشان کورس (chorus) کو سن کر اپنی اپنی روح میں سکون محسوس کرتا ہے؟ قومیت کا بھوت ہر ملک میں ناچ رہا ہے اس کا اثر یہ ہے کہ ہر ملک اپنے مفاد کے لیے سب سے پہلے اپنے ہمسائے پر ہی ہاتھ صاف کرنے کی فکروں میں لگا ہوا ہے۔ بھلا اس نفسا نفسی میں کہیں امن پرورش پا سکتا ہے؟ موجودہ تہذیب کے فرزند مذہب کے ہاتھوں کو ہمیشہ خون میں بھرا دیکھتے ہیں اور اس سے ایک درندے کی طرح خائف ہیں لیکن ان اندھوں کو ذرا غور و فکر کی توفیق ہو تو معلوم ہو جائے کہ موجودہ تہذیب سراسر خون آلود ہے۔ جنگ عظیم کے مقابلے میں مہا بھارت کی جنگیں بچوں کی لڑائیوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں پھر ان روشن خیال لوگوں نے ترکِ مذہب کر کے ایسا کون سا تیر مار لیا؟ سچ تو یہ ہے موجودہ ترقی یافتہ ملکوں کی حکومت کی بنیاد مکاری پر قائم ہے جس کو ترقی یافتہ لوگ سیاست کے مہذب نام سے پکارتے ہیں۔ یوں دیکھنے کو تو روس میں مزدور کی حکومت ہے۔ اور جرمنی و ترکی میں جمہوریت قائم ہے مگر اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ صرف اسٹالن، ہٹلر اور کمال کے ارادوں اور عقیدوں کی روح دراصل تمام روس جرمنی اور ترکی میں جاری و ساری ہے؎

زمام کار گر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا

طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہن پرویزی

حصول آزادی کے لئے اقبال قوت کو ضروری خیال کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ غلامی کے طوفان سے وہی لوگ صحیح سلامت پار اترتے ہیں جو اپنے سخت اور قوی بازوؤں سے موجوں کو مردانہ وار چیرتے چلے جاتے ہیں۔ خالی ضد یا بھیک مانگنے سے آزادی حاصل نہیں ہوتی جو لوگ میدان جنگ کو اپنے خونِ جگر سے لالہ زار بنا دیتے ہیں وہی ایک دن عیش و عشرت کی مےِ لالہ فام کے مستحق قرار دیئے جاتے ہیں۔

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر انم کیا ہے

شمشیر و عنان اول طاوس درباب آخر

مناظر قدرت

بال جبریل میں اقبال نے مناظرِ قدرت کی عکاسی کی طرف بہت ہی کم توجہ کی ہے اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ پہلے وہ اہل عالم کو جہانِ رنگ و بو کی سیر کا دلکش پیغام پہنچانا اپنا کام سمجھتا تھا لیکن اب وہ زمانے کو ”داغہائے سینہ من کمتراز گلزار نیست“ کا دلگداز نالہ سنانا اپنا فرض جانتا ہے اس کے باوجود بھی کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے مرقعے نظر آجاتے ہیں مثلاً:

وادی کوہسار میں غرق شفق ہے سحاب

لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب

یا:

ہوا خیمہ زن کاروان بہار

ارم بن گیا دامن کوہسار

گل و نرگس و سوسن و نسزن

شہید ازل لالہ خونیں کفن

جہاں چھپ گیا ہے پردہ رنگ میں

لہو کی ہے گردش رگ سنگ میں

فضا نیلی نیلی ہوا میں سرور

ٹھہرتے نہیں آشیاں میں طبور

اسی نظم میں پہاڑی ندی کی کیا چلبلی تصویر کھینچی ہے:

وہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئی

اٹکتی لچکتی سر کہتی ہوئی

اچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئی

بڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئی

رکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہ

پہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہ

حقیقی مومن

ایک سچا مسلمان بندوقوں، تلواروں، بموں اور ہوائی جہازوں کے بل پر نہیں لڑتا بلکہ وہ اپنے دشمن پر ”تائید الہٰی“ جیسے مہلک ترین حربے سے حملہ کرتا ہے اور عروسِ فتح سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اس کے نزدیک خدا کے سوا کسی دوسری چیز پر بھروسہ کرنا کفر ہے:

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

مومن حقیقی سوائے خدا کے کسی دوسرے کا سہارا یا پناہ قبول نہیں کرتا اسی لیے دنیا کی تمام قوتیں اس کے آگے سر جھکا دیتی ہیں:

عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث

مومن نہیں جو صاحب لولاک نہیں ہے

بانگ درا میں اقبال نے مومن کی لامحدود قوتوں کی طرف یوں اشارہ کیا ہے:

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے روز بازو کا

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

اسی خیال کا بال جبریل میں یوں اعادہ کیا ہے:

کافر ہے تو ہے تابع تقدیر مسلمان

مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الہٰی

سچا مومن مفلوک الحالی میں بھی کسی کے آگے دستِ سوال دراز نہیں کرتا اسے اپنی فقیری میں شاہی کے مزے ملتے ہیں لیکن جس شخص کا اعتقاد کچا اور ایمان کمزور ہوتا ہے اس کو مال و دولت کے باوجود حقیقی راحت نصیب نہیں آتی:

کافر ہے مسلماں تو امیری نہ فقیری

مومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی

مصیبت میں صبر نہ کرنا اور پریشانیوں سے تنگ آکر نالہ و فریاد کرنا بزدلوں کا کام ہے۔ سخت سے سخت اذیت پہنچنے پر بھی مومن کی پیشانی پر شکن تک پڑنے نہیں پاتی:

ہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموش

میں بندہ مومن ہوں نہیں دانہ اسپند

اپنے متعلق

یوں تو اقبال کا سمندِ طبع ہر میدان میں یکساں جولانیاں دکھاتا ہے لیکن جہاں کہیں اس کو اپنے متعلق کچھ کہنے کا موقع ملتا ہے وہاں خوب ہی جوہر دکھاتا ہے۔ وہ ان سالکین اور صوفیا کو جو خدا کا جلوہ اپنے وجود کی فنا میں دیکھتے ہیں گمراہ سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک خدا رسی کا بہترین اور آسان ترین ذریعہ تلاشِ خودی ہے ”جس نے خود کو پہچانا اس نے خدا کو پہچانا“ اسی لیے وہ ایک جگہ کہتا ہے:

غلام ہمت آن خود پر ستم

کہ از سوز خودی بیند خدارا

جب اقبال اپنے متعلق کچھ بیان کرتا ہے تو اس کا طرز کلام زیادہ قلندرانہ اور دلکش ہو جاتا ہے:

فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانی

بہا میری نوائے دولت پرویز ہے ساقی

اقبال کو اپنے کمال کا احساس ہے اور اس عطا پر وہ خدا کا شکر ادا کرتا ہے۔ اپنی آزادی پسند طبیعت اور آزادہ روی کی ایک جگہ یوں تصویر کھینچی ہے:

کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں میں

غلام طغرل و سنجر نہیں میں

جہاں مبنی میری فطرت ہے لیکن

کسی جمشید کا ساغر نہیں میں

مندرجہ ذیل شعروں میں اقبال کی سیرت کا عکس کس قدر واضح نظر آتا ہے: