Article Image

بالِ جبریل

تو نہ شناسی ہنوز، شوق بمیرد ز وصل

چیست حیات دوام، سوختنِ ناتمام

تو ابھی تک نہیں جانتا کہ وصال (منزل پا لینے) سے شوق مر جاتا ہے۔ ابدی زندگی کیا ہے؟ بس مسلسل تڑپتے اور جلتے رہنے کا نام ہے۔


پروان جب تک شمع کا دیوانہ وار طواف کرتا ہے مجسم عشق بنا رہتا ہے لیکن جونہی شعلۂ شمع کی ہم آغوشی کی ہوس میں آگے بڑھتا ہے جل کر خاک ہو جاتا ہے۔ اسی لئے عشاق ہجر کی مصیبتوں کو خوشی خوشی برداشت کرتے اور وصل سے موت کی طرح ڈرتے ہیں؎

عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراق

وصل میں مرگ آرزو ہجر میں لذت طلب

اخلاق

بالِ جبریل میں اقبال سب سے زیادہ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اس میں زندگی بسر کرنے کے جو طریقے بتلائے گئے ہیں وہ موجودہ حالات کا بہت گہرا مطالعہ کرنے کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور اقتضائے وقت کے لحاظ سے نہایت موزوں و مناسب ہیں۔

غلامی کی بیماری انسان کے احساسات و جذبات کو مردہ کر کے اس کو دنیا کی تمام نعمتوں اور زندگی کی ساری خوشیوں کی لذت سے محروم کر دیتی ہے؎

غلامی کیا ہے ذوق حسن و زیبابی سے محرومی

جسے زیبا کہیں آزاد بندے ہیں وہی زیبا

آزادی کے چھینتے ہی انسان کی بصیرت مفقود ہو جاتی ہے یہی نہیں بلکہ غلامی اس کو اندھا بھی بنا دیتی ہے۔ جو شخص آنکھیں رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ سے آزادی کا گوہرِ بے بہا گم کر دے اس کے اندھے پن پر کون شبہ کر سکتا ہے حق تو یہ ہے کہ جو آزاد ہیں وہی بینا کہلانے کے مستحق بھی ہیں؎

بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر

کہ دنیا میں فقط مردان حق کی آنکھ ہے بینا

وہی لوگ دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں جو آج ہی کل کی فکر کر لیتے ہیں۔ وہ ”چوں بہ فردا برسی روزیِ فردا برسد“ کے مطلق قائل نہیں ہوتے؎

وہی ہے صاحب امروخس نے اپنی ہمت سے

زمانے کے سمندر سے نکالے گوہر فرط

جو لوگ کہ آج ہمیں شاد کام نظر آتے ہیں انہوں نے سب کچھ آج ہی حاصل نہیں کر لیا ہے بلکہ وہ ”کل“ ہی اس ”آج“ کے روشن بنانے کی ترکیبیں سوچ چکے اور تدبیریں کر چکے تھے۔ ہر کام صرف اسی وقت تک مشکل نظر آتا ہے جب تک مشکل سمجھ کر اسے شروع نہ کیا جائے جہاں ایک مرتبہ ہمت کی تو؎

پھر کونسا عقدہ ہے جودا نہیں ہو سکتا

ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا

ہمت کے آگے پربت رائی ہے اور اٹل ارادے کے سامنے زمین تو کیا آسمان بھی پیش پاافتادہ چیز ہے؎

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفیٰ سے مجھے

کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

غلام کا صرف جسم ہی اس کے آقا کے قبضہ میں نہیں رہتا بلکہ رفتہ رفتہ اس کے دل و دماغ پر بھی آقا کا تسلط قائم ہو جاتا ہے۔

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات

تو جھکا جب غیر کے آگے تو تن تیرانہ من

جو انسان حقیقی معنوں میں خدا کا بندہ ہے وہ دراصل ساری خدائی کا مالک ہے اس لئے خدا کی غلامی پادشاہی کے مترادف ہے برخلاف اس کے جو آدمی بندۂ دنیا بن جاتا ہے وہ ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ ایک غلامی سے آقائی کی خلعت نصیب ہوتی ہے اور ایک غلامی سے گدائی کی لعنت طوقِ گردن بنتی ہے۔ اب انسان جو چاہے اپنے لئے منتخب کرے؎

یہ بندگی خدائی وہ بندگی گدائی

یا بندہ خدا بن یا بندہ زمانہ

کسبِ حلال انسان کو خوددار اور دلیر بناتا ہے۔ وہ کسی کے آگے اپنا سر نہیں جھکاتا۔ اپنی پھٹی پرانی کمبل ہی میں اس کو قیمتی شال کا لطف آتا ہے۔ اس کی زبانِ دل کی سچی ترجمان ہوتی ہے اس لئے وہ اظہارِ حق میں کبھی پس و پیش نہیں کرتا۔ لیکن ناجائز ذرائع سے جو روزی حاصل ہوتی ہے۔ وہ انسان کو بزدل، خوشامدی اور کمینہ بنا دیتی ہے۔ وہ اپنے حاکموں کے ہاتھ اپنی آزادی بیچ ڈالتا ہے۔ اقبال اس ذلیل زندگی پر موت کو ترجیح دیتا ہے؎

اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

تصوف

تصوف اقبال کے کلام کی جان ہے۔ اس کے تصوف کے بنیادی اصول مولانائے روم کے عقائد ہیں۔ اقبال رومی پر مٹا ہوا ہے۔ اس والہانہ عقیدت مندی ہی کا اثر ہے کہ خود اس کے کلام میں بھی رومی کی سی بیباکی اور فاش گوئی پیدا ہو گئی ہے۔ رومی کی طرح اقبال بھی اپنے خیال کے آگے شعر کی ظاہری خوبیوں کی مطلق پرواہ نہیں کرتا وہ خدا سے دعا کرتا ہے کہ میرا نورِ بصیرت عام کر دے جس آگ میں وہ خود جل رہا ہے دوسروں کو بھی اسی میں جلانا چاہتا ہے۔ اس کوشش میں بعض بعض جگہ اس کا لہجہ کسی قدر تلخ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس تلخی کا سبب وہ خود بتاتا ہے؎

میری نوا میں نہیں ہے ادائے محبوبی

کہ بانگ صور سرافیل دل نواز نہیں

اقبال شاعری کو اظہارِ کمال کا ذریعہ قرار نہیں دیتا بلکہ وہ اس وسیلہ سے کائنات کے رازوں کو آشکار کرتا ہے؎

میری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ

کہ میں ہوں محرم راز دروں میخانہ

بالِ جبریل میں اقبال کا انداز حکیمانہ اور صوفیانہ سے زیادہ قلندرانہ ہے وہ اس امر کا خود اعتراف کرتا ہے؎

خوش آ گئی ہے جہاں کو قلندری میری

وگرنہ شعر میرا کیا ہے شاعری کیا ہے

جو لوگ ”اہل دل“ اور ”اہل نظر“ ہیں وہ ماضی اور حال ہی کے واقعات سے باخبر نہیں ہوتے بلکہ مستقبل میں پیش آنے والے حادثات کا بھی ان کے آئینۂ دل پر صاف عکس پڑتا ہے؎

حادثہ وہ جو ابھی پردہ افلاک میں ہے

عکس اس کا میرے آئینہ اوراک میں ہے

اقبال دراصل نہ قدری ہے نہ جبری بلکہ اس کا مسلک درمیانی ہے، وہ اگر ایک طرف ارتکابِ جرم پر انسان کو سزا کا مستحق سمجھتا ہے تو دوسری طرف خدا سے بھی شرمساری کا متوقع ہے کیونکہ جرم کے ارتکاب میں صرف انسانی ارادے ہی کو دخل نہیں ہے بلکہ یہ ارادہ بھی کسی اور ارادے کے اشاروں پر کام کرتا ہے۔ اقبال قاتل کو جہاں قصاص کا حکم سناتا ہے وہاں شمشیر ساز کو بھی تھوڑا سا جرمانہ کرتا ہے؎

روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر عمل

پ بھی شرم سار ہو مجھ کو بھی شرم سار کر

عام لوگ جلوہ خداوندی کے دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتے۔ یہ کام خاصان خدا کا ہے جن کے قلوب انوار الہیٰ سے معمور رہتے ہیں۔ عامیوں کو نور مطلق کی ایک ہلکی سی جھلک بھی بے قابو کر دیتی ہے اور وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں لیکن محرمانِ رازِ حقیقت تجلیات الہی کی بارش میں بھی اطمینانِ قلب نہیں کھوتے؎

یہ مصرعہ لکھ دیا کس شوخ نے محراب منبر پر

یہ نادان گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا

منظرِ عام پر آنا حسن کی فطرت ہے۔ حسن مطلق ذرے ذرے میں سمایا ہوا ہے صاحبِ نظر اس کا ہر جگہ نظارہ کرتے ہیں۔ عام لوگوں کی بینائی ہی ان کی آنکھوں کا پردہ بن جاتی ہے اور وہ جلوہِ حق کی دید سے محروم رہ جاتے ہیں؎

وہ اپنے حسن کی مستی سے ہیں مجبور پیدائی

آنکھوں کی بینائی میں ہیں اھباب مستوری

شوخی بیان

اقبال کلام میں نہ صرف غالب کی سی شوخی بلند پروازی اور خودداری موجود ہے بلکہ اس میں عمر خیام کی سی آزاد مشربی اور بیباکی بھی پائی جاتی ہے۔

غلطیوں اور کمزوریوں کا پتلا انسان خدا کا نافرمان بندہ ہی سہی لیکن حقیقت میں بھی اس دیرانہ آباد نما کی رونق اور چہل پہل کا باعث ہے۔؎

قصور وار ٖغریب الدیا رہوں لیکن

ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

اس خرابے میں انسان ہی کی محنت کے طفیل مختلف نیرنگیاں طرح طرح کی دلچسپیاں اور بھانت بھانت کی رنگ ریلیاں مچ رہی ہیں۔ اسی کے دم سے اس ویرانے میں فلک بوس عمارتیں بنیں اور اس صحرا میں غیرتِ باغِ جنت چمن تیار ہوئے؎

میری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے

وہ دشت سادہ وہ ترا جہان بے بنیاد

آرزو ایک بیش بہا نعمت ہے اس کے بغیر زندگی بے لطف ہے خدا کے پاس ہر چیز موجود ہے اس کو آرزو کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی اس لیے وہ اس کی لذت سے بھی غالباً واقف نہیں ہے۔ اقبال آرزو کے سوز و ساز کو بڑے سے بڑے معاوضے پر بھی دینے کو تیار نہیں ہے؎

متاع بے بہا سے سوز و ساز آرزو مندی

مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی

انسان کو خدا کے ہنر کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے قبضے میں سمندر ہوا بجلی وغیرہ سب کچھ ہے لیکن اس میں نقائص یہ ہیں کہ وہ خود شناس، خدا شناس اور جہاں شناس نہیں ہے؎

یہی آدم ہے سلطان بحر و بر کا

کہوں کیا ماجرا اس بے بصر کا

نہ خود بیں نے خدا بیں نے جہاں بیں

یہی شہکار ہے تیرے ہنر کا؟