اہل مغرب نے بجلی کو اپنے قبضے میں لا لیا ہے، سمندر کے سینے پر جہاز چلا رہے ہیں اور ہوا پر طیارے اڑا رہے ہیں لیکن یہ ترقیاں ان کو تباہی سے بچا نہیں سکتیں بلکہ یہی ایجادیں ایک دن ان کی بربادی کا باعث ہوں گی:
|
وہ فکرِ گستاخ جس نے عریاں کیا ہے فطرت کی طاقتوں کو |
اسی کی بیتاب بجلیوں سے خطر میں ہے اس کا آشیانہ |
یہ تو مغرب کی حالت ہے۔ اب مشرق کی کیفیت بھی ملاحظہ ہو۔
مشرق اپنی قدیم روایتوں کو نہایت تیزی کے ساتھ ترک کر رہا ہے۔ اندھی تقلید جس سے انسان کی ذاتی کامنا کی سوتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خشک ہو جاتی ہیں، اس کی رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اب خانقاہوں اور مدرسوں سے ”اہل دل“ اور ”اہل نظر“ نہیں نکلتے۔ مدرسے کھلونا سازی کے بڑے بڑے کارخانے ہیں جہاں سے ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں چمکدار خوش رنگ لیکن ناپائدار نقلی انسان بن کر نکلتے ہیں جو زندگی کے سیلاب میں تھوڑی دیر ہاتھ پاؤں مار کر ہمیشہ کے لیے ڈوب جاتے ہیں۔ اب رہی خانقاہیں، وہ مکاروں اور دغابازوں اور بدمعاشوں کے مرکز ہیں۔
|
قم بازن اللہ کہہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے |
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن |
فطرت کی ستم ظریفی اور قوم کی بدقسمتی دیکھئے کہ انھی کے ہاتھوں میں اس کی باگ ہے۔ رہزنوں سے رہنمائی کی توقع رکھنا حماقت ہے۔ انہیں کی شان میں اقبال کہتا ہے:
|
میراث میں آئی ہے انہیں سر ارشاد |
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کا نشیمن |
راز زندگی
اقبال کا عقیدہ ہے کہ حرکت زندگی ہے اور سکون موت۔ آج دنیا میں جو قومیں ترقی یافتہ کہلاتی ہیں اور تگ و دو ہی کے باعث اس رتبہ کو پہنچی ہیں۔ بغیر سعی پیہم کے کسی کو کمال نصیب نہیں ہو سکتا؎
|
نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا |
سو بار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا |
اسی خیال کو اقبال نے یوں ادا کیا ہے؎
|
ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو |
کمال کس کو میسر ہوا ہے بے تگ و دو |
انسان اگر خوب سے خوب تر بننے کی فکر نہ کرے تو لازمی طور پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ خوب بھی باقی نہیں رہے گا، اس لیے خواہ کتنا ہی کمال حاصل ہو جائے، اس کو کم سمجھنا اور انتہائی مدارج تک رسائی حاصل کرنا ہی زندگی ہے۔ قناعت اور توکل سے حیات انسانی کو ایک قسم کا گھن لگ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ انسان کے جذبات بالکل مردہ ہو جاتے ہیں؎
|
نا صبوری ہے زندگی دل کی |
آہ وہ دل کہ نا صبور نہیں |
کشمکش اور سخت کوشی ہی پر زندہ قوموں کی حیات کا دارومدار ہے۔؎
|
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی |
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب |
ایک مقام میں پہنچنے کے بعد دوسری منزل کی طرف قدم اٹھانے چاہییں اور وہاں پہنچ کر تیسری جگہ جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسی لاانتہا ذوق سفر میں راز زندگی پوشیدہ ہے؎
|
ہر ایک مقام سے آگے مقام ہے تیرا |
حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں |
دھن اگر پکی اور طلب صادق ہے تو مشکل سے مشکل کام میں مزہ آنے لگتا ہے۔؎
|
ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام |
سخت کوشی سے ہے تلخ زندگانی انگبیں |
لوگوں کا یہ خیال کہ زندگی ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا بالکل غلط ہے۔ جن کے بازوؤں میں قوت اور دلوں میں جوش ہمت ہے ان کے نزدیک یہ ایک معمولی کھیل ہے۔؎
|
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی |
فقط ذوقِ پرواز ہے زندگی |
جن کے بازو کمزور ہیں اور جن کے دلوں میں ذوق پرواز نہیں ہے ان کے لیے زندگی ہمیشہ چیستاں اور ایک راز ہی رہے گی۔ اقبال کے نزدیک کمزوری ناقابل معافی جرم ہے، وہ اس کے لیے مرگِ مفاجات کی سزا تجویز کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے دنیا میں کمزوروں کو جینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ قوی ہمیشہ سے کمزور کو فنا کرتا آیا ہے اس میں نہ قوی کا کوئی قصور ہے نہ فطرت کا کوئی ظلم۔ جو بقا کے خواہاں ہیں انہیں قوی بننے کی کوشش کرنی چاہیے، ورنہ ان کو اپنے سے زیادہ قوت والوں کے منہ کا نوالہ بننا پڑے گا۔
اقبال سیرت کی بلندی اور مضبوطی پر بہت زور دیتا ہے۔ اعلیٰ سیرت والوں کے آگے دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتیں ہاتھ ٹیک دیتی ہیں۔ کردار کی بلندی سے انسان صرف زندگی کے بھیدوں ہی سے واقف نہیں ہوتا بلکہ اس پر تقدیر کے راز بھی منکشف ہونے لگتے ہیں۔ جو مردانِ حق اعلیٰ سیرتوں کے حامل ہوتے ہیں، فطرت کی تمام قوتیں انہیں کا ساتھ دیتی ہیں؎
|
صف جنگاہ میں مردان خدا کی تکبیر |
جوش کردار سے بنتی ہے خدا کی آواز! |
عشق حقیقی
اقبال عشق کو دنیا کی سب سے بڑی قوت اور حیات انسانی کی سب سے اہم ضرورت خیال کرتا ہے۔ بغیر عشق کے انسنا کو زندگی کا حقیقی لطف آ ہی نہیں سکتا اس لئے وہ اپنے بٹی کو یہ پیغام دیتا ہے؎
|
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر |
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر |
جو لوگ اپنے اعمال کی بنیاد عشق پر رکھتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں، اس لئے کہ عشق ایسا رہنما ہے جو رہبر کو ٹھیک نشان زدہ منزل پر پہنچا دیتا ہے، لیکن عقل رہرو کے بیان پر جرح کرتی اور اسے چوں و چرا کے جھمیلوں میں پھنسا دیتی ہے۔ اس لئے اقبال کہتا ہے عقل کو تنقید سے فرصت نہیں۔ عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ۔ عشق لافانی ہے اور اس کی قوتیں لامحدود۔ یہی ایک قطرہ بے مایہ کو بحر بیکراں سے ہم آغوش کر دیتا ہے۔ اس کی بدولت ذرہ بے مقدار آفتابِ عالمتاب سے جا ملتا ہے۔ اسی کے سبب ایک معمولی انسان انالحق کے نعرے لگاتا ہے اور رتبہ بلند کا مستحق قرار دیا جاتا ہے۔ موت کا بے پناہ وار بھی اس نازک رشتہ کو منقطع نہیں کر سکتا۔ زمانہ کی تیز و تند ہوا کے طوفان میں بھی شمعِ محبت برابر منور رہتی ہے۔ حقیقی محبت اپنے اندر ہزاروں لذتیں اور لاکھوں کیفیتیں پوشیدہ رکھتی ہے۔ جو محبت زمانے کے انقلابات کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے وہ دراصل بوالہوسی ہے جس میں نہ پائداری ہے نہ لطف۔ وہ عشق ہی نہیں جو اسی زندگی کے ساتھ ختم ہو جائے۔
|
وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک |
اس میں مزہ نہیں تپش و انتظار کا |
عاشق صادق کے نزدیک حشر و نشر کوئی چیز نہیں۔ فراقِ دوست کے ہر لمحے میں اس پر سینکڑوں قیامتیں گزر جاتی ہیں اس کو اپنے محبوب کی ایک گردشِ چشم میں بیسیوں حشر دکھائی دیتے ہیں؎
|
کسے خبر ہے کہ ہنگامہ نشور ہے کیا |
تری نگاہ کی گردش ہے میری رستانا خیز |
اقبال عشق کو ایمان کا سب سے اہم جزو خیال کرتا ہے بغیرِ عشق کے کوئی شخص مسلمان ہونے کا دعویٰ کر نہیں سکتا؎
|
اگر ہے عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی |
نہ ہو تو مردِ مسلمان بھی کافر و زندیق |
عاشق اپنے محبوب کے ظلم و ستم کو عین لطف و کرم سمجھتا ہے؎
|
نخچیرِ محبت کا قصہ نہیں طولانی |
لطفِ خلشِ پیکاں، آسودگیِ فِتراک |
بیانِ محبت خواہ کسی زبان میں ہو شیریں معلوم ہوتا ہے۔ پریم کا رس ہر بول میں مٹھاس پیدا کر دیتا ہے۔
|
ترکی بھی شریں تازی بھی شیریں |
حرف محبت ترکی نہ تازی |
حیاتِ انسانی کی رنگینی اور لطف کا تمام تر انحصار محبت پر ہے اگر یہ مقدس جذبہ فطرتِ انسانی سے الگ کر دیا جائے تو وہ بہائم سے بھی بدتر بن جائے گا؎
|
عشق کے مضراب سے نغمہ تار حیات |
عشق ہے نورِ حیات عشق ہے نارِ حیات |
عاشق صادق کی پر درد آہیں اور جان سوز نالے کبھی رائیگاں نہیں جاتے بلکہ عالمِ بالا سے وہ ضرور ایک دن تاثیر بدامن واپس ہوتے ہیں اور دلِ عاشق کے لیے مرہم ثابت ہوتے ہیں۔ ابتدا میں بیشک عاشق کی آنکھوں کے سامنے پردے ڈال دیے جاتے ہیں اور وہ دیدارِ محبوب سے محروم رہتا ہے لیکن رفتہ رفتہ عشق کی آگ ان حجابات کو جلا دیتی ہے اور عاشق راز و نیاز کی ابدی لذتوں سے سرشار ہو جاتا ہے؎
|
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر |
کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر |
وصل کا تقاضا کرنا عاشق صادق کو زیبا نہیں ہے۔ اگر کسی وقت حرفِ مدعا زبان پر آ بھی جائے تو یہ امر اتفاقی ہے اس میں ارادے کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔ حسرت موہانی کا شعر ہے؎
|
طلب عادت نہیں اہل رضا کی |
یہ لغزش تھی زبان مدعا کی |
اقبال نے اسی مضمون کو یوں ادا کیا ہے؎
|
تھا ارنی گو کلیم میں ارنی گو نہیں |
اس کو تقاضا روا مجھ پہ تقاضا حرام |
سچے عاشق کو ہجر میں وصل سے بھی زیادہ لطف آتا ہے وصل عشقِ حقیقی کی موت ہے کیونکہ عشق کی بنیادِ آرزو پر ہے اور وصل کے بعد یہ باقی نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ اقبال ہی کا ایک فارسی شعر ہے:
