Article Image

بالِ جبریل

سازِ خودی کا نغمہ حیات ابدی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ جو قومیں احساسِ خودی کی آگ میں جل رہی ہیں انہیں کا نام روشن ہے:

خودی کے ساز میں ہے عمر جادواں کا سراغ

خودی کے سوز سے روشن ہیں امتوں کے چراغ

خوددار آدمی بے عزتی کی حیاتِ جادواں پر عزت کی مرگِ ناگہاں کو ترجیح دیتا ہے:

خودی کے نگہبان کو ہے زہر ناب

وہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آب

وہ سخت سے سخت محنت و مشقت تو کر سکتا ہے لیکن اپنا سر کسی کے آگے جھکا نہیں سکتا:

وہی ناں ہے اس کے لئے ارجمند

رہے جس سے دنیا میں گردن بلند

سخت کوشی

اقبال اس راز سے خوب واقف ہے۔ سخت کوشی اور جفاکشی کے بغیر کوئی قوم دنیا میں پنپ نہیں سکتی۔ کاہلی مہا روگ ہے۔ یہ مہلک مرض سوسائٹی کے تمام قوائے عملیہ کو معطل کر دیتا ہے۔ اچانک مصیبتوں اور ناگہانی آفتوں سے جو لوگ پست ہمت ہو جاتے ہیں وہ ہمیشہ بے عزتی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ اقبال اس امر پر بہت زور دیتا ہے کہ سختیاں اور تلخیاں زندگی میں حقیقی لطف پیدا کر دیتی ہیں چنانچہ ایک جگہ کہتا ہے:

پرسیدم از بلند نگاہے حیات چست

گفتا مئے او کہ تلخ تر است نکو تر است

اسی عقیدت کو بالِ جبریل میں اس نے نہایت شد و مد کے ساتھ پیش کیا ہے۔ انہی لوگوں کے سامنے دنیا کی ساری سرکش قومیں سر جھکا دیتی ہیں جن کے ارادے لوہے کی طرح مضبوط اور پہاڑ کے سے اٹل ہوتے ہیں۔ یہ اہل ہمت طوفانِ حوادث کی ہیبتناک موجوں سے کھیلتے ہیں۔ ان کی زندگی اس خطرناک کھیل میں بسر ہو جاتی ہے۔ زمانے سے ڈرنا بزدلوں کا کام ہے بہادر اس سے لڑ کر اپنا غلام بنا لیتے ہیں:

حدیث بے خبراں ہے تو با زمانہ بساز

زمانہ باتو نسازد تو باز مانہ ستیز!

مخلصانہ جستجو اور مردانہ وار اقدام کی بدولت انسان بغیر کسی امداد کے اپنے مقصد میں نہایت آسانی کے ساتھ کامیاب ہو سکتا ہے:

چیتے کا جگر چاہئے شاہین کا تجسس

جی سکتے ہیں بے روشنیِ دانشِ افرنگ

حقیقی انسان بڑی سے بڑی مصیبت سے بھی ہمت نہیں ہارتا۔ اس کا مضبوط ارادہ کبھی اسے اپنے مطمحِ نظر کے خلاف کوئی کام کرنے نہیں دیتا۔ وہ صعوبتوں سے نصیحت حاصل کرتا ہے اور مصیبتیں جھیلنے اور تکلیفیں سہنے کے لیے سدا تیار رہتا ہے۔ کاہلی کفرانِ نعمت ہے خدا نے ہم کو طاقت، ہمت اور عقل جیسی بے بہا نعمتیں عطا کی ہیں اگر ہم ان کا استعمال نہ کریں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم عطیۂ الہٰی فضول سمجھتے ہیں۔ جفاکش انسان بیچ سمندر کی موج کے مانند پیچ و تاب کھا کھا کر اپنی زندگی کا ثبوت دیتا ہے وہ ساحل سے قطعی ناآشنا رہتا ہے کیونکہ یہ مقامِ آسائش ہے اور آرام، عمل کی موت ہے:

ظلام بحر میں کھو کر سنبھل جا

تڑپ جا پیچ کھا کھا کر نکل جا

نہیں ساحل تری قسمت میں اے موج

ابھر کر جس طرف چاہے نکل جا

انسان جس کام کے کرنے کا مستقل ارادہ کر لے وہ ضرور حسبِ دلخواہ انجام پاتا ہے لیکن مسلسل محنت شرط ہے۔ جفاکشی انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ اس سے انسان کی پوشیدہ قوتیں ظہور میں آتی ہیں اور وہ بڑے بڑے کام کر جاتا ہے:

کوہ شگاف تیری ضرب، تجھ سے کشاد شرق و غزب

تیغ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر!

موجودہ تعلیم

روح کی پیاس بجھانے کا سامان مشرق و مغرب دونوں کے پاس نہیں ہے۔ موجودہ طریقۂ تعلیم نہایت ناقص ہے۔ اقبال اس علمِ تہی پر جہل کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ جس طلب کی بنیاد عشق پر ہو گی وہ پوری ہو گی اور جس کی بنیاد ہوس پر ہو گی اس کا پورا ہونا ناممکن ہے۔ موجودہ علم کی بنیاد ہوس پر ہے۔ کسی طالب علم کو علم سے عشق نہیں ہے اور یہی سبب ہے اس کی خامی کا۔ بغیر عشق کے علم بے سود ہے:

عشق کی تیغ جگر دار اڑا لی کس نے

علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

موجودہ تعلیم سے طالب علموں میں ہمت، جفاکشی، الوالعزمی اور خودداری کی صفتیں پیدا نہیں ہوتیں۔ ایسی کھوکھلی عقل کے مقابلہ میں اقبال جنون ہی کو ترجیح دیتا ہے:

عطا اسلاف کا جذب دروں کر

شریک زمرہ لا یحزنوں کر

خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں

مرے مولیٰ مجھے صاحب جنون کر

یہ جنون دیوانگی یا خبط نہیں ہے بلکہ یہ دوسرا نام ہے سچی دھن اور اصلی لگن کا جس کے بغیر انسان کسی ہنر میں کامل نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ اپنے مقصد کے پیچھے دیوانے ہو جاتے ہیں وہی کچھ کر بھی جاتے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں کے طلباء اسی دھن اور لگن کی کمی کے باعث ادھر رہ جاتے ہیں:

یہ بتانِ عصرِ حاضر کہ بنے ہیں مدرسوں میں

نہ ادائے کافرانہ نہ تراش آزرانہ

حقیقی علم استاد کی نظر سے حاصل ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے طلبہ کی خامی کا باعث زیادہ تر ان کے خام اساتذہ ہیں جن کی قابلیتیں تو مسلم ہوتی ہیں لیکن خلوص جو استادی کا جزوِ اعظم ہے ان میں بہت ہی کم پایا جاتا ہے:

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

انہیں نقلی استادوں کے ساتھ ہماری نئی پود بے عمل اور ناکارہ بن رہی ہے:

شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے

سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

موجودہ طریقۂ تعلیم سے طلبا میں اخلاقی جرات اور بیباکی کی مطلق پیدا نہیں ہوتی۔ ان کے ارادے کمزور اور خیالات پست ہو جاتے ہیں۔ خدا کے سوا وہ ہر چیز کے آگے اپنا سرِ نیاز خم کرتے اور آزادی جیسی لاقیمت شے کو در بدر کوڑی کے مول بیچتے ہیں:

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا

کہاں سے آئے صدا لا الہ الااللہ

تہذیب حاضر

اقبال مغربی تہذیب و تمدن سے بھی اتنا ہی واقف ہے جتنا کہ مشرقی تہذیب و تمدن سے۔ اس نے اپنے قیامِ یورپ کے زمانے میں وہاں کے حالات کا بڑی گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے۔ وہ مغرب و مشرق دونوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ مغرب کی کمزوریوں سے بھی باخبر ہے اور مشرق کی خامیوں سے بھی آگاہی رکھتا ہے۔ ایک جگہ اس نے مشرق و مغرب کے فرق کو یوں بیان کیا ہے:

بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے میخانے

یہاں ساقی نہیں پیدا وہاں بے ذوق ہے صہبا

اسی باعث اقبال موجودہ مشرق و مغرب دونوں سے خفا ہے۔ وہ حرم و کلیساں دونوں میں یکساں مکاری کا بازار گرم پاتا ہے اس لئے اپنے جنون ہی کی خیر منانے میں مست ہے:

رہ و رسم حرم نا محرمانہ

کلیسا کی ادا سوداگرانہ

غنیمت ہے مرا پیراہن چاک

نہیں اہل جنوں کا یہ زمانہ

اہل یورپ نے اپنی تمام قوتوں کو عقل کے ماتحت بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سرتاپا عمل بن گئے۔ اہل مشرق نے اپنے ہر کام میں دل کو رہنما بنایا، توکل اور قناعت اختیار کی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ان کی قوتیں کمزور پڑ گئیں۔ اب حالت یہ ہے کہ یورپ کا آدمی ایک مشین ہے۔ اور مشرق کا آدمی ایک مردہ ہے۔ حقیقی انسانی روح دونوں میں باقی نہیں رہی، اس لئے اقبال کی یہ کوشش ہے کہ مشرق والے عملی آدمی بنیں اور مغرب والے روحانی۔ اس امتزاج ہی میں زندگی کا حقیقی لطف پوشیدہ ہے۔ مغرب کی عقل اور مشرق کا دل مل کر حیات انسانی کو نہایت ہی پرامن بنا سکتے ہیں۔ اقبال بار بار کہتا ہے کہ ”نہ اہلِ مسجد“ بنو اور نہ ”تہذیب کی فرزندی“ قبول کرو۔ افراط و تفریط سے ہر صورت میں برے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔

یورپ کی بھڑک دار تہذیب اور چکمدار معاشرت میں بظاہر بہت زیادہ کشش اور جاذیت نظر آتی ہے، اس لئے وہاں پہلے انسان سوسائٹی ہی کے اثرات کے نشے میں سرشار ہو جاتا ہے، لیکن جب اس کی برائیاں اور کمزوریاں رفتہ رفتہ اس پر ظاہر ہوتی ہیں تو وہ اس ماحول سے بیزار ہو جاتا ہے۔ یورپ کی سوسائٹی اپنے اندر انواع و اقسام کے نشے رکھتی ہے جن کا اثر وہاں کی شراب کے نشے سے بھی دیر پا ہوتا ہے:

میخانہ یورپ کے دستور نرالے ہیں

لاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر

اہل یورپ نے اپنی عقل کو اپنے اوپر پوری طرح مسلط کر لیا ہے حتٰی کہ ان کے دل بھی ان کی عقل کے غلام بن گئے ہیں، اس سے ان کی زندگی میں وہ لچک اور لوچ باقی نہیں رہا جس سے زندگی عبارت ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دماغ ”روشن“ اور ”دل تیرہ“ ہو کے رہ گئے اگر مغرب کا چندے یہی حال رہا تو ان کی تہذیب کا عنقریب پارہ پارہ ہو جانا یقین ہے:

شفق نہیں مغربی افق پر یہ جوئے خوں ہے، یہ جوئے خون ہے

طلوع فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے فسانہ