ذیل کے مضمون میں حضرت راقی نے سلطانہ چاند بی بی کے مختصر سوانح یکجا کیے ہیں۔ یوں تو سیاسی کاردانی، علمی مذاق، عزم و استقلال کے لیے رضیہ سلطانہ، نور جہاں، جہاں آرا اور زیب النساء کے علاوہ اور بھی خواتین ایسی ہو گذری ہیں جن کی داستانیں زبان زدِ عام ہو گئی ہیں لیکن چاند بی بی کو قدرت نے جو دل و دماغ عطا کیا تھا اُس کی مثال اکثر مردوں میں نہیں ملتی۔ اسی سے اندازہ کر لو کہ اکبر اعظم جیسا اولوالعزم بادشاہ جو ظل اللہ کہے جانے کا مدعی ہو ایک چاند بی بی کو شکست دینے کے لیے خاص اہتمام کرے۔ قصّہ ہی سہی، کہا تو جاتا ہے کہ پہلے پہل جب احمد نگر پر مغلوں نے فوج کشی کی اور چاند بی بی پوری مدافعت کے لیے کمربستہ ہوئی تو مغلوں کے قدم اکھڑنے لگے۔ یہ خبر جب اکبرِ اعظم کو پہنچائی گئی تو درباری اُمرا لگے خودستائی سے بادشاہ کا دل بڑھانے کہ ہم جاتے ہیں اور چاند بی بی کو قید کر لاتے ہیں۔ کہیں مُلّا دو پیازہ بھی بیٹھے تھے۔ بول اُٹھے ’’ یہ حضور ہی کا حوصلہ تھا کہ چاند بی بی پر فوج کشی کی ورنہ بہتیرے بادشاہوں سے اس عورت کا مقابلہ نا ہو سکا‘‘۔ بادشاہ اس نکتہ یا ہجوِ ملیح کو سمجھ گیا۔ اور اپنے سپہ سالار کو لکھ بھیجا کہ محاصرہ اُٹھا کر صلح کر لے اور چاند بی بی کو ہماری طرف سے چاند سلطانہ کا خطاب عطا کرے ۔ اڈیٹر
تاریخ ہند میں بہادر، دانشمند، مدبر، نیک بخت، خیر خواہ ملک، محب قوم، نام کے لیے جان دینے والے، اور خدا پرست وغیرہ اوصاف کے بہت سے نفوس نظر آتے ہیں۔ اور صرف مردوں ہی میں نہیں بلکہ ان اوصاف کی جھلک مستورات میں بھی نظر آئے گی۔ جن کے حالات اگر روشنی میں لائے جائیں گے تو ایک نیا منظر آنکھوں کے سامنے پھر جائے گا۔
سر زمین دکن ایسے حالات سے پر ہے اور خواتین میں سب سے زیادہ مشہور اور تاریخ دکن میں سب سے زیادہ روشن نام ہمیں چاند بی بی کا نظر آتا ہے۔
چاند بی بی حسین نظام شاہ احمد نگر کی لڑکی اور علی عادل شاہ اول بیجاپور کی ملکہ تھی۔ 1547ء میں پیدا ہوئی اور احمد نگر ہی میں بچپن کا زمانہ گزرا۔ فارسی اور عربی زبانوں کے علاوہ وہ دکن کی مروجہ زبانیں بھی اچھی طرح جانتی تھی۔ خدیجہ سلطانہ یعنی اس کی ماں نے اسے عمدہ تربیت دی اور جن باتوں کی واقفیت شہزادیوں کے لیے ضروری ہے وہ سب اسے بتائیں۔
علی عادل شاہ اول بیجاپور کا زمانہ حکومت 1557ء سے 1580ء تک گذرا ہے، 1564ء میں عادل شاہیہ اور نظام شاہیہ میں دوستانہ یا کسی سیاسی جھگڑوں کا فیصلہ ہونے کے بعد میل ملاپ ہو گیا تھا اور اسے قائم رکھنے کے لیے چاند بی بی علی عادل شاہ سے بیاہ دی گئی۔ ساتھ ہی ساتھ بادشاہ احمد نگر نے قلعہ شولار بھی جہیز میں دے دیا۔
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ علی عادل شاہ بیجاپور کو ایک لاثانی مشیر ملا کیونکہ خدائے عزوجل نے وہ ساری خوبیاں چاند بی بی میں ودیعت رکھی تھیں جو ایک حکمران اور سپاہ سالار کے لیے ضروری ہیں۔ اگر ہم یہ کہیں تو یقیناً مبالغہ میں داخل نہ ہو گا کہ چاند بی بی میں ان سے بھی زیادہ اوصاف موجود تھے۔ یہ وہی خاتون ہے جو امورِ سلطنت میں اپنے شوہر کے ساتھ حصہ لیتی اور شوہر کے برابر گھوڑے پر سوار ہو کر قواعدِ فوج لیتی اور بعض اوقات جنگ میں بھی شریک رہا کرتی تھی۔
1580ء میں علی عادل شاہ اول بیجاپور کا انتقال ہو گیا۔ لاولد ہونے کی وجہ سے اس کا بھتیجا ابراہیم عادل شاہ جس کی عمر صرف نو سال کی تھی تخت نشین کرایا گیا۔ بیجاپور کے لیے یہ وقت نہایت ہی نازک تھا مگر مرحوم بادشاہ کی وصیت تھی کہ ”میرے بعد کل امور مملکت کی عنان چاند بی بی کے ہاتھ میں رہے“۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ سب سے پہلے چاند بی بی نے یہ کام کیا کہ ابراہیم عادل شاہ کو تعلیم دینی شروع کی اور لائق اشخاص کی صحبت میں اسے رکھا تا کہ امورِ سلطنت کو انجام دینے کا ملکہ اُس میں پیدا ہو جائے۔
کامل خاں سلطنت بیجاپور کا ایک لائق با رسوخ امیر تھا۔ چاند بی بی نے اسے قلمدانِ وزارت سپرد کیا۔ اس زمانہ میں یہ سلطنت دکن میں سب سے زیادہ قوی اور بڑی سمجھی جاتی تھی۔ جس کرّوفر کے ساتھ علی عادل شاہ نے حکومت کی تھی یہی تزک و احتشام قائم رکھنے کے لیے چاند بی بی نے بھی حتی الامکان کوششیں کرنی شروع کیں اور جس طرح اس کے شوہر کے عہد میں رعایا خوش و خرم تھی ویسا ہی طریقہ اس نے بھی رکھا اور یہی وجہ تھی جو اب تک چاند بی بی کا نام آسمانِ تواریخ پر چاند سے زیادہ روشن نظر آ رہا ہے۔
سب سے زیادہ اچھا طریقہ جس سے رعایا خوش رہے اور ہر ایک کی کافی داد رسی ہوئی، وہ یہ تھا کہ چاند بی بی قلعہ میں روزانہ (چار شنبہ اور جمعہ کے علاوہ) دربار کرتی اور صِغر سِن بادشاہ کو تخت پر بٹھا کر آپ پیچھے پردہ کے اندر حاضر رہتی۔ اُمراء سلطنت بھی حاضر رہا کرتے تھے اور اس طرح ہر ایک کام انجام دیا جاتا تھا۔ امراء کے لیے سخت حکم تھا کہ ہاں میں ہاں ہر گز نہ ملائی جائے بلکہ اپنی سچی رائیں ظاہر کی جائیں۔ اگر کسی کام میں چاند بی بی کی رائے سے اختلاف ہو جاتا تو کثرتِ رائے سے اس کا فیصلہ کر لیا جاتا مگر ایسے مواقع بہت ہی کم ہوا کرتے تھے۔
کامل خاں کو اپنے دماغ اور اپنی لیاقت پر گھمنڈ تھا۔ جب چاند بی بی کے آگے اس کی کوئی پیش نہ گئی تو آتشِ حسد بھڑک اٹھی اور دل ہی دل میں چاند بی بی کے رسوخ کو ملیامیٹ کرنے کی سازش کرنے لگا۔ مگر خدا کی مہربانی کہ فوراً یہ راز منکشف ہو گیا اور چاند بی بی نے نہایت ہی افسوس کے ساتھ کامل خاں کو وزارت سے علیحدہ کر ڈالا۔
اب کشور خاں کو منصب وزارت عطا کیا گیا، جو تجربہ کار ہونے کے علاوہ ملکی و فوجی امور میں اپنا ثانی نہ رکھتا تھا۔ مگر تھوڑے ہی عرصہ بعد اس نے بھی چاند بی بی سے مخالفت کرنی شروع کی اور دوسرے امراء کو لے کر بغاوت خیزی کرنے لگا۔ اسے بھی اس عہدہ سے الگ کرنے اور موافق امراء کی رائے سے بنکاپور کے حاکم مصطفےٰ خاں کو سلطنت کا وزیرِ اعظم مقرر کرنے کا ارادہ چاند بی بی نے کیا۔ مگر بد قسمتی سے اس کی خبر کشور خاں کو لگ گئی۔ کشور خاں اس وقت نہایت ہی زبردست امیر تھا۔ عنان سلطنت بالکل اس کے ہاتھ میں تھی۔ چاند بی بی قلعہ کی چار دیواری سے کیوں کر باہر نکل سکتی تھی۔ آخر اس نے اپنے رسوخ سے کھلم کھلا کارروائی شروع کی اور چاند بی بی کو اس الزام پر قید کیا کہ اپنے بھائی کو بیجاپور پر حملہ کرنے کے لیے بلایا ہے۔ عام لوگوں میں یہ افواہ فوراً پھیل گئی۔ یہ 1582ء کا ذکر ہے۔
ستارہ اس وقت بمبئی علاقہ کا ایک مشہور شہر ہے۔ یہاں پر ایک زبردست پہاڑی قلعہ ہے جس کا مقابلہ شاید ہی دکن کا کوئی قلعہ کر سکتا ہو۔ ستارہ، احمد نگر اور بیجاپور کے جنوب میں کوئی پچاس کوس پر واقع ہے۔ یہیں کے قلعہ میں چاند بی بی قید کی گئی تھی۔ کشور خاں نے چاند بی بی کو قید تو کیا مگر تمام امراء برہم ہو گئے اور ہر طرف ہلچل سی پڑ گئی۔ آخر کثرتِ رائے سے کشور خاں کو بیجاپور سے نکال دیا اور سلطنت کے خیر خواہوں نے ستارہ سے چاند بی بی کو قید سے چھڑا کر پھر عنانِ حکومت اس کے سپرد کی۔
کشور خاں کے بے حد مخالف پیدا ہو گئے تھے۔ آخر چاند بی بی کے موافقین نے اسے قتل کر ڈالا اور وزارت ایک حبشی نثراد امیر اخلاص خاں کو دی گئی۔ سلطنت بیجاپور اور احمد نگر میں پہلے ہی سے حبشی غلاموں کا رواج پڑ گیا تھا۔ ان میں بعض تو اتنے لائق ثابت ہوئے ہیں کہ ان کا نام اب تک مثال کے طور پر لیا جاتا ہے چنانچہ انھیں حبشی نثرادوں میں اخلاص خاں بھی ایک لائق اور قابل شخص شمار کیا جا سکتا ہے۔
جس جگہ دو مخالف جماعتیں ہو جائیں وہاں کا خدا ہی حافظ ہے۔ بنے بنائے کام بگڑ جاتے ہیں۔ بیجاپور کا بھی یہی حال تھا۔ ایک طرف دکنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رہے تھے اور دوسری طرف حبشی اپنے پیر پھیلا رہے تھے اور ان دونوں جماعتوں کی تُو تُو مَیں مَیں سلطنت کو سخت نقصان پہنچا رہی تھی۔
