اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

داستانِ مغلیہ ۔ باب چہارم

تقریباً اسی زمانے میں جب اورنگ زیب صحت یاب ہوا (1662ء) ولندیزی سفیر موسوم بہ ایڈریان‌Adriaan (وان ایڈری کھم‌van Adrichem) بادشاہ کو تخت نشینی پر مبارکباد دینے کے لئے دِلّی میں وارد ہوا۔ یہ شخص بڑی فہم و فراست کا مالک تھا اور چونکہ کافی مدّت تک سورت کے ولندیزی کارخانے کا سربراہ رہ چکا تھا اس لئے مغلوں کے رسم و رواج سے بخوبی واقف تھا۔ وہ یہ بات جانتا تھا کہ وہ لوگ جو وافر تحائف اور گراں قدر رقم لاتے ہیں سب سے زیادہ قابلِ قبول، خاطر و مدارات کے اہل اور فوری توجہ کے لائق سمجھے جاتے ہیں لہذا وہ بادشاہ کے لئے تحائف لایا۔ تحفہ میں وافر مقدار میں بہت عمدہ سرخ پارچہ جات، عمدہ سبز کپڑوں کے تھان، چند بڑے آئینے، بہت سے چینی کے برتن، چین اور جاپان کے نوادر اور پالکی کی طرح کا ایک چھوٹا سا تخت تھا جو جاپانی کاریگری کا عمدہ نمونہ تھا اور جس پر بہت دلکش تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ وزیروں کے لئے سونے اور چاندی کے سکّوں میں کثیر رقم، مختلف اقسام کے کپڑے، اور دیگر نادرات تھے۔ جیسے ہی وہ وارد ہوا اس نے وزیروں سے اپنی آرزو کا اظہار کرنا شروع کیا۔ پس چند دنوں میں اسے بادشاہ کے حضور میں پیش ہونے کی اس شرط پر اجازت ملی کہ وہ پہلے فرنگی اور پھر ہندوستانی رسم کے مطابق کورنش بجا لائے گا۔

پس دربار میں بادشاہ کے حضور اس نے حسبِ وعدہ عمل کیا۔ اورنگ زیب کو یورپی طرز کا لباس اور طریقِ کورنش بہت دلچسپ معلوم ہوا۔ مرتضیٰ خاں نے ان لوگوں سے ملاقات کی اور سفیر کے ہاتھ سے خط لے کر وزیر کو پیش کیا۔ میرِ تشریفات اپنے ہاتھ میں سونے کی چھڑی لئے آگے بڑھا، اس نے سفیر کا ہاتھ پکڑا اور اسے مع پانچ ہمراہیوں کے باعزت جگہ پر بٹھایا۔ یہ اس کے لئے خاص رعایت تھی اس لئے کہ بالعموم سفیر کے ساتھ محض ایک ہی شخص بادشاہ کے حضور میں پیش ہو سکتا ہے۔ سفیروں کو کمخواب کے سراپا سے نوازا گیا۔

بعد ازاں اورنگ زیب نے تحائف پیش کرنے کا حکم دیا۔ تخت کو اس نے سب سے زیادہ پسند کیا۔ چونکہ تخت مزیّن تھا اس لئے اس نے حکم دیا کہ اس پر شیشے لگا دیئے جائیں تاکہ گرد سے اس کی تصویریں خراب نہ ہوں۔ وہ آج تک اس تخت کا استعمال کرتا ہے۔ پھر اس نے سفیر کو یہ کہلوایا کہ اب وہ جا سکتا ہے اور اُسے جلد ہی رخصت مِل جائے گی۔ تاہم سفیر مغلوں کی طبعِ مغرور کو سمجھتا تھا، جو اس بات کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں کہ سفرا ہمہ وقت ان کے گرد و پیش رہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بیرونی ممالک کے سفرا دربار میں ہمیشہ حاضری دیتے رہیں۔ اسی سبب سے اس نے وزرا کو اور زیادہ تحائف بھیجے اور بالاخر چار ماہ کے بعد رخصت لینے میں کامیاب ہو گیا۔

رخصت کے وقت سفیر کو ایک اور سراپا بخشا گیا۔ علاوہ ازیں بٹاویا‌Batavia کے گورنر کے لئے اُسے ایک بیش قیمت سراپا، ایک جڑاؤ خنجر اور ایک نہایت مشفقانہ خط دیا گیا۔

حالانکہ اورنگ زیب کی علالت میں شدت محض چند دنوں تک رہی مگر مکمل طور پر صحت مند ہونے میں کافی مدت صرف ہوئی۔ طبیبوں نے تبدیلیٔ آب و ہوا کے لئے کشمیر جانے کا مشورہ دیا۔ اورنگ زیب تبدیلیٔ آب و ہوا کے لئے تو بالکل تیار تھا مگر شاہجہاں کا وجود اس کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتا تھا اور یہ بات اس کے اُس آرام اور تفریحی مشاغل میں مخل ہوتی تھی، جو اس کے مزاج اور طبیعت کے لئے ضروری تھے۔ پس اب اس نے باپ سے شرافت کا اظہار کرنا بند کر دیا اور اس کے برخلاف بوڑھے کے ساتھ شدت سے پیش آنے کا فیصلہ کر لیا۔ سچ یہ ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے نہ تو بیماری کے دوران میں فرشتوں کی تحریک تھی اور نہ خدا کا فرمان بلکہ خود اس کی بدفطرتی کارفرما تھی۔ تا اینکہ باپ کی زندگی جلد ختم ہو جائے، اس نے یہ احکامات صادر کیے کہ اس کی قید کو زیادہ سخت کر دیا جائے۔ اس نے حکم دیا کہ وہ کھڑکی جس پر بیٹھ کر شاہ جہاں دریا کا نظارہ کر کے اپنا جی بہلاتا ہے، اینٹوں سے بند کر دی جائے۔ علاوہ ازیں آگرے کے محل کے نیچے بندوقچیوں کا ایک دستہ ان احکامات کے ساتھ مقرر کیا گیا کہ وہ بوڑھے کو پریشان کرنے کے لئے بندوق چلاتے رہیں اور اگر وہ کھڑکی پر نظر آئے تو گولی مار دیں۔ شاہجہاں کی پریشانیوں کو زیادہ شدید بنانے کے لئے اس کے جمع کردہ سونے چاندی کے سکّوں میں سے ایک کثیر تعداد کو انتہائی شور و غل کے ساتھ اُٹھانے کا حکم دیا گیا تاکہ وہ سنے اور مایوسی کا شکار ہو۔ لیکن شاہ جہاں نے بھی تجاہلِ عارفانہ سے کام لیا اور یہ ظاہر کیا کہ وہ کچھ دیکھ نہیں رہا ہے۔ شور و غوغے اور بندوقوں کی آواز کا جواب رقص و سرود کی محفلوں سے دیتے ہوئے۔ وہ اپنی بیویوں اور عورتوں کے ساتھ دادِ عیش دیتا رہا۔ اعتبار خاں جسے محل کے تمام واقعات کا علم تھا، تمام اطلاعات دربار کو روانہ کرتا رہا تا اینکہ بالاخر اورنگ زیب نے شاہ جہاں کی جان لینے کا فیصلہ کر لیا۔

پس اس نے شاہ جہاں کے طبیب مکرم خاں کو، جس نے اورنگ زیب کی حمایت سے اسی وقت انکار کر دیا تھا جب وہ باپ کو قید کرنے آگرے آیا تھا، زہر اور ایک خط روانہ کیا۔ خط میں یہ تحریر تھا کہ اگر طبیب یہ چاہتا ہے کہ وہ چندے امن و سکون سے زندہ رہے تو وہ خواجہ سرا فہیم سے جسے اسی مقصد کے لئے بھیجا گیا تھا زہر حاصل کر کے شاہ جہاں کو پلا دے۔ حکم عدولی کی صورت میں اُسے جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ مکرم خاں نے وہ زہر لے لیا اور یہ جواب دیا کہ وہ بادشاہ سلامت کی خواہشات سے بہتر کام سرانجام دے گا۔ خواجہ سرا فہیم یہ جواب لے کر واپس لوٹا۔ مکرم خاں نے یہ سوچا کہ جس بادشاہ نے اُسے ایک ادنی حیثیت سے اس مرتبہ تک پہنچایا کہ آج وہ اتنا دولت مند اور ہر کس و ناکس کی نگاہ میں محترم ہے، اُسے زہر سے ہلاک کرنا مناسب نہیں ہے۔ مزید براں کیا شاہجہاں نے پورے اعتماد کے ساتھ اپنی زندگی اس کے سپرد نہیں کی ہے؟ علاوہ ازیں اس پر یہ پوری طرح واضح تھا کہ اگر وہ شاہجہاں کو زہر دے دے تو بھی اورنگ زیب اس کی جان نہیں بخشے گا۔ تجربے نے اس پر یہ بات ثابت کر دی تھی۔ پس اس نے یہ طے کیا کہ وہ باعزّت طور پر اپنی جان دے دے۔ وہی زہر کھا کر اس پر غشی طاری ہو گئی اور غفلت کے دوران میں ہی آدھ گھنٹے کے اندر اندر وہ مر گیا۔ اورنگ زیب باپ کی وفات کی پُرامیّد خبر کا انتظار کرتا رہا۔ بالآخر اُسے یہ معلوم ہوا کہ جس شخص نے شاہ جہاں سے محض چند رعائتیں حاصل کی تھیں۔ وہ اس کے زیادہ کام آیا بہ نسبت اس کے جسے اس نے زندگی دی تھی۔ بہرحال اس واقعہ نے اورنگ زیب کے دل پر کوئی تاثر قائم نہ کیا اور وہ کشمیر جانے سے پہلے باپ کی جان لینے کے لئے نازیبا ذرائع کا متلاشی رہا۔

لیکن موسمِ گرما قریب تھا اور اس لئے یہ ضروری تھا کہ ہندوستان کی سرزمین پر سورج کی شعاعوں کی تیزی سے پہلے کشمیر کے لئے روانگی اختیار کی جائے۔ اس بارے میں وہ طبیبوں کے مشورے اور بالخصوص روشن آرا بیگم کی رائے پر عمل پیرا تھا جو حرم سرا کی بندشوں سے آزاد ہو کر اپنے جنسی میلانات کو روبکار لانا چاہتی تھیں۔ مزید برآں بیگم صاحب کو جو شان و شکوہ عہدِ شاہجہانی میں نصیب تھا، وہ اس سے زیادہ تزک و احتشام کے ساتھ لشکر میں شامل ہونا چاہتی تھیں۔ کشمیر جانے کا فیصلہ کرنے کے بعد اورنگ زیب نے اپنے ان وفادار دوستوں کا انتخاب کیا جن پر اُسے کامل اعتماد تھا۔ اس نے ہوشیار خاں کو آگرے کے صوبیدار کے منصب پر متعین کیا، مرتضیٰ خاں کو لشکر کی سالاری بخشی اور خواجہ سرا اعتبار خاں کو نئے احکامات بھیجے کہ وہ شاہجہاں کی زبردست نگرانی کرے۔

اورنگ زیب چھ دسمبر 1662ء کو تین بجے سہ پہر شہر دِلّی سے روانہ ہوا۔ نجومیوں کا متفقہ فیصلہ بھی یہی تھا کہ بادشاہ کے طویل سفر کے لئے جس کی مدت آنے جانے اور قیام کا عرصہ ملا کر کم از کم ایک برس تھی، یہی دن سب سے زیادہ مناسب تھا۔