اب موقع آگیا ہے کہ یہ بتایا جائے کہ جب اورنگ زیب کشمیر میں تھا تو کیا کیا واقعات رونما ہوئے۔ میں یہ پہلے بیان کر چکا ہوں کہ روانگی سے قبل اس نے میر جملہ کو آسام فتح کرنے کے احکامات صادر کر دیئے تھے۔ ایک عام خیال یہ بھی تھا کہ اورنگ زیب نے میر جملہ کو آسام کی مہم پر اس لئے بھیجا ہے کہ اس سے پیچھا چھڑا لے۔ اُسے یہ خوف تھا کہ جس طرح اس نے گولکنڈہ میں انتشار برپا کیا، اور جس طرح اس نے شیواجی کی تباہی اور دارا پر فتح کے انتظامات کئے تھے، اُسی طرح اس بات کا بھی امکان تھا کہ وہ اپنی حکمتِ عملی سے کسی اور شخص کو تختِ مغلیہ پر متمکن کرنے کی کوشش کرے۔
ان احکامات کی خواہ کچھ ہی وجہ ہو، میر جملہ اپنے شجاع سرداروں کی معیت میں ایک نئی مملکت کو فتح کرنے نکلا، اور اپنے وفادار ساتھی دلیر خاں کو بھی اپنے ساتھ لے چلا۔ ان دونوں کی شدید خواہش یہ تھی کہ اورنگ زیب کے لئے چین میں داخل ہونے کا راستہ کھول دیں۔ آسام پر قبضہ کر لینے کے بعد یہ بات آسان معلوم ہوتی تھی۔ آسام کا زرخیز علاقہ پہاڑوں کے درمیان ہے جہاں خوراک اور پھل کثرت سے پیدا ہوتے ہیں۔ یورپ کی طرح یہاں بھی انواع و اقسام کے پھل مثلاً ناشپاتی، سیب، خوبانی، لیچی اور انگور ہوتے ہیں۔ آسام کو مرکز بنا کر پیگو کو فتح کر کے چین میں داخل ہُوا جا سکتا ہے۔
چالیس ہزار سواروں کی معیّت میں یہ دونوں شہر ڈھاکہ سے روانہ ہوئے۔ توپ خانے کو خشکی کے راستے، اور ایک بہت بڑے جہازی بیڑے کو پرتگالیوں کی سرکردگی میں دریا کے راستے روانہ کیا۔ یہ دونوں فوجیں ڈھاکہ سے سو کوس کے فاصلے پر ہاجو کے قلعہ پہ پہنچ گئیں جسے آج سے سالہا سال پہلے آسامیوں نے صوبۂ بنگال سے چھین لیا تھا۔ مختصر مدت میں میر جملہ نے اس قلعہ کو فتح کر لیا اور اس مقام سے آگے آسام کے علاقہ میں اٹھائیس دنوں تک آگے بڑھتا رہا۔ آسامیوں کا خیال یہ تھا کہ اگر جہازی بیڑے کو تباہ کر دیا جائے تو خشکی کے راستے آئی ہوئی فوج کو بھی تہس نہس کیا جا سکتا ہے اس لئے کہ سامانِ رسد کی فراہمی کے ذرائع منقطع کرنا ہی کافی ہوگا جس کے باعث فوج تباہ ہو جائے گی۔ چونکہ یہ علاقہ پہاڑی تھا اور راستے تنگ تھے اس لئے یہ کام بہت آسان تھا۔
اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے ایک دن ایک بہت بڑا جہازی بیڑا ظاہر ہُوا۔ دریا کے بہاؤ پر تیزی سے بڑھتے ہوئے وہ یہ ظاہر کر رہا تھا گویا سارے پرتگالیوں اور ان کے جہازوں کو ہڑپ کرے گا۔ لیکن پرتگالی اس کی زد سے بچ گئے اور تیز بہتا ہُوا دھارا اسے منزلِ مقصود سے دُور بہا لے گیا۔ اس دوران میں پرتگالیوں نے گولوں اور آتش گیر مادے سے انہیں بہت ہراساں کیا۔ جب آسامی دشمن سے آگے نکل گئے تو انھوں نے اپنے جہازوں کو موڑا مگر پرتگالی ان پر اتنی شدت سے ٹوٹے کہ تھوڑی ہی دیر میں ان کا پورا بیڑا تباہ ہو گیا۔ کچھ جہاز ڈوب گئے، کچھ پکڑے گئے اور بحیثیتِ مجموعی آسامیوں کا شدید نقصان ہُوا۔
اس شاندار فتح کے بعد میر جملہ نے یہ سمجھا کہ پورا آسام اس کے قبضے میں آگیا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ قسمت اس کی یاوری کر رہی ہے۔ راجہ کو کسی مقام پہ قلعہ بند ہونے کا موقع نہ دینے کی غرض سے اس نے پیش قدمی جاری رکھی۔ راجہ برابر پیچھے ہٹتا رہا اور اس کے سوا کہ سامانِ رسد کی فراہمی کو روکے یا اِکّا دُکّا آدمیوں کو قتل کر دے جو خوراک اور ایندھن کی تلاش میں نکلتے تھے، وہ اور کچھ نہ کرتا تھا۔ وہ برسات کے موسم کا منتظر تھا جس میں نشیبی علاقوں میں سیلاب آجاتا ہے۔ اسی سبب سے وہاں گاؤں اور شہر بلندیوں پر بسے ہوئے ہیں۔
جب آسامیوں نے یہ دیکھا کہ فوج سے علیٰحدہ ہو جانے والے تمام لوگوں کو قتل کرنے کے باوجود مغل اپنی بے باک پیش قدمی سے باز نہیں آئے تو انھوں نے انھیں خوفزدہ کرنے کی ایک نئی ترکیب نکالی جو یہ تھی! وہ جتنے لوگوں کو پکڑتے تھے ان کے مقعد میں ترکی قفل کی طرح کا ایک لوہا داخل کر دیتے، جو ایک بار اندر جا کر کبھی باہر نہ آسکتا تھا۔ اس کی شکل اس طرح کی تھی ↑۔ داخل کرتے وقت یہ بند ہو جاتا اور اندر جا کر کھل جاتا اور صرف اس کا دستہ باہر رہتا۔ وہ بیچارے روتے دھوتے فوج میں پہنچتے اور نہایت ابتر حال میں فوت ہو جاتے۔ میر جملہ کی فوج خوفزدہ ہوئی اور اس تجربے کے بعد لوگ دور جاتے ہوئے چوکنے رہتے تھے۔
میر جملہ اپنی فوج کے ساتھ آسام کے دارالخلافہ موسوم بہ گڑھ گاؤں پہنچ گیا اور بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے اس نے راجہ کو نکال باہر کیا۔ راجہ پہاڑوں میں چھپ گیا اور میر جملہ نے اس مقام پہ قبضہ کر کے قبروں کو اکھاڑنے کا حکم دیا جن میں خزانے مدفون تھے۔ آسام کی رسم یہ تھی کہ مرنے والے کے ساتھ اس کی دولت بھی دفن کر دی جاتی تھی۔ ان لوگوں کے یہاں یہ رواج ہے کہ جب گھر کا مالک مر جاتا ہے تو اس کی بیویوں، داشتاؤں اور ملازموں کو یعنی درزی، دھوبی، حجام اور دیگر نوکروں کو، جو مرنے والے کے گھر سے وابستہ ہوتے ہیں، پیر باندھ کر جلا دیتے ہیں اور پھر ان سب کو اس کے ساتھ دفن کر دیتے ہیں۔
گڑھ گاؤں ایک وسیع اور خوب صورت شہر ہے۔ ساکنانِ شہر دولت مند سوداگر ہیں۔ یہ بات مجھے ڈھاکہ میں اس وقت معلوم ہوئی جب میں اُدھر سے گذرا تھا۔ اُس علاقے کے باشندے چار بیویاں کرتے ہیں۔ یہاں کی عورتیں بہت خوبصورت ہوتی ہیں اور گھر کا کام کاج کرتی ہیں۔ جنگ کے علاوہ جب کہ انھیں لڑنے کے لئے نکلنا پڑتا ہے، مرد بالعموم بیکار رہتے ہیں۔ جب میں ڈھاکہ سے گذر رہا تھا تو میں نے ان بڑی بڑی کشتیوں کو دیکھا جنھیں میر جملہ گڑھ گاؤں اور دیگر مقامات کے مالِ غنیمت سے لاد کر بھیج رہا تھا۔ ان کشتیوں کا دُنبالہ بہت بلند تھا جس پر بدصورت اور ہیبت انگیز چہرے منقش تھے۔ ان کا ہتھیار گھومنے والی کانسے کی چھوٹی توپیں تھیں جن کے دہانے جہاں سے گولے نکلتے تھے مختلف جانوروں مثلاً شیر، چیتے، کتے، ہاتھی اور گھڑیالوں کی شکل کے بنے ہوئے تھے۔
میر جملہ نے یہ دیکھ کر کہ گو اس نے شہر پر قبضہ کر لیا ہے لیکن راجہ کو پہاڑیوں میں جنگ کر کے گرفتار نہیں کر سکتا، شہر میں ہی قیام کیا۔ راجہ نے رسد کی فراہمی کے سارے سلسلے منقطع کر دیئے۔ ہر چیز کو آگ لگا دی اور اپنے سپاہیوں کو ایسے مقامات پہ مامور کیا کہ باہر سے خوراک شہر میں جا ہی نہ سکتی تھی۔ اس طرح برسات کی آمد تک اس نے برابر جنگ جاری رکھی۔ برسات نے بھی جنگ میں اس کا ساتھ دیا۔ میر جملہ کی فوج میں خوراک ختم ہو گئی تھی لہذا سپاہیوں نے مجبوراً گھوڑوں اور اونٹوں کا گوشت اور دیگر اشیا جو انھیں حاصل تھیں کھانی شروع کر دیں۔ اب میر جملہ کو آسام سے روانگی ملتوی کرنی پڑی کیونکہ اس کے آدمی خوراک کی خرابی سے مرنے لگے تھے۔ اس ملک میں داخلہ جتنا آسان تھا اتنا ہی برسات اور آسامیوں کی کمین گاہوں کے سبب یہاں سے نکلنا مشکل تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میر جملہ یہیں ختم ہو جائے گا، اور اگر وہ اپنی فہم و فراست کے باعث انتہائی تدبّر سے کام نہ لیتا تو اس کی واپسی مکمل تباہی ثابت ہوتی۔ آسامیوں کے دلوں پر اس کا نام نقش ہو گیا۔ یہ بات کہ اس نے آسامیوں کے علاقائی بادشاہ کو ان کے لئے چھوڑ دیا اس وجہ سے نہ تھی کہ اس میں ہمت اور ارادے کی کمی تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ موسم اس کے خلاف تھا اور پہاڑی علاقے فتح نہ ہو سکتے تھے۔ بڑی دقتوں سے وہ ہاجو کے قلعے تک واپس آیا اور اسے مستحکم کر کے اس نے اگلے برس راجہ کے خلاف ایک بار پھر فوج کشی کا فیصلہ کیا۔ لیکن اسے یہ نہ معلوم تھا کہ اس کی قسمت میں کیا لکھا ہے۔ وہ اب اپنی کامیابیوں کا دور ختم کر رہا تھا اور اب وہ وقت آگیا تھا کہ وہ اپنی تمام چالاکیوں کے ساتھ خود ختم ہو جائے۔
