ہاجو کے قلعہ کو مستحکم کر کے میر جملہ ڈھاکہ واپس لوٹا تاکہ اس فتح سے حاصل کئے ہوئے مال و متاع سے جی بہلائے۔ یہاں آکر چند دنوں بعد وہ گردے کی تکلیف میں مبتلا ہو گیا۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ اَب تقصیر کی قینچی اس کی زندگی کی ڈور کو منقطع کرنے والی ہے، اس نے اپنی بیوی کو بلایا اور دیر تک اسے وصیت کرتا رہا۔ اُسے اس بات سے تسلی دی کہ گو وہ خود مرنے والا ہے لیکن اپنے پیچھے ایک بیٹا اور ایک پوتا چھوڑے جا رہا ہے۔ ان دونوں کے لئے اسے بیش قیمت جواہرات دیئے تاکہ وہ انھیں ان تک خود پہنچائے۔ ماں نے اپنے بیٹے کے لئے یہ جواہرات وصول کئے اور اس نے بیوی کو یہ تاکید بھی کی کہ وہ چھوٹے بچے کی بہت زیادہ نگرانی رکھے۔ اس کے بعد اس نے اورنگ زیب کو ایک خط لکھا۔ اس خط میں اس نے یہ بتایا کہ اب اس کے لئے اپنی وفاداری جتانے کا کوئی موقع نہیں رہا، نہ ہی اب وہ پہلے کی طرح کسی منصوبہ کو پورا کرنے میں مستعدی دکھا سکتا ہے جو بادشاہ سلامت کی شان و شوکت بڑھانے کے لئے ہو۔ اس نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اس کی وفاداریوں کے صِلے میں اورنگ زیب اس کے بیٹے پر احسانات کرے گا۔ سب سے زیادہ احسانات کی توقع اس نے اپنے پوتے کے لئے کی تاکہ اس کا شمار بھی شاہی خدمت گذاروں میں ہو۔ اس کے چند گھنٹوں کے بعد وہ اعلیٰ مرتبت میر جملہ جس نے شاہ گولکنڈہ کے خلاف بغاوت کر کے اس کی سلطنت کو تباہ کیا، جس نے شاہ جہاں کی قید، دارا کے قتل، مراد بخش کی گرفتاری اور شاہ شجاع کی تباہی میں اورنگ زیب کی دامے، درمے، سخنے مدد کی، وہ اپنی تمام شان و شوکت سمیت پیوندِ خاک ہُوا، اور اپنی فہم و فراست اور ہمت و شجاعت کے حق میں، اور دو بادشاہوں یعنی قطب شاہ، بادشاہِ گولکنڈہ اور عظیم المرتبت مغل شاہنشاہ شاہ جہاں کے خلاف غداری کے الزام میں اپنے متعلق بہت سی باتیں چھوڑ گیا۔
اورنگ زیب نے اپنے ماموں شائستہ خاں کو دکن میں شیواجی کے خلاف لڑنے بھیجا تھا۔ جیسے ہی وہ شیواجی کی مملکت میں پہنچا اس نے پونا نامی چھوٹے سے قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ اس کے باہر اس نے ایک کچّے مکان میں قیام کیا جو ایک جھیل کے کنارے بنایا گیا تھا۔ یہاں وہ موسمِ برشگال گزارنا چاہتا تھا۔ شیواجی شائستہ خاں کو قتل کرنے کے لئے ہر تدبیر کرتا تھا۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ اُسے اس کام پر راجہ جسونت سنگھ نے اُکسایا تھا جو شائستہ خاں کے خزانے پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ شیواجی نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے شجاع اور مستعد آدمیوں کو شائستہ خاں کے گھر اور اس کے سپاہیوں میں بھیجے جو وہاں جا کر خود کو اس کا ملازم ظاہر کریں تاکہ اطمینان سے سازش ہو سکے۔ انھیں دیوار میں سیندھ لگا کر اندر داخل ہونا تھا اور گھر میں موجود تمام عورتوں اور مردوں کو قتل کرنا تھا۔
اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس نے مغلوں کے اس رواج سے فائدہ اُٹھایا کہ بادشاہ کی تاج پوشی کی سالگرہ کے موقع پر رات و دن میں آٹھ بار فوجی ساز بجاتے ہیں۔ یہ ساز سپہ سالار کی رہائش گاہ کے قریب بجتے ہیں۔ تین بار صبح کو چھ بجے، نو بجے اور دوپہر میں اور پھر تین بار شام کو چھ بجے، نو بجے اور آدھی رات کو اور پھر تین بجے صبح۔ اس کام کے لئے شیواجی نے آدھی رات کا وقت منتخب کیا جب کہ سازوں کی الاپ شروع ہوتی تھی — شیواجی کے کچھ سپاہی شائستہ خاں کے سپاہیوں کے بھیس میں آ جا رہے تھے اور سازندوں سے یہ کہتے جاتے تھے کہ آج کی رات جشن کی رات ہے، نواب صاحب کی خواہش ہے کہ سب مل کر زور زور سے ساز بجائے جائیں۔ یہ اس لئے کیا گیا تاکہ سیندھ لگاتے ہوئے ان کی آواز کوئی نہ سن سکے۔
عورتوں نے کدالوں کی آوازیں سُنیں اور شائستہ خاں کو اِطّلاع دی مگر اس نے ان باتوں پر کان نہ دھرا۔ اس لئے کہ وہ خود نشہ میں قدرے مدہوش تھا، اور انھیں یہ جواب دیا کہ دراصل یہ آوازیں فوجی پیدا کر رہے ہیں جو گھوڑوں کی اگاڑی پچھاڑی باندھنے کے لئے میخیں زمین میں ٹھونک رہے ہیں۔ شیواجی کے سپاہی اپنے کھودے ہوئے سوراخ سے اندر داخل ہوئے۔ چونکہ عورتیں حرم میں نامحرموں کو دیکھنے کی عادی نہ تھیں وہ خوفزدہ اور سراسیمہ ہو گئیں اور یہ فرض کرتے ہوئے کہ ضرور کوئی سازش ہے چیخنے چلانے لگیں۔ شائستہ خاں کا بڑا بیٹا تلوار لے کر اس طرف لپکا لیکن اس شجاعت نے اس کا سر کٹوا دیا۔ شیواجی کے سپاہی جس کسی کو پاتے اس کا سر اڑا دیتے۔ عورتوں نے یہ اندازہ کر لیا کہ دشمن نے شائستہ خاں کو مارنے کے لئے چال چلی ہے۔ وہ یہ کہہ کہہ کر رونے لگیں کہ شائستہ خاں مارا گیا! انھوں نے چراغ گل کر دیئے تاکہ کوئی اُسے دیکھ نہ سکے۔
دشمن اِدھر اُدھر بھاگتے پھرے اور چونکہ اندھیرے میں دکھائی نہ دیتا تھا اس لئے ان میں سے آٹھ تالاب میں گر گئے۔ شائستہ خاں نیزہ ہاتھ میں لے کر کھڑا ہو گیا تاکہ اگر اس پر حملہ ہو تو وہ مقابلہ کر سکے۔ جب انہوں نے اُسے دیکھ لیا تو اس نے ایک کو قتل کر دیا لیکن دوسرے نے تلوار کا بھرپور وار کیا جس کے باعث اس کی کلمے کی انگلی اور نیزے کا دستہ کٹ گیا۔ ان بہادروں نے جب عورتوں کی چیخ و پکار سُنی جو یہ کہہ رہی تھیں کہ شائستہ خاں مر چکا ہے تو یہ سمجھ کر کہ ان کا مقصد پورا ہو گیا، وہ اپنی فوج میں واپس آگئے۔
اب میں یہ اپنے قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس افراتفری کا اندازہ کریں جو اس رات کو فوجی پڑاؤ میں ہوئی۔ ہر آدمی یہ سمجھ رہا تھا کہ شیواجی ان کے درمیان بلا جھجک ہر کس و ناکس کو قتل کر رہا تھا۔ اس ہنگامے میں شائستہ خاں کے زخم کی تکلیف بڑھ گئی اس خوف سے کہ کہیں جراح کی جگہ کوئی سازشی نہ آجائے، کسی جراح کو طلب نہ کیا گیا۔ جب اس سازش کی خبر اورنگ زیب کو کشمیر میں ملی اور اس سے ذرا پہلے اسے میر جملہ کی موت کی خبر مل چکی تھی، تو اس نے شائستہ خاں کو یہ احکامات بھیجے کہ وہ صوبیدار کی حیثیت سے بنگال روانہ ہو جائے۔ جواب میں شائستہ خاں نے جہاں پناہ سے یہ گذارش کی کہ اُسے دکن میں رہنے دیا جائے تاکہ وہ شیواجی کی سازش کا بدلہ لے سکے جس کی وجہ سے اس کے بیٹے کی جان گئی تھی اور اس کی انگلی کٹی تھی۔ اس نے یہ عہد کیا کہ یا تو وہ اپنی جان دے دے گا یا پھر شیواجی کی فوج کو تباہ اور خود شیواجی کو قتل کر دے گا۔ ایک نیا حکم جاری ہُوا جس کے ذریعے اورنگ زیب نے اُسے فوراً بنگال روانہ ہونے کی تاکید کی۔ لیکن شائستہ خاں اپنی شجاعت کا سکّہ بٹھانا چاہتا تھا اور ساتھ ہی انتقام کا خواہش مند بھی تھا اس لئے اس نے ایک بار پھر بادشاہ کو لکھا کہ اُسے دکن میں رہنے دیا جائے جہاں وہ جنگ کے سارے اخراجات خود برداشت کرے گا تاکہ شیواجی تباہ ہو جائے۔ اسی وقت اس نے اپنے خیرخواہوں کو بھی خط لکھا کہ وہ اسے اس تبادلے سے بچا لیں۔
دربار میں اس کے دوستوں نے انتہائی وفاداری سے شائستہ خاں کو بچانے کی کوشش کی مگر اورنگ زیب اپنے فیصلے میں اٹل تھا اور اس نے سختی سے یہ جواب دیا کہ جو شخص جذبات سے مغلوب ہو وہ عقل سے کام نہیں لے سکتا اور شیواجی کے خلاف شائستہ خاں کی بحیثیتِ سپہ سالار دکن میں موجودگی کا نتیجہ اس کی فوج کی تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ اس لئے اس نے ایک بار پھر یہ احکام بھیجے کہ وہ بلا حیل و حجت فوراً بنگال کے لئے روانہ ہو جائے۔ اس طرح شائستہ خاں کو اس کی مرضی کے خلاف بنگال کی صوبیداری سنبھالنے کے لئے بھیجا گیا۔ جب شائستہ خاں دکن سے روانہ ہُوا تو اورنگ زیب نے جسونت سنگھ کو دربار میں بلوایا جو یہ حکم ماننے کے بجائے اپنی ریاست (مارواڑ) کی طرف چلا گیا۔ اورنگ زیب نے مہابت خان کو حکم دیا کہ وہ نہایت سرعت سے روانہ ہو اور دکن میں شائستہ خاں کا عہدہ سنبھال کر شیواجی سے جنگ جاری رکھے۔ اس نے اپنے بیٹے شاہ عالم کو بھی روانہ کیا جس کی حیثیت سپہ سالار کی نہ تھی بلکہ فوجی سلامی کے وقت بادشاہ کے نمائندے کی تھی۔
