کشمیر میں قیام کے دوران میں ایک مضحکہ خیز واقعہ ہُوا۔ اودے پوری جو نسل کے اعتبار سے گرجستانی تھی اور جو پہلے دارا کی بیوی تھی، بعد ازاں اورنگ زیب کی چہیتی بیوی بن گئی۔ وہ شراب پینے کی عادی تھی اور وہ بھی عام توقعات سے بہت زیادہ۔ پس وہ بسا اوقات نشہ میں رہتی تھی۔ دوسری بیگمات اور داشتائیں اس بات پر بہت حسد کرتی تھیں کہ اورنگ زیب اودے پوری کو اتنا زیادہ چاہتا ہے۔ وہ موقع کی تلاش میں تھیں اور ایک دن جب اودے پوری نے شراب پی تو سب کی سب اکٹھی ہو کر اورنگ زیب کے پاس گئیں۔ اورنگ زیب اس ملاقات سے بہت خوش ہُوا، بالخصوص اس بات کہ وہ سب کی سب بہت خوش و خرم تھیں۔ اس موقع پر انھوں نے ناز نخرے سے کام لیا جس سے عورتیں اپنے شوہروں کو جیتنے میں کبھی ناکامیاب نہیں ہوتیں۔ چندے گفتگو کے بعد انھوں نے بادشاہ سے التجا کی کہ ملکہ اودے پوری کو بھی شرفِ ملاقات بخشے تاکہ گفتگو اور زیادہ لطیف ہو جائے۔ اس نے اپنی محبوبہ کو پیغام بھیجا کہ وہ بھی آجائے اور اس پرفضا صحبت سے لطف اندوز ہو۔ خادمہ نے جواب دیا کہ اودے پوری کی طبیعت قدرے ناساز ہے۔
اس جواب پر ساری بیگمات نے قہقہہ لگایا تاکہ بادشاہ کو کچھ دال میں کالا نظر آئے۔ لہذا اس نے ایک اور پیغام بھیجا کہ وہ محض اپنی صورت دکھا جائے تاکہ دوسری بیگمات کی دلجوئی ہو جو اس بات کی خواہش مند ہیں۔ ایک بار پھر خادماؤں نے یہ کہلوایا کہ شدید دَردِ سر کے باعث وہ اپنی آرام گاہ چھوڑ نہیں سکتیں۔ اس جواب پر حاسد بیگمات نے اور زیادہ قہقہہ لگایا۔ یوں اورنگ زیب بہ نفسِ نفیس مریضہ کو دیکھنے گیا۔ وہ بالکل بے حال تھی، بال کھلے ہوئے تھے اور سر مخمور تھا۔ اورنگ زیب نے اس کے پاس بیٹھ کر ہاتھ اس کے ماتھے پر رکھا۔ اس نے اُسے اپنی خادمہ سمجھتے ہوئے، (گو وہ کافی پی چکی تھی) اور طلب کی۔ اورنگ زیب شراب کی مہک سے اور اُس کی اِس طلب سے پریشان ہُوا۔ سر جھکائے وہ آرام گاہ سے نکلا اور گو ملکہ کے لئے اس کی محبت میں کوئی فرق نہ آیا مگر وہ دربانوں پر بہت ناراض ہُوا اور انھیں چوکنّا نہ رہنے کی سزا دی گئی۔
یہ دیکھ کر کہ ہندوستان سے باہر اس کا قیام فالِ نیک نہیں ہے، اور چونکہ اس کی صحت بھی اب بہتر ہو گئی تھی لہذا اورنگ زیب نے دِلّی واپس آنے کا فیصلہ کر لیا۔ حسبِ معمول آہستہ آہستہ سفر کرتے ہوئے وہ تین سو تین دنوں میں دارالخلافہ دِلّی پہنچ گیا۔ یہاں اُسے معلوم ہُوا کہ شاہ جہاں نے کسی یورپی طبیب کی خواہش کی تھی مگر کوئی نہ مل سکا۔ اورنگ زیب نے محسوس کیا کہ باپ کو زہر دے کر مار ڈالنے کا یہی موقع ہے۔ لہذا اس نے شاہ جہاں کے پاس ایک یورپی کو بھیجا جو پہلے اس کی بادشاہت کے زمانے میں اس کا طبیب رہ چکا تھا۔ اس وقت یہ شخص اورنگ زیب کی ملازمت میں تھا۔ اُسے امیّد تھی کہ شاہ جہاں ایسے شخص پر شبہ نہ کرے گا جو ایک مدّت تک اس کا ملازم رہ چکا ہو لیکن شاہ جہاں نے اس کی خدمات قبول نہ کیں۔ اُسے اس بات کا شک ہو گیا جو بصورتِ دیگر ضرور وقوع پذیر ہوتی۔
کشمیر سے اورنگ زیب کی روانگی کے بعد اور اس کے دِلّی پہنچنے سے پہلے حبش اور مکّہ کے سفرأ اُسے تخت نشینی پر مبارکباد دینے وارد ہوئے۔
بادشاہ حبش کے ان دو سفیروں میں سے ایک نے جس کا نام مراد تھا اور جو آرمینی نسل کا تھا، ایک دن جب وہ نشے میں تھا مجھے رازدارانہ طور پر اپنی سفارت کے بارے میں حقائق سے آگاہ کیا۔
مراد کو ہندوستان کے بارے میں کچھ معلومات پہلے سے تھیں۔ نئے بادشاہ کی تاجپوشی پر اسے یہ خیال ہُوا کہ اب اس کے لئے یہ موقع ہے کہ وہ کوئی چال چلے۔ اس کے لئے اس نے عرب نسل کے ایک مسلمان تاجر سے گٹھ جوڑ کیا جو بہت زیادہ قابلِ اعتماد تھا اور جس کا بہت سے تاجروں سے کاروبار تھا۔ یہ دونوں حبش سے عرب اور ہندوستان اور ہندوستان سے حبش تک تجارت کرنے لگے۔
یہاں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ شاہ حبش خود کو موسیقی کے سازوں کا بادشاہ گردانتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اور بادشاہ ایسے ساز نہیں رکھ سکتا۔ اس دعوے کے مطابق کھانے سے فارغ ہو کر وہ اپنے موسیقاروں کو ساز بجانے کا حکم دیتا ہے اور اس طرح دیگر مہمان بادشاہوں کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے ساز بجوائیں۔ اِن چالاک تاجروں نے شاہ حبش کے اس احمقانہ خیال کی بنیاد پر اپنے فریب کو عملی شکل دی۔ انھوں نے یہ بہانہ تراشا کہ وہ اپنے بادشاہ کی شان و شوکت کا سکّہ بٹھانا چاہتے ہیں اور اس کے پاس جا کر یہ اطّلاع دی کہ مغل سلطنت میں ایک نیا بادشاہ تخت نشین ہُوا ہے جس کے دربار میں نفیس ساز ہیں اور اس نشانِ شاہی کی ملکیت کے لئے اس نے کوئی اجازت طلب نہیں کی ہے۔ بادشاہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ مغل سلطنت میں جائیں اور بادشاہ سے ان سازوں سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کریں اور انہیں اس کے سامنے پیش کریں۔
ان تاجروں کے لئے اتنی بات کافی تھی۔ انہوں نے سفارت کی تیاری شروع کر دی۔ انہوں نے فروخت کرنے کے لئے لونڈی غلام خریدے۔ بادشاہ کو تحفہ دینے کے لئے اپنے ساتھ گھوڑے لے چلے اور ایک خچر جس پر مختلف رنگوں کی قدرتی دھاریاں تھیں۔ اتنی خوبصورت کہ شاید چیتے پر بھی اتنی خوبصورت دھاریاں نہ ہوں گی۔ میں نے اس خچر کی کھال دیکھی ہے جو عرب میں مکہ کے قریب مر گیا اور فی الحقیقت یہ عجیب و غریب چیز تھی جو کسی بھی عظیم حکمران کے لئے نہایت مناسب تحفہ تھا۔ علاوہ ازیں انہوں نے دو بہت ہی خوبصورت ہاتھی دانت حاصل کئے جن میں سے ایک کو اٹھانے کے لئے چار آدمیوں کو اپنی پوری طاقت صرف کرنی پڑتی۔ ان کے پاس مشک سے بھرے ہوئے کچھ سینگ بیل کے بھی تھے۔ انھوں نے جعلی خط تیار کئے جس میں حبش کے بادشاہ نے مغل بادشاہ سے موسیقی کے ساز، مذہبِ اسلام سے متعلق چند کتابیں، اور ایک مسجد کی مرّمت کے لئے کچھ رقم طلب کی تھی۔ مسجد کسی درویش کے نام پر بنائی گئی تھی جو مکہ سے مذہبِ اسلام کی تبلیغ کے لئے حبش آئے تھے اور وہیں انتقال کیا۔ اس مسجد کو ان پرتگالیوں نے تباہ کیا تھا جو مسلمانوں کی بغاوت کے وقت شاہ حبش کی مدد کر رہے تھے۔ اس طرح یہ جعلساز اپنی اس جھوٹی سفارت پر حبش سے روانہ ہوئے۔
یہ جعلی سفیر مکّہ پہنچے اور وہاں انہوں نے چند غلاموں اور لونڈیوں اور گھوڑوں کو فروخت کیا تاکہ سفر خرچ نکل سکے۔ مختصر مدت میں وہ سورت پہنچ گئے۔ وہاں انھوں نے ایک سینگ کی مشک بیچ دی اور خالی سینگ اپنے پاس رکھ لیا اسی دوران شیواجی سورت پہنچا اور سات دنوں میں شہر کو تاخت و تاراج کر دیا۔ ان سفیروں سے ہاتھی دانت، گھوڑے اور مشک سے بھرا ہُوا دوسرا سینگ اور تمام سامانِ تجارت چھین لیا۔ ان لوگوں کے پاس سوا خالی سینگ، خچر کی کھال، خطوط اور چند غلاموں کے اور کچھ نہ بچا۔ اس حالت میں انہیں سورت کے صوبیدار سے روپے کی مدد طلب کرنی پڑی تاکہ وہ دربار تک کا سفر جاری رکھ سکیں۔ صوبیدار نے انہیں اصلی سفیر سمجھتے ہوئے ان کی مدد کی اور وہ دلّی میں اس وقت پہنچے جب میں وہاں موجود تھا۔
اورنگ زیب کو سورت کے صوبیدار کا خط ملا جس میں ان سفیروں اور سورت میں ان کے مصائب کا حال درج تھا۔ حق بات یہ ہے کہ یہ واقعہ یعنی شیواجی کی لوٹ مار ان کے لئے وہ بہترین موقع تھا جس کے باعث وہ دربار میں خوش آمدید کہے گئے اور انہیں امیّد افزا رخصت دی گئی۔ پس وہ بادشاہ کے حضور پیش ہوئے۔ بادشاہ نے دونوں کو زربفت سراپا سے نوازا اور ان کی رہائش کے دوران میں روزمرہ کے اخراجات کے لئے رقم کی ادائیگی کا حکم دیا۔ تھوڑی مدّت کے بعد انہیں رخصت دی گئی۔ انہیں پھر سراپا اور چھ ہزار روپے ملے دو ہزار آرمینی اور چار ہزار عرب کو۔ اس تقسیم سے اورنگ زیب اپنے ہم مذہب عرب پر زیادہ لطف و کرم کا اظہار کرنا چاہتا تھا حالانکہ وہ بہت بدصورت اور پستہ قد تھا۔ اگر شاہ حبش واقعی اپنے سفیر بھیجتا تو یہ یقینی ہے کہ وہ ایسے بدصورت آدمی کو کبھی منتخب نہ کرتا۔
