اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

داستانِ مغلیہ ۔ باب ششم

مزید براں اس نے سفرا کو شاہ حبش کے لئے بیش قیمت خلعت، دو نقّارے، چاندی سے ملمع کئے ہوئے دو ترم، اور ایک جڑاؤ خنجر دیا۔ یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ انسانی ارادے کتنے مختلف ہوتے ہیں؟ حبش کے بادشاہ نے تو سفیر اس لئے بھیجے تھے کہ وہ موسیقی کا حکمران ہونے کی حیثیت سے سازوں پر اپنا حق سمجھتا تھا اس لئے کہ مغل بادشاہ کے پاس وہ ساز اس کی اجازت کے بغیر تھے جبکہ اورنگ زیب نے انہیں بالکل مختلف انداز میں بھیجا اور اس عمل سے یہ ثابت کیا کہ وہ بادشاہ اس کا ماتحت ہے۔ عام رواج یہ ہے کہ جب مغل بادشاہ اپنی رعایا میں سے کسی شخص کو امارت کا درجہ دیتا ہے تو وہ اُسے خلعت، ترم اور نقّارہ بھی بخشتا ہے۔ علاوہ ازیں اس نے سفیروں کو بیس ہزار سونے کے سکّے اور روپے بھی دیئے اور انہیں یہ بتایا کہ یہ رقم بادشاہ کے لئے ہے اس لئے کہ اسے یہ بتایا گیا ہے کہ ملک حبش میں ایسے سکّے نہیں ہوتے۔

یہ بات بالکل واضح تھی کہ اس رقم کو حبش نہیں پہنچنا تھا بلکہ سامانِ تجارت کی خرید پہ خرچ ہونا تھا، جیسا کہ فی الحقیقت ہُوا۔ انہوں نے حبش لے جانے کے لئے مختلف سوتی اور اونی کپڑے خریدے۔ کچھ سوتی کپڑا جس پر سونے اور چاندی کا کام بنا ہُوا تھا اور کچھ ریشمی کپڑا جس پر پھول بنے ہوئے تھے، خریدے گئے۔ یہ وہ چیزیں تھیں جو ملک حبش میں نایاب تھیں۔ مسجد کی تعمیر کے لئے بھی انہیں کافی رقم ملی۔ اسے بھی سامانِ تجارت پر خرچ کیا گیا۔ انہیں قرآن اور دوسری ایسی کتابیں بھی دی گئیں جو مسلمانوں میں مقدس سمجھی جاتی ہیں۔ اس طرح یہ نقلی سفیر اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گئے۔

شریفِ مکّہ جو تمام مسلمانوں کا رہنما سمجھا جاتا ہے۔ اس رقم کو قبول نہ کرنے پر متاسف تھا جو اورنگ زیب نے اپنی سلطنت کے آغاز میں مکّہ روانہ کی تھی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ باپ کی زندگی میں بیٹے سے کوئی نذرانہ وصول نہ کر سکتے تھے۔ اب اس نے اورنگ زیب کے پاس اپنے سفیر روانہ کئے کہ وہ اس کی تخت نشینی کی مبارکباد دیں، یوں کہ اب کوئی شخص بھی ایسا نہ تھا جو اس کے مقابلے میں تخت کا دعویدار ہو۔ سفیروں کو یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا اورنگ زیب نذرانہ کی رقم دینے پر اب بھی تیار ہے۔

شریفِ مکّہ نے روضۂ رسولؐ کی کچھ خاک اور ایک جاروب تحفہ میں بھیجی۔ ان تحائف کے ساتھ کچھ عربی گھوڑے بھی تھے۔اورنگ زیب نے ان سفرا کو اور ان کے تحائف کو بڑے اہتمام سے قبول کیا۔ اس نے اس موقع پر اپنے حسنِ سلوک کو دوبالا کر دیا اور جاروب اور خاک پر نظر پڑتے ہی حد سے زیادہ احترام و تعظیم کا مظاہرہ کیا۔ اس نے محمدؐ اور اس جاروب کی تعریف میں ہزاروں کلمے کہے اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ ایسی محترم جگہ کا جاروب کش کیوں نہ ہُوا۔ علاوہ ازیں اس نے اس رقم کے بارے میں جو مکہ بھیجی گئی تھی خود کچھ نہ کہا بلکہ دانش مند خاں سے یہ کہا کہ وہ سفیروں کو یہ بتا دے کہ چوں کہ شریفِ مکّہ نے اس رقم کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا اس لئے اسے دیگر کاموں پر صرف کر دیا گیا ہے اور یقیناً محمدؐ اس کے نیک ارادوں سے خوش ہوں گے۔ پس چند ہی دنوں میں سفیروں کو رخصت مل گئی اور وہ تحفے تحائف کے بجائے اپنے ساتھ عزت و احترام لے گئے۔