اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

داستانِ مغلیہ ۔ باب ہفتم

گو یورپی طبیب کو اورنگ زیب کے احکامات کہ وہ شاہ جہاں کو زہر سے ہلاک کر دے صیغۂ راز میں تھے لیکن لوگوں نے یہ دیکھ لیا کہ شاہ جہاں نے اُسے ملازم رکھنے سے انکار کر دیا۔ پس لوگوں میں شکوک  پیدا ہوئے اور اس طرح اورنگ زیب کے ان مظالم کے خلاف جو اس نے بوڑھے آدمی پر روا رکھے تھے باتیں ہونے لگیں۔ لوگوں نے یہاں تک کہنا شروع کیا کہ اب جب کہ اس کا کوئی مدمقابل باقی نہیں رہا، اسے اپنے باپ سے معافی مانگنی چاہیئے اور اس کی خیر خواہی کا طلبگار ہونا چاہیے۔ گو شاہ جہاں دُنیادار آدمی ہے تاہم اس کا باپ ہے۔ نہ ہی بظاہر اس کا کوئی ایسا جرم ہے جس کے باعث وہ اس شخص کی جانب سے اتنی نفرت کا مستحق ہو جسے اس نے  پیدا  کیا۔ اب اورنگ زیب کے خلاف ایسے خیالات کا برملا اظہار ہونے لگا تھا اور یہ بات بر سرِ عام کہی جانے لگی تھی کہ اس کی ان سختیوں پر اُسے سزا دینے کے لئے اللہ تعالے نے شیواجی کو طاقت بخشی ہے۔

 چونکہ پرانے فتنے سر اٹھا رہے تھے اس لئے اورنگ زیب کو یہ خوف محسوس ہوا کہ کہیں بغاوت نہ ہو جائے۔ لہذا اس نے باپ سے معافی مانگنے کی کوششیں شروع کیں۔ اس نے اُسے ایسے خطوط لکھنے شروع کئے جو بظاہر بہت زیادہ محبت آمیز تھے جس میں وہ نہایت پُرزور الفاظ میں معافی اور خیر خواہی کا خواستگار ہوا۔ چونکہ اورنگ زیب کی بدطینتی کافی واضح ہو چکی تھی اس لئے شاہ جہاں نے اس کی معذرتوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد بھی اورنگ زیب نے ہمت نہ ہاری بلکہ زیادہ اصرار کے ساتھ اور زیادہ خطوط لکھے جس میں زیادہ پیار کا مظاہرہ کیا اور اُسے ایسے تحفے بھیجے جو شاہ جہاں کے لئے خوش کن تھے مثلاً شکاری غزال جو آپس میں لڑائے جاتے تھے۔ علاوہ ازیں بہت سے معاملاتِ سلطنت کے بارے میں اس نے شاہ جہاں کی رائے بھی طلب کی۔ اس نے اُسے یہ لکھا کہ وہ فرمانبردار بیٹے کی طرح زندہ رہنا چاہتا ہے اور یہ کہ اُسے اس کے کئے کی معافی دی جائے کیونکہ اب گزری باتوں کا کوئی علاج ممکن نہیں ہے۔

گو بظاہر شاہ جہاں کچھ نرم پڑ گیا تھا لیکن ان باتوں کا اس نے کسی قدر ناراضگی سے یہ جواب دیا کہ وہ اور تمام باتوں کو درگذر کرنے کو تیار ہے مگر وہ اورنگ زیب کی اس بربریت کو معاف نہیں کر سکتا کہ اس نے اس کے  پیارے بیٹے دارا کا سر اس کے پاس بھیج کر، اس کی زندگی کے باقی ماندہ چند برسوں کو اس کے لئے تلخ بنا دیا۔ اتنے ظلم پر اکتفا نہ کرتے ہوئے اس نے اپنے باپ کی زندگی کو ختم کرنے کی بھی کئی بار کوششیں کیں۔ تاہم اس بات کی علامت کے طور پر کہ اس کے دل میں اُس کے لئے تھوڑی بہت محبت ہے اور اس نے اسے کسی قدر معاف کر دیا ہے شاہ جہاں نے اورنگ زیب کو چند جواہرات بھیجے جو اس نے اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔ اس بات سے اورنگ زیب کی تسلّی ہوئی اور اسے یہ امید ہوئی کہ اس رعایت سے لوگ یہ سمجھ لیں گے کہ باپ نے اُسے معاف کر دیا ہے۔

یہ دیکھ کر کہ اب بہت سے خطرات ٹل گئے ہیں اور محض شیواجی سے جنگ باقی ہے (جسے وہ بہت معمولی کام سمجھتا تھا) اورنگ زیب نے رعایا کی فلاح کا ایک کام کیا۔ اسے یہ علم تھا کہ دِلّی کا لاہوری دروازہ زیادہ چوڑا نہیں ہے جس کے باعث اس سمت سے آنے والا سامان زیادہ تعداد میں فوری طور پر اندر نہیں آ سکتا۔ اکثر اوقات سواروں کو گذرنے کے لئے دروازے پر انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اکثر یہ بھی ہوا کہ خود بادشاہ کو شکار پر جاتے ہوئے راستہ نہ ملنے کے سبب واپس پلٹنا پڑتا تھا۔ اس نے یہ حکم دیا کہ اس مقام پر تین دروازے بنائے جائیں۔ اس کام کے لئے یہ ضروری تھا کہ کئی عمارتیں گرائی جائیں جن کی قیمت بادشاہ نے بلا تامّل ادا کر دی۔

اسی زمانے میں اس نے یہ احکامات بھی صادر کئے کہ شہر لاہور کو بچانے کے لئے جسے دریائے راوی کاٹ رہا تھا ڈیڑھ کوس لمبی دیوار فصیل کے طور پر خود اس کے خرچ پر بنائی جائے۔ چونکہ شیواجی دکن میں ہر چہار جانب لوٹ مار کر رہا تھا اس لئے اس نے یہ حکم دیا کہ رعایا کو پریشان کئے بغیر اورنگ آباد اور برہان پور کے چاروں طرف (ان شہروں میں شیواجی لوٹ مار کر چکا تھا) فصیل کھڑی کی جائے۔ شیواجی چار سو مسلمان لڑکیوں کو اس لئے اُٹھا لے گیا تھا کہ مسلمانوں نے اس کے علاقے میں ہندو عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ شیواجی کا مذاق اڑانے کے لئے مسلمانوں نے مندروں میں گائے ذبح کی تھی۔ جواباً شیواجی نے بھی یہ حکم دیا کہ مسجدوں میں سور کاٹے جائیں۔

اس نے یہ سب اس لئے کیا کہ وہ مغل فوجوں کے خلاف سرکشی کے اظہار سے اپنی ہمت اور قوت کا مظاہرہ کرنا چاہتا تھا۔

گو اوّل اوّل اورنگ زیب نے شیواجی کے خلاف جنگ کو کوئی خاص اہمیت نہ دی تاہم اس نے یہ ضرور محسوس کیا کہ یہ راجہ دن بدن قوّت پکڑتا جا رہا ہے۔ وہ یا تو مغل قلعوں پر قبضہ کر لیتا تھا یا پھر بیجاپور کے شہروں پر قابض ہو رہا تھا۔

اس لئے اورنگ زیب نے راجہ جے سنگھ کو طلب کیا جس کی فراست اور شجاعت پر اسے کافی بھروسہ تھا۔ اورنگ زیب نے راجہ سے نہایت دوستانہ انداز میں یہ کہا کہ وہ اب شیواجی کی بدعنوانیوں کو برداشت نہیں کر سکتا لہذا اس نے یہ طے کر لیا ہے کہ وہ بہ نفسِ نفیس اس باغی کی سرزنش کو جائے گا۔ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ یا تو وہ خود اس مہم پر جائے یا پھر راجہ جے سنگھ شیواجی کی سرکوبی کا ذمہ لے۔ راجہ جے سنگھ نے نہایت شستگی سے یہ کہا کہ اگر جہاں پناہ آرام کرنا چاہتے ہیں اور اُسے اس مہم کی سالاری کی عزت بخشتے ہیں تو وہ شیواجی کی شکست اور اس کے حملوں کی روک تھام کی ذمہ داری لے سکتا ہے اور اگر جہاں پناہ اس بات پر مصر ہوں تو اُسے زندہ پکڑ کر بھی لا سکتا ہے۔

اس جواب کو سن کر اورنگ زیب نے اپنی قبا جو وہ اس وقت پہنے ہوئے تھے اتار کر راجہ کو پہننے کو دی، اور موتیوں کی وہ مالا جو وہ بالعموم پہنے رہتا تھا، اپنی گردن سے اتار کر راجہ کی گردن میں ڈال دی اس کے ساتھ ہی راجہ کو یہ اختیار دیا کہ وہ اپنے ماتحت سرداروں کا خود انتخاب کر لے۔ لیکن اہم بات یہ تھی کہ جلدی کی جائے کہ دراصل حرکت میں برکت ہے۔ راجہ نے اورنگ زیب سے رخصت لی اور باہر آیا۔ فوراً اپنی ریاست سے سواروں کا دستہ اور ساٹھ لاکھ روپے طلب کئے۔ اخراجات کے لئے یہ ساٹھ لاکھ روپے اس گراں قدر رقم کے علاوہ تھے جو اورنگ زیب نے راجہ کو دی تھی۔

جب بادشاہ کشمیر سے دِلی واپس آیا تو میں کئی بار راجہ جے سنگھ کو سلام کرنے پہنچا۔ راجہ مجھے پسند کرنے لگا اور بالآخر اُس نے مجھ سے کہا کہ میں اُسے ہمبر (تاش کا کھیل) کھیلنا سکھاؤں جیسا کہ میں اس سے پہلے اُس کے لڑکے کو سکھا چکا تھا۔ کئی بار ہم سب نے مل کر یہ کھیل کھیلا اور ہم دو نے راجہ سے کچھ رقم بھی جیتی۔ اس موقع پر راجہ جے سنگھ نے مجھ سے کہا کہ میں اس کے ساتھ اس اہم مہم پر جاؤں۔ اس نے مجھے توپ خانے کا سردار بنانے کا وعدہ کیا۔ اس کے لئے مجھے ایسے یورپیوں کی تلاش کرنی تھی جو اچھے سپاہی بھی ہوں۔ بعدازاں اس نے مجھ سے اور کام لینے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ اس نے میری تنخواہ دس روپے روز مقرر کی۔ میں اس کی پیشکش کو رد نہ کر سکا اور اس کی باتوں پر مجھے کامل اعتماد تھا۔ نہ ہی ایسے موقع پر میں نے اسے ناراض کرنا چاہا کیونکہ ابھی مجھ میں اتنی ہمّت نہ تھی کہ میں خود کو طبیب ظاہر کروں۔ اس نے مجھے بیش قیمت سراپا اور ایک عمدہ گھوڑا بخشا اور میری تیاری کے لئے کافی رقم بھی دی۔ جب ہر چیز تیار ہو گئی تو ہم دِلّی سے روانہ ہوئے۔ (1664ء)