میری واپسی کے کچھ دنوں بعد شیواجی نے خود کو ہمارے حوالے کر دیا اور ہمارے پڑاؤ پر آ گیا۔ (جولائی 1665ء) میں رات کو راجہ کے پاس بات چیت کرنے اور اگر وہ چاہے تو اس کے ساتھ تاش کھیلنے جایا کرتا تھا۔ اس دوران میں ایک رات کو جب راجہ، میں اور اس کا برہمن تینوں تاش کھیل رہے تھے تو شیواجی اندر داخل ہوا۔ ہم سب کھڑے ہو گئے اور شیواجی نے مجھے دیکھ کر، کہ میں جسیم نوجوان تھا، اور مجھے اس نے پہلے کسی موقع پر نہیں دیکھا تھا، راجہ جے سنگھ سے پوچھا کہ میں کس ریاست کا راجہ ہوں۔ جے سنگھ نے جواب دیا کہ میں فرنگی راجہ ہوں۔ اس جواب سے وہ متعجب ہوا اور بولا کہ میرے پاس بھی بہت سے فرنگی ملازم ہیں مگر ان میں سے کوئی اس طرح کا نہیں ہے۔ راجہ جے سنگھ میری عزّت افزائی کرنا چاہتا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ قدرت کا قانون ہے کہ وہ اعلیٰ اور ادنیٰ میں تمیز قائم کرتی ہے اور چونکہ یہ راجہ ہیں اس لئے قدرت نے انہیں وہ جسم اور دماغ بخشا ہے جو دوسروں سے بالکل مختلف ہے۔ میں عزّت افزائی کے یہ کلمات سُن کر کھڑا ہوا اور تسلیم بجا لایا۔ اس شروعات کے بعد مجھے کئی بار شیواجی سے گفتگو کا موقع ملا، اس لئے کہ فوج کے اور لوگوں کی طرح مجھے بھی فارسی اور ہندوستانی دونوں زبانیں آتی تھیں۔ میں نے اسے یورپی بادشاہوں کی عظمت و شوکت سے آگاہ کیا۔ اس کا خیال یہ تھا کہ یورپ میں پرتگال کے بادشاہ سے بڑا کوئی اور بادشاہ نہیں ہے۔ میں نے اُسے اپنے مذہب کے بارے میں بھی بتایا۔
جے سنگھ کا نائب دلیر خاں غدّاری کا عادی تھا اس نے کئی بار شیواجی کو قتل کرنا چاہا۔ اس نے راجہ جے سنگھ کو بھی یہ مشورہ دیا کہ اس کی جان لے لے یا کم از کم خود اسے ایسا کرنے کی اجازت دے۔ اس نے کہا کہ وہ اس کام کی ذمہ داری لیتا ہے اور راجہ جے سنگھ پر کوئی الزام نہ آنے دے گا۔ اس کا خیال تھا کہ بادشاہ اس بات سے بہت خوش ہو گا۔ لیکن راجہ جے سنگھ نے دلیر خاں کی بات نہ مانی اس لئے کہ اس نے عہد کیا تھا اور قسم کھائی تھی کہ نہ صرف یہ کہ وہ شیواجی کی جان کی حفاظت کرے گا بلکہ یہ بھی کہ بادشاہ اس سے عزت و احترام سے ملے گا۔ اس کے برعکس راجہ جے سنگھ نے حفاظتی دستے کے ساتھ شیواجی کو دربار کے لئے روانہ کیا۔ اس نے اپنے بیٹے رام سنگھ کو خط لکھا کہ وہ اس بات کا خیال رکھے کہ کہیں بادشاہ شیواجی کو قتل نہ کرا دے اس لئے کہ اس نے شیواجی کی حفاظت کے لئے زبان دی تھی اور قسم کھائی تھی۔ یہ بہتر ہو گا کہ اس کا گھر بار تباہ ہو جائے بجائے اس کے کہ اورنگ زیب اس کے عہد کی آڑ لے کر غدّاری کرے۔
دِلّی میں شیواجی کی آمد پر بادشاہ نے اُسے دربار میں بلوایا اور اُسے حسبِ وعدہ جگہ دینے کے بجائے جو دربار میں سب سے آگے ہوتی، اسے سب سے پیچھے سنہرے کٹہرے کے اندر امرا کی پہلی صف میں جگہ دی۔ اورنگ زیب کے اس عمل سے جو اس سے کئے گئے وعدوں کے مطابق نہ تھا، شیواجی بہت آزردہ ہوا۔ خفگی کے عالم میں، گویا اس بات پر کہ وہ ابھی زندہ ہے، اس نے فیصلہ کن انداز میں اورنگ زیب سے کہا کہ جو حیثیت اسے ملی ہے وہ عہد نامے کے مطابق نہیں ہے نہ ہی وہ ان شرائط کے مطابق ہے جو راجہ جے سنگھ سے طے ہوئی تھیں۔ اپنے پہلے ہی استقبال سے وہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ اورنگ زیب کو یاد رکھنا چاہیئے کہ اس دربار میں نامدار خاں کے علاوہ کہ وہ ایک اچھا سپاہی ہے سارے کے سارے بوڑھی عورتوں کے مانند ہیں، جنہیں وہ نہایت آسانی سے میدانِ جنگ میں زیر کر چکا ہے۔ پس ان میں سے ایک بھی اس جگہ کے لائق نہیں ہے جو اُسے ملی ہے۔ اس کے بعد وہ غصّہ میں باہر نکل آیا۔
ہر ایک نے یہ اندازہ لگایا کہ اب اورنگ زیب اس کے قتل کے احکامات نافذ کرے گا لیکن اورنگ زیب اپنے جذبات کے برملا اظہار کا عادی نہ تھا اور ہمیشہ اپنے منصوبوں کو رازدارانہ طور پر پورا کرتا تھا۔ اُس نے اشارہ کیا کہ درباری شیواجی سے گفتگو کریں، کیوں کہ اس وقت تک یہ پتہ نہ تھا کہ وہ کیا فیصلہ سنائے گا۔ بعض لوگ باہر آئے اور انہوں نے شیواجی کو تسلی دینی شروع کی۔ انہوں نے اسے بتایا کہ شاہنشاہ ہندوستان دربار میں پہلے پہل آنے والے کو اوّل صف میں جگہ نہیں دیتا لیکن آئندہ وہ یہ ضرور کرے گا، اس لئے کہ اس کی نظر میں ایک شجاع سردار کی حیثیت سے شیواجی کا بہت مقام ہے۔ لیکن اُسے چند دنوں تک صبر و سکون سے کام لینا چاہیئے۔
اس دوران میں اورنگ زیب نے یہ احکامات نافذ کئے کہ شیواجی کو اس کے خیمے میں لے جایا جائے اور اس کے خیمے کے چاروں طرف فوج کے تین دستے حفاظت کے لئے متعین کئے جائیں۔ یہ انتظام اس وقت تک کے لئے تھا جب تک کہ فدائی خاں کا محل خالی نہیں ہو جاتا۔ اس طرح شیواجی نے چند ماہ خیمے میں گزارے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ نہ تو بادشاہ کی طرف سے ایفائے وعدہ کا کوئی اظہار ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے چنگل سے نکلنے کا کوئی امکان ہے، اس نے اورنگ زیب سے اپنے سپاہیوں اور سرداروں کو اپنے اپنے گھروں کو روانہ کرنے کی اجازت طلب کی۔ اورنگ زیب نے یہ اجازت دے دی اور محض شیواجی، اس کے بیٹے سمبھاجی اور اس کے مشہور سردار نیتوجی کو مقید رکھنے پر اکتفا کی۔
شیواجی نے راجہ جے سنگھ کے بیٹے رام سنگھ کے مشورے پر جو حفاظتی دستے کے سرداروں میں سے ایک تھا، ہفتے میں کئی بار مٹھائی کے بڑے بڑے ٹوکروں کو باہر بھیجنا شروع کیا تاکہ وہ سپاہیوں اور افسروں میں تقسیم ہو۔ گو اورنگ زیب بہت طبّاع تھا مگر اس بارے میں اس نے کوئی احتیاط نہ برتی۔ اس نے یہ سمجھا کہ شاید وہ شکرانے کے طور پر خیرات کر رہا ہو کہ خدا نے اُسے آزادی دی۔ جب فدائی خاں کے محل کی تزئین ہو چکی تو اورنگ زیب نے شیواجی کی عزت افزائی کے بہانے یہ حکم دیا کہ اگلی صبح کو اُسے وہاں منتقل کر دیا جائے۔ اس کا ارادہ یہ تھا کہ اُسے وہیں مار کر دفن کر دیا جائے۔ رام سنگھ نے، جو باپ کی ہدایات پر بھرپور عمل کر رہا تھا اور جسے اورنگ زیب کے کردار کے بارے میں پورا علم تھا، دل کھول کر روپیہ خرچ کیا تاکہ شیواجی کے خلاف یا اُس کے حق میں اسے بادشاہ کے احکامات کے بارے میں اطلاع ملتی رہے۔ اس طرح اسے شاہی احکام کے بارے میں اطلاع مل گئی۔ بلا تاخیر شیواجی کو مطلع کیا گیا اور اس نے معمول کے مطابق مٹھائی کے ڈھکے ہوئے ٹوکرے منگوائے۔ اس طرح ٹوکرے میں چھپ کر وہ اور اس کا بیٹا دونوں ایک محفوظ مقام پر پہنچ گئے جہاں سے عمدہ گھوڑوں پر سوار ہو کر وہ اپنے ملک کی راہ لے سکتے تھے۔ اس طرح یہ واقعہ ظہور پذیر ہوا۔
دوسری صبح کو لوگ شیواجی کو لینے پہنچے تاکہ اسے اس محل میں پہنچائیں جہاں ان کی جان لی جانے والی تھی۔ خیمے میں داخل ہو کر انہوں نے بستر کے ایک سرے پر پگڑی رکھی دیکھی گویا وہ ابھی سو رہا ہو۔ انھوں نے کچھ دیر انتظار کیا اور ایک بار پھر یہ دیکھنے گئے کہ وہ جاگا یا نہیں۔ لیکن جو کچھ وہاں پڑا تھا اس میں کسی طور حرکت ہی نہ ہوتی تھی۔ پس وہ کئی بار اندر گئے۔ وہاں نہ انہوں نے کوئی حرکت دیکھی اور نہ ہی خراٹوں کی کوئی آواز سنی۔ انہوں نے یہ دیکھنے کے لئے کہ آیا وہ زندہ ہے یا مر گیا چادر اُلٹی۔ یہ دیکھ کر انہیں اصل حقیقت معلوم ہوئی اور رام سنگھ کو فوراً اطلاع دی گئی۔ پیشتر اس کے کہ کوئی اور شخص بادشاہ کو بتاتا رام سنگھ خود اس کے سامنے حاضر ہوا۔ کورنش بجا لانے کے بعد وہ افسردہ چہرے کے ساتھ خاموش کھڑا ہو گیا۔ اس تبدیلی کو دیکھ کر اورنگ زیب چکرا گیا۔ کیونکہ رام سنگھ بالعموم خوش و خرم نظر آتا تھا۔ اس نے اس آزردگی کا سبب دریافت کیا اور پوچھا کہ وہ گھر کیوں نہیں گیا۔ رام سنگھ نے بہت دھیمی آواز میں یہ بتایا کہ وہ ایک خبر لایا ہے اور وہ یہ کہ شیواجی غائب ہو گیا ہے۔
اس خبر سے اورنگ زیب بہت افسردہ ہوا۔ اس نے اپنا ہاتھ سر پر رکھا گویا وہ خیالات میں غرق ہے اور پھر ساری سلطنت میں یہ حکم بھیجا کہ شیواجی کو تلاش کیا جائے۔ لیکن شیواجی اپنے راستے پر بہت دور نکل چکا تھا۔ اس نے ایک رات میں ہی اتنا سفر کیا جو کسی اور کے لئے تین دنوں اور تین راتوں میں ممکن تھا۔ اس طرح اس کا پکڑا جانا محال تھا۔ اس کی راہ بھی جنگلات اور پہاڑوں سے گزرتی تھی جہاں سے گزرنا بہت مشکل تھا۔ اس ڈر سے کہ کہیں نیتوجی بھی بھاگ نہ جائے اورنگ زیب نے اسے زبردستی ملازمت دی اور اسے دریائے سندھ کے پار مہابت خاں کے تحت لڑنے کے لئے بھیج دیا۔
