اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

داستانِ مغلیہ ۔ باب ہفتم

اس دوران میں اُسے کئی بار دربار میں طلب کیا گیا۔ وہاں ایرانی رعایا کے مقابلے میں اس کی بہت کم توقیر کی جاتی تھی۔ دربار میں اس کی حاضری سے بجز اس کے کہ بادشاہ کی تضحیک و تحقیر کا نشانہ بنے اور کوئی مقصد حل نہ ہوتا تھا۔ وہاں اس کا اور اورنگ زیب کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ بالاخر جب سفیر کی پریشانیوں کی مدّت میں کافی اضافہ ہو چکا تو بادشاہ نے رخصت کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن یہ رخصت بھی کافی پریشان کن مرحلہ ثابت ہوئی۔ ایک روز شاہ عباس نے سفیر سے بڑی روح افزا گفتگو کی، یہاں تک کہ شام ہو گئی۔ جب اندھیرا ہو گیا تو اس نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس ہندوستان کا کوئی سکّہ اور بادشاہ کی کوئی تصویر ہے۔ سفیر نے اثبات میں جواب دیا اور سونے چاندی کے کچھ سکّے پیش کئے جن پر یہ تحریر تھی:

سکّہ زد در جہاں چو بدرِ منیر

شاہ اورنگ زیب عالمگیر

ترجمہ شاہ اورنگ زیب عالمگیر نے دنیا میں روشن چودھویں کے چاند کی طرح سکّہ ضرب کیا۔

سکّہ زد در جہاں چو مہرِ منیر

شاہ اورنگ زیب عالمگیر

ترجمہ شاہ اورنگ زیب عالمگیر نے دنیا میں روشن سورج کی طرح سکّہ ضرب کیا۔

اس نے بادشاہ کی ایک تصویر بھی جو کاغذ پر کھینچی ہوئی تھی پیش کی۔ اس تصویر میں بادشاہ کو گھوڑے پر سوار دکھایا گیا تھا اور فضا میں ایک فرشتہ ایک تلوار اس کی نذر کر رہا تھا۔

شاہ عباس نے سکّے سفیر کو واپس کر دیئے اور اُسے حکم دیا کہ وہ سکّے کی تحریر کو زور سے پڑھے۔ اس نے مشعل بردار کو پہلے ہی سے کہہ رکھا تھا کہ وہ اس کے قریب ہو جائے تاکہ وہ تحریر کو پڑھ سکے اور جب وہ پڑھ چکے تو مشعل بردار لغزش کے بہانے سے اس کی داڑھی کو آگ دکھا دے۔ ایسا ہی ہوا۔ اور شاہ عباس یہ کہتا رہا ’’کوئی بات نہیں، کوئی بات نہیں، یہاں بہت سے حجّام ہیں جو اس نقصان کی تلافی کر دیں گے۔‘‘ اس کے بعد اورنگ زیب کی تصویر کو بغور دیکھتے ہوئے اُس نے اس کے خلاف دشنام آمیز الفاظ کہے۔ اس کی زندگی کے حالات اور مخصوص کارناموں کی طرف اشارے کئے پھر تصویر پر تھوک کر اُسے زمین پر پھینک دیا اور غلاموں کو حکم دیا کہ اس پر جوتے لگائیں۔ کیونکہ وہ اسی قابل ہے۔ یہ بھی ہوا اور تمام لوگوں پر مکمل خاموشی طاری رہی۔ اس نے کہا کہ سکے پر ان الفاظ کے بجائے یہ تحریر کندہ ہونی چاہیے:

سکّہ اورنگ زیب زد بہ پنیر

کہ برادر کُش است و باباگیر

ترجمہ اورنگ زیب نے پنیر پر سکّہ ضرب کیا کیونکہ وہ بھائی کا قاتل اور باپ کو قید کرنے والا ہے۔

اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ تربیت خاں کو پینتالیس گھوڑے شاہی اصطبل سے دیئے جائیں۔ اس نے اس سے کہا کہ اب اپنے فرمانروا کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ میں نے یہ گھوڑے اس لئے بھیجے ہیں کہ اسے میرے خلاف نبرد آزما ہونے میں گھوڑوں کی کمی کا بہانہ نہ ہو۔ اس طرح اس نے اُسے میدانِ جنگ میں مقابلے کی دعوت دی اور اُسے یہ سبق دینا چاہا کہ کس طرح کوئی شخص فی الحقیقت عالمگیر ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے بارے میں اور باتیں میں بعد میں کروں گا۔ شیواجی کی جنگیں مجھے اس تذکرے سے روکتی ہیں اس لئے کہ مجھے ان کے بارے میں کچھ کہنا ہے۔

جب یہ سفارت ہو رہی تھی تو ہم اورنگ آباد کی طرف بڑھ رہے تھے جہاں پہنچ کر ہم شاہ عالم سے مل گئے۔ راجہ جے سنگھ نے مجھے بُلا کر حکم دیا کہ میں اس کے سفیر کی حیثیت سے تین راجاؤں یعنی رام نگر، پنت اور چیوتیا کے راجاؤں سے ملوں جو ہندوؤں کے چھوٹے چھوٹے راجہ ہیں۔ انہیں کی ریاستوں سے گزر کر شیواجی نے سورت پر حملہ کیا تھا۔ راجہ جے سنگھ نے مجھے ایک سراپا اور ایک گھوڑا دیا اور میرے ساتھ تیس سپاہی اور کچھ توپیں کر دیں۔ خرچ کے لئے کافی رقم بھی دی۔ مجھے حکم تھا کہ میں ان راجاؤں کے پاس جاؤں اور ان سے یہ وعدہ لوں کہ وہ شیواجی کا ساتھ نہیں دیں گے اور نہ اُسے گزرنے کے لئے راستہ دیں گے۔ اگر وہ اورنگ زیب کی طرف سے شیواجی کے خلاف جنگ نہ کریں گے تو جے سنگھ ان کے خلاف اعلانِ جنگ کر دے گا۔ ضمانت کے طور پر یا تو وہ خود یا اپنے بیٹوں کو دربار میں روانہ کریں جہاں انہیں ان کی حیثیت کے مطابق عہدہ اور تنخواہ ملے گی۔

میں اپنے اس کام کے لئے روانہ ہوا اور سب سے پہلے جس شخص سے ملا وہ رام نگر کا راجہ تھا جس کی ریاست خوفناک پہاڑیوں اور تاریک جنگلوں میں ہے۔ راجہ نے میرا خاطر خواہ استقبال کیا اور مجھے چندے آرام کرنے کو کہا جس کے دوران میں اس نے اس معاملے پر غور و خوض کیا۔ اس اثنا میں میں شکار کھیلنے اور مچھلی پکڑنے میں مشغول رہا۔ راجہ نے میرے لئے مختلف کھیلوں سے دلچسپی کا سامان مہیّا کیا۔ اس دَوران میں وہ اور دونوں راجاؤں سے خط و کتابت کرتا رہا کہ آیا ان کے لئے یہ مناسب ہو گا کہ وہ شیواجی کے خلاف مغل دربار سے ناطہ جوڑیں۔ میں بھی حسبِ موقع وعدے وعید کرنے اور دھمکیاں دینے میں تساہل نہ برتتا۔ کبھی کبھی میں جوش میں آ کر اس سے جواب طلب کرتا اور بصورت دیگر واپس ہونے کی دھمکی دیتا۔ بالاخر راجہ نے اورنگ زیب کا ساتھ دینا منظور کیا اور مجھے ایک گھوڑا اور ایک تلوار پیش کی۔ اپنے وعدے کی ضمانت کے طور پر اپنے بیٹے کو میرے ساتھ کیا۔

اس کے بعد میں دوسرے راجہ کے پاس گیا۔ یہاں بھی دوستانہ انداز میں میرا استقبال ہوا اور وہی سلوک کیا گیا جو پہلے راجہ نے کیا تھا۔ راجہ نے مجھ سے وقت طلب کیا اور یہ بہانہ کیا کہ مجھے دوسروں کو خطوط لکھنے کا وقت نہیں ملا۔ یہاں کے رواج کے مطابق ناچ کھیل اور شکار سے میری تواضع ہوئی۔ بالاخر اس نے بھی مجھے ایک تلوار اور گھوڑا دیا اور دربار کے لئے اپنا بیٹا حوالے کیا۔ لیکن یہ لمبا چوڑا جوان دھوپ کی شدت کے باعث خون میں حدت پیدا ہونے سے راستے ہی میں مر گیا۔ میں نے اُسے فصد کھلوانے کا مشورہ دیا مگر اس نے مجھ پر اعتماد نہ کرتے ہوئے انکار کر دیا۔

پھر میں تیسرے راجہ کے پاس گیا جس نے حیل و حجت کی لیکن یہ دیکھ کر کہ میں بھی اپنی ضد پر قائم ہوں اس نے مجھ سے معاملہ کرنا مناسب سمجھا۔ چونکہ اس کے کوئی اولاد نہیں تھی اس لئے اس نے اپنے بھائی کو دربار کے لئے میرے ساتھ کیا۔ اس کے بعد اس نے ایک تلوار اور گھوڑا دے کر مجھے رخصت کیا۔ اس موقع پر وہ ڈامن کے پرتگالیوں سے جنگ کر رہا تھا، میں نے ان کے معاملات طے کر دیئے اور صلح کرا دی۔

اس دوران میں کہ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہا تھا جس میں تقریباً سات ماہ لگے راجہ جے سنگھ نے اپنی ہمّت اور شجاعت سے شیواجی کے چھکّے چھڑا دیئے اور اُسے کبھی چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ آخر میں جب شیواجی کا بناگر کا قلعہ چھین لیا گیا تو جے سنگھ نے دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے شیواجی کو یہ لکھنا شروع کیا کہ اگر وہ محض اس سے بات کرے تو وہ اورنگ زیب سے اس طرح معاملات طے کرائے گا کہ وہ اس سے خوش ہو کر اُسے دکن کا صوبیدار مقرر کر دے گا۔ اسی وقت اس نے اپنے خزانے کا منہ کھول دیا اور یہ ایسی چیز ہے کہ اس کا اثر دل اور زبان دونوں پر ہوتا ہے۔ اس نے شیواجی کے وزرا کو کثیر رقوم کی رشوت دی کہ اگر وہ ان سے مشورہ کرے تو وہ سب اُسے یہی رائے دیں کہ مغل بادشاہ سے صلح کرنا بہتر ہے، اس لئے کہ وہ اُسے دکن کا صوبیدار بنانے کا وعدہ کر رہا ہے اور اگر راجہ جے سنگھ بادشاہ کے وعدے کی ذمہ داری لے تو وہ اس پیشکش کو قبول کر سکتا ہے! اورنگ زیب کے دل میں راجہ جے سنگھ کی اتنی قدر و منزلت ہے کہ وہ اپنے الفاظ سے کبھی نہ پھرے گا۔