ملکی لباس پہن کر میں نے اپنی قبا کا بند داہنی طرف باندھا جیسے مسلمان باندھتے ہیں۔ ہندو بائیں جانب بند باندھتے ہیں۔ میں نے اپنی داڑھی منڈا دی اور راجپوتوں کی طرح محض مونچھ رہنے دی لیکن ان کی طرح میں نے کانوں میں موتی نہیں پہنے۔ راجپوت سردار اس قسم کے حلیئے پر بہت متعجب تھے جو نہ راجپوتوں کا تھا اور نہ مسلمانوں کا۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ میں عیسائی مذہب کا پیرو ہوں۔ ایک بار پھر انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آیا میں مسلمان عیسائی ہوں یا ہندو عیسائی، اس لئے کہ وہ ہندوستان میں کسی اور مذہب کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں تھوڑا بہت اپنے مذہب کے بارے میں بتایا۔
اس وقت جب راجہ جے سنگھ برہان پور میں ٹھہر کر پیچھے آنے والی فوجوں کا انتظار کر رہا تھا تو اُسے شاہ جہاں کی موت کی خبر ملی جو اس طرح واقع ہوئی: شاہ جہاں کی ملکہ اورنگ آبادی کے پاس دو بہت پیاری لونڈیاں تھیں، ایک کا نام آفتاب تھا جس کے معنی سورج ہوتے ہیں اور دوسری کا نام مہتاب یعنی چاند تھا۔ یہ دیکھ کر کہ شاہ جہاں ان کی طرف مائل ہے ملکہ نے اس کی دلچسپی کے لئے وہ لونڈیاں اُسے دے دیں۔
ایک دن شاہ جہاں آئینہ کے سامنے بیٹھ کر اپنی مونچھیں درست کر رہا تھا اور یہ دونوں عورتیں اس کے پیچھے کھڑی ہوئی تھیں۔ ایک نے دوسری کو کچھ اشارے کئے گویا وہ اس بوڑھے کا مذاق اڑا رہی تھی جو نوجوان بننا چاہتا ہے۔ شاہ جہاں نے اس اشارے کو دیکھ لیا اور اپنی شہرت پر دھبہ لگتے دیکھ کر اس نے ان ادویات کا استعمال شروع کیا جن سے وہ اپنی بداعمالیوں کے لئے طاقت حاصل کر سکے۔ اس سے اس کا مثانہ اتنا کمزور ہو گیا کہ بالآخر اس کا پیشاب بند ہو گیا۔ وہ خود اب کافی بوڑھا اور کمزور ہو چکا تھا اور اس بیماری کا کوئی علاج نہ ہو سکا۔ اب اُسے دو سیبوں والے فقیر کا قول یاد آیا۔ یہ بات اس کی جوانی کے زمانے کی تھی۔ فقیر نے اُسے بتایا تھا کہ جب اس کی موت کا وقت آئے گا تو اس کے ہاتھوں سے سیب کی خوشبُو ختم ہو جائے گی۔ یہ دیکھ کر کہ وہ بات سچ نکلی اُسے زندگی سے مایوسی ہو گئی اور وہ تھوڑی ہی مدّت کے بعد مر گیا۔
جب اعتبار خاں نے یہ اطلاع دربار کو روانہ کی تو اورنگ زیب نے اس بات کو یاد کیا کہ کس طرح شاہ جہاں نے کہ ابھی وہ سلطان خرم تھا حیلے بہانے سے اپنی موت کی خبر مشہور کی تھی اور اس طرح تخت پر قبضہ کر لیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے اسی قسم کے طریقِ کار کو قید سے نکلنے اور تختِ سلطنت پر قبضہ کرنے کے لئے استعمال کیا ہو۔ اس لئے اورنگ زیب نے اپنے ایک قابلِ اعتماد آدمی کو بھیجا کہ وہ ایک گرم لوہے کی سلاخ کو اس کے باپ کے پیروں سے گزارے اور اگر جسم میں کوئی حرکت نہ ہو تو اسی سلاخ کو سر سے حلق تک داخل کرے تاکہ اس طرح یہ کامل یقین ہو سکے کہ وہ فی الواقعی مر چکا ہے۔ اعتبار خاں کو یہ احکامات بھیجے گئے کہ وہ شاہ جہاں کو اس وقت تک دفن نہ ہونے دے جب تک کہ وہ خود بہ نفسِ نفیس وہاں نہ پہنچ جائے۔ اس نے دریا کے راستے تیزی سے سفر کیا کیونکہ یہ بات اس کے لئے بہت اہم تھی کہ اس کی یہ پریشانی دُور ہو اور اس امّید پر کہ عوام الناس میں اس کے خلاف کانا پھوسی بند ہو جائے گی اس نے اپنے بغض پر باپ کے احترام کا پردہ ڈھانپ لیا۔
آگرے پہنچ کر اورنگ زیب نے تاج محل کے مقبرے میں قیام کیا اور وہاں باپ کی لاش کا انتظار کرتا رہا۔ لاش کو محل کے دروازے سے لانے کے بجائے دیوار توڑ کر سوراخ کے ذریعے سر کی جانب سے اُسے باہر لایا گیا اس لئے کہ یہ مغلوں کا ایک توہم ہے جس کا سبب میں نہیں بتا سکتا۔ بیگم صاحب نے دو ہزار اشرفیاں بھیجیں کہ انہیں غربا میں تقسیم کر دیا جائے مگر محافظوں نے یہ رقم روک لی کہ قیدی کو کچھ دینے کا اختیار نہیں ہوتا۔ جب لاش مقبرے پر لائی گئی تو اورنگ زیب نے نماز پڑھی اور بہت زیادہ عقیدت کا اظہار کیا وہ اپنی آنکھوں کو بار بار ملتا تھا گویا وہ سچ مچ رو رہا ہو۔ اس طرح 1665ء میں (صحیح تاریخ 1666ء ہے) اس نے گوہرِ مقصود پا لیا۔ اس لئے کہ اب وہ باپ دفن ہو چکا تھا جس کی موت کی خواہش وہ ایک مدّت سے کر رہا تھا اور جس کی زندگی کو ختم کرنے کے لئے اس نے اتنی زیادہ تدابیر کی تھیں۔
تجہیز و تکفین کے بعد اورنگ زیب قلعے میں گیا جہاں بیگم صاحب اس سے ملنے آئیں۔
آداب و سلام کے بعد انھوں نے اورنگ زیب کو معافی کی وہ تحریر پیش کی جو بقول اُن کے انہوں نے اپنے والد شاہ جہاں سے حاصل کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ بیش قیمت قدیم جواہرات بھی دیئے جو شاہ جہاں کے قبضے میں تھے۔ یہی وہ خدمت تھی جو وہ اپنے بھائی کے لئے سرانجام دے سکتی تھیں اور پچھلے کچھ دنوں سے وہ اس کے لئے بلا کسی غرض کے اپنی جان کھپا رہی تھیں۔ اورنگ زیب نے اطمینان کا اظہار کیا گو اس شبہ کے لئے کہ وہ تحریر جعلی ہے اس کے پاس کافی جواز موجود تھا۔ تاہم عوام میں سرخروئی حاصل کرنے کے لئے اتنا کافی تھا۔ اس نے ان خادماؤں اور خواتین کو جو شاہ جہاں کی بیویاں نہیں تھیں اس بات کی عام اجازت دی کہ وہ جس سے چاہیں شادی کر لیں۔ بیگم صاحب کو وہ اپنے ساتھ دِلّی لے گیا اور ان کو بادشاہ بیگم کا خطاب دیا۔ اس نے انہیں ان ہی کے محل میں رہنے کی اجازت دے دی۔ یہ وہ رعایت تھی جو وہ روشن آرا بیگم کے ساتھ برتنے کو تیار نہ تھا۔ شاہ جہاں کی بیگمات کو محل میں شاہی بیواؤں کے ساتھ گوشہ نشین کر دیا گیا۔
شاہ جہاں کی تجہیز و تکفین کے بعد اورنگ زیب نے شاہ عباس کے پاس اپنا سفیر روانہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سفارت کا اصل سبب ظاہر نہ کیا گیا لیکن عام خیال یہ تھا کہ اس کا مقصد شاہِ ایران سے امن و دوستی قائم کرنا تھا۔ اُسے یہ خدشہ تھا کہ کہیں یہ بادشاہ اس سے جنگ نہ شروع کر دے جو اس نے شاہ جہاں کے ساتھ کی تھی۔ اس کی داخلی حکمت عملی یہ تھی کہ وہ بیجاپور اور گولکنڈہ پر قبضہ کر لے، چین پر حملہ کر کے قسمت آزمائی کرے، اراکان اور پیگو کی سلطنتوں کو فتح کرے جو اس کی مہم جوئی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔
جس سفیر کا اس نے انتخاب کیا اس کا نام تربیت خاں تھا۔ یہ ایک قد آور ازبک سردار تھا۔ اس کی داڑھی بہت بڑی تھی اور علم فضل کے باعث اعلیٰ فہم و فراست کا مالک تھا۔ تحفے میں اورنگزیب نے بیش قیمت اور مزیّن ہندوستانی کپڑوں کے تھان اور بہت سے ہاتھی روانہ کئے۔ سفیر کے ساتھ معمول کے مطابق مختلف عہدیدار بھی بھیجے گئے۔
اصفہان میں سفیر کا باقاعدہ استقبال کیا گیا۔ لیکن شاہ عباس کے حضور اس کی مناسب عزت افزائی نہیں ہوئی۔ جب اسے بادشاہ کے حضور پیش ہونے کی اجازت دی گئی تو بادشاہ کو یہ یاد آیا کہ اورنگ زیب نے اس کے سفیر کے ساتھ کیا کیا تھا۔ لہذا اب اس نے اس کا دہرا بدلہ لیا۔ اوّل تو یہ کہ اس نے سفیر کو اس وقت طلب کیا جب وہ دربار سے نکل کر گھوڑے پر سوار سیر کرنے جا رہا تھا۔ اس طرح بیچارے تربیت خاں کو کچھ فاصلہ تک بادشاہ کے ساتھ ساتھ چلنا پڑا۔ تب اسے حکم ملا کہ وہ اب جائے اور کچھ دیر آرام کرے اور اسے پھر طلب کیا جائے گا۔ یہ پہلا کڑوا گھونٹ تھا جو سفیر کو پینا پڑا۔ اُسے وہاں ایک سال رہنا پڑا تب جا کر کہیں اسے رخصت ملی۔
