اپنی ہر آرزو کی تکمیل، باپ کی قید اور بھائیوں کی موت کے بعد اورنگ زیب نے 15 جون 1656ء کو نو دن جشن منانے کا حکم صادر کیا، جس کے دوران امرائے سلطنت نے اسے مبارک بادیاں دیں اور بیش قیمت نذرانے پیش کئے۔ اس نے مرچ سے نذر اتارنے کی رسم جو شہزادگی کے ایام میں دکن میں شروع کی تھی، جاری رکھی۔ یہ رسم اس طرح ادا کی جاتی تھی کہ ایک مشت مرچ پر وہ کچھ دعائیں پڑھتا اور انہیں انگاروں پر ڈال دیتا، یہاں تک کہ کچھ دیر اس میں سے دھواں نکلتا رہتا۔ بعد ازاں اس آگ اور دھواں دیتی ہوئی مرچوں کو باہر کسی ٹیلے پر پھینک دیا جاتا جہاں ساری مرچیں جل جاتی تھیں۔
اسے یہ علم تھا کہ لوگ اس کی ناجائز تخت نشینی خفا تھے، لہذا جشن کے خاتمے پر اس نے سلطنت کے نظم و نسق کی جانب توجہ دی تاکہ وہ یہ جتا سکے کہ اس کا مقصد محض ملک گیری نہیں ہے بلکہ وہ ہندوستان کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا چاہتا ہے، جسے شاہ جہاں کی لاپروائی اور دارا کی ناسمجھی نے تباہی و بربادی کے قریب پہنچا دیا تھا۔ پس اس نے سب سے پہلے ان امیروں کو انعام و اکرام سے نوازا جنہوں نے اس کا ساتھ دیا تھا۔ جے سنگھ کے صوبے کی توثیق کی گئی۔ دیگر امرا کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا۔ ہر امیر کو خلعت ملی، اور سب سے برگزیدہ امیر کو نہایت خوبصورت قبضہ والا جڑاؤ خنجر، ایک ہاتھی، اور ایک گھوڑا ملا۔ اسے یہ خوب معلوم تھا کہ بادشاہ کے لئے کشادہ دلی اور سخاوت لازمی اوصاف ہیں لیکن اگر ان کے ساتھ عدل اور قوت نہ ہو تو وہ بیکار ہیں بلکہ کوئی بدمعاش آدمی انہیں مزید برائیوں کے لئے استعمال کرتا ہے جیسا کہ اس بیت میں ہے:
|
نیکوں کو ہے گنہ سے نفر، خواہشِ جزا |
نافر ہیں بد گنہ سے کہ ہیں خائف از سزا |
پس جشن کے بعد اس نے یہ حکم صادر کیا کہ پانچ سو چوروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے تاکہ بدمعاشوں کو عبرت ہو۔ یہ سزا انہیں اس مسجد کے سامنے دی جانے والی تھی جو ’’قدمِ رسول‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اس مسجد میں ایک پتھر پر دو پیروں کے نشانات کندہ ہیں جنہیں مسلمان بہت محترم خیال کرتے ہیں۔ اس نے محض شہرِ دہلی کے انتظامات درست کرنے پر اکتفا نہ کیا جو اس کا پایۂ تخت تھا بلکہ تخت کے ناجائز حصول پر پردہ ڈالنے کے لئے مختلف صوبوں میں قدیم اہلکاروں کی جگہ نئے صوبہ داروں اور نائبین کا تقرر بھی کیا۔ ان نئے حاکموں کو اس نے بہتر احکامات دیئے مگر اس کے ساتھ اس نے ایسے احکامات بھی دیئے جو اس کی فریب کاریوں اور سازشوں کے مقاصد پورے کرتے تھے۔ ان ہی میں ایک حکم یہ بھی تھا کہ وہ چھوٹے عہد نامے کر کے ملک کے لوگوں کو اپنی جانب کریں اور پڑوسی مملکتوں میں بغاوت کرائیں۔ اگر ان کی کوششیں بار آور ہو جائیں تو وہ دس فقیروں کو کھانا کھلاویں۔ اس طرح ان کے جھوٹے عہد و پیمان اور گناہ کا کفارہ ادا ہو جائے گا خواہ انھوں نے قرآن کو درمیان میں لا کر ہزار عہد کیوں نہ کئے ہوں۔
اورنگ زیب نے یہ محسوس کیا کہ دیگر بدنظمیوں میں ایک بدنظمی ہندوستان میں، بالخصوص شہر دہلی میں یہ تھی کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کو شراب نوشی کی کھلی آزادی تھی۔ چونکہ وہ خود قرآن کا سخت پابند تھا اس لئے شراب سے سخت نفرت کرتا تھا۔ یہ آزادی جہانگیر کے زمانے میں حاصل ہوئی، گو اکبر نے سب سے پہلے عیسائیوں کو یہ اجازت دی کہ وہ شراب کشید کریں اور اُسے استعمال کریں لیکن اس کے زمانے میں مسلمانوں میں شراب نوشی کی رسم نہ تھی۔ جہانگیر کی بری مثال کے سبب یہ لعنت مسلمانوں میں بھی عام ہو گئی۔ شاہ جہاں کے زمانے میں مسلمان شراب اتنی آزادی سے پیتے تھے جیسے پانی۔ دارا کی مثال سے انہیں اور تقویت ملی۔ شاہ جہاں نے بھی جو خود شراب نہیں پیتا تھا اس بدنظمی کو دور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس نے ہر ایک کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا تھا اور عورتوں کے درمیان زندگی گذار کر خوش رہتا تھا۔
اورنگ زیب کی تخت نشینی کے وقت شراب نوشی اتنی عام تھی کہ ایک دن اس نےمشتعل ہو کر یہ کہا کہ سارے ہندوستان میں محض دو اشخاص ایسے ملیں گے جو شراب نہیں پیتے، ایک تو وہ خود اور دوسرے قاضی القضاۃ عبد الوہاب۔ لیکن عبد الوہاب کی بابت اسے غلط فہمی تھی اس لئے کہ میں خود انہیں شراب کی ایک بوتل روزانہ بھیجتا تھا جسے وہ اتنا چھپ کر پیتے تھے کہ بادشاہ کو اس کا علم نہ ہو سکا۔ اورنگ زیب نے اس بدنظمی کو ختم کرنے کے لئے یہ احکامات نافذ کئے کہ طبیبوں اور جراحوں کے علاوہ سارے عیسائی شہر چھوڑ کر توپ خانے کے پاس جا بسیں جو نواحی علاقوں سے دور شہر سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر تھا۔ وہاں انہیں اس بات کی اجازت تھی کہ وہ شراب کشید کریں اور پئیں بشرطیکہ اسے فروخت نہ کریں۔
ان احکامات کے بعد اس نے کوتوال کو یہ حکم دیا کہ وہ ان ہندوؤں اور مسلمانوں کا سراغ لگائے جو شراب فروخت کرتے ہوں اور اس کی سزا میں ان کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹ دیا جائے۔ کوتوال نے فوری طور پر تفتیش شروع کر دی حالانکہ وہ خود بھی شراب پیتا تھا۔
ایک دن میں نے دیکھا کہ اس نے چھ ہندوؤں اور چھ مسلمانوں کو سزا دی۔ اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ انہیں کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا جائے جہاں بالآخر وہ مر گئے۔ یہ تعزیراتی حکم کچھ مدت تک جاری رہا۔ اس دوران ہی کوئی شخص شراب نہ فروخت کرتا تھا۔ جب کبھی کوتوال کو یہ شک ہوتا کہ کسی گھر میں شراب کشید کی جاتی ہے تو وہ سپاہیوں کو وہاں بھیجتا اور وہ لوگ سارے گھر کو تہس نہس کر دیتے تھے۔ اول اول تو یہ قانون سختی سے نافذ کیا گیا مگر آہستہ آہستہ اس کی سخت گیری میں کمی آتی گئی۔ قانون کی سخت پابندی کے زمانے میں بھی وہ امرا جو شراب کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے اپنے گھروں میں کشید کرتے تھے۔ ایسے بہت کم امیر تھے جو خفیہ طور پر اسے پیتے ہوں۔
میں نے ابھی کہا ہے کہ عیسائیوں کو اپنے استعمال کے لئے شراب کشید کرنے کی اجازت تھی مگر فروخت کرنا ممنوع تھا۔ اس لئے ان پر پہریدار مقرر کئے گئے تاکہ وہ ان پر نگاہ رکھیں کہ وہ شراب نہ فروخت کرنے پائیں۔ اس کے باوجود چونکہ اس میں منافع بہت تھا اس لئے وہ باز نہ آتے تھے اور ہزار بہانوں سے خفیہ طور پر فروخت کرتے تھے۔ گو جب کوتوال کو خبر ہوتی تو وہ آدمیوں کو بھیج کر گھر لٹوا لیتا۔ مجرم کے گلے میں آلۂ مے کشی ڈال دیا جاتا اور زنجیروں میں جکڑ کر برسر عام تھپڑ مارتے ہوئے اُسے کوتوال کے گھر لے جایا جاتا۔ یہاں تک پہنچتے پہنچتے وہ ادھ موا ہو چکا ہوتا، پھر اُسے بندی خانے میں قید کر دیا جاتا۔ کئی ماہ بند، جرمانے اور زد و کوب کی سزا کے بعد اس کی رہائی ممکن ہوتی۔
لیکن عیسائیوں کی بے شرمی اور گستاخی اس حد تک تھی کہ وہ باز نہ آتے۔ یہ لوگ مختلف اقوام سے تعلق رکھتے تھے اور بیشتر چور اور مجرم تھے۔ میں یہ بات ایمانداری سے کہہ سکتا ہوں کہ مغلوں کے توپ خانے میں کام کرنے والے عیسائی محض برائے نام عیسائی رہ گئے تھے۔ ان میں عیسائیت کی رمق تک نہ تھی۔ وہ مسلمانوں اور ہندوؤں سے بدتر تھے۔ خوفِ خدا ان میں مطلق نہ تھا۔ دس دس بارہ بارہ بیویاں رکھتے تھے۔ ہر وقت نشے میں رہتے تھے۔ جوا کھیلنے کے علاوہ کچھ نہ کرتے اور ہر کس و ناکس کو دھوکا دینے کی فکر میں رہتے تھے۔ ان وجوہات کے سبب مغلوں کے ملک میں عیسائیوں کی اب وہ وقعت نہیں جو پہلے تھی۔ اکثر تھوڑی سی تنخواہ کے لالچ میں اپنے عقائد ترک کر کے مسلمان ہو جاتے ہیں گویا یہ بات بخشش کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی کہ آدمی عیسائی ہے۔
