جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تاریخ دیار حبیب کا ایک ورق — داستانِ شمع و پروانہ

نہ بچی شمع ہی نہ پروانہ

آتش عشق نے جلا ڈالا

اے ساکنان عالم آب و گل!

کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ میری روح نعیم جنت میں آسودہ اور مطمئن ہے؟ اگر آپ کا خیال واقعی یہی ہے، تو آپ بڑے ہی سنگدل اور نہایت بے درد ہیں! آہ میری روح تو آج تک وادی کبیر کے اس ٹیلے کا طواف کر رہی ہے جس میں میرا شہید ناز ’’توبہ بن حمیر‘‘ دفن کیا گیا!

شاید آپ نے مجھے نہیں پہچانا! میرا نام لیلیٰ ہے۔ مگر میں لیلائے عامری، یعنی محبوبہ قیس نہیں ہوں، بلکہ دنیا مجھے ’’لیلائے اخیلیہ‘‘ کے نام سے جانتی ہے! میں عرب کے مشہور شہسوار عبداللہ ابن الرحال کی دختر بد اختر ہوں۔ لیکن اپنے جد امجد مغویہ اخیل کے لقب سے مشہور ہوں۔ میرے جد گھوڑوں کے بڑے شائق تھے۔ اس لیے عرب بھر میں اسی لقب سے ممیز و ممتاز رہے۔ پھر یہی لقب میں نے انہیں سے وراثت میں پایا۔ یغفرلہخدا انہیں بخشے!

میری داستان حیات ایسی بے کیف نہیں ہے کہ کوئی اہل دل سنے اور بے چین نہ ہو جائے! سنے! اور آٹھ آٹھ آنسو نہ روئے۔ آہ میں زمانے، آسمان اور قسمت کی ستائی ہوئی ہوں۔ ابنائے زمانہ نے میرے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ بلکہ مجھے وہ تا حیات ہدف بدظنی بناتے، اور میرا نازک دل، تیر ہائے ملامت سے زخمی کرتے رہے۔ اگرچہ میں نے اپنی صفائی پیش کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ مگر بے سود! یہ دنیا نا انصافیوں کی آغوش ہے!

گو مجھے نبیِ امیؐ اور اصحاب اربعہؓ کی زیارت نصیب نہیں ہوئی۔ تا ہم میں نے اسلام کا اول دور ضرور دیکھا۔ حضرت معاویہؓ اور خلیفہ عبدالملک بن مروان کا زمانہ پایا۔ حجاج بن یوسف ثقفی کو بھی دیکھا۔

میں نے عرب ایسے آزاد ملک کی آب و ہوا میں نشو و نما پائی۔ میرے والدین، میرے اعزہ و اقربا، بلکہ تمام قبیلے کے افراد میرے سر پر ہاتھوں چھاؤں کرتے تھے۔ حتیٰ کہ میں نے میدان شباب میں قدم رکھا! اس شباب میں جسے سرسبز و شاداب گلستان بتایا جاتا ہے۔ مگر آہ آہ وہ میرے حق میں تو خارستان سے بھی بدتر بن گیا۔

میں ایک روز معہ اپنی ہم سن سہیلیوں کے اپنے خیمے میں بیٹھی ہوئی تھی۔ کہ ایک ترچھا بانکا نوجوان ایک مست اونٹنی پر سوار ہمارے رو برو آ کھڑا ہوا۔ اور پھر اتر کر ہمارے پاس آ بیٹھا۔ ہم نے قومی رسم کے مطابق اس کا خیر مقدم کیا۔ مگر وہ صرف مجھی کو دیر تک گھورتا رہا۔ جس کا مطلب میں اس وقت نہیں سمجھ سکی۔ تا ہم میری آنکھیں جھک گئیں۔ جھپک گئیں۔۔۔ کچھ مدت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ غریب میری کمند زلف میں اسیر ہو گیا تھا۔ آہ! وہ گھڑی بھی کس قدر منحوس تھی! اف خدا کی پناہ!

اس مجسمہ شباب کا نام توبہ بن حمیر تھا۔ وہ نہایت فصیح و بلیغ تقریر کرتا۔ اور اس میں عمدہ عمدہ اشعار سناتا رہا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ شاعر بھی ہے! غرض یہ مختصر سی صحبت بڑے ہی لطف سے گزری۔ ہم لوازم مہمانداری بجا لائے۔ مگر اس نے بھی اپنی قیمتی اونٹنی ذبح کر کے اور اس کے گوشت سے ہماری ضیافت کر کے اپنی فیاض منشی کا ثبوت بہم پہنچایا!

توبہ! شام سے پہلے چلا گیا۔ اور ہم اسے کئی روز تک نہیں بھولے! خصوصاً مجھے تو وہ رہ رہ کر یاد آتا رہا! یہ بظاہر تو ایک معمولی بات تھی۔ کیونکہ ہمارے ملک میں ایسے واقعات آئے دن ہی پیش آتے رہا کرتے ہیں! مگر آہ آہ! آگے چل کر یہی خفیف سا واقعہ غیر معمولی حادثہ ثابت ہوا۔ جس کی توقع مجھے ذرا بھی نہیں تھی!

میری محبت توبہ کے دل میں اس حد تک گھر کر گئی تھی جسے عشق کہتے ہیں۔ اور یہ راز اس کے اشعار نے افشا کر دیا۔ کاش! وہ ضبط سے کام لیتا کہ انجام بخیر ہوتا! مگر اسے الزام کیونکر دے سکتی، جب خود اسی جرم کی مجرم ہوں۔ بہر حال توبہ ضبط نہ کر سکا۔ چنانچہ اس کے اشعار نے مجھے قبیلے قبیلے میں رسوا کر دیا۔ خود میرے قبیلے کو یہ راز بہت جلد معلوم ہو گیا۔ افسوس!

توبہ نے چند روز بعد میرے قبیلے سے، میرے ساتھ عقد کرنے کی درخواست کی۔ مگر اسے دھتکار دیا گیا۔ کیونکہ افسانہ عشق زبان زد خاص و عام ہو چکا تھا۔ اور اسی زمانے میں عرب کے اندر یہ رسم جاری و ساری تھی کہ لوگ عشق کے نام سے کانوں پر ہاتھ رکھتے۔ اور عاشق کے لفظ تک سے بیزار تھے۔ یہ ظاہر ہوا نہیں کہ امیدوار شادی، دختر مطلوبہ کا دلدادہ ہے۔ اور اسے دھکے دے کر نکال دیا گیا نہیں! اف کیسی ظالمانہ رسم!

خیر! میرے والدین نے توبہ کو صاف جواب دے دیا۔ اور مزید غضب یہ کیا۔ کہ فوراً ہی مجھے میری مرضی کے خلاف بالکل زبر دستی قبیلہ اوبع کے ایک نوجوان کے گلے منڈھ دیا۔ والدین اور مذہب نے مجھے ایک ایسے نوجوان کے ساتھ وابستہ کر دیا، جو میرے لیے بالکل اجنبی تھا۔ لیکن خدائے تعالیٰ شاہد عادل ہے کہ میں نے اپنے اس زبر دستی کے شوہر کی اطاعت گزاری، اور خوشنودی حاصل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونے دیا۔ اس کی امانت میں خیانت نہیں کی۔ لیکن میں بایں ہمہ ہدف بدظنی بنی رہی۔ کیونکہ بھلا میں بیچاری خواہ مخواہ کی بد گمانیوں کا تدارک کیا کر سکتی تھی۔

مجھے خبریں مل رہی تھیں کہ توبہ کا عشق، حد جنون تک ترقی کر رہا ہے۔ وہ شب فراق کانٹوں پر لوٹ کر سحر کرتا اور تمام دن دشت نوردی میں گزارتا تھا۔ آہ اسے واقعات نے مجبور بلکہ مایوس کر دیا تھا۔ آہ وہ آتش رشک رقابت میں جل رہا تھا۔

کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ عورت بھی مثل مرد، سنگدل ہوتی ہے۔ یعنی ایسے واقعات اس کے دل پر اثر نہیں کرتے؟ نہیں نہیں یہ بیجا لغو الزام ہے۔

میں توبہ کے لیے دل ہی دل میں کڑھتی تھی۔ مگر مجبور تھی۔ جب توبہ میں یارائے ضبط نہیں رہا، تو وہ مجھے دیکھنے آیا۔ اور میں نے بھی اس میں مضائقہ نہیں سمجھا کہ وہ کبھی کبھی آ کر مجھے دیکھ جایا کرے۔ کیونکہ اس میں نہ میرا کچھ خرچ ہوتا تھا، نہ کچھ حرج تھا۔ مگر اس غریب کے دل کو یک گونہ تسکین ہو جاتی تھی۔ میں اسے کار ثواب سمجھتی تھی۔ مگر یہ بات بھی سچ ہے۔ کہ میرا دل بھی آتش الفت سے محفوظ تھا۔ دل را بدل راہے استدل کو دل تک راہ ہوتی ہے، کا اصول عالمگیر ہے۔ مگر یہ ایک مقدس جذبہ تھا۔ جسے معصیت سے تعلق نہیں تھا۔ حاشا و کلا!

لیکن چرخ کج رفتار کو (جو روز ازل ہی سے دشمن عشاق ہے) اتنا بھی گوارا نہیں ہوا۔ چنانچہ میرے قبیلے میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ کھچڑی پکنے لگی۔ باہم مشورہ ہونے لگا۔ میرے والدین آئیں تو جائیں کہاں؟ بگڑے اور بری طرح بگڑے! خوب چشم نمائی۔ اور بے انتہا زجر و توبیخ کی۔ لیکن عشق کے لیے یہ سب کچھ بیکار تھا۔ چنانچہ توبہ بایں ہمہ ہمارے خیموں کی طرف آتا رہا۔ اور ہم دونوں اب بھی گاہے گاہے ملتے رہے! مگر آہ انجام بخیر نہیں ہوا۔ بلکہ توبہ کے حق میں مہلک نتیجہ نکلا۔ چنانچہ میرے والد خلیفہ وقت امیر معاویہ کے دربار میں فریادی ہوئے۔ اور خلیفہ نے تمام واقعات معلوم کر کے یہ احکام نافذ کیے۔ کہ

’’توبہ، آیندہ کبھی اخیل کے خیموں کی طرف جانے کا قصد نہ کرے۔ اور اگر وہ ہمارے اس حکم کی خلاف ورزی کرے، تو پھر اخیل کو اس کا خون مباح ہو گا!‘‘

اف ابنائے زمانہ کس قدر ظالم ہیں! کیا توبہ اپنے اختیار میں تھا؟ کوئی اس کے ہوش و حواس بجا تھے؟ وہ بیچارا تو بلا مبالغہ مجنون بن گیا تھا مجنون! وہ تو مرفوع القلم یعنی معذور تھا! پھر اس پر سیاست کیسی! آہ میرے قبیلے نے انسانیت اور اخلاق کے تمام اصول نظر انداز کر دیئے، بالائے طاق رکھ دیئے۔ خیر ان کو تو خیالی حمیت اور فرضی یعنی جھوٹی غیرت نے چراغ پا بنا دیا تھا۔ مگر خدا جانے حکومت کو کیا ہو گیا تھا کہ اس نے بھی آنکھیں بند کر کے توبہ کو کشتنی اور گردن زدنی قرار دیا۔

آپ یقین کیجئے کہ میں توبہ کے متعلق یہ خبریں سن کر سن ہی تو ہو گئی۔ گویا میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ میں نے عالم خیال میں دیکھا کہ میرے دیوانے توبہ کی جان، منصور کی مانند سولی پر ہے۔ آہ، میں یہ دیکھ کر کانپ اٹھی۔ میرا دل گویا سیماب ہو گیا۔ پھر بحر غم میں ڈوب گیا۔ میرے چہرے پر سرسوں پھول گئی۔ حالانکہ میرے والدین بلکہ تمام قبیلہ بغلیں بجا رہا۔ اور عید کی سی خوشیاں منا رہا تھا۔ کیونکہ ان کی دلی مراد بر آئی تھی۔