جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

فصیح الملک داغ دہلوی

نواب مرزا خاں داغ اُن مقدس اور قابل پرستش نفوس کی آخری یادگار تھے جو اپنے کمال کے زور سے دلی کے اُفق سے طلوع ہو کر آسمانِ سخن پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے اور خاکدانِ ہند کو اپنی نورانی فکر کی شعاعوں سے منور کیا۔ پروفیسر آزاد مرحوم کے صفحاتِ آب حیات میں بہارستانِ اردو کی جو نشاط انگیز تصویر دکھائی ہے وہ پانچویں دور پر آ کر ختم ہو گئی ہے لیکن اگر زمانہ مساعدت کرتا اور وہ اپنے تذکرے کی تکمیل پر قادر ہوتے تو یہ ایک یقینی امر ہے کہ اس دورِ آخر کے شعرا میں داغ کا ذکر نہایت جلی الفاظ میں کیا جاتا اور شہ نشین شاعری پر جو جگہ ذوق نے خالی کی تھی بلاشبہ داغ کے حصے میں آتی۔

اردو شاعری کی کوئی مبسوط تاریخ موجود نہیں لیکن جو کچھ بھی معلومات مولانا آزاد کے رشحاتِ قلم کی صورت میں ہم کو پہنچی ہے اُس پر سرسری غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سلف سے لے کر خلف تک کتنی نوع کے شعر گو ہمارے یہاں پیدا ہو چکے ہیں لیکن مجموعی طور پر داغ کا سا جامع خصوصیات شاعر آج تک اردو میں نہیں گذرا۔ یہ خصوصیات کچھ تو ان کے کلام اور کمال سے متعلق ہیں اور کچھ ان کی ذات سے، اور ان سبھوں نے مل کر ان کی شخصیت کو یقیناً ایک قابل رشک چیز بنا دیا تھا۔


حضرت داغ 25 مئی 1831ء (مطابق 12 ذی الحجہ 1246ھ25 مئی 1831ء) کو مقام دہلی میں پیدا ہوئے۔ اس زمانہ میں شعر و شاعری کا جو چرچا وہاں تھا اس کے دلچسپ تذکروں سے باخبر اصحاب ناواقف نہ ہوں گے۔ بادشاہ و ولیعہد دونوں شعر گوئی کے دلدادہ تھے اور حکمرانوں کے اس شوق نے امرا اور متوسطین کے طبقے میں بھی شاعری کی روح پھونک دی تھی۔ داغ بھی سن تمیز کو پہنچتے ہی اسی دیوی کے پرستاروں میں شریک ہو گئے لیکن خون لگا کر شہیدوں میں نہیں ملے۔ مبدء فیاض سے انھیں وجدانِ سلیم کا دانی حصہ ملا تھا اور فطرت نے انھیں ذہین، نکتہ رس، اور طبّاع بنانے میں بخل سے مطلق کام نہ لیا تھا۔ ممکن نہیں کہ انسان جس آب و ہوا میں پلے اس سے دل و دماغ متاثر ہوئے بغیر رہیں؛ خصوصاً اس صورت میں کہ جذبِ تاثیر کی قوت بھی درمیان میں کام کرتی ہو۔ اس زمانہ میں قلعۂ معلیٰ میں شاہی اہتمام سے مشاعرے ہوا کرتے تھے۔ مخصوص اشخاص کو شرکت کی اجازت ملتی تھی۔ بادشاہ خود تشریف لاتے تھے۔ اساتذۂ وقت کے علاوہ دوسرے مشہور شعراء کو بھی باریابی کا موقع ملتا تھا۔ جب کسی امیر و رئیس کے صاحبزادے بہ حیثیت شاعر اس جلسے میں آتے تو سب سے پہلے بادشاہ سلامت کے سامنے پیش ہوتے اور پھر وہ اپنا کلام سناتے۔ اسی حیثیت اور اسی صورت سے ہم داغ کو بھی بہ عالم نوعمری بادشاہ کے سامنے یہ غزل سناتے دیکھتے ہیں۔

نکال اب تیر سینے سے کہ جان پر الم نکلے

جو یہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے

خدایا! حشر کے دن التجا تیری نہ مانوں میں

میرے منہ سے نہیں نکلے تیرے منہ سے قسم نکلے

میرے دل سے کوئی پوچھے شبِ فرقت کی بیتابی

یہی فریاد تھی لب پر کہ یا رب جلد دم نکلے

ہوئے مغرور وہ جب آہ میری بے اثر دیکھی

کسی کا اس طرح یا رب نہ دنیا میں بھرم نکلے

مبارک ہو یہ گھر غیروں کو، تم کو، پاسبانوں کو

ہمارا کیا اجارہ ہے، نکالا تم نے، ہم نکلے

سمجھ کر رحم دل تم کو دیا تھا ہم نے دل اپنا

مگر تم تو بلا نکلے، غضب نکلے، ستم نکلے

دمِ پرسش جو دیکھا اس بتِ سفاک کو مضطر

صفِ محشر سے دل پکڑے ہوئے گھبرا کے ہم نکلے

کہیں کیا دل میں کیا آیا، کہیں کیا منہ سے کیا نکلا

کبھی جو چلتے پھرتے ہم سوئے بیت الصنم نکلے

گئے ہیں رنج و غم اے داغ بعدِ مرگ ساتھ اپنے

اگر نکلے تو یہ اپنے رفیقانِ عدم نکلے

یہ غزل بادشاہ سلامت کے طرحی مصرعہ پر کہی گئی تھی۔ کسی شاعر کی ابتدائی کوششیں اس سے زیادہ بارآور نہیں ہو سکتیں کہ سامعین سے قبولیت اور پسندیدگی کا سرٹیفکیٹ لے لیں۔ داغ کا ایک ایک شعر اہلِ مجلس کو لطف بخش رہا تھا اور جب غزل تمام ہوئی تو بادشاہ بے ساختہ کہہ اٹھے کہ ’’کیا اچھی طبیعت پائی ہے‘‘۔

لیکن یہ پہلا ہی موقع نہ تھا کہ داغ مشاعرے میں آئے ہوں۔ شاہی مجلسِ شعر و سخن کے علاوہ دہلی میں اس وقت عام طور پر مشاعرے ہوا کرتے تھے۔ اور ان میں داغ اس سے کچھ پیشتر اپنی نازک خیالی کا ثبوت خاص و عام کے سامنے پیش کر چکے تھے۔ شاہی مشاعرے میں انھیں جو کامیابی ہوئی اس نے ان کے طائرِ شہرت کے پر لگا دیئے اور اس کے بعد پھر کوئی مشاعرہ ایسا نہ ہوتا تھا جس میں مشتاقانِ فن کی نگاہ داغ پر خصوصیت سے نہ پڑتی ہو۔

تھوڑے ہی دن میں داغ کے کلام نے قبولیت کے وہ تمام مدارج طے کر لئے جو اکثر حالتوں میں معمولی شعراء کے لئے بہت دشوار بلکہ ناممکن ہوتے ہیں۔ قاعدے کی بات ہے کہ استاد کی زندگی تک شاگرد کی نام آوری کا حلقہ بہت محدود رہتا ہے۔ اس کلیہ کا استثناء کچھ تو داغ کے استاد ذوق کے حالات میں پایا جاتا ہے جنھوں نے شاہ نصیر کی موجودگی ہی میں غیر معمولی ہر دلعزیزی پیدا کر لی تھی اور کچھ داغ کی سر گذشت میں انھوں نے اپنے استاد کے سامنے اپنا نام چمکا لیا۔ ذوق کی کامیابی کا راز شاہی سرپرستی میں چھپا ہوا ہے لیکن داغ محض اپنے کلام کے زور سے مشہور ہوئے۔ غرض داغ کا ابتدائی رنگ اس قدر شوخ تھا کہ ہر کس و ناکس کی نگاہ اس پر پڑتی تھی اور اس کے ساتھ تاثیرِ کلام نے مل کر سونے میں سہاگے کا کام کیا کہ جن مشاعروں میں غالب، ذوق، شیفتہ، اور نیر وغیرہ، معرکہ آرائیاں کرتے تھے وہاں داغ بھی اپنے کمال کے زور سے خراجِ تحسین حاصل کرنے میں کبھی ناکام نہیں رہے۔

داغ شیخ ابراہیم ذوق کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ یقیناً ذوق کو ایسے سرمایۂ ناز شاگرد کے وجود پر فخر رہا ہو گا لیکن ان دونوں کی پرائیویٹ زندگی اور ذاتی روابط کے وہ نقش و نگار معدوم ہیں جو غالب کے ’’اردوئے معلیٰ‘‘ میں کھینچے گئے ہیں اور جن سے استاد اور شاگرد کے ارتباط و خلوص کی صحیح اور سچی کیفیت پیش نظر ہو جاتی ہے۔ مولانا آزاد نے ذوق مرحوم کے حالات میں ان کی زندگی کے ہر پہلو پر ضرورت سے زیادہ روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن ان کے شاگردوں کا معمولی سا تذکرہ بھی نہیں کیا گیا ورنہ اس سے بہت سے ادبی فوائد مترتب ہو سکتے تھے۔ بہر کیف ذوق کے شاگرد ہونے کا فخر خواہ داغ کے لئے ذاتی طور پر مایۂ نازش رہا ہو، لیکن ان کی عظمت و شہرت کی کفالت ان تعلقات سے نہیں بلکہ ان کے کلام سے ہے۔ استاد کے فیضانِ صحبت سے داغ متمتع ہوئے ہوں گے۔ لیکن داغ کی ناموری اور اقبالمندی ان کی ذہنی اور دماغی قابلیتیں تھیں، اور اس لیے ہر دلعزیزی اور قبولیتِ عامہ کا تمام کریڈٹ خود ان کی ذات کو ملنا چاہئے۔ مولانا حالی فرماتے ہیں اور کس قدر صحیح فرماتے ہیں کہ

ہمارے ملک میں جو شاعری کے لئے ایک استاد قرار دینے کا دستور اور اصلاح کے لئے ہمیشہ اس کو اپنا کلام دکھانے کا قاعدہ قدیم سے چلا آتا ہے اس سے شاگردوں کے حق میں کوئی معتد بہ فائدہ مترتب ہونے کی امید نہیں ہے۔ استاد شاگرد کے کلام میں اس سے زیادہ اور کیا کر سکتا ہے کہ کوئی گریمر کی غلطی بتا دے یا کسی عروضی پالغز‌لغزش، ٹھوکر کی اصلاح کر دے لیکن اس سے نفسِ شعر میں کچھ ترقی نہیں ہو سکتی۔ رہی یہ بات کہ استاد شاگرد کے پست کلام کو بلند کر دے یا شاگرد کو اپنا ہمسر بنا دے، سو یہ امر خود استاد کی طاقت اور اختیار سے باہر ہے۔ اگر استادوں میں شاگردوں کو اپنا ہمسر بنانے کی طاقت ہوتی تو ملا نظامی صاحبزادے کو یہ نصیحت نہ کرتے۔

در شعر مجو بلند نامی

کایں ختم شدہ است بر نظامی

ترجمہ شاعری میں بلند نامی کی تلاش نہ کر، کیونکہ یہ نظامی پر ختم ہو چکی ہے۔

اور اگر کمالِ شاعری کے لیے کسی کا تلمذ اختیار کرنا ضروری ہوتا تو سنائی، نظامی، سعدی، خسرو، اور حافظ کے ضرور ایسے استاد نکلتے جن کی شہرت شاگردوں سے زیادہ نہیں تو ان کے برابر یا ان سے کمتر تو ہوتی۔