اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

فصیح الملک داغ دہلوی

داغ کی موت معمولی موت نہ تھی بلکہ ان کے مرنے سے ملک کا ایک باکمال شخص اٹھ گیا تھا اور بزمِ سخن سے ایک ایسی جگہ خالی ہو گئی تھی جس کے پر ہونے کی اب صدیوں امید نہیں ہو سکتی۔ پبلک نے اس نقصان کو غایت درجہ محسوس کیا۔ شعراء نے مرثیے لکھے اور تاریخیں نکالیں۔ اخبارات نے تعزیتی مضامین لکھے اور انجمنوں اور سوسائٹیوں نے ان کے ماتم میں یادگاری جلسے منعقد کیے۔ ڈاکٹر اقبال جنھیں ابتدا میں داغ سے تلمذ بھی تھا ان کا مادۂ تاریخ ’’نواب مرزا داغ‘‘ معنوی خوبیوں، اختصار، اور برجستگی کے لحاظ سے سب میں ممتاز سمجھا گیا تھا۔ ان کی ماتمی نظم بھی سوز و گداز کا ایک موثر مرقع ہے۔ جن دردناک الفاظ میں داغ کے تاسف خیز واقعۂ مرگ کا بیان کیا گیا ہے ان کی کیفیت ان منتخب اشعار سے ظاہر ہو سکتی ہے:

چل بسا داغ آہ میت اس کی زیبِ دوش ہے

آخری شاعر جہان آباد کا خاموش ہے

تھی زبانِ داغ پر جو آرزو ہر دل میں ہے

یعنی وہ لیلیٰ وہاں بے پردہ یاں محمل میں ہے

کم نہیں محشر سے کچھ ایسی صدا کی خامشی

آہ! دل سوزی تو تھی گو نکتہ آموزی نہ تھی

لکھی جائیں گی کتابِ دل کی تفسیریں بہت

ہوں گی اے خوابِ جوانی تیری تعبیریں بہت

ہو بہ ہو کھینچے گا لیکن عشق کی تصویر کون

اٹھ گیا ناوک فگن مارے گا دل پہ تیر کون

اشک کے دانے زمینِ شعر میں بوتا ہوں میں

تو بھی رو اے خاکِ دلی داغ کو روتا ہوں میں

وہ گلِ رنگیں ترا رخصت مثالِ بو ہوا

یعنی خالی داغ سے کاشانۂ اردو ہوا

ہز ایکسلنسی3 مہاراجہ سر کشن پرشاد نے جو حضرت آصف غفران مکان کے تلمیذِ رشید ہونے کی حیثیت سے داغ ہی کے شجرۂ شاعری کی ایک سرسبز اور پربہار شاخ ہیں کس قدر سچی تاریخِ انتقال نکالی ہے:

دہلی کا چراغ بجھ گیا آہ

اس میں شک نہیں کہ ایشیائی شاعری کی آخری رونق ہندوستان میں داغ کے دم سے تھی، اور جہاں تک ان کے مرنے سے نہ صرف دنیائے اردو کا ایک سرمایۂ ناز شاعر اٹھ گیا بلکہ اسی کے ساتھ دلی کے امتیاز و وقعت کی روایات بھی ہمیشہ کے لیے زمین کے نیچے دب گئیں۔

داغ حضرت ذوق کے تلمیذِ رشید تھے لیکن دنیاوی جاہ و منزلت اور ذاتی شہرت کے اعتبار سے وہ کسی کے شرمندۂ احسان نہ تھے۔ ان کے تمام اعزاز و مناصب ان کی اکتسابی چیزیں تھیں۔ ان کے کمال نے انھیں اس درجہ پر پہنچایا اور ان کے کلام نے انھیں قبولیتِ عامہ کی سند دلوائی۔ کسی شاعر کے کلام کا اس کے عینِ حیات میں شہرت پذیر ہو جانا شاعر کے خاص فخر و مباہات کا سبب ہوتا ہے اور اس امر میں داغ سب سے زیادہ خوش نصیب ثابت ہوئے ہیں۔ ان کی زندگی ہی میں ان کی غزلیں تمام ہندوستان میں پڑھی اور گائی جاتی تھیں۔ اس وقت بھی کوئی مجلسِ نشاط داغ کے گرما گرم کلام کے بغیر رونق نہیں حاصل کر سکتی۔ سودا، میر، جرات، اور ان کے علاوہ اور بھی اکثر شعراء کا کلام ان کی زندگی میں مشہور ہو گیا تھا، بلکہ میر کی غزلیں تو لکھنؤ سے بطور تحفہ کے دلی جایا کرتی تھیں لیکن داغ کا شہرہ سب سے زیادہ وسیع اور پائدار ہوا ہے۔ اس زمانہ کے دو چار شاعروں کا کلام ایک حد تک مطبوعِ خلائق ضرور ہے مثلاً ریاض اور مضطر جو علی الترتیب شوخ بیانی اور معاملہ بندی میں خاص ملکہ رکھتے ہیں لیکن ان کی شہرت صرف چند غزلیات تک محدود ہے۔ امیر مینائی مرحوم کا بھی یہی حال ہے۔ آج کل ان کی چند غزلیں کبھی کبھی حقانی رنگ میں سننے میں آ جاتی ہیں ورنہ ان کی زندگی میں تو شاید ان کا ایک شعر بھی ایسا نہ تھا جو خاص و عام کی زبان پر ہوتا۔ ان الفاظ سے ان کی کسرِ شان مقصود نہیں بلکہ اظہارِ حقیقت مقصود ہے۔ شہرت اور ہر دل عزیزی خدا داد باتیں ہیں اس میں انسان کی کوشش کو مطلق دخل نہیں۔

داغ کی غزلیں جس سرعت کے ساتھ خاص و عام تک پہنچ جاتی تھیں ان کا اندازہ ان سطور سے ہو سکتا ہے۔ مولوی علی حیدر صاحب طباطبائی مالک الدولہ صولت والے مضمون میں جو بہ اقساط رسالہ ’’ادیب‘‘ میں نکل چکا ہے فرماتے ہیں: ایک غزل انھوں نے (داغ نے) اپنی سنائی کہ تازہ فکر ہے۔

پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے

اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے

ساری غزل مرصع اور نہایت برجستہ تھی مگر اس شہرتِ عام کو دیکھیے کہ وہاں سے میں اٹھا تو راہ میں وہی غزل گائی جا رہی تھی۔

اس شہرتِ عام اور مقبولیت کے اسباب جو کچھ رہے ہوں لیکن اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ داغ کا کلام خواص اور عوام دونوں کے مذاق کے مطابق ہے اور اس پر زبان کی صفائی اور خیالات کا نیچرل اور موثر ہونا گویا سونے میں سہاگہ تھا کہ سامع کو روحانی سرور حاصل ہوتا اور اس کے دل و دماغ ایک خاص کیفیت سے متاثر ہو جاتے تھے۔ بعض خوش فہموں کی رائے ہے کہ داغ نے ’’چوما چاٹی‘‘ کے مضامین نظم کر کے عوام کے قلوب کو مسخر کر لیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ اعتراض بہت بڑی حد تک صحیح ہے۔ اور جہاں تک طبقۂ عوام کا تعلق ہے داغ کی مقبولیت بہت کچھ اسی سبب سے ہے لیکن آخر خواص ان کے کلام کے کیوں دلدادہ ہیں؟

اس مبحث پر پہنچ کر کسی قدر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت معلوم ہوتی ہے لیکن ہم اپنا عندیہ ظاہر کرنے میں اختصار کو ہاتھ سے جانے نہ دیں گے۔