اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

فصیح الملک داغ دہلوی

مصطفےٰ آباد یا رامپور میں جو بزمِ سخن نواب کلب علی خاں کی علم دوستی کی بدولت برپا ہوئی تھی وہ ان کی زندگی تک قائم رہی اور دن دونی رات چوگنی ترقی کے ساتھ، لیکن نواب نامدار کی آنکھیں بند ہوتے ہی گویا وہ بھی خواب و خیال تھی۔ افلاطون نے اپنی کتاب ’’ری پبلک‌Republic‘‘ میں حکومت کے لیے شاعروں کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی۔ رامپور میں بھی جب نواب کلب علی خاں کے بعد اصلاح کا کام جاری ہوا تو سب سے پہلے انھیں شاعروں کا گروہ فضول ثابت ہوا جو خلد آشیاں کے زمانہ میں اراکینِ دربار میں خصوصی حیثیت رکھتے تھے۔ داغ کا تعلق بھی ریاست سے جاتا رہا اور انھیں اپنی زندگی میں پھر ایک دفعہ ان کلفتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جن سے دلی کی تاراجی کے بعد سابقہ ہوا تھا۔ ان کی یہ رباعی اس وقت کے دلی افکار کا آئینہ اور ان کی حقیقی حالت کا مرقع ہے:

نواب نے کی جو قدر دانی میری

اے داغ گزر گئی جوانی میری

لیکن یہ خبر نہ تھی کہ وقتِ پیری

مر مر کے کٹے گی زندگانی میری

لیکن یہ عام قاعدہ ہے کہ تکلیف کے بعد آرام اور رنج کے بعد خوشی میسر ہوتی ہے چنانچہ کچھ عرصہ تک خانہ نشین اور بے کار رہنے کے بعد داغ حیدرآباد پہنچے اور فرمانروائے دکن کی دریا نوالی اور فیاض منشی نے انھیں آخر اس رتبے تک رہنمائی کی جس سے زیادہ کی امید وہ کبھی خود نہ کر سکتے تھے۔

حضور مغفور میر محبوب علی خاں آصف کا دربار ہمیشہ سے مرجعِ اہل کمال رہ چکا ہے اور سلاطینِ اسلام کی علم دوستی اور معارف شناسی کی روایات ان کی ذاتِ بابرکات سے زندہ۔ حضرت داغ انھیں کے دامنِ دولت سے وابستہ ہو کر ماہتاب بن کر چمکے، ورنہ ان کی وقعت بہ حیثیت ایک شاعر ملک میں تو ہوتی لیکن اعزاز و جاہ کے یہ مراتب وہ کبھی نہ طے کر سکتے۔

1888ء میں داغ سب سے پہلے حیدر آباد گئے۔ پبلک نے تو نہایت گرم جوشی سے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا لیکن باوجود متوسلینِ ریاست کی جانفشانیوں کے اس زمانے میں ان کی رسائی حضور تک نہ ہوئی اور ایک عرصہ تک قیام کرنے کے بعد آخر داغ گھبرا گئے اور ناامید ہو کر واپس چلے آئے۔ لیکن جن لوگوں کو حیدر آباد کی زندگی کا تجربہ ہے انھیں معلوم ہے کہ وہاں کاربرآری بہت دیر میں ہوتی ہے۔ داغ کا بھی یہی حال ہوا۔ ان کے واپس آ جانے کے بعد بھی کچھ دنوں کوئی خبر نہ لی گئی تو یہ بالکل مایوس ہو گئے لیکن جس طرح گھٹا ٹوپ بادل سے سورج کی کرن ظاہر ہو جاتی ہے اسی طرح داغ کی مایوسی یکایک مبدل شادمانی ہو گئی۔ برسوں کی آرزوئیں اور مہینوں کی دعائیں آخر پوری ہوئیں اور انھیں ایک معمولی شاعر کے طور پر نہیں بلکہ استاد السلطان کی حیثیت سے حیدر آباد جانا پڑا۔ داغ کی یہ کامیابی غیر معمولی تھی اسی لیے اس خبر کو تمام ہندوستان میں کسی قدر تعجب سے سنایا گیا تھا لیکن دربارِ آصف جاہی کے لیے یہ اعزاز و اکرام کوئی نئی بات نہ تھی۔

داغ کی پہلی تنخواہ ساڑھے چار سو روپیہ مقرر ہوئی تھی لیکن پھر پندرہ سو روپیہ ماہوار تک پہنچ گئی تھی۔ عطیے اور انعامات اس کے ماسوا ہیں۔ ان کے اہلِ خاندان میں سے اکثر کو بیش قرار وظائف معین تھے غرض کہ حیدر آباد جانا نہ صرف داغ کے لیے ذاتی طور پر بلکہ ان کے اعزا و اقارب کے لیے بھی نہایت کارآمد ہوا، اور وہ آخر وقت تک عیشِ مخلد میں بسر کرتے رہے۔

بیرونِ شہر افضل گنج حیدر آباد کا ایک مشہور محلہ ہے۔ اس میں ایک خاص حصہ محبوب گنج کے نام سے موسوم ہے۔ یہاں اجناس وغیرہ کی دکانیں ہیں۔ عام طور پر یہاں لوگ سکونت پذیر نہیں ہیں لیکن داغ غالباً 1891ء تک یہاں ایک مکان میں جو بظاہر کچھ وسیع اور شاندار بھی نہ تھا رہتے تھے۔ میرے ایک دوست احمداللہ قیصر حیدر آبادی مرحوم جو ایک نوجوان شاعر تھے اور داغ صاحب کے ہمسایہ ہونے کی وجہ سے ان کے اکثر عزیزوں سے رسمِ اتحاد رکھتے تھے مجھ سے بیان کرتے تھے کہ محبوب گنج کا قیام باوجود اس جگہ کی ناگوار آب و ہوا کے اس شگون پر مبنی تھا کہ اس مکان میں ٹھہرنے کے بعد ہی داغ صاحب کو حضور نظام کے پاس رسوخ حاصل ہوا تھا۔ لیکن آخر میں وہ رزیڈنسی2 کے علاقہ میں ایک شاندار اور پُرفضا کوٹھی میں چلے گئے تھے اور پھر وہیں آخر دم تک رہے۔

حیدر آباد کے تعلقات نے داغ کی شہرت کو گویا پر لگا دیے اور واقعی حضور نظام مرحوم کی فیاضی اور جود کی بدولت انھیں وہ دنیاوی اعزاز نصیب ہوا جس کی مثال پچھلی تاریخِ اردو میں نہیں مل سکتی۔ سودا نے آصف الدولہ کے دربار میں اعزاز حاصل کیا۔ سیّد انشا نے سعادت علی خاں کی توجہات سے فائدہ اٹھایا۔ ذوق شاہنشاہِ دہلی کے استاد تھے۔ لیکن یہ باتیں اب پرانی ہو گئی تھیں۔ البتہ داغ کے مناصب و مراتب کا بچشمِ خود مشاہدہ کرنے والے لوگ ہندوستان میں عموماً اور دکن میں خصوصاً ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں اب تک زندہ ہیں۔ انھیں نہ صرف مشورۂ سخن کی عزت حاصل تھی بلکہ درباری اشخاص میں بھی ان کو نمایاں فوقیت اور ترجیح تھی۔ استاد السلطان ناظم یار جنگ دبیرالدولہ فصیح الملک جہاں استاد کے خطاب سے سرفراز ہوئے اور یہ خطابات اس قدر مشہور ہوئے کہ ان کے تخلص کے بعد گویا ان کے نام کے مترادف بن گئے تھے۔

داغ کی موجودگی حیدرآباد میں ایشیائی شاعری کے فروغ کا خاص سبب ثابت ہوئی، اور شروع شروع میں تو شعر گوئی کا وہ چرچا ہوا کہ معمولی الفاظ میں اس کی کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی۔ مشاعروں کی کثرت کے ساتھ شعراء کی تعداد میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوتا رہا یہاں تک کہ آج بھی جس قدر شاعر خاص حیدر آباد میں موجود ہیں اتنے ہندوستان کے کسی اور شہر میں نہیں نکل سکتے اور ان میں سے اکثر نہایت خوش فکر واقع ہوئے ہیں۔

ابتدائی زمانے میں تو کوئی مشاعرہ ایسا نہ ہوتا تھا جس میں داغ باوجود موانع کے شرکت پر مجبور نہ کیے جاتے ہوں لیکن آخر میں وہ عام مجالس میں کم شریک ہوتے تھے۔ محمد ابراہیم صاحب خانساماں حضوری کے یہاں سالانہ محفلِ شعر و سخن منعقد ہوتی تھی۔ اس میں اعلیٰ حضرت حضور آصف جاہ مرحوم کی غزل بھی آتی تھی۔ داغ اسے پڑھتے تھے اس لیے اس مشاعرہ میں ان کی شرکت بالعموم ہو جایا کرتی تھی۔ اسی طرح اور خاص خاص مشاعروں میں جایا کرتے تھے لیکن انحطاطِ عمر کے ساتھ بوجہ کبرِ سنی و ضعیف العمری یہ التزام بھی باقی نہ رہا۔

1900ء میں امیر مینائی مرحوم مغفور بہ امیدِ سرفرازی حیدر آباد آئے اور داغ کے مکان پر فروکش ہوئے امید ہوئی تھی کہ اب حیدر آباد میں رامپور کا نقشہ کھنچنے لگا اور ان دونوں استادوں کی معرکہ آرائیوں کا لطف جس کا حال کتابوں میں پڑھا اور کانوں سے سنا تھا ذاتی طور پر اٹھانے کا موقع ملے گا۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد‌ہائے کتنی ہی تمنائیں خاک میں مل گئیں، امیر مرحوم کو حیدر آباد کی آب و ہوا کچھ ایسی ناموافق ہوئی کہ وہ ایک دن بھی اچھے نہ رہے۔ سوءِ مزاجی کا سلسلہ آخر کار موت پر منتہی ہوا اور شیدائیانِ سخن کی حسرت خاک میں مل گئی۔ اہلِ حیدرآباد کو آپ کے واقعۂ ارتحال کا جو صدمہ ہوا اس کا اندازہ غیر ممکن ہے۔ حضرت داغ کو بھی اپنے ایک پرانے رفیق اور ہم شرب کی موت کا بے حد قلق ہوا۔

امیر مرحوم کے انتقال کے تقریباً پانچ برس بعد داغ نے بھی داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ 9 ذی الحجہ 1322ھ‌14 فروری 1905ء ان کا روزِ وفات ہے، اور اب وہ بمقام حیدر آباد درگاہ حضرت یوسف شریف قدس سرہ العزیز کے احاطے کے اندر امیر مرحوم کے پہلو میں آرام کی نیند سو رہے ہیں۔ سچ کہا ہے:

دو چیز آدمی را ستاند بہ زور

یکے آب و دانہ دوم خاکِ گور

ترجمہ دو چیزیں انسان سے زبردستی چھین لی جاتی ہیں، ایک آب و دانہ اور دوسری قبر کی مٹی۔

قدرت کی نیرنگیاں بھی عجیب ہیں۔ کہاں دہلی اور کہاں حیدر آباد، لیکن داغ کے خمیر میں دکن کی مٹی تھی آخر وہیں پیوندِ خاک ہوئے اور شعر و سخن کی یہ شمع اس طرح عالمِ غربت میں ’’کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ‌ہر جاندار کو فنا ہونا ہے‘‘ کے ایک جھونکے سے گل ہو گئی۔