|
آئی ایسی ہوائے کلکتہ |
دل پکارا کہ ہائے کلکتہ |
|
ریل پر دوستانِ نیک خصال |
آئے اکثر برائے استقبال |
|
شہر میں دھوم تھی کہ داغ آیا |
داغ آیا تو باغ باغ آیا |
تو ذہن اضطراری طور پر غالب کے ان شعروں کی طرف منتقل ہوتا ہے جن میں وہ اپنی غریب الوطنی کی حالت اور اہلِ کلکتہ کی نا مہری کا فوٹو یوں کھینچتے ہیں۔
|
اے رئیسانِ ایں سوادِ عظیم |
اے فراہم شدہ ز ہفت اقلیم |
|
ترجمہ اے اس عظیم سرزمین کے سردارو، اے جو سات اقلیموں سے جمع ہوئے ہو۔ |
|
|
ہمچو آرمیدۂ ایں شہر |
بہ ہر کارے رسیدۂ ایں شہر |
|
ترجمہ اس شہر کے ایک آرام کرنے والے کی طرح، اس شہر کے ہر کام تک پہنچنے والے کی طرح۔ |
|
|
اسداللہ بخت برگشتہ |
در خمِ پیچِ عجز سرگشتہ |
|
ترجمہ اسداللہ، جس کی قسمت پلٹ گئی ہے، عاجزی کے پیچ و خم میں سرگرداں ہے۔ |
|
|
گرچہ ناخواندہ مہمانِ شماست |
بے سخن، ریزہ چینِ خوانِ شماست |
|
ترجمہ اگرچہ وہ آپ کا بن بلایا مہمان ہے، لیکن بغیر کچھ کہے آپ کے دسترخوان کا ریزہ چیں ہے۔ |
|
|
بہ تظلم رسیدہ است ایں جا |
با امید آرمیدہ است ایں جا |
|
ترجمہ وہ یہاں فریاد لے کر پہنچا ہے، اور امید کے ساتھ یہاں ٹھہرا ہے۔ |
|
|
آں رہ و رسم کار سازی کُو |
شیوۂ مہمان نوازی کُو |
|
ترجمہ وہ کام بنانے کی راہ و رسم کہاں ہے؟ وہ مہمان نوازی کا طریقہ کہاں ہے؟ |
|
|
با من ایں خشم و کیں دریغ دریغ |
من چناں تا چنیں دریغ دریغ |
|
ترجمہ میرے ساتھ یہ غصہ اور کینہ، افسوس افسوس! میں ایسا سے ویسا ہو گیا، افسوس افسوس! |
|
مصطفیٰ آباد یا رامپور میں جو بزمِ سخن نواب کلب علی خاں کی علم دوستی کی بدولت برپا ہوئی تھی وہ ان کی زندگی تک قائم رہی اور دن دونی رات چوگنی ترقی کے ساتھ، لیکن نواب نامدار کی آنکھیں بند ہوتے ہی گویا وہ بھی خواب و خیال تھی۔ افلاطون نے اپنی کتاب ’’ری پبلک‘‘ میں حکومت کے لئے شاعروں کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی۔ رامپور میں بھی جب نواب کلب علی خاں کے بعد اصلاح کا کام جاری ہوا تو سب سے پہلے انھیں شاعروں کا گروہ فضول ثابت ہوا جو خلد آشیاں کے زمانہ میں اراکینِ دربار میں خصوصی حیثیت رکھتے تھے۔ داغ کا تعلق بھی ریاست سے جاتا رہا اور انھیں اپنی زندگی میں پھر ایک دفعہ ان کلفتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جن سے دلی کی تاراجی کے بعد سابقہ ہوا تھا۔ ان کی یہ رباعی اس وقت کی دلی افکار کا آئینہ اور ان کی حقیقی حالت کا مرقع ہے۔
|
نواب نے کی جو قدر دانی میری |
اے داغ گذر گئی جوانی میری |
|
لیکن یہ خبر نہ تھی کہ وقتِ پیری |
مر مر کے کٹے گی زندگانی میری |
لیکن یہ عام قاعدہ ہے کہ تکلیف کے بعد آرام اور رنج کے بعد خوشی میسر ہوتی ہے چنانچہ کچھ عرصہ تک خانہ نشین اور بیکار رہنے کے بعد داغ حیدرآباد پہنچے اور فرمانروائے دکن کی دریا نوازی اور فیاض منشی نے انھیں آخر اس رتبے تک رہنمائی کی جس سے زیادہ کی امید وہ کبھی خود نہ کر سکتے تھے۔
حضور مغفور میر محبوب علی خاں آصف کا دربار ہمیشہ سے مرجعِ اہلِ کمال رہ چکا ہے اور سلاطین اسلام کی علم دوستی اور معارف شناسی کی روایات ان کی ذات بابرکات سے زندہ۔ حضرت داغ انھیں کے دامنِ دولت سے وابستہ ہو کر ماہتاب بن کر چمکے، ورنہ ان کی وقعت بہ حیثیت ایک شاعر ملک میں تو ہوتی لیکن اعزاز و جاہ کے یہ مراتب وہ کبھی نہ طے کر سکتے۔
1888ء میں داغ سب سے پہلے حیدر آباد گئے۔ پبلک نے تو نہایت گرم جوشی سے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا لیکن باوجود متوسلین ریاست کی جانفشانیوں کے اس زمانے میں ان کی رسائی حضور تک نہ ہوئی اور ایک عرصہ تک قیام کرنے کے بعد آخر داغ گھبرا گئے اور نا امید ہو کر واپس چلے آئے۔ لیکن جن لوگوں کو حیدر آباد کی زندگی کا تجربہ ہے انھیں معلوم ہے کہ وہاں کار بر آری بہت دیر میں ہوتی ہے۔ داغ کا بھی یہی حال ہوا۔ ان کے واپس آ جانے کے بعد بھی کچھ دنوں کوئی خبر نہ لی گئی تو یہ بالکل مایوس ہو گئے لیکن جس طرح گھٹا ٹوپ بادل سے سورج کی کرن ظاہر ہو جاتی ہے اسی طرح داغ کی مایوسی یکایک مبدل شادمانی ہو گئی۔ برسوں کی آرزوئیں اور مہینوں کی دعائیں آخر پوری ہوئیں اور انھیں ایک معمولی شاعر کے طور پر نہیں بلکہ استاد السلطان کی حیثیت سے حیدر آباد جانا پڑا۔ داغ کی یہ کامیابی غیر معمولی تھی اسی لئے اس خبر کو تمام ہندوستان میں کسی قدر تعجب سے سنایا گیا تھا لیکن دربارِ آصف جاہی کے لئے یہ اعزاز و اکرام کوئی نئی بات نہ تھی۔
داغ کی پہلی تنخواہ ساڑھے چار سو روپیہ مقرر ہوئی تھی لیکن پھر پندرہ سو روپیہ ماہوار تک پہنچ گئی تھی۔ عطیے اور انعامات اس کے ماسوا ہیں۔ ان کے اہل خاندان میں سے اکثر کو بیش قرار وظائف معین تھے غرض کہ حیدر آباد جانا نہ صرف داغ کے لئے ذاتی طور پر بلکہ ان کے اعزا و اقارب کے لئے بھی نہایت کار آمد ہوا، اور وہ آخر وقت تک عیشِ مخلد میں بسر کرتے رہے۔
بیرون شہر افضل گنج حیدر آباد کا ایک مشہور محلہ ہے۔ اس میں ایک خاص حصہ محبوب گنج کے نام سے موسوم ہے۔ یہاں اجناس وغیرہ کی دکانیں ہیں۔ عام طور پر یہاں لوگ سکونت پذیر نہیں ہیں لیکن داغ غالباً 1891ء تک یہاں ایک مکان میں جو بظاہر کچھ وسیع اور شاندار بھی نہ تھا رہتے تھے۔ میرے ایک دوست احمداللہ قیصر حیدر آبادی مرحوم جو ایک نوجوان شاعر تھے اور داغ صاحب کے ہمسایہ ہونے کی وجہ سے ان کے اکثر عزیزوں سے رسم اتحاد رکھتے تھے مجھ سے بیان کرتے تھے کہ محبوب گنج کا قیام باوجود اس جگہ کی ناگوار آب و ہوا کے اس شگون پر مبنی تھا کہ اس مکان میں ٹھہرنے کے بعد ہی داغ صاحب کو حضور نظام کے پاس رسوخ حاصل ہوا تھا۔ لیکن آخر میں وہ رزیڈنسی کے علاقہ میں ایک شاندار اور پر فضا کوٹھی میں چلے گئے تھے اور پھر وہیں آخر دم تک رہے۔
حیدر آباد کے تعلقات نے داغ کی شہرت کو گویا پر لگا دیے اور واقعی حضور نظام مرحوم کی فیاضی اور جود کی بدولت انھیں وہ دنیاوی اعزاز نصیب ہوا جس کی مثال پچھلی تاریخِ اردو میں نہیں مل سکتی۔ سودا نے آصف الدولہ کے دربار میں اعزاز حاصل کیا۔ سید انشا نے سعادت علی خاں کی توجہات سے فائدہ اٹھایا۔ ذوق شاہنشاہ دہلی کے استاد تھے۔ لیکن یہ باتیں اب پرانی ہو گئی تھیں۔ البتہ داغ کے مناصب و مراتب کا بچشمِ خود مشاہدہ کرنے والے لوگ ہندوستان میں عموماً اور دکن میں خصوصاً ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں اب تک زندہ ہیں۔ انھیں نہ صرف مشورۂ سخن کی عزت حاصل تھی بلکہ درباری اشخاص میں بھی ان کو نمایاں فوقیت اور ترجیح تھی۔ استاد السلطان ناظم یار جنگ دبیرالدولہ فصیح الملک جہاں استاد کے خطاب سے سرفراز ہوئے اور یہ خطابات اس قدر مشہور ہوئے کہ ان کے تخلص کے بعد گویا ان کے نام کے مترادف بن گئے تھے۔
داغ کی موجودگی حیدر آباد ایشیائی شاعری کے فروغ کا خاص سبب ثابت ہوئی، اور شروع شروع میں تو شعر گوئی کا وہ چرچا ہوا کہ معمولی الفاظ میں اس کی کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی۔ مشاعروں کی کثرت کے ساتھ شعراء کی تعداد میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوتا رہا یہاں تک کہ آج بھی جس قدر شاعر خاص حیدر آباد میں موجود ہیں اتنے ہندوستان کے کسی اور شہر میں نہیں نکل سکتے اور ان میں سے اکثر نہایت خوش فکر واقع ہوئے ہیں۔
ابتدائی زمانے میں تو کوئی مشاعرہ ایسا نہ ہوتا تھا جس میں داغ باوجود موانع کے شرکت پر مجبور نہ کئے جاتے ہوں لیکن آخر میں وہ عام مجالس میں کم شریک ہوتے تھے۔ محمد ابراہیم صاحب خانساماں حضوری کے یہاں سالانہ محفلِ شعر و سخن منعقد ہوتی تھی۔ اس میں اعلیٰ حضرت حضور آصف جاہ مرحوم کی غزل بھی آتی تھی۔ داغ اسے پڑھتے تھے اس لئے اس مشاعرہ میں ان کی شرکت بالعموم ہو جایا کرتی تھی۔ اسی طرح اور خاص خاص مشاعروں میں جایا کرتے تھے لیکن انحطاط عمر کے ساتھ بوجہ کبر سنی و ضعیف العمری یہ التزام بھی باقی نہ رہا۔
