صحتِ واقعات اور تاثیرِ سخن کے لحاظ سے داغ کا یہ مسدسِ شہر آشوب مستقل دلچسپی کی چیز ہے۔ اور بھی شعراء نے دہلی کے مرثیے لکھے ہیں لیکن داغ کو کوئی نہیں پہنچا۔ معلوم نہیں داغ نے اس مسدس کا آخری شعر:
|
الٰہی! پھر اسے آباد و شاد دیکھیں ہم |
الٰہی! پھر اسے حسبِ مراد دیکھیں ہم |
کس وقت اور کس دل سے کہا تھا کہ ان کی یہ آرزو پوری ہو کر رہی۔ حضور جارج پنجم خلد اللہ ملکہ1، نے دہلی کو ہندوستان کا دارالسلطنت قرار دے کر اس قدیم شہر کی عظمت و شان کی روایات کو زندہ کرنے کا سامان بہم پہنچا دیا ہے۔ کاش داغ اس وقت زندہ ہوتے اور دیکھتے کہ ان کی دعا بیکار نہیں گئی۔
دہلی کی بربادی گویا فصلِ خزاں تھی۔ جس طرح بہار کے خاتمے پر باغ کی ساری دلچسپیاں معدوم ہو جاتی ہیں اسی طرح غدر کے بعد دہلی اسی طرح تاراج اور ویران ہو گئی تھی کہ اور تو اور خود وہاں کے باشندوں کو بھی دلی کا قیام دوبھر تھا۔ اب یہاں کی زندگی میں وہ ’’چٹخارے‘‘ مفقود ہو چکے تھے جو حیوانِ مطلق کو بھی اپنی جگہ سے ہلنے نہ دیتے تھے۔ ذوق کا مقولہ کہ:
|
کون جائے ذوق پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر |
عملی حیثیت سے بے معنی الفاظ کا مجموعہ بنا ہوا تھا اور غالب کے اس مصرع کی صداقت آفریں کیفیت دلوں پر طاری ہو رہی تھی:
|
ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہے کھائیں گے کیا |
ذاتی ضروریات اور فکرِ معاش سے مجبور ہو کر کملائے دہلی کا مجمع منتشر ہوا اور جس کی جدھر بن آئی چلتا بنا۔ اس زمانے میں ریاست رامپور علمی قدر افزائی کی وجہ سے مشہور ہو رہی تھی۔ اسیر، امیر، تسلیم، جلال، قلق ایسے نامی گرامی شعراء کی ذات سے دربار کو زینت حاصل تھی۔ نواب مرزا داغ بھی بہ امیدِ قدردانی رامپور پہنچے۔ اس وقت نواب یوسف علی خاں ناظم مسند آرائے حکومت تھے۔ علم دوستی اور معارف پروری کا مادہ ان کی خلقت میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ ایک طرح سے وہ داغ کے استاد بھی تھے کیونکہ ایک روایت کے مطابق داغ نے سکندرنامہ انھیں سے پڑھا تھا اس وقت یہ دہلی میں تھے۔ داغ کو بہت خندہ پیشانی سے خیر مقدم کہا۔ نواب کلب علی خاں کا زمانۂ ولی عہدی تھا۔ یہ ان کے مصاحب مقرر ہوئے اور بالآخر داروغۂ اصطبل کی خدمت ان کو تفویض ہوئی۔
داغ جب تک رامپور میں رہے بہت بے فکری اور آرام سے رہے۔ نواب کلب علی خاں جب حکومت پر پہنچے تو ان کے وقت میں رامپور لکھنؤ بنا ہوا تھا اور وہ خود گویا آصف الدولہ تھے۔ امیر، داغ اور ان کے اکثر معاصر اسی دریا دل نواب کے خوانِ کرم کے ریزہ چیں تھے۔ نواب کا دربار علمی و ادبی نقطۂ خیال سے جلال الدین اکبر کا دربار تھا جس میں یہ صاحبانِ فضل و کمال بجائے خود نورتنِ اکبری کے قائم مقام تھے۔
قیامِ رامپور کے زمانے میں داغ کی شہرت کا حلقہ اور بھی وسیع ہوتا گیا۔ وہاں آئے دن مشاعرے ہوتے تھے۔ حکمرانِ وقت خود شعر و سخن کا شیدائے غالی تھا۔ یہ امر عوام کی حوصلہ افزائی کا سب سے بڑا سبب ثابت ہوا۔ اردو شاعری کے آخری دور کے سارے قائم مقام گویا رامپور میں تھے پھر ان مشاعروں کی گوناگوں دلچسپیوں کا اندازہ ہو سکتا ہے جس میں امیر، داغ، تسلیم وغیرہ ایسے جیّد شاعر طبع آزمائی کرتے ہوں۔ ان شعراء میں سے ہر ایک بجائے خود آسمانِ سخن کا ایک درخشندہ ستارہ تھا کسی ایک کو دوسرے پر فضیلت دینا ایک حد تک قرینِ انصاف نہ ہوگا لیکن داغ کی زبان، ان کا تخیّل، ان کا رنگ آغازِ شاعری سے ممتاز تھا اور یہ امتیاز رامپور میں اور پختگی حاصل کرتا گیا۔ جہاں اور بہت سے سخن گو نفسِ شاعری کے لحاظ سے یک رنگ اور یکساں تھے وہاں صرف داغ کی سب سے جداگانہ حیثیت تھی۔ اکثر شعراء کا کلام صرف مشاعرے تک محدود رہتا لیکن داغ کی غزلیں جو مشاعرے میں پڑھی جاتیں وہ غیر معمولی سرعت کے ساتھ شہرت پذیر ہو جاتی تھیں۔ امیر مرحوم بجائے خود اردو شاعری کے بہترین استاد تھے لیکن یہ بات ان کے کلام کو بھی نصیب نہ تھی حالانکہ ذاتی جوہرِ کمال کے ماسوا نوابِ وقت کو مشورۂ سخن دینے کی عزت ان کے کلام کی شہرت کا خاص اور موثر ذریعہ بن سکتی تھی۔
جب تک نواب کلب علی خاں زندہ رہے اہلِ دربار ان کے قدموں سے لگے رہے۔ نواب کی ذات ان لوگوں کی تقویت کا باعث تھی۔ کم از کم فکرِ معاش سے سبھوں کو نجات تھی۔ داغ ان لوگوں میں تھے جو امیر کے بعد نواب کی قدر شناسی کے مرجح طور پر حقدار تھے۔ داغ بھی احسان فراموش نہ تھے۔ ان کے اولین دیوان میں جا بجا اس کا ثبوت ملتا ہے۔ مثالاً چند شعر درج کیے جاتے ہیں۔
|
دستِ نواب گہر بار فلک دریا بار |
داغ برسات نئی آئی ہے برسات کے ساتھ |
|
جس کو ہو داغ بہت حسنِ شجاعت پر غرور |
میرے نواب بہادر کے مقابل آئے |
|
رہے کیسا مصطفےٰ آباد میں داغ |
مزے سارے تھے وہ خلد آشیاں تک |
|
ہر چند رامپور میں گھبرا رہا ہے دل |
کس طرح جائے کلب علی خاں کو چھوڑ کر |
نواب خلد آشیاں کے ساتھ انھیں بھی فریضۂ حجِ بیت اللہ ادا کرنے کا موقع ملا تھا چنانچہ کہتے ہیں:
|
ساتھ نواب کے حج کر کے پھرے ہم اے داغ |
ہند میں دھوم ہے مہمانِ حجاز آتے ہیں |
غرض کہ نواب کلب علی خاں کی فیاضی نے داغ کو اور افکار سے فارغ البال بنا دیا تھا۔ پھر انھیں کہیں دریوزہ گری کرنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ صرف ایک مرتبہ کلکتہ کے سفر کا اتفاق ہوا تھا جس کی دلچسپ کیفیت سے مثنوی ’’فریادِ داغ‘‘ کے صفحے لبریز ہیں۔ کلکتہ جاتے ہوئے عظیم آباد میں بھی ٹھہرے تھے اور غالباً ان کی یہ غزل:
|
بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں |
کسی سے آج بگڑی ہے جو وہ یوں بن کے بیٹھے ہیں |
وہیں کی کہی ہوئی ہے جیسا کہ اس کے مقطع سے ظاہر ہوتا ہے:
|
کوئی چھینٹا پڑے تو داغ کلکتے چلے جائیں |
عظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں |
پٹنہ میں داغ کی موجودگی میں مجلسِ مشاعرہ بھی منعقد ہوئی تھی۔ افسوس ہے کہ اس کے متعلق تفصیلی حالات نہیں مل سکتے ورنہ مستقل دلچسپی کی چیز ہوتے۔
ان کے کلام کا شہرہ مختلف اقطاعِ ہند میں پہنچ چکا تھا۔ ساکنانِ کلکتہ نے ان کو سر آنکھوں پر لیا۔ دعوتیں ہوئیں۔ آؤ بھگت کی گئی۔ مشاعرے ہوئے، غرض علمی طبقے میں ان کے جانے سے غیر معمولی جوش پیدا ہو گیا تھا۔ مہمان پر بھی خاطر مدارات نے بہت اثر کیا۔ اور جب وہ کلکتہ سے واپس ہوئے ہیں تو عرصہ تک وہاں کی یاد دل سے محو نہیں ہو سکی۔ اسی کیفیت کا اظہار ان لفظوں میں کیا ہے:
|
یہ حسیں یہ مہ جبیں یہ شہر ایسی لہر بھر |
داغ کلکتے سے ہزاروں داغ دل پر لے چلا |
اس سفر کے مفصل حالات ’’فریادِ داغ‘‘ میں شاعرانہ انداز سے قلم بند کیے گئے ہیں۔ جب ہم داغ کے یہ اشعار دیکھتے ہیں:
|
آئی ایسی ہوائے کلکتہ |
دل پکارا کہ ہائے کلکتہ |
|
ریل پر دوستانِ نیک خصال |
آئے اکثر برائے استقبال |
|
شہر میں دھوم تھی کہ داغ آیا |
داغ آیا تو باغ باغ آیا |
تو ذہن اضطراری طور پر غالب کے ان شعروں کی طرف منتقل ہوتا ہے جن میں وہ اپنی غریب الوطنی کی حالت اور اہلِ کلکتہ کی نامہری کا فوٹو یوں کھینچتے ہیں:
|
اے رئیسانِ ایں سوادِ عظیم |
اے فراہم شدہ ز ہفت اقلیم |
|
ترجمہ اے اس عظیم سرزمین کے سردارو، اے سات اقلیموں سے جمع ہونے والو۔ |
|
|
ہمچو آرمیدۂ ایں شہر |
بہ ہر کارے رسیدۂ ایں شہر |
|
ترجمہ اس شہر کے ایک باشندے کی طرح، اس شہر کے ہر کام سے واقف کی طرح۔ |
|
|
اسد اللہِ بخت برگشتہ |
در خم و پیچِ عجز سرگشتہ |
|
ترجمہ بد نصیب اسد اللہ، عاجزی کے پیچ و خم میں سرگرداں ہے۔ |
|
|
گرچہ ناخواندہ مہمانِ شماست |
بے سخن، ریزہ چیںِ خوانِ شماست |
|
ترجمہ اگرچہ وہ آپ کا بن بلایا مہمان ہے، (لیکن) خاموشی سے آپ کے دسترخوان کا ریزہ چیں ہے۔ |
|
|
بہ تظلم رسیدہ است اینجا |
با امید آرمیدہ است اینجا |
|
ترجمہ وہ یہاں فریاد لے کر پہنچا ہے، اور امید کے ساتھ یہاں ٹھہرا ہے۔ |
|
|
آن رہ و رسمِ کارسازی کو |
شیوۂ مہمان نوازی کو |
|
ترجمہ وہ مدد کرنے کا طور طریقہ کہاں ہے؟ وہ مہمان نوازی کا شیوہ کہاں ہے؟ |
|
|
با من ایں خشم و کیں دریغ دریغ |
من چنان و تو چنیں دریغ دریغ |
|
ترجمہ مجھ سے یہ غصہ اور کینہ، افسوس صد افسوس۔ میں ویسا اور تو ایسا، افسوس صد افسوس۔ |
|
