جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

فصیح الملک داغ دہلوی

حضرت ذوق کے کمال سے انکار کرنے کی جرات کس کو ہو گی لیکن اس جگہ صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ داغ ماں کے پیٹ سے ایک صحیح اور حقیقی شاعر بن کر پیدا ہوئے تھے اور خود ان میں وہ صفات بوجہ احسن موجود تھیں جو کسی سخن گو کو ”فطری شاعر“ کا لقب دلا سکتی ہیں۔ اس میں کلام نہیں کہ قابل استاد کا ہونہار شاگرد کے ساتھ ایسا ہی تعلق ہے جیسے حکاک کو الماس کے ساتھ کہ وہ اس میں جلا پیدا کرتا ہے لیکن اگر پتھر میں چمکنے کی قابلیت ہی سرتاپا مفقود ہو تو حکاک کیا کر سکتا ہے۔

الغرض داغ کی شہرت کا دائرہ روز بروز وسیع ہوتا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ قلعۂ معلیٰ میں اکثر شاہزادے بڑے بڑے اساتذہ کو چھوڑ کر ان سے اصلاحِ سخن لینے لگے اور دلی کا کوئی مشاعرہ با رونق نہ سمجھا جاتا تھا جس میں داغ زمزمہ سنج نہ ہوں لیکن غدر 57ء نے رنگ میں بھنگ کر دیا۔ مجلسیں برہم ہو گئیں۔ جلسے منتشر ہو گئے۔ نہ قدر دان رہے نہ قدر دانی کے سامان۔ اسی حسرت ناک سین کی تصویر پر اثر الفاظ میں داغ نے یوں کھینچی ہے۔

عجیب شکل گل و گلستان نظر آئی

پڑیں جدھر کو نگاہیں خزاں نظر آئی

جب اٹھ کے تا مژۂ خونفشاں نظر آئی

تو کوئی عیش کی صورت نہ یاں نظر آئی

وہ گل رخانِ سمن بر کے قہقہے نہ رہے

وہ بلبلانِ خوش الحاں کے چہچہے نہ رہے

زمیں کے حال پر اب آسمان روتا ہے

ہر اک فراقِ مکیں میں مکان روتا ہے

گدا و شاہ و ضعیف و جوان روتا ہے

غرض یہاں کے لئے اک جہان روتا ہے

جو کہئے جوششِ طوفان نہیں کہی جاتی

یہاں تو نوح کی کشتی بھی ڈوب ہی جاتی

صحتِ واقعات اور تاثیرِ سخن کے لحاظ سے داغ کا یہ مسدس شہر آشوب مستقل دلچسپی کی چیز ہے۔ اور بھی شعراء نے دہلی کے مرثیے لکھے ہیں لیکن داغ کو کوئی نہیں پہنچا۔ معلوم نہیں داغ نے اس مسدس کا آخری شعر۔

الٰہی! پھر اسے آباد و شاد دیکھیں ہم

الٰہی! پھر اسے حسبِ مراد دیکھیں ہم

کس وقت اور کس دل سے کہا تھا کہ ان کی یہ آرزو پوری ہو کر رہی۔ حضور جارج پنجم‌George V خلد اللہ ملکہ نے دہلی کو ہندوستان کا دارالسلطنت قرار دے کر اس قدیم شہر کی عظمت و شان کی روایات کو زندہ کرنے کا سامان بہم پہنچا دیا ہے۔ کاش داغ اس وقت زندہ ہوتے اور دیکھتے کہ ان کی دعا بیکار نہیں گئی۔

دہلی کی بربادی گویا فصلِ خزاں تھی۔ جس طرح بہار کے خاتمہ پر باغ کی ساری دلچسپیاں معدوم ہو جاتی ہیں اسی طرح غدر کے بعد دہلی اسی طرح تاراج اور ویران ہو گئی تھی کہ اور تو اور خود وہاں کے باشندوں کو بھی دلی کا قیام دوبھر تھا۔ اب یہاں کی زندگی میں وہ ’’چٹخارے‘‘ مفقود ہو چکے تھے جو حیوان مطلق کو بھی اپنی جگہ سے ہلنے نہ دیتے تھے۔ ذوق کا مقولہ کہ۔

کون جائے ذوق پر دلّی کی گلیاں چھوڑ کر

عملی حیثیت سے بے معنی الفاظ کا مجموعہ بنا ہوا تھا اور غالب کے اس مصرعہ کی صداقت آفریں کیفیت دلوں پر طاری ہو رہی تھی

ہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں کھائیں گے کیا

ذاتی ضروریات اور فکرِ معاش سے مجبور ہو کر کملائے دہلی کا مجمع منتشر ہوا اور جس کی جدھر بن آئی چلتا بنا۔ اس زمانے میں ریاست رامپور علمی قدر افزائی کی وجہ سے مشہور ہو رہی تھی۔ اسیر، امیر، تسلیم، جلال، قلق ایسے نامی گرامی شعراء کی ذات سے دربار کو زینت حاصل تھی۔ نواب مرزا داغ بھی بامید قدر دانی رامپور پہنچے۔ اس وقت نواب یوسف علی خاں ناظم مسند آرائے حکومت تھے۔ علم دوستی اور معارف پروری کا مادہ ان کی خلقت میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ ایک طرح سے وہ داغ کے استاد بھی تھے کیونکہ ایک روایت کے مطابق داغ نے سکندر نامہ انھیں سے پڑھا تھا اس وقت یہ دہلی میں تھے۔ داغ کو بہت خندہ پیشانی سے خیر مقدم کہا۔ نواب کلب علی خاں کا زمانہ ولیعہدی تھا۔ یہ ان کے مصاحب مقرر ہوئے اور بالآخر داروغہ اصطبل کی خدمت ان کو تفویض ہوئی۔

داغ جب تک رامپور میں رہے بہت بے فکری اور آرام سے رہے۔ نواب کلب علی خاں جب حکومت پر پہنچے تو ان کے وقت میں رامپور لکھنؤ بنا ہوا تھا اور وہ خود گویا آصف الدولہ تھے۔ امیر، داغ اور ان کے اکثر معاصر اسی دریا دل نواب کے خوانِ کرم کے ریزہ چیں تھے۔ نواب کا دربار علمی و ادبی نکتہ خیال سے جلال الدین اکبر کا دربار تھا جس میں یہ صاحبانِ فضل و کمال بجائے خود نورتن اکبری کے قائم مقام تھے۔

قیام رامپور کے زمانے میں داغ کی شہرت کا حلقہ اور بھی وسیع ہوتا گیا۔ وہاں آئے دن مشاعرے ہوتے تھے۔ حکمران وقت خود شعر و سخن کا شیدائے غالی تھا۔ یہ امر عوام کی حوصلہ افزائی کا سب سے بڑا سبب ثابت ہوا۔ اردو شاعری کے آخری دور کے سارے قائم مقام گویا رامپور میں تھے۔ پھر ان مشاعروں کی گونا گوں دلچسپیوں کا اندازہ ہو سکتا ہے جس میں امیر، داغ، تسلیم وغیرہ، ایسے جید شاعر طبع آزمائی کرتے ہوں۔ ان شعراء میں سے ہر ایک بجائے خود آسمانِ سخن کا ایک درخشندہ ستارہ تھا کسی ایک کو دوسرے پر فضیلت دینا ایک حد تک قرینِ انصاف نہ ہوگا لیکن داغ کی زبان، ان کا تخیل، ان کا رنگ آغازِ شاعری سے ممتاز تھا اور یہ امتیاز رامپور میں اور پختگی حاصل کرتا گیا۔ جہاں اور بہت سے سخن گو نفس شاعری کے لحاظ سے یک رنگ اور یکساں تھے وہاں صرف داغ کی سب سے جداگانہ حیثیت تھی۔ اکثر شعراء کا کلام صرف مشاعرے تک محدود رہتا لیکن داغ کی غزلیں جو مشاعرے میں پڑھی جاتیں وہ غیر معمولی سرعت کے ساتھ شہرت پذیر ہو جاتی تھیں۔ امیر مرحوم بجائے خود اردو شاعری کے بہترین استاد تھے لیکن یہ بات ان کے کلام کو بھی نصیب نہ تھی حالانکہ ذاتی جوہر کمال کے ما سوا نواب وقت کو مشورۂ سخن دینے کی عزت ان کے کلام کی شہرت کا خاص اور موثر ذریعہ بن سکتی تھی۔

جب تک نواب کلب علی خاں زندہ رہے اہل دربار ان کے قدموں سے لگے رہے۔ نواب کی ذات ان لوگوں کی تقویت کا باعث تھی۔ کم از کم فکرِ معاش سے سبھوں کو نجات تھی۔ داغ ان لوگوں میں تھے جو امیر کے بعد نواب کی قدر شناسی کے مرجح‌ترجیحی طور پر حقدار تھے۔ داغ بھی احسان فراموش نہ تھے۔ ان کے اولین دیوان میں جا بجا اس کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلاً چند شعر درج کئے جاتے ہیں۔

دستِ نوابِ گہر بار فلک دریا بار

داغ برسات نئی آئی ہے برسات کے ساتھ

جس کو ہو داغ بہت حسنِ شجاعت پر غرور

میرے نواب بہادر کے مقابل آئے

رہے کیسا مصطفیٰ آباد میں داغ

مزے سارے تھے وہ خلدِ آشیاں تک

ہر چند رامپور میں گھبرا رہا ہے دل

کس طرح جائے کلب علی خاں کو چھوڑ کر

نواب خلد آشیاں کے ساتھ انھیں بھی فریضۂ حج بیت اللہ ادا کرنے کا موقع ملا تھا چنانچہ کہتے ہیں۔

ساتھ نواب کے حج کر کے پھرے ہم اے داغ

ہند میں دھوم ہے مہمانِ حجاز آتے ہیں

غرض کہ نواب کلب علی خاں کی فیاضی نے داغ کو اور افکار سے فارغ البال بنا دیا تھا۔ پھر انھیں کہیں دریوزہ گری کرنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ صرف ایک مرتبہ کلکتہ کے سفر کا اتفاق ہوا تھا جس کی دلچسپ کیفیت سے مثنوی فریادِ داغ کے صفحے لبریز ہیں۔ کلکتہ جاتے ہوئے عظیم آباد میں بھی ٹھہرے تھے اور غالباً ان کی یہ غزل۔

بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں

کسی سے آج بگڑی ہے جو وہ یوں بن کے بیٹھے ہیں

وہیں کی کہی ہوئی ہے جیسا کہ اس کے مقطع سے ظاہر ہوتا ہے۔

کوئی چھینٹا پڑے تو داغ کلکتے چلے جائیں

عظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں

پٹنہ میں داغ کی موجودگی میں مجلسِ مشاعرہ بھی منعقد ہوئی تھی۔ افسوس ہے کہ اس کے متعلق تفصیلی حالات نہیں مل سکتے ورنہ مستقل دلچسپی کی چیز ہوتے۔

ان کے کلام کا شہرہ مختلف اقطاعِ ہند میں پہنچ چکا تھا۔ ساکنانِ کلکتہ نے ان کو سر آنکھوں پر لیا۔ دعوتیں ہوئیں۔ آؤ بھگت کی گئی۔ مشاعرے ہوئے۔ غرض علمی طبقے میں ان کے جانے سے غیر معمولی جوش پیدا ہو گیا تھا۔ مہمان پر بھی خاطر مدارات نے بہت اثر کیا۔ اور جب وہ کلکتہ سے واپس ہوئے ہیں تو عرصہ تک وہاں کی یاد دل سے محو نہیں ہو سکی۔ اسی کیفیت کا اظہار ان لفظوں میں کیا ہے۔

یہ حسیں یہ مہ جبیں یہ شہر ایسی لہر بہر

داغ کلکتے سے ہزاروں داغ دل پر لے چلا

اس سفر کے مفصل حالات فریادِ داغ میں شاعرانہ انداز سے قلمبند کئے گئے ہیں۔ جب ہم داغ کے یہ اشعار دیکھتے ہیں۔