جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ابن ابی دواد ابو عبداللہ احمد ابن ابی دواد

عہد بنو عباس کے مشہور و ممتاز قاضی تھے، اُن کا علم و فضل تشریح و بیان کا محتاج نہیں۔ اپنے زمانے میں قبولیت عامہ اور ہر دلعزیزی جیسی انھیں نصیب ہوئی کسی کو نہ تھی۔ مامون، معتصم، واثق اور متوکل چار خلیفوں کا زمانہ پایا۔

زمانہ شباب میں ان کی جاہ و ثروت روز افزوں تھی، لیکن آخر زمانہ نہایت تنگی سے بسر ہوا اواسط عمر کے ایام بفحوائے‌بمطابق خیر الامور اوسطہابہترین کام درمیانے ہوتے ہیں بڑے مزے میں گزرے۔

بعض اعزاز انھیں ایسے حاصل تھے کہ اُن کے اقران و امثال میں کسی کو نصیب نہ تھے۔ ابن خلکان کہتے ہیں کہ ’’احمد کو جس زمانے میں خلیفہ کا تقرب حاصل ہوا اُس کے قبل دربار کے دستور کے موافق کوئی شخص گفتگو میں مبادرت نہیں کر سکتا تھا۔ حاضرین و مقربین مودب و خاموش منتظر رہتے تھے کہ خلیفہ گفتگو کا سلسلہ شروع کرے تو عرض معروض کی جائے۔ احمد کا یہ رسوخ ہوا کہ اُن کو اس کی پابندی نہ رہے جب چاہتے گفتگو کرتے تھے، ابنائے جنس میں یہ خصوصیت انھیں کو حاصل تھی‘‘۔

شہرستان قنسرین1 میں 160 ہجری776-77ء میں پیدا ہوئے۔ جب جوان ہوئے تو اپنے باپ کے ساتھ (جو تجارت کے لیے شام جاتے تھے) دمشق پہنچے۔ یہاں ہیاج بن علاء سلمی جو واصل بن عطاء معتزلی کے اصحاب میں شمار کیے جاتے ہیں درس دیا کرتے تھے۔ ابن ابی دواد نے مقیم ہو کر اُنھیں کے مدرسہ میں علوم و فنون کی تحصیل و تکمیل شروع کی۔ ہر فن کے حصول میں بڑی محنت کرتے تھے خصوصًا فقہ و حدیث کے اخذ میں کوشش کا پورا حق ادا کیا اور وہ کمال حاصل کیا کہ آج تک مشہور ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ 202 ہجری817-18ء میں مامون الرشید نے خراسان سے یحییٰ بن اکثم کو بصرہ کا قاضی مقرر کر کے بھیجا جب وہ وہاں پہنچے۔ تو اپنی کم سنی کے باعث ان کو خیال ہوا، کہ کوئی ایسی بات نہ ہو کہ لوگوں کو حرف گیری کا موقع ملے، اہل علم و ادب کا ایک گروہ اپنی مصاحبت میں رکھا۔ اُنھیں میں ایک ابن ابی دواد بھی تھے۔

204 ہجری819-20ء میں مامون الرشید جب دارالسلام بغداد میں آیا۔ یحییٰ بن اکثم کو فرمان بھیجا کہ تمہارے اصحاب و احباب میں جو لوگ صاحب فضل و کمال ہوں اُن کو انتخاب کر کے بھیج دو کہ جب مذاکرہ علمیہ ہو، میری مجلس میں حاضر رہا کریں۔ یحییٰ نے بیس آدمیوں کو چُنا، پھر بیس میں دس کو انتخاب کیا، پھر دس میں پانچ کو مخصوص کیا، ان سب میں ابن ابی دواد شامل تھے۔

جب سے مامون کی مجلس میں داخل ہوئے ہمیشہ علما کے ساتھ حاضر ہوا کرتے تھے اور ہر مرتبہ ظہورِ فضل و کمال کی وجہ سے اُن کی قدر بڑھتی جاتی تھی۔ رفتہ رفتہ سبھوں سے ان کا رتبہ بڑھ گیا۔

بعض لوگوں نے ان کے رسوخ کی وجہ اور لکھی ہے، خود ابن ابی دواد سے نقل کرتے ہیں کہ اُنھوں نے کہا کہ ایک دن فقیہوں کی ایک جماعت کے ساتھ میں یحییٰ بن اکثم کی مجلس میں حاضر تھا۔ ناگاہ ایک شاہی چوبدار آیا اور اُس نے خلیفہ مامون الرشید کی جانب سے یحییٰ کو پیغام دیا کہ آپ خود اُن علما کے ساتھ جو موجود ہیں، بارگاہِ خلافت میں حاضر ہوں۔ یحییٰ فورًا اُٹھے اور باوجود یہ کہ مجھے ساتھ لے جانے میں وہ خوش نہ تھے۔ لیکن ہمراہ گئے۔ ہم لوگ مامون کے سامنے پہنچے اور بیٹھے۔ ایک لحظہ کے بعد مامون نے ایک مسئلہ چھیڑ دیا۔ حاضرین مناظرہ و مباحثہ کرنے لگے۔ جب سب چُپ ہو گئے، میں نے گفتگو شروع کی۔ میری تقریر خلیفہ کو بہت پسند آئی۔ اظہار شفقت کے لیے میری طرف متوجہ ہو کر میرا نام و نسب دریافت کیا۔ میں نے بیان کیا۔ پھر خلیفہ نے پوچھا کہ اب تک اس مجلس میں شریک کیوں نہیں ہوئے تھے؟ (ابن ابی دواد کہتے ہیں) اصل حال کہتے ہوئے کہ یحییٰ کو میری شرف یابی منظور نہ تھی، مجھے لحاظ ہوا۔ میں نے معذرۃً کہا حبسہ المقدور بلوغ الکتاب اجلہ (یعنی مقدر نے دیر لگائی)۔ خلیفہ نے فرمایا کہ اب میں بطریق حکم خلافت قاعدہ مقرر کرتا ہوں کہ اب سے جہاں اور جب علما میرے حضور میں حاضر ہوں تمہیں بھی آنا چاہیے۔ میں نے بسر و چشم قبول کیا۔

ابراہیم بن حسن کا بیان ہے کہ لیلۃ العقبہ میں جن انصاریوں نے رسولﷺ سے بیعت کی تھی، ایک مرتبہ اُن کا تذکرہ مامون کی مجلس میں ہو رہا تھا۔ ہر شخص اپنی تحقیق کے موافق اُن لوگوں کے نام و تعداد کی تفصیل بیان کرتا تھا۔ اتنے میں احمد بن ابی دواد بھی پہنچ گئے اور اس گفتگو کے سُنتے ہی اُن انصاریوں میں سے ایک ایک کا نام اور کنیت بے غور و فکر بیان کر دی۔ مامون بہت خوش ہوا اور کہا کہ جو شخص دانش مندوں کے فیض کا خواہاں ہو وہ ابن ابی دواد کو اپنی مصاحبت میں رکھے۔ ابن ابی دواد نے کہا کہ جس دانش مند کو تقربِ سلطانی کی آرزو ہو، وہ حضور کی بارگاہ میں حاضر رہے کہ جو بات نہ جانتا ہو اُس کو سیکھ جائے اور جو کچھ جانتا ہو وہ اپنے سے زیادہ جاننے والے کے حضور میں عرض کرے۔

مشہور ہے کہ مامون الرشید نے اپنے ولی عہد اور بھائی معتصم کو وصیت کی تھی کہ احمد بن ابی دواد کو کبھی اپنے سے جدا نہ کرنا۔ انجام مہمات میں ان سے مشورہ لیا کرنا اور جو وہ کہیں اُس کو قبول کرنا۔اگر میری اس وصیت پر عمل کرو گے اور اُن کے مشورہ کے خلاف نہ چلو گے تو کبھی خطا نہ ہو گی اور عمر بھر کسی دوسرے امیر یا وزیر کی محتاجی نہ رہے گی۔

218 ہجری833-34ء میں جب مامون کا انتقال ہو گیا اور معتصم نے مسند خلافت پر جلوس فرمایا تو یحییٰ بن اکثم کو معزول کر کے ان کی جگہ احمد بن ابی دواد کو قاضی القضاۃ مقرر کیا اور محمد بن عبدالملک زیات کو صدر اعظم بنایا۔ کُل انتظامات ملکی و ملّی انھیں دونوں دانش مندوں کے سپرد کیے۔ ابن ابی دواد کا تقرب معتصم کی بارگاہ میں سبھوں سے بڑا ہوا تھا ابن خلکان لکھتے ہیں حتى كان لا يفعل فعلاً باطناً ولا ظاهراً إلا برأيه، ’’یہاں تک کہ خلیفہ کوئی کام باطنًا و ظاہرًا بغیر ان کی رائے کے نہیں کرتا تھا‘‘۔ اسی وجہ سے ابن زیات اور ان میں شکر رنجی تھی، خلیفہ سے دونوں ایک دوسرے کی شکایت کیا کرتے تھے۔

کتابوں میں مذکور ہے کہ ابن ابی دواد کی تقریر ایسی جادو بھری ہوئی تھی کہ جس بات کو وہ لوگوں سے کہتے سب بطوع و رغبت‌خوشی اور رضامندی سے قبول کر لیتے تھے۔ ابن ابی دواد کا مقولہ تھا کہ میں ابن زیات کے سامنے خلیفہ سے کبھی عرض حاجت نہیں کرتا تھا کہ مبادا وہ میرے طریق بیان کو سیکھ کر خلیفہ کے قلب کو تسخیر نہ کر لے۔

ایک دفعہ حسین بن ضحاک شاعر نے ایک متکلم سے کہا کہ احمد ابن ابی دواد ہم شاعروں کے نزدیک علم ادب اور لغت سے واقف نہیں، تم متکلموں کے نزدیک وہ اصولِ عقائد نہیں جانتا اور فقہا اُس کو فقیہوں میں شمار نہیں کرتے۔ لیکن جب وہ معتصم کی مجلس میں جاتا ہے اپنے کو ایسا دکھاتا ہے کہ گویا ہر علم و فن پر محیط ہو رہا ہے۔

حمدون بن اسماعیل کا بیان ہے کہ معتصم جیسا ابن ابی دواد کا معتقد تھا۔ میں نے کسی کو ایسا اعتقاد کسی سے نہیں دیکھا، معتصم کو ادنے ادنے چیزوں کے دینے میں بھی مضائقہ ہوتا تھا۔ مگر ابن ابی دواد جس وقت آتے، اپنے یگانوں، متوسلوں، بیت اللہ کے مجاوروں، روضۂ نبویؐ کے خادموں اور مشرق و مغرب کے رہنے والوں کے لیے سفارش کرتے اور معتصم کو ان کے کہنے کے ساتھ ہی ہزاروں کے خرچ میں بھی کبھی تامل نہ ہوتا تھا۔ ایک دن خراسان میں نہر بنانے کی سفارش کی، اس میں دس لاکھ کا صرف تھا معتصم نے انکار کیا اور کہا کہ اس قدر دور دراز ملک میں نہر اگر نہ بنے گی تو میرا کیا نقصان ہو گا۔ ابن ابی دواد نے کہا ’’امیر المومنین! خداوند تعالیٰ جیسا کہ آستان خلافت کے باشندوں کے حقوق کو استفسار فرمائے گا ویسا ہی تمام رعایائے ممالک محروسہ کی حاجت روائیوں کے بارے میں پوچھے گا، خدا نے اپنی عام مخلوق کو آپ کے سپرد کیا ہے، کالے، گورے، پاس رہنے والوں، دُور افتادوں کا اس میں امتیاز نہیں اگر حضور نہر بننے کا حکم دے دیں تو اس ایک حکم سے کئی فائدے ہوں گے، ابدالآباد تک صدقہ جاریہ کا ثواب پہنچا کرے گا، ملک کا استحفاظ ہو گا، پیداوار بڑھے گی، خلق اللہ کا نفع ہو گا، اور خلایق میں نیک نامی ہو گی‘‘۔ لازوں کا بیان ہے کہ احمد جب کہہ کر چُپ ہوئے، معتصم نے فورًا حکم دیا اور اس قدر مبلغ خطیر کا صرف بے توقف منظور کر لیا۔