مذہب اسلام سیر و سیاحت کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار دنیا کے ملکوں میں سفر کرنے اور عجائبات قدرت کے مشاہدہ کرنے کی رغبت لائی گئی ہے۔ جناب امیر علیہ السلام کے وہ اشعار اکثر لوگوں کو یاد ہوں گے جن میں انہوں نے فرمایا کہ ”اگر ناموری اور بزرگی تلاش کرنی ہے تو وطن سے پردیس میں نکل جاؤ اور سفر کرو کیونکہ سفر کرنے میں پانچ فائدے ہیں۔ رنج و ملال کافور ہوتا ہے۔ روزی حاصل ہوتی ہے۔ علم کو ترقی ہوتی ہے۔ اخلاق سدھرتے ہیں۔ بزرگوں کی صحبت نصیب ہوتی ہے اگر کوئی کہے کہ سفر میں ذلت اور تکلیف ہے۔ جنگلوں کا طے کرنا اور مصیبتوں کا جھیلنا ہے تو اس سے کہہ دو کہ جوان آدمی کے لئے حاسدوں اور بدگویوں کے مجمع میں ذلت کے ساتھ قیام کرنے سے مر جانا بہتر ہے1۔
مسلمانوں کو قدیم سے سیر و سیاحت کا چسکا تھا۔ اور ان کے سفر کے اغراض بھی مختلف تھے ایک گروہ تجارت کی غرض سے نکلا اور دور دراز ملکوں میں پھیل گیا۔ ایک گروہ نئے ملکوں کو فتح کرنے اٹھا اور مشرق سے مغرب تک کھوند ڈالا۔ ایک گروہ علما کا تھا جنہوں نے حدیث کی تلاش میں اسپین سے عراق اور عراق سے اسپین تک سفر کیا۔ بہت سے ایسے تھے جو حج کے بہانہ سے کھڑے ہوئے اور حرمین کی زیارت سے فارغ ہو کر جدھر کو منہ اٹھا دور تک نکل گئے ان سیاحوں کی تعداد بتانی مشکل ہے۔ علامہ مقری نے اپنی تاریخ نفح الطیب من غصن الاندلس الرطیب میں بطور نمونہ کے (72) شخصوں کے حالات بیان کیے ہیں۔ جنہوں نے مشرق سے اندلس کا سفر کیا۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اس تعداد میں چار مسلمان عورتیں بھی شریک ہیں۔ اس کے سوا (305) اشخاص وہ ہیں جنہوں نے اندلس سے مشرق کا سفر کیا۔ ان میں علما، شعرا، ادبا، محدثین، فقہا، سپہ سالار اور ہر طبقہ کے مسلمان شامل ہیں۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ کس جوش اور کثرت کے ساتھ ہر ملک کے مسلمان اطراف دنیا میں سفر کرتے تھے۔ اگرچہ مسلمان سیاحوں کے حالات لکھنا ہمارے موضوع سے خارج ہے مگر ہم اس موقع پر ان بعض مشہور سیاحوں کے نام گنواتے ہیں۔ جنہوں نے سیر و سیاحت کے بعد ملکوں کے جغرافیے یا سفر نامے قلمبند کئے۔ اور ان جغرافیوں یا سفر ناموں کی نسبت بعض مفید اطلاعیں درج کرتے ہیں۔
یعقوبی جو ابن واضح کے نام سے مشہور ہے اور جو 277ھ کے قریب ہوا۔ اس کی کتاب البلدان 1861ء میں لیڈن میں چھاپی گئی ہے۔ اس کتاب کا ایک حصہ جو افریقہ شمالی کے متعلق ہے۔ 1860ء میں پروفیسر دی جو یہ کے اہتمام سے لیڈن میں علیحدہ طبع ہوا ہے۔
ابن خردادبہ جس نے 300ھ میں وفات پائی اس کی کتاب المسالک و الممالک 1889ء پروفیسر دی جو یہ کے اہتمام سے لیڈن میں چھپائی گئی ہے اس کتاب میں مقامات کے فاصلے بیان کئے ہیں۔
ہمدانی المتوفی 334ھ کا جغرافیہ جزیرۃ العرب کے نام سے 1891ء میں لیڈن میں چھاپا گیا ہے۔ پروفیسر ڈیوڈ ہائنرخ مولر نے جو جرمن کا مشہور عالم ہے اس کتاب کے مختلف نسخوں کا مقابلہ کر کے نہایت صحت کے ساتھ مع حواشی و انڈکس کے دو جلدوں میں چھپوایا ہے۔ اس جغرافیہ میں عرب کے قبائل، ان کے مقامات بود و باش اور عرب کی مختلف حصوں کی زمین آب و ہوا نباتات معدنیات پر مفصل بحث کی ہے۔ سب سے عجیب بات جو اس کتاب میں ہے وہ یہ ہے کہ مصنف نے یمن کی ان کتابوں اور نوشتوں کا ذکر کیا ہے جو مُسند یعنی پیکائی حروف میں کھودی گئی ہیں۔
ابو اسحاق اصطخری جغرافیہ کا مشہور عالم ہے جس نے 340ھ میں ہندوستان سے بحر اوقیانوس تک سفر کیا بلادِ اسلامیہ کے مفصل حالات قلمبند کئے۔ جغرافیہ میں اس کی عمدہ تصنیف کتاب الاقالیم ہے جو اب تک نہیں چھپی۔ مگر اس کی دوسری کتاب مسالک و الممالک 1870ء میں لیڈن میں چھپ چکی ہے۔
مسعودی المتوفی 346ھ مشہور مورخ اور جغرافیہ نویس ہے۔ اس نے 300ھ کے بعد عین عالم شباب میں سیر و سیاحت شروع کی اور ملک فارس ہندوستان، تبت، جزیرہ سیلون، جھیل کاسپین کے آس پاس کے ملکوں اور عرب کے جنوبی اضلاع ملک شام سلطنت روم اور سوڈان اور افریقہ کے بعض خطوں میں سفر کیا اور اخیر عمر میں وہ کبھی ملک شام میں قیام کرتا تھا کبھی ملک مصر میں عباسی خلیفہ المطیع للہ کے عہد حکومت میں اس نے جغرافیہ اور تاریخ پر کتابیں لکھنی شروع کیں۔ اس کی سب سے وسیع اور جامع کتاب اخبار الزمان ہے جو آج تک نہیں چھپی مگر اس کی کتاب مروج الذہب بولاق میں 1283ھ میں دو جلدوں میں اور پیرس میں 1861ء میں اور 1871ء کے درمیان پروفیسر باربیہ دی مینار اور پروفیسر بافت دی کورتایل کے اہتمام سے معہ فرانسیسی ترجمہ کے 9 جلدوں میں چھاپی گئی ہے۔ اہل یورپ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ کتاب نویں صدی عیسوی کے مشرقی تمدن اور تاریخ اور جغرافیہ کی معلومات کے لئے ایک جامع انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس میں تینوں براعظم کی اور خاص کر افریقہ، ہندوستان اور وسط ایشیا کی تاریخ اور جغرافیہ پر نہایت مفصل بحث کی گئی ہے۔ اس کی ایک اور تصنیف کتاب التنبیہ والاشراف کے نام سے 1894ء میں پروفیسر دی جویہ کے اہتمام سے چھاپی گئی ہے جو مشرقی جغرافیہ کے سلسلے میں شامل ہے۔
ابن حوقل 367ھ کے قریب تھا موصل کا سوداگر اور مشہور سیاح ہے جس نے 331ھ سے 359ھ تک سیر و سیاحت کی۔ وہ بغداد سے اٹھا اور تمام بلادِ اسلامیہ اور ملک بربر کا سفر کیا۔ اور عراق اور فارس اور اسپین میں پھرتا رہا۔ اس کے سفر نامے کا نام المسالک و الممالک و المفاوز و المہالک ہے جس کے چند اجزا بون اور لیڈن میں 1871ء میں چھاپے گئے ہیں۔ فرینچ اور انگریزی میں اس کتاب کا ترجمہ بھی ہو گیا ہے۔
علامہ بشاری جو 375ھ کے قریب تھا ایک نہایت نامور مسلمان سیاح ہے جس کے سفر نامہ کا نام احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم ہے۔ اس کتاب میں بلادِ اسلامیہ کا جغرافیہ نہایت تفصیل سے لکھا گیا ہے اور پروفیسر دی جو یہ کے اہتمام سے 1877ء کے درمیان لیڈن میں چھاپی گئی ہے۔
البیرونی جس نے پانچویں صدی ہجری کے وسط میں وفات پائی۔ ریاضی اور تاریخ اور جغرافیہ کا مشہور عالم ہے۔ اس نے ہندوستان کا سفر کیا اور ہندوؤں کے علوم و فنون اور لٹریچر اور ہندوستان کے حالات پر ایک بسیط اور جامع کتاب لکھی جس کا نام کتاب الہند ہے۔ اور جو پروفیسر زاخاؤ کے اہتمام سے 1888ء میں لنڈن میں چھاپی گئی ہے۔
ابو عبیداللہ البکری (المتوفی 487ھ) پانچویں صدی ہجری کا جغرافیہ دان عالم ہے جس کی کتاب معجم ما استعجم گاٹنجن میں پروفیسر ویٹنفیلڈ کے اہتمام سے 1877ء میں دو جلدوں میں چھاپی گئی ہے۔ ایک کتاب افریقہ شمالی کے جغرافیہ پر ہے جو الجزائر میں پروفیسر دی سیلان کی نگرانی میں 1857ء میں طبع ہوا۔ غالباً اس کا نام المسالک و الممالک ہے۔
ادریسی جو 549ھ کے قریب تھا اس نے عالم طفولیت میں قرطبہ کا سفر کیا۔ پھر تمام اندلس اور شمالی افریقہ اور ایشیائی کوچک میں سیاحت کی۔ جزیرہ سسلی کے فرمانروا روجرس ثانی نے جو علما کے ساتھ فیاضی اور قدر شناسی سے پیش آتا تھا اس کو اپنے دربار میں طلب کیا اور اس نے وہیں بیٹھ کر ایک کتاب جغرافیہ میں تصنیف کی جو 549ھ میں تمام ہوئی۔ اس میں افریقہ اور اسپین کا مفصل جغرافیہ اور مقامات کے فاصلے بیان کئے گئے ہیں۔ یہ کتاب پروفیسر دوزی اور پروفیسر دی جو یہ کے اہتمام سے مع فرانسیسی ترجمہ کے 1866ء میں لیڈن میں چھاپی گئی ہے۔ اور اس کا نام نزہۃ المشتاق ہے۔ اس کی ایک اور کتاب ملک اٹلی کے جغرافیہ پر ہے جو پروفیسر آماری کے اہتمام سے روم میں 1883ء میں طبع ہوئی ہے اس کے ساتھ اٹالین کا ترجمہ بھی ہے۔ ایک اور کتاب فلسطین اور ملک شام کے جغرافیے پر ہے جو بون میں 1885ء میں چھپائی گئی ہے۔
یاقوت حموی (المتوفی 626ھ) ایک یونانی غلام تھا جو بچپن میں شہر بغداد میں ایک سوداگر کے ہاتھ فروخت کیا گیا۔ اس نے یاقوت کی تعلیم وتربیت میں کوشش کی اور سوداگری کی تقریب سے اس کو مختلف ملکوں میں لے گیا۔ 591ھ میں یاقوت اپنے آقا سے جدا ہوا اور بذات خود تجارت میں مشغول ہوا۔ 610ھ میں اس نے ایک بڑے سفر کا ارادہ کیا 617ھ میں جب وہ ترکستان کے قریب پہنچا تو مغلوں اور ترکوں کی غارت گری اور حملوں سے ڈرا آگے نہ بڑھ سکا۔ اثناء سفر میں اس نے تین سال تک مرو کے عظیم الشان کتب خانوں کے سیر کی اور اپنی معلومات میں اضافہ کیا۔ اس کی جامع اور بسیط جغرافی تصنیف کا نام معجم البلدان ہے جو 1866ء اور 1873ء کے درمیان لپزگ میں 6 جلدوں میں چھاپی گئی ہے۔ اس کی دوسری کتاب جو مشترک کے نام سے مشہور ہے 1846ء میں گاٹنجن میں طبع ہوئی ہے۔
