ابن الخطیب نے غرناطہ کی تاریخ میں ابن جبیر کے شیوخ اور اساتذہ کی فہرست دی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے زمانہ کے بڑے بڑے محدثوں، ادیبوں، فقیہوں سے تعلیم پائی تھی۔ یہ تمام علما اندلس سے عراق تک پھیلے ہوئے تھے اور اپنے اپنے فن میں اجتہاد کا منصب رکھتے تھے۔ چنانچہ ایک مختصر فہرست ان علما کی اس مقام پر دی جاتی ہے۔
| نمبر شمار | نام | کیفیت |
| 1 | احمد بن جبیر الکنانی | ابن جبیر کا باپ جو محدث اور فقیہ تھا |
| 2 | ابوالحسن بن ابی العیش | |
| 3 | ابو عبداللہ بن عروس | |
| 4 | ابن الاصیلی | |
| 5 | ابو الحجاج بن بسیون | ادب کا مشہور عالم تھا۔ |
| 6 | ابو عبداللہ بن عیسی التمیمی | سبتہ کا مشہور محدث تھا۔ |
| 7 | ابو الولید بن سبکتہ | |
| 8 | ابو ابراہیم بن اسحاق الغشانی | تونس کا نامور عالم تھا۔ |
| 9 | ابو حفص عمر الیانجی | مکہ میں حدیث کا درس دیا کرتا تھا۔ |
| 10 | ابو جعفر احمد بن علی القرطبی | |
| 11 | ابو الحجاج یوسف بن احمد البغدادی | |
| 12 | صدرالدین خجندی | مشہور واعظ جو بغداد اور اصفہان میں شافعیوں کا سرگروہ خیال کیا جاتا تھا۔ |
| 13 | جمال الدین بن الجوزی | مشہور واعظ جو بغداد میں حنبلیوں کا پیشوا تھا۔ |
| 14 | ابو الحسن احمد بن حمزہ | دمشق کا مشہور عالم تھا۔ |
| 15 | ابو سعید بن ابی عصرونی | محدث |
| 16 | ابو الطاہر برکات الخشوعی | محدث |
| 17 | ابو القاسم بن عساکر | محدث |
| 18 | عمادالدین بن حامد الاصفہانی | عماد کاتب اسی عالم کی نسل سے تھا۔ |
| 19 | ابو الولید اسمعیل بن ابراہیم | |
| 20 | حسین بن ہبتہ اللہ الربعی | |
| 21 | عبدالرحمن صوفی | |
| 22 | ابو البرکات حیان بن عبدالعزیز | حران میں علم کلام کا بڑا عالم تھا۔ |
ابن جبیر جب مشرق کے سفر سے واپس آیا تو اس نے اندلس میں حدیث کا درس دینا شروع کیا۔ اس ملک کے بہت سے علما اس کے حلقہ درس میں شریک اور اس کے فیض صحبت سے مستفیض ہوئے اندلس کے علاوہ مصر اور شمال افریقہ میں بھی جہاں اس نے مختلف اوقات میں قیام کیا اس کے بہت سے شاگردوں نے فقہ اور حدیث میں اس سے تعلیم پائی۔ ابن الخطیب نے اس کے شاگردوں کی بھی ایک مختصر فہرست دی ہے جو یہاں درج کی جاتی ہے۔
(1) ابو اسحق بن مہیب (2) ابو تمام بن اسمعیل (3) ابو الحسن بن عبداللہ البجائی (4) ابو الحسن شاری (5) ابو سلیمان بن حوط اللہ (6) ابو ذکر (7) ابو بکر یحییٰ بن ابی الغصن (8) ابو عبداللہ بن حسن (9) ابو العباس بن عبدالمومن الشریشی (10) ابو محمد بن تامتیت (11) ابن محمد الموروری (12) ابو عمرو بن سالم (13) عثمان بن سفیان التمیمی (14) رشید الدین بن عطاء اللہ (15) رشید الدین بن عطار (16) فخرالقضاۃ ابن جیاب (17) جمال القضاۃ ابن فخر القضاۃ
مذکورہ بالا علما میں سے جنہوں نے ابن جبیر سے تعلیم پائی ابو العباس بن عبدالمومن ایک مشہور ادیب ہے جس نے مقامات حریری کی نہایت لطیف شرح لکھی ہے اور جو آج کل بہت متداول ہے۔ رشید الدین بن عطاءاللہ نے اسکندریہ میں۔ رشید الدین بن عطا فخر القضاۃ اور جمال القضاۃ نے مصر میں ابن جبیر سے حدیث کا درس لیا اور اس ملک کے شیوخ حدیث میں شمار ہونے لگے۔ علامہ مقریزی نے مصر کی تاریخ میں ابو محمد المنذری اور ابو الحسین یحییٰ بن علی القرشی کو بھی جو مصر کی حفاظ حدیث میں شمار کئے گئے ہیں۔ ابن جبیر کی تلامذہ کی فہرست میں داخل کیا ہے۔ ابن جبیر کی تصنیفات جو ابن خطیب نے گنوائی ہیں ان کی تعداد بہت قلیل ہے۔ تمام مورخوں کے نزدیک حدیث، فقہ ادب اور انشا پردازی میں کامل تھا مگر اس کی تصنیفات میں حدیث اور فقہ کی کوئی کتاب نظر نہیں آتی ادب میں ایک اس کا دیوان ہے جو حجم میں ابو تمام طائی کے دیوان کے برابر ہے ایک چھوٹا سا رسالہ منظوم ہے جس کا نام نتیجہ وعدالحوائج ہے اس رسالہ میں ابن جبیر نے وہ مرثیے درج کئے ہیں جو اس نے اپنی بیوی ام المجد کے مرنے پر لکھے تھے ایک اور رسالہ نظم الجمان کے نام سے مشہور ہے اور اس میں وہ اشعار درج کئے ہیں جو اس کے قلم سے وقتاً فوقتاً اہل زمانہ کی شکایت میں نکلے ہیں ابن الخطیب اور علامہ مقری نے اس کے بہت سے اشعار نقل کئے ہیں ان میں سے ایک قصیدہ وہ ہے جو اس نے مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر لکھا ہے اور اس میں نہایت جوش و خروش سے اپنی مذہبی فیلنگ کو ظاہر کیا ہے جو رسولﷺ کے روضہ مبارک کے دیکھنے سے ہر مسلمان کے دل میں پیدا ہوتی ہے ایک قصیدہ سلطان صلاح الدین کی مدح میں ہے جس میں ابن جبیر نے ان عاملوں کی شکایت کی ہے جو اسکندریہ کے کسٹم ہاؤس میں حاجیوں سے جبراً محصول لیتے تھے۔ یہ دونوں قصیدے خاص کر اس کی نظموں میں مشہور ہیں۔ اسی طرح ایک قصیدہ ہے جس میں اس نے ابن شکر کی شکایت کی ہے جو حجاز میں غریب الوطن حاجیوں سے ٹیکس وصول کرتا تھا۔
متفرق اشعار اور قصاید کے علاوہ ابن الخطیب نے اس کے بہت سے سجھے اور نصیحت آمیز فقرے نقل کئے ہیں مگر وہ فقرے بہ نسبت پند و نصائح کے زیادہ تر سجع تجنیسی خطی اور دیگر صنایع و بدایع پر مبنی ہیں۔
سوائے سفرنامہ کے نثر کی کوئی کتاب ابن جبیر کی تصنیفات میں نہیں ہے سفرنامہ کی نسبت اختلاف ہے۔ ابن الخطیب نے ابن جبیر کے شاگرد ابو الحسن شاری کا یہ قول نقل کیا ہے کہ سفر نامہ اس کی تصنیفات سے نہیں ہے۔ جو مضامین سفرنامہ میں درج ہیں ان کو ایک شاگرد نے سن کر موجودہ ترتیب دی ہے مگر ہمارے نزدیک ابن الخطیب کی یہ روایت صحیح نہیں ہے جس طرح ابن بطوطہ کے سفرنامے کو ابن جزی نے مرتب کیا اور اس کے قرائن خود ابن بطوطہ کے سفرنامہ میں موجود ہیں۔ اس طرح کوئی اندرونی شہادت ابن جبیر کے سفرنامہ میں ایسی نہیں ہے۔ جس سے یہ کہا جا سکے کہ ابن جبیر کے کسی شاگرد نے اس کی زبانی روایتوں کو مرتب کیا ہو گا۔
