جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اقبال کا تصورِ زمان و مکان

اقبال کا تصورِ زمان و مکان1

اقبال نے اپنے کلام، خطبات2 اور دوسری تحریروں میں جن بنیادی مسئلوں پر غور و فکر کیا ہے، ان میں زمان و مکان کا سائنسی اور فلسفیانہ مسئلہ بھی شامل ہے جو ان کے زیر نظر بہت زیادہ رہا ہے، حتیٰ کہ خطبات کا بیشتر حصہ محض اسی مسئلے کی توضیح و تشریح اور اس کے اطلاقات پر مشتمل ہے۔ اس کی روشنی میں انہوں نے مذہب اور الہیات کے مختلف اصولوں پر غائر نظر ڈالی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ زمان و مکان کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

’’دوسری طرف اسلامی تہذیب کی تاریخ کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خالص ذہنی مسائل ہوں یا مذہبی نفسیات، یعنی اعلیٰ تصوف کے مسائل ہوں، سب کا نصب العین اور مقصود یہی ہے کہ لامحدود کو محدود کے اندر سمو لیا جائے۔ ظاہر ہے کہ جس تہذیب کا یہ مطمح نظر ہو اس میں زمان و مکان کا سوال درحقیقت زندگی اور موت کا سوال ہے۔‘‘ (خطبات، ص 184)

اقبال کو یقین تھا کہ اگرچہ سائنس اور حکمت محدود ہیں۔ اور ہماری قلبی واردات اور روحانی زندگی کے لیے مشعل راہ نہیں بن سکتے لیکن اس کے باوجود سائنسی علم انسان اور انسانیت کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ چنانچہ جاوید نامہ، پیامِ مشرق اور رموزِ بیخودی میں وہ اپنے خیال کی ترجمانی اس طرح فرماتے ہیں:

گفت حکمت را خدا خیرِ کثیر

ہر کجا ایں خیر را بینی بگیر

ترجمہ خدا نے حکمت کو خیرِ کثیر کہا ہے، جہاں کہیں بھی تو اس بھلائی کو دیکھے، اسے لے لے۔

علمِ اشیاء علم الاسماستے

ہم عصا و ہم یدِ بیضاستے

ترجمہ چیزوں کا علم دراصل علم الاسماء ہی ہے، یہ عصا بھی ہے اور یدِ بیضا بھی ہے۔

علم حرف و صوت را شہپر دہد

پاکی گوہر بہ ناگوہر دہد

ترجمہ علم، حرف اور آواز کو پر دیتا ہے، اور ناقابِل جوہر کو بھی جوہر کی پاکیزگی عطا کرتا ہے۔

علم را بر اوجِ افلاک است رہ

تا ز چشمِ مہر بر کندد نگہ

ترجمہ علم کی رسائی آسمانوں کی بلندیوں تک ہے، تاکہ وہ سورج کی آنکھ سے بھی نگاہ چرالے۔

نسخۂ او نسخۂ تفسیرِ کل

بستۂ تقدیرِ او تقدیرِ کل

ترجمہ اس کا نسخہ کُل (کائنات) کی تفسیر کا نسخہ ہے، اور کُل کی تقدیر اس کی تقدیر سے وابستہ ہے۔

دشت را گوید حبابے دہ دہد

بحر را گوید سرابے دہ دہد

ترجمہ وہ صحرا سے کہتا ہے کہ ایک بلبلہ دے تو وہ دیتا ہے، اور سمندر سے کہتا ہے کہ ایک سراب دے تو وہ دیتا ہے۔

چشمِ او بر واردات کائنات

تا بہ بیند محکماتِ کائنات

ترجمہ اس کی (صاحبِ علم کی) نظر کائنات کے واقعات پر ہوتی ہے، تاکہ وہ کائنات کے بنیادی اصولوں کو دیکھ سکے۔

دل اگر سوزد بحق پیغمبری است

ور ز حق بیگانہ گردد کافری است

ترجمہ اگر دل حق کے لیے جلتا ہے تو یہ پیغمبری ہے، اور اگر حق سے بیگانہ ہو جائے تو یہ کافری ہے۔

اقبال طبیعی سائنس میں بھی ایک قسم کی روحانیت پاتے ہیں۔ اور کائنات کے متعلق تحقیق و بحث کو عبادت کی ایک قسم قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ خطبات میں لکھتے ہیں:

’’غرض کہ جو تشریح ہم نے اوپر دی ہے وہ طبیعی سائنس کو ایک نئی روحانیت عطا کرتی ہے۔ نیچر کا علم خدا کی خدائی کا علم ہے۔ جب ہم نیچر کا مشاہدہ کرتے ہیں تو گویا ہم انائے مطلق سے قریب تر ہوتے ہیں، اور یہ بھی ایک قسم کی عبادت ہے۔‘‘ (خطبات، ص 77)

اس وجہ سے بھی اقبال ضروری سمجھتے تھے کہ جدید سائنس کے اصول کا کماحقہ مطالعہ کیا جائے اور ان کی روشنی میں فلسفے اور مذہب کے بنیادی مسئلوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ زمان و مکان اور علمیت کے مسئلے اقبال کی نظر میں بنیادی اور اہم مسئلے ہیں اور بغیر ان کے الہیات کی تشکیل نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

’’قرون وسطیٰ سے لے کر موجودہ زمانے تک انسانی تخیل اور تجربے نے ناقابل بیان ترقی کی ہے۔ نیچر پر انسان کا تسلط اور اقتدار بہت بڑھ گیا ہے۔ اس تسلط نے انسان میں ایک نئی روح پھونک دی ہے اور اس امر کا ایقان پیدا کر دیا ہے کہ وہ کائنات میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے اور درحقیقت اشرف المخلوقات ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمان اور مکان اور علمیت کے بارے میں انسانی ذہن بہت آگے نکل گیا ہے۔ سائنس کی جدید ترقیوں نے ہماری ذہنی صلاحیتوں میں تدریجی طور پر ایک انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ آئن سٹائن‌Einstein کے نظریۂ اضافیت نے کائنات کے ایک جدید تخیل کو ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے اور ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ ہم فلسفے اور مذہب کے اکثر اہم مسئلوں کو ان جدید تصوروں کی روشنی میں دیکھیں اور ان کی مدد سے حل کریں۔‘‘ (خطبات، ص 10)

اس ایقان کے تحت اقبال اپنے خطبات میں جا بجا زمان اور مکان کے مختلف قدیم و جدید نظریوں پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں اور ان کی صحت اور غلطی کے بارے میں تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ اس مضمون میں ہمارا مقصد یہ ہے کہ ان قدیم اور جدید نظریوں کی سلسلہ وار تشریح کریں اور اس بات کو واضح کریں کہ اقبال کن تصوروں سے متفق تھے اور کن خیالات سے انہیں اختلاف تھا۔ اس طرح اس بنیادی مسئلے کے متعلق خود اقبال کے خیالات کی ایک واضح تصویر ہمارے سامنے آ جائے گی۔

زمان و مکان کے متعلق عوام کا تصور

زمان اور مکان کے بارے میں عامیانہ تصور کچھ اس طرح کا ہوتا ہے: ایک دن میں جو واقعات رونما ہوتے ہیں وہ ایک سادہ ترتیب سے واقع ہوتے ہیں، جس طرح کہ ایک مالا میں موتی ایک ترتیب سے یکے بعد دیگرے پروئے ہوئے ہوتے ہیں۔ مالا کو ہم ’’وقت‘‘ سمجھ سکتے ہیں اور واقعات کی جو ترتیب ایک دوسرے کے لحاظ سے ہوتی ہے وہ ’’پہلے‘‘ اور ’’بعد‘‘ کے الفاظ سے تعبیر کی جا سکتی ہے۔ جس طرح مالا میں دو موتیوں کے درمیان بعض حصے خالی ہوتے ہیں اسی طرح ممکن ہے کہ دو واقعات کا درمیانی وقت ’’خالی‘‘ گزرے جس میں کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہوا ہو جس کا ہمارے ذہن پر کوئی خاص اثر ہو۔ ہمارا ذہن اس کو ’’خالی‘‘ آن قرار دے گا۔

غرض ہمارے ذہن میں وقت کے گزرنے کا ایک احساس ہوتا ہے اور اس طرح ہم ’’تھوڑی دیر‘‘ اور ’’زیادہ دیر‘‘ کا اندازہ لگاتے ہیں۔ پھر جب ہم دوسرے انسانوں سے بات چیت کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ سب کے ذہن میں وقت گزرنے کا احساس ایک ہی سا ہے۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ وقت ایک خارجی شے ہے جو انسان کے شعور سے اس طرح گزرتا ہے جیسے کوئی دریا یا ایک پل کے ستونوں میں سے ہوتا ہوا بہتا ہے۔ یعنی یہ کہ وقت گویا ایک مسلسل سیال شے ہے۔ سائنس میں وقت کے اس بہاؤ کا ٹھیک اندازہ ان واقعات کے ذریعے کیا جاتا ہے جو ایک دوسرے سے مساوی فصل پر رونما ہوتے ہیں۔ مثلاً سورج یا کسی ستارہ کا نصف النہار پر سے گزرنا یا ایک گھڑی کی ٹک ٹک یا ایک برقی نظام کے جھولنے کی حرکت وقت کے فصلوں کو ناپنے کے کام میں لائی جاتی ہے۔