جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اقبال کے چند جواہر ریزے (حصہ اول)

ڈاکٹر شیخ سر محمد اقبال علیہ الرحمہ سے پہلی بار ملاقات کا شرف مجھے نومبر 1920ء میں حاصل ہوا۔ اس سے پہلے میں اپنی طالب علمی کے زمانہ سے بیسیوں بار ان کو دور سے دیکھ چکا تھا۔ اسلامیہ اسکول لاہور کی طالب علمی کے زمانہ میں جب کبھی انجمنِ حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسے میں ڈاکٹر صاحب تشریف لاتے تو ہر شخص کی زبان پر ہوتا ”آج ڈاکٹر اقبال نے آنا ہے“۔ ہر کس و ناکس وہاں موجود ہوتا۔ آپ بالعموم لے سے اپنی نظم پڑھا کرتے تھے۔ پہلی نظم جو میں نے ان کی زبان سے بغیر ترنم کے سنی ”شکوہ“ تھی، اس کے بعد ”شمع و شاعر“ اور ”جوابِ شکوہ“ (جو موچی دروازہ کے باغ میں پڑھی گئی)۔ پھر دوبارہ ترنم ”خضر راہ“ سے شروع ہوا جو اسلامیہ اسکول دروازۂ شیرانوالہ کے صحن میں پڑھی گئی تھی۔ ان دنوں ڈاکٹر صاحب کی طبیعت قدرے علیل تھی اس لیے نظم مذکور گاؤ تکیہ کے سہارے بیٹھ کر پڑھی تھی۔

اس زمانہ سے پہلے مجھ جیسے شخص کے لیے ڈاکٹر صاحب کا نام، ان کی شکل و صورت اور ان کا ترنم ہی باعثِ کشش ہوتا تھا۔ اسکول اور کالج کے زمانہ میں ہر مسلمان طالب علم کو ڈاکٹر صاحب کے کچھ نہ کچھ اشعار (اور لاہور میں تو ہر ملت کے طلبہ کو) یاد ہوتے تھے۔ اور مجلسیں ان اشعار کے ترنم سے گرمائی جاتی تھیں۔ کالج کے زمانہ میں مَیں ڈاکٹر صاحب کو ہر روز مشن کالج کے دروازہ سے باہر والی سڑک پر اپنی مختصر سی گاڑی (گگ) میں چیف کورٹ سے واپس آتے دیکھتا تھا۔ چہرہ سرخ، سنہری مونچھیں، سرخ ترکی ٹوپی اور سیاہ سوٹ، ہاتھوں میں گھوڑے کی باگ، غرض اسی شان سے ہر روز تفریح کی گھنٹی میں مجھے دور سے ان کی زیارت نصیب ہوتی تھی۔ لاہور میں ہم لوگوں میں ”ڈاکٹر صاحب“ کا لقب، ”صرف اقبال“ ہی کے لیے وقف تھا، اس لیے آئندہ سطور میں مَیں اسی لقب سے یاد کروں گا۔

نومبر 1920ء میں ہندوستان بھر میں تحریکِ عدمِ تعاون زوروں پر تھی۔ لاہور میں کانگریس کے کارکنوں کی خاص توجہ اسلامیہ کالج کی طرف مبذول تھی۔ مسلمان اور ہندو اکابر لاہور میں جمع تھے اور ان کی ہدایات کے مطابق کانگریسی کارکنوں نے اسلامیہ کالج میں ”جماعتوں“ کا کام تقریبًا نا ممکن کر دیا تھا۔ خود اسلامیہ کالج کی ہستی معرض خطر میں تھی۔ ڈاکٹر صاحب ان دنوں انجمنِ حمایتِ اسلام لاہور کے جنرل سکرٹیری تھے۔ چنانچہ ایک روز کالج کے چند پروفیسروں نے (جن میں راقم الحروف بھی شامل تھا) فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں چل کر ان متضاد فتووں اور قرار دادوں کے متعلق، جن کی بارش ہر سمت سے کالج پر ہو رہی تھی، ان کی رائے دریافت کی جائے۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت انارکلی والے مکان میں مقیم تھے اور حسبِ عادت آرام کرسی پر بیٹھے تھے۔ حقہ پاس تھا، (میں نے انھیں ان کی قیام گاہ میں حقہ کے بغیر کبھی نہیں دیکھا)۔ ڈیڑھ دو گھنٹوں تک تحریکِ عدمِ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوتی رہی، اس سے معلوم ہوا کہ ابھی انھوں نے اس تحریک کی ضرورت اور صحت کے متعلق کوئی قطعی رائے قائم نہیں کی۔ گاندھی جی کی انھوں نے بہت تعریف کی اور، جو کام وہ ہندو قوم کی بہتری کے لیے کر رہے تھے، اسے مدنظر رکھتے ہوئے فرمانے لگے کہ کوئی تعجب نہ ہو گا اگر ہندؤں کی آئندہ نسلیں انھیں اوتار تسلیم کر لیں۔ ہم لوگوں نے دریافت کیا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے، ظریفانہ انداز میں فرمایا ”جس قدر کام کالج میں ہو سکتا ہے، کرتے جاؤ، ہاں بھئی یہ ڈر ہے کہ کالج ٹوٹ نہ جائے اور آپ لوگوں کو تلاشِ روزگار کی زحمت اٹھانی پڑے۔ سو میرا مشورہ یہ ہے کہ ایک وقت کا کھانا کاٹ دو، میں نے بھی یہ کام شروع کیا ہے اور میری صحت پر اس کا اثر بہت اچھا پڑا ہے۔ اس پر قہقہہ پڑا اور ہم لوگ واپس آئے۔

اس کے بعد مجھے گاہے گاہے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملتا رہا، اور 1924ء سے 1927ء تک تو شاید کوئی ہفتہ ایسا نہ تھا جس میں ان کی خدمت میں ایک یا دو بار حاضری کا اتفاق نہ ہوا ہو، ان صحبتوں میں طرح طرح کی باتیں ہوتی تھیں، اگر کوئی اور صاحب موجود نہ ہوتے تو میں ان سے بعض باتوں اور مسائل کے متعلق سوالات کرتا جن کا وہ کمالِ مہربانی سے شافی جواب مرحمت فرماتے۔ میرے ذمہ ایک فرض یہ تھا کہ فلسفہ اور جنرل سائنس کے متعلق جو اچھی اور تازہ چھپی ہوئی کتاب نظر سے گزرے اسے ان کی خدمت میں پیش کروں، اور پیش کرنے سے پہلے پڑھ لوں، چنانچہ کتاب لیتے وقت وہ مجھ سے اس کے متعلق رائے پوچھتے ہوئے اچھا خاصا امتحان لے لیا کرتے تھے۔

ڈاکٹر صاحب کی زبانِ فیض ترجمان سے جو ہزار ہا جواہر ریزے بکھرتے رہے ہیں، ان میں سے چند (جو مجھے یاد ہیں اور جن میں کوئی ایسی بات نہیں جو کسی کے لیے بارِ خاطر ہو) میں نے یہاں جمع کیے ہیں، ان میں ان باتوں کو درج نہیں کیا ہے جن میں ملّی یا سیاسی معاملات پر تفصیلی بحث تھی، یا جن میں فلسفہ یا سائنس کے دقیق مسائل پر بحث تھی، ایسی باتوں کو بھی ترک کر دیا گیا ہے جن کا تعلق ذاتیات سے ہے، ایسی باتیں بھی نہایت پر لطف اور سبق آموز ہوتی تھیں، لیکن ان کا شائع کرنا مناسب نہیں۔

ڈاکٹر صاحب کی یاد ان کے عقیدت مندوں کے دلوں میں ابھی تازہ ہے، وقت گزرتا جائے گا، اور ان کی شخصیت کے خط و خال ذہن میں دھندلے پڑتے جائیں گے، اس وقت ہر اس شخص کے پاس جو ان کی خدمت میں حاضر ہوا (اور ایسے اشخاص کی تعداد ہزار ہا ہے،) ان کا کوئی نہ کوئی ذہنی تبرک ضرور موجود ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ ان تبرکات کو جمع کر دیا جائے، افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو زندگی میں کوئی بوسوِل (Boswell) نہ ملا، اس لیے درخواست ہے کہ جن بزرگوں اور دوستوں کو ان سے ملنے کا اکثر اتفاق ہوا ہو وہ ان کے جواہر ریزوں کو ضائع ہونے نہ دیں اور جلد تر انھیں دنیا کے سامنے پیش کریں، ڈاکٹر صاحب کے سیرت نگاروں کو اس مواد سے فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ ”عبدالحمید“

(1)ایک روز طہارت کے اسلامی قواعد کا ذکر اتفاقًا چھڑ گیا، اس سلسلہ میں غیر مسلم قوموں کی طہارت بھی معرض بحث میں آئی، ڈاکٹر صاحب فرمانے لگے، ”میں جب طالب علمی کے سلسلہ میں انگلستان گیا تو میرا لوٹا میرے ساتھ تھا، میں جب کبھی رفع حاجت کے لیے غسلخانہ جاتا، تو میرا لوٹا میرے ساتھ ہوتا، چند روز اسی طرح گذرے، آخر میری میزبان یعنی مالکئہ مکان (Land lady) سے رہا نہ گیا (یہ خاتون پچاس سال کے لگ بھگ ہوں گی اور میرے ساتھ نہایت مہربانی سے پیش آتی تھیں) مجھ سے پوچھنے لگیں، یہ چیز تم غسلخانے میں کیوں لے جاتے ہو، میں نے ان سے کہا کہ اسلامی طہارت کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ قضائے حاجت کے بعد صرف کاغذ یا مٹی کے ڈھیلے کا استعمال کافی نہیں ہے، بلکہ پانی سے استنجا کرنا بھی ضروری ہے، چنانچہ اس موضوع پر گفتگو شروع ہوئی، میں (یعنی ڈاکٹر صاحب) نے ان کے سامنے طہارت اور غسل کے اسلامی اصول بیان کیے، مثلاً یہ کہ غسلِ جنابت مسلمان مرد اور عورت پر اسی طرح فرض ہے جس طرح عورت پر طُہر کا غسل، میں نے کہا، بڑی بی، کسی خاص غسل کی تو آپ کو اب حاجت نہ ہو گی، البتہ طہارت کے لیے پانی ضرور استعمال کیا کیجیے، یہ باتیں سن کر بڑی بی بہت خوش ہوئیں اور فرمانے لگیں کہ ضرور ایسا کروں گی، مسلمانوں کے یہ قواعد نہایت پاکیزہ ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ سائنس داں اور اہل طب کو اسلامی قواعدِ طہارت کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیئے اور اس سلسلہ میں جو کام اہل فقہ نے کیا ہے اسے بغور پڑھنا چاہیئے۔