جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کانشنس اور اخلاق پر ایک دلچسپ مکالمہ

افعال انسانی کے حسن و قبح کا مسئلہ فلسفہِ اخلاق کا ایک معرکۃالآرا مسئلہ ہے۔ زمانہ دراز تک اس پر علمی مباحثے ہوا کئے ہیں اور مختلف نظریے فلسفی گروہوں نے اختیار کئے ہیں۔ جن سے وہ افعال انسانی کے حسن و قبیح ہونے کی توجیہ کرتے ہیں۔ اس مضمون پر ایک دلچسپ فرضی مکالمہ مصر کے نامور علمی رسالے المقتطف میں شائع ہوا تھا جس میں ان تمام فلسفی مذاہب کا ذکر آجاتا ہے جو حسن و قبح کی نسبت قائم ہو چکے ہیں۔ ناظرینِ معارف کے لئے ہم اس مکالمے کا ترجمہ چھاپنا موزوں اور مناسب خیال کرتے ہیں۔ اور امید ہے کہ غور سے پڑھا جائے گا۔

بدیہی۔ سب سے پہلے میں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کانشنس سے میری کیا مراد ہے اور اخلاق سے کیا مقصد ہے۔ میں کانشنس کے لفظ سے نفس انسانی کی قوت مراد لیتا ہوں جس کی رو سے ہر شخص کسی فعل کو برا جانتا ہے اور کسی کو اچھا خیال کرتا ہے۔ ایک فعل کے کرنے کو واجب بتاتا ہے۔ دوسرے کے کرنے کو منع کرتا ہے۔ ایک فعل کے کرنے والے کو اچھا جان کر اس کی مدح و ثنا کرتا ہے۔ دوسرے کے مرتکب کو برا سمجھ کر قابل مذمت قرار دیتا ہے۔ کسی کام کو پسند کرنا یا نا پسند کرنا اسی قوت کا کام ہے۔ اگر ہم اس کی اطاعت کریں تو مطمئن رہتے ہیں۔ اگر اس کے حکم سے سرتابی کریں تو ندامت اٹھاتے ہیں۔ اپنے دعوے کی وضاحت کے لئے میں ایک مثال بیان کرتا ہوں۔ مثلاً جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک زبردست اور قوی ہیکل آدمی ایک کمزور اور ناتواں شخص کو مارتا ہے اور اس کا مال لوٹنا چاہتا ہے تو اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ ہم میں سے ہر ایک یہی فتویٰ دیتا ہے کہ زبردست کا فعل برا ہے یا وہ راہ راست پر نہیں ہے۔ اس کے بعد ہم فوراً اس رائے پر پہنچتے ہیں کہ اس فعل کو روکنا لازم ہے اور اس فعل کے مرتکب کو لعنت و ملامت کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور اس کو اور اس کے فعل کو دل سے برا جانتے ہیں۔ اس وقت کانشنس نے جو اثر ہمارے دل میں ڈالا وہ یہ ہے کہ ہم نے اچھے اور برے فعل میں تمیز کی اور ایک کو لائق تحسین اور دوسرے کو قابل نفرت ٹھہرایا اور اس سے نفرت یا پسندیدگی کا احساس ہمارے دل میں پیدا ہوا۔

یہ تو کانشنس کی تعریف ہوئی۔ اب میں زیادہ وضاحت کے لئے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس بحث میں جب افعال کا ذکر کیا جائے تو اس سے عاقل بالغ اشخاص کے افعال مراد لئے جائیں۔ کیونکہ ہم مثلاً کسی جانور کے فعل کو اچھا یا برا نہیں کہتے نہ یہ کہتے ہیں کہ افعال ان جانوروں کو اختیار کرنے چاہئیں اور وہ افعال ترک کر دینے چاہئیں اچھا ہونا یا برا ہونا انسانوں کے افعال پر بولا جاتا ہے جو اپنے ارادے سے ان افعال کے فاعل ہوتے ہیں اور ان کے نتائج کو سمجھنے کی قابلیت رکھتے ہیں اس لیے ہم ان افعال کو اخلاقی افعال کہیں گے تاکہ دیگر افعال سے ان کی تمیز ہو سکے۔ پس اخلاق سے اس وقت ہمارے نزدیک وہ افعال مراد ہیں جن کی نسبت یہ کہہ سکیں کہ ان کا کرنا اچھا یا برا ہے۔

میں یہ ذکر کرنا بھی ضروری جانتا ہوں کہ میرے نزدیک کانشنس غلطی کرنے سے معصوم نہیں ہے بلکہ اس سے غلطی کا صادر ہونا ممکن ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ غلطی یا دھوکے سے اچھے فعل کو برا اور برے فعل کو اچھا بتانے لگے اس کا سبب یہ ہے کہ خاص قسم کی تعلیم یا تربیت کا اس پر اثر ہو جاتا ہے اور وہ اسی تعلیم اور تربیت کے سایے میں اور اسی کے متوازی اپنی رفتار جاری کرتا ہے۔ مگر کانشنس کیسا ہی غیر معصوم ہو، اس کے موافق عمل کرنا واجب ہے۔

ایک اور بات ہے جس کی طرف میں حاضرین کی توجہ کو مبذول کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تمام انسانوں کے کانشنس بعض افعال کی نسبت برے ہونے کا اور بعض کی نسبت اچھے ہونے کا فتویٰ دیتے ہیں اور ایک قسم کے افعال کے کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اور دوسری قسم کے افعال سے منع کرتے ہیں۔ گویا کہ خدا نے ہر ایک کانشنس میں افعال کے حسن و قبح کی تصویر کھینچ دی ہے۔ اس لئے جب عقل انسانی نشوونما کرتی ہے اور کانشنس بیدار ہوتا ہے اور انسانی افعال پر نظر ڈالتا ہے تو اس وقت جو تصویر خودبخود اس کے سامنے موجود ہو جاتی ہے اس پر قیاس کر کے فوراً یہ رائے دیتا ہے کہ ان میں سے کون سے افعال اچھے ہیں اور کون سے برے ہیں۔ پس جس طرح انسان کے دل میں پہلے سے مربع، مثلث، دائرہ وغیرہ ہندسی شکلوں کی تصویریں منقوش ہیں اور کل کا جز سے بڑا ہونا وغیرہ اولیات اور بدیہیات پہلے سے اس کے ذہن میں موجود ہیں اور وہ جب کبھی بیرونی محسوسات میں ویسی ہی باتیں سنتا اور ویسی شکلیں دیکھتا ہے تو فوراً ان کو بغیر کسی وقت کے پہچان جاتا ہے اسی طرح جو صورتیں افعال کے حسن و قبح کی ہر انسان کے ذہن میں پہلے سے موجود رہتی ہیں ان پر قیاس کر کے فوراً ان افعال کے حسن و قبح کو پہچان جاتا ہے جن کو اول ہی نظر میں دیکھتا ہے۔ یہ مذہبِ فلاسفہ بدیہیتین کا ہے اور میں اسی مذہب کو مانتا ہوں۔ اس اخیر کے بیان سے میرا مطلب یہ ہے کہ افعال کا اچھا ہونا یا برا ہونا دو صفتیں ہیں جو افعال میں ذاتی طور پر موجود ہیں۔ ہر انسان جب ان کو اپنے ذہن کی تصویروں سے مقابلہ کرتا ہے تو فوراً ان کو پہچان جاتا ہے اور ان کی امداد سے فتویٰ دیتا ہے کہ وہ افعال اچھے ہیں یا برے ہیں۔ افعال کا حسن و قبح کوئی نسبتی اور اضافی چیز نہیں ہے جو کانشنس کے موجود ہونے پر موجود ہو اور اس کے زائل ہونے پر دور ہو جائے۔

پہلا معترض۔ میں نہیں جانتا کہ آپ ہم کو دھوکے میں ڈالنا چاہتے ہیں یا ہم سے ہنسی کر رہے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ آپ کے نزدیک کانشنس سے کیا مراد ہے اور وہ کہاں سے آیا۔ اگر کانشنس فی الحقیقت انسان میں موجود ہوتا جس طرح کہ ہماری آنکھوں میں دیکھنے اور ہمارے کانوں میں سننے اور ہمارے دماغوں میں سوچنے اور سمجھنے کی قوت موجود ہے تو اس میں ذرا بھی شک نہیں ہے کہ تمام انسانوں کے کانشنس ایک ہی رائے دیتے، جس طرح کہ تمام انسانوں کی آنکھیں مادی چیزوں کو یکساں دیکھتی ہیں اور ان کے کان آوازوں کو یکساں سنتے ہیں اور ان کے دماغ ایک ہی طرح سے سوچتے اور سمجھتے ہیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک انسان کا کانشنس دوسرے کے کانشنس کے برخلاف فتویٰ دیتا ہے (اگر فی الواقع کوئی کانشنس موجود ہے) بعض انسان چوری کو جائز سمجھتے ہیں۔ بعض اس کو ناجائز ٹھہراتے ہیں۔ بعض انسان والدین یا اولاد کے قتل کو حلال جانتے ہیں اور بعض اس کو قطعی حرام سمجھتے ہیں۔ اسی طرح بعض کے نزدیک تعدادِ ازدواج کا مسئلہ درست ہے بعض کو اس سے مطلق انکار ہے۔ اسی پر قیاس کرو کہ ان میں باہم کس قدر اختلافِ آرا ہے۔ پس اگر کانشنس موجود ہوتا جیسا کہ دعویٰ کیا گیا ہے تو یہ اختلاف ہرگز نہ ہوتا۔

بدیہی۔ افسوس ہے آپ نے یہ بھی نہیں سمجھا کہ جس دعوے پر آپ نے شدومد سے اعتراض کیا ہے اسی کو آپ نے اپنے انکار سے ثابت کردیا۔ کیونکہ جب بعض آدمی ان افعال کو اچھا سمجھتے ہیں جن کو بعض دوسرے برا جانتے ہیں تو گویا ان سب کی رائے یہ ہے کہ حسن و قبح کی صفت افعال میں موجود ہے اور ان کی یہ رائے ظاہر ہے کہ اسی کانشنس کے ذریعہ سے پیدا ہوئی ہے جس کا آپ نے انکار کیا تھا پس کیسی تعجب کی بات ہے کہ اس انکار سے آپ کا اقرار ثابت ہو گیا۔

میں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا

معترض۔ کیا آپ کی اصطلاح میں ہر ایک وہ قوت جس کی مدد سے ہم افعال کے حسن و قبح کو پہچان سکیں کانشنس ہے۔ اگر یہ صحیح ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہر انسان کا کانشنس برے کاموں پر اس کو ملامت کرے حالانکہ دنیا کی بہت سی وحشی قومیں ہیں جو قوانین اخلاقی سے تجاوز کر کے زنا، قتل، چوری اور غارتگری کی مرتکب ہوتی ہیں مگر ان کا کانشنس ان کو ان افعال ذمیمہ پر کبھی ملامت نہیں کرتا۔