اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

خلافتِ اسلامیہ

عرضِ حال

علامہ ڈاکٹر سر اقبال نے آج سے چودہ سال پیشتر سنہ 1908ء میں لندن‌London کے رسالہ ’’سوشیالوجیکل ریویو‌Sociological Review‘‘ میں جب ترکی میں انقلاب1 ہو رہا تھا۔ ایک فاضلانہ مضمون اسلام اور خلافت کے متعلق تحریر فرمایا تھا۔ اب سنہ 1922ء میں ہمارے فاضل دوست چودھری محمد حسین صاحب ایم اے سکریٹری نواب سر ذو الفقار علی خان صاحب (لاہور) نے اس مضمون کا ترجمہ کیا ہے۔ اور اس قابلیت سے کیا ہے۔ کہ اس سے بہتر، صحیح، معتبر، سلیس اور صاف ترجمہ ہونا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔

راقم الحروف ممدوحی علامہ ڈاکٹر صاحب اور مکرمی جناب چودھری صاحب کا دلی شکر گذار ہے۔ کہ دونوں اصحاب نے نہایت مہربانی اور فراخ دلی سے خاکسار کو اس کے طبع کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔

علامہ ممدوح کی سحر آفرین نظموں نے ہندوستان کے علاوہ افغانستان۔ ایران اور انگلستان تک اپنا سکہ بٹھایا ہے۔ اور خود گورنمنٹ نے نائٹ ہڈ‌Knighthood (سر) کا معزز و جلیل القدر خطاب عطا فرما کر ان کی علمی اور شاعرانہ قابلیتوں کا اعتراف کیا ہے۔ مگر اب علامہ ممدوح کے پُر از معلومات اسلامی، علمی، تاریخی مضامین اور لیکچر بھی پبلک کی خدمت میں پیش کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔ ’’خلافت اسلامیہ‘‘ اس سلسلہ کی پہلی کڑی اور اس وعدہ کی پہلی قسط ہے۔ امید ہے ناظرین اس کے مطالعہ سے بے حد محظوظ ہوں گے۔

محمد الدین فوق۔ 23 مارچ سنہ 1923ء۔ دفتر اخبار کشمیری، لاہور

عرب جاہلیت اور طریقِ انتخابِ رئیس

زمانۂ جاہلیت میں ملکِ عرب کئی مختلف قبائل پر منقسم تھا۔ جو ہمیشہ باہم دگر برسرِ پیکار رہتے تھے۔ ہر قبیلہ کا جدا گانہ سردار، جدا گانہ معبود اور جدا گانہ شاعر ہوتا تھا۔ شاعر کا جذبۂ حبِ قومی اپنے قبیلہ کے اوصاف و فضائل کی شان و عظمت کو منصۂ شہود پر لانے میں صرف ہوتا تھا۔ اگرچہ ان ابتدائی اجتماعی نظاموں میں ایک خاص حد تک باہمی تعلقات قائم تھے تاہم یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیادت اور آنحضرتﷺ کے مذہب کی عالمگیرانہ حیثیت کا کرشمہ تھا، کہ امارت و ریاست کے وہ تمام منتہا و مقاصد جن کے لئے ہر قبیلہ ساعی و سرگرداں رہتا تھا، حرفِ غلط کی طرح اعراب کے صفحۂ ضمیر سے محو و مفقود ہو گئے۔ اور جھونپڑوں اور خیموں میں بسر کرنے والے ایک مشترک و وسعت طلب نظام میں بصورتِ ملتِ واحدہ جلوہ نما ہونے لگے۔ اس حقیقت کو واضح تر کرنے کے لئے ہمارے مقاصدِ مبحث اس امر کے مقتضی ہیں کہ ہم مبادیات ہی میں عرب قبائل کے مراسمِ وراثت و دستورِ جانشینی کے تمام پہلوؤں کو باتفصیل بیان کر دیں۔ اور اس نظام اور ضابطہ کا ذکر کر دیں جو کسی سردارِ قبیلہ کی وفات کے وقت قبیلہ کے ارکان کو ملحوظ رکھنا ہوتا تھا۔

جب کسی عرب قبیلہ کا سردار یا شیخ مر جاتا۔ تو قبیلہ کے تمام اکابر ایک جگہ جمع ہوتے۔ اور ایک دائرہ کی شکل میں مجلس منعقد کر کے جانشینی کے معاملہ پر بحث و تمحیص کرتے۔ قبیلہ کا کوئی رکن جس کو معتبر و مقتدر خاندانوں کے اکابر و رؤسا باتفاقِ رائے منتخب کر دیں قبیلہ کا رئیس بن سکتا تھا۔ بقول وان کریمر‌Von Kremer وراثتی بادشاہت کا مفہوم عرب دل و دماغ سے ہرگز مانوس نہ تھا۔ ہاں کبر سنی و بزرگی کا اصول جس کو موجودہ سلطنتِ ترکی کے نظامِ حکومت میں سلطان احمد اول کے زمانہ میں قانوناً تسلیم کر لیا گیا یقیناً انتخاب کے وقت منتخب کرنے والوں کو ملحوظ رکھنا پڑتا تھا۔ اگر کبھی یہ مشکل آ پڑتی کہ قبیلہ کا ایک حصہ ایک سردار کی حمایت میں ہو اور دوسرا انصف دوسرے کی حمایت میں ہیں تو دونوں فریق اُس وقت تک جب کہ ایک امیدوار اپنے حقوق سے دست بردار نہ ہو جائے، ایک دوسرے سے جدا رہتے۔ ورنہ بصورتِ دیگر شمشیر فیصلہ کرتی۔ جو سردار اس طرح منتخب ہوتا۔ قبیلہ کو اختیار تھا کہ اگر اس کی روِش کو جادۂ اعتدال سے منحرف پائے تو اُسے معزول کر دے۔ اسلام کے ظہور کے بعد جوں جوں عرب فتوحات کا سلسلہ بڑھتا گیا نظر و تدبر کے دائرے وسعت پکڑتے گئے۔ یہ ابتدائی رسم بتدریج بڑھتی ایک سیاسی اصول میں متبدل ہو گئی۔ جس کے وضع کرنے میں جیسا کہ ہم آگے چل کر بتائیں گے۔ اسلام کے ماہرین قانونِ اساسی نے نئے نئے سیاسی حالات اور تجربوں پر اپنے اجتہاد و تفقّہہ کی بنا رکھی۔

اسلام و دستورِ انتخابِ خلیفہ

پیغمبرِ عرب صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کی اس قدیم رسم کو قائم رکھا۔ رحلت کے وقت یا اس سے قبل اپنی جانشینی کے متعلق مسلمانوں کو کوئی ہدایات نہ فرمائیں۔ ایک حدیث میں مروی ہے۔ کہ بڈھا طفیل ابن عامر ایک دن پیغمبر خدا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور کہنے لگا۔ کہ ’’اگر میں اسلام قبول کر لوں۔ تو مجھے کیا مرتبہ یا منصب دیا جائے گا۔ کیا آپ اپنے بعد عرب کی حکومت کی باگ میرے ہاتھ میں دے دیں گے؟‘‘ رحمۃ للعالمین نے جواب دیا ’’حکومت کی باگ تو خود میرے ہاتھ میں نہیں تیرے ہاتھ میں کیا دوں گا‘‘ یہی وجہ تھی۔ کہ خانہ جنگی کے خطرہ سے بچنے کے لئے حضرت ابوبکرؓ کا انتخاب جو آنحضرتﷺ کے مشیر اور اکابر اصحاب میں سے تھے فوراً ہوا۔ اور بے قاعدگی کے ساتھ عمل میں آیا۔ اپنے انتخاب اور تقرر کے بعد حضرت ابوبکرؓ مجمع میں کھڑے ہوئے۔ اور مسلمانوں کو مخاطب کر کے پہلا خطبہ ان الفاظ میں دیا:۔

’’یا معشر الناس‌اے لوگوں کے گروہ! آج سے میں تمہارا حکمران ہوں۔ اگرچہ تم سب میں قابل ترین نہ ہوں۔ اگر میں شریعت کے مطابق عمل کروں۔ تم میری مدد کرو اور میرا ہاتھ بٹاؤ۔ اگر شریعت کے خلاف جاؤں۔ مجھے روکو اور میری اصلاح کرو۔ حق کی اطاعت کرو۔ کیونکہ حق ہی میں ہدایت و ایمان ہے۔ باطل سے بچو۔ کیونکہ باطل ضلالت و منافقت کا سرچشمہ ہے۔ تم میں سب سے زیادہ کمزور میری آنکھوں میں سب سے زیادہ قوی ہوگا۔ جب تک کہ میں اُس کی شکایات کو رفع نہ کر دوں۔ تم میں سب سے زیادہ قوی میری نگاہ میں سب سے زیادہ کمزور رہے گا۔ تاآنکہ میں اُس سے وہ حق چھین نہ لوں جو اُس نے غیر کا غصب کیا ہے۔ جو اللہ کی راہ میں جہاد کو ترک کرے گا۔ خدا اُسے ذلیل کر دے گا۔ تم میری اطاعت کرو۔ لیکن اُس وقت تک جب تک کہ میں خدا و رسول کی اطاعت کرتا ہوں۔ جس معاملہ میں مَیں خدا و پیغمبر کی اطاعت سے انحراف کروں تم میری اطاعت ترک کر دو‘‘

یہ سب سے پہلا انتخاب تو اس طریق پر ہوا۔ لیکن اس کے بعد جب حضرت عمرؓ خلیفہ منتخب ہوئے۔ تو آپ نے اس اہم مسئلہ پر اپنی رائے ان الفاظ میں ظاہر کی۔ کہ ’’حضرت ابوبکرؓ کا فوری انتخاب اگرچہ ضروریاتِ وقت و نتائج کے لحاظ سے نہایت مناسب اور برمحل ہوا۔ تاہم انتخاب کا یہ طریق مذہبِ اسلام میں اصولِ مسلمہ قرار نہیں دیا جا سکتا‘‘ چنانچہ ڈوزی‌Dozy کی کتاب (جلد اول صفحہ 121) میں آپ سے منقول ہے۔ ’’وہ انتخاب جو لوگوں کی جزوی رائے کے اظہار پر عمل میں آیا ہو منسوخ و مسترد سمجھنا چاہئے‘‘ ان باتوں پر بغور کرتے ہوئے ہمیں یہ ماننا پڑے گا۔ کہ اسلام ابتداء ہی میں اس اصول کو تسلیم کر چکا تھا۔ کہ فی الواقع اور عملاً سیاسی حکومت کی کفیل امین ملتِ اسلامیہ ہے نہ کہ کوئی خاص فرد و احد۔ ہاں جو عمل انتخاب کنندگان اس معاملہ میں کرتے ہیں۔ اس کے معنی صرف یہی ہیں۔ کہ وہ اپنے متحدانہ و آزادانہ عملِ انتخاب سے اس سیاسی حکومت کو ایک ایسی مختصر و معتبر شخصیت میں ودیعت کر دیتے ہیں جس کو وہ اس امانت کا اہل تصور کرتے ہیں۔ یوں کہو کہ تمام ملت کا ضمیرِ اجتماعی اس ایک فرد یا شخصیتِ منفردہ کے وجود میں عمل پیرا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقتاً اور صحیح معنوں میں فرد تمام قوم کا نمائندہ کہلا سکتا ہے۔ لیکن ایسے فرد کا مسندِ حکومت پر متمکن ہونا شریعت کے نزدیک اُسے کسی برتری یا ترجیح کا مستحق ہر گز نہیں بناتا۔ شریعتِ حقّہ کی نگاہ میں اس کی شخصی و ذاتی حیثیت بالکل وہی رہے گی جو ایک عام دوسرے مسلمان کی ہے۔ اُس کو اُن افراد پر جن کا وہ نمائندہ ہے سوائے اس حکومت کے جو شرعاً آئین کے نافذ کرنے کی غرض سے اسے حاصل ہے اور کوئی اختیار و اقتدار نہ ہوگا۔ نتیجہ یہ نکلا۔ کہ مذہبِ اسلام میں مسئلہ ’’قانونِ اساسی‘‘ کی بنیاد و تمام تر اتفاق و اتحادِ آرائے جمہورِ ملت کے بنیادی اصول پر قائم ہے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ کہ ’’کثرتِ ملتِ اسلامیہ جس امر کو مستحسن قرار دے وہ خدائے علیم و حکیم کی نگاہ میں بھی مستحسن ہوتا ہے‘‘۔ غالباً پیغمبر خدا کی اس حدیث کی سند پر امام اشعری نے اپنے اس سیاسی مسلّمہ کی بنیاد رکھی۔ کہ ’’ملت بحیثیتِ مجموعی کبھی باطل پر متفق و مجتمع نہیں ہو سکتی‘‘۔