جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کتابوں کا کیڑا

(1)

آج سے بیس سال پہلے مئی کا مہینہ تھا اور شام کا وقت۔ سُورج تمام دن خوب چمکتا رہا تھا۔ اور غالباً اسی واقعہ کی وجہ سے جسے میں بیان کرنا چاہتا ہوں، اس روز کی روشنی اور دھوپ کا احساس اس وقت تک میرے دل میں موجود ہے۔ جو سفید بادل میری کھڑکی کے سامنے کے حصۂ آسمان پر محوِ خرام تھے اب تک مجھے نظر آتے ہیں، اور میں اب بھی وہی تھکن سی محسوس کر رہا ہوں جو مجھے اس روز لندن کے درمیان گوشۂ تنہائی میں کام کرتے وقت تنگ کر رہی تھی۔

عین غروبِ آفتاب کے وقت میں گھر سے نکلا۔ ہوا میں ایک خلافِ معمول لطافت تھی۔ تازہ روشن کئے ہُوئے چراغوں کی قطاریں نیم تاریک آسمان کے نیچے ایک سنہری چمک پیدا کر رہی تھیں، فقط تفریح اور ہوا خوری کے مقصد سے میں کوئی آدھ گھنٹہ اِدھر اُدھر پھرتا رہا، حتٰی کہ اُس مقام پر پہنچا جہاں پورٹلینڈ بازار میرلبون روڈ سے جا ملتا ہے۔ راستے میں گرجا گھر کے زیرِ سایہ کتابوں کی ایک پُرانی دکان تھی جسے میں اچھی طرح جانتا تھا۔ کتابوں کی قطاروں پر چمکتے ہوئے گیس لیمپ نے مجھے دکان کی طرف کھینچا، جہاں پہنچ کر میں نے کتابوں کو دیکھنا شروع کیا۔ ایک ہاتھ سے میں ورق گردانی کرتا تھا اور دوسرے ہاتھ سے حسبِ عادت جیب ٹٹول رہا تھا کہ کس قدر رقم موجود ہے، آخرکار ایک خاص کتاب میرے دل پر غالب آ گئی، اور میں نے دکان کے اندر جا کر اس کی قیمت ادا کر دی۔

دوکان پر کھڑے ہوئے میں نے بے خیالی سے ایک اور شخص کو بھی اپنے قریب پا رہا تھا، جو میری طرح کتابوں کو دیکھنے میں مشغول تھا، اور جب میں کتاب خرید کر دوکان سے نکلا تو وہ شخص ایک خاص دلچسپی ظاہر کرنے والے نیم تبسم کے ساتھ میری طرف بڑے غور سے دیکھنے لگا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ کچھ کہنے کو ہے، میں آہستہ آگے چل دیا، تو وہ شخص بھی اُسی طرف چل پڑا، گرجا گھر کے عین سامنے اس نے دو چار لمبے لمبے قدم اُٹھائے اور میرے پہلو کے برابر آ کر بولا۔ ”معاف کرنا۔ آپ کو غلطی نہ ہو۔ میں صرف اتنا پوچھنا چاہتا تھا کہ جو کتاب آپ نے ابھی خریدی ہے کیا اُس کے سر ورق پر لکھا ہُوا نام بھی دیکھا ہے؟

اُس کی آواز کی مؤدبانہ لرزش نے قدرتاً میرے دل میں یہ خیال پیدا کیا کہ وہ کُچھ مانگنا چاہتا ہے، مگر بظاہر وہ کوئی عام گداگر معلوم نہیں ہوتا تھا۔ اُس کی عمر تقریباً ساٹھ برس قیاس کی۔ اُس کے لمبے باریک بال اور پریشان ڈاڑھی نیم سفید تھی، چہرے پر گوشت اور خون دونوں ندارد تھے۔ آنکھیں بھی مُرجھائی ہوئی تھیں، لباس نہایت خراب و خستہ تھا، مگر فیشن ایک فلاکت زدہ جنٹلمین کا سا تھا۔ اور واقعی اس کا طرزِ کلام بھی بتا رہا تھا کہ وہ ابتداءً کس طبقہ سے تعلق رکھتا تھا۔ جن الفاظ سے اس نے مجھے مخاطب کیا۔ اُن سے اس قدر ذہانت نیک طبعی اور ہمدردی انگیز شرمیلاپن ٹپکتا تھا کہ مجھے نہایت دوستانہ طریقے سے جواب دینے کے سوا چارہ نہ رہا۔ میں نے سرورق پر نام نہیں دیکھا تھا۔ مگر میں نے اُسی وقت کتاب کو کھولا اور گیس لیمپ کی روشنی میں دیکھا۔ یہ الفاظ نہایت خوشخط لکھے ہوئے تھے۔

”دبلیو۔ آر۔ کرسٹوفرسن۔ 1849ء“

اُس شخص نے دبی ہوئی آواز سے کہا، ”یہ میرا نام ہے۔“

میں نے کہا، ”اچھا؟ تو کیا یہ کتاب آپ کی تھی؟“

وہ شخص ذرا لرزتی ہوئی آواز سے ہنس کر بولا، ”ہاں یہ میری ہی تھی۔ کیا آپ نے کرسٹوفرسن لائبریری کے نیلام کے متعلق کبھی نہیں سنا؟“ اور معاً اپنے سر کو اُنگلی سے ٹھنگور کر بولا۔ ”یقیناً آپ اس وقت بہت خرد سال ہوں گے۔ یہ واقعہ 1860ء کا ہے۔ مجھے دوکانوں پر اپنے نام والی کتابیں دیکھنے کا اکثر اتفاق ہوتا ہے۔ آپ کے آنے سے ذرا پہلے میں اس کتاب پر اپنا نام دیکھ چُکا تھا۔ اور جب آپ کو اسی کتاب پر نظر ڈالتے دیکھا، تو میں اس بات کی تاک میں کھڑا رہا کہ آپ اس کو خریدتے ہیں یا نہیں؟ گستاخی اور قبل از وقت بے تکلفی معاف۔ کیا آپ خیال نہیں کرتے کہ کتابوں کے عاشق؟“

اس ادھورے سوال کو اُس کی آنکھوں نے پورا کیا، اور جب میں نے اُس کا مطلب سمجھ جانے اور اس سے متفق ہونے کا اظہار کیا تو اُس نے پھر ہلکی سی آواز میں ایک نیم قہقہہ لگایا اور میرے چہرے پر مستفسرانہ نظر ڈالتے ہوئے سوال کیا، ”کیا آپ بھی کوئی اچھی خاصی لائبریری رکھتے ہیں؟“

میں نے کہا۔ ”اجی نہیں۔ فقط دو تین سو کتابیں ہوں گی۔ اور یہ بھی ایک ایسے شخص کے لئے جس کا ذاتی مکان نہ ہو۔ حد سے زیادہ ہیں۔ اس پر وہ نہایت خوش مزاجی سے مسکرایا۔ اور سر جُھکا کر دھیمی سی آواز میں بولا۔ میری فہرست میں تعداد کتب 24718 تھی۔

میری حیرت اور دلچسپی بڑھتی جاتی تھی۔ مگر کچھ زیادہ سیدھے سوالوں کی جسارت نہ کرتے ہوئے میں نے پوچھا، ”جس وقت کا آپ ذکر کر رہے ہیں، کیا اُس وقت بھی آپ لندن میں رہتے تھے؟“

اُس نے نرمی سے جواب دیا، ”اگر آپ پانچ ایک منٹ دے سکیں تو میں ابھی آپ کو اپنا گھر دکھا دوں۔ اپنے گھر سے میری مراد اُس گھر سے ہے (ذرا ہنس کر) جو کبھی میرا تھا۔“

میں رضامند ہو کر ساتھ ہو لیا۔ وہ مجھے تھوڑی سی دُور اُس سڑک پر لے گیا جو ریجنٹ پارک کے گرداگرد جاتی ہے اور آخرکار ایک عالیشان بلند صحن والے مکان کے سامنے ٹھہر کر آہستہ سے کہا، ”یہاں میں رہا کرتا تھا۔ دروازے کے دائیں طرف وہ کھڑکی دیکھو، یہی میری لائبریری تھی۔ آہ!“

اس پر اس نے ایک ٹھنڈا سانس بھرا۔

میں نے ہمدردانہ لہجے میں کہا، ”تو آپ کو قسمت نے سخت دھوکا دیا!“

کہنے لگا، ”بس میری اپنی بیوقوفی کا نتیجہ ہے۔ میرے پاس میری ضروریات کے لیے خدا کا دیا کافی تھا، مگر میرا خیال تھا کہ مُجھے اس سے بھی زیادہ چاہیے، میں اپنے آپ کو تجارت کی طرف گھسیٹ لے گیا۔ میں! آہ میں! جو ایسی چیزوں کے متعلق کُچھ بھی واقفیت نہ رکھتا تھا! اور بس، میری تیرہ بختی کے دن آ گئے! ہائے بدنصیبی!“

وہاں سے ہم اُلٹے قدم واپس ہوئے۔ اور ٹہلتے ہوئے خاموشی کی حالت میں گرجا گھر کے قریب آ پہنچے، اور یہاں جب ہم اطرح رکے جیسا کہ ہم علیٰحدہ ہونے کو ہوں۔ تو کرسٹوفرسن نے ہلکے سے تبسم کے ساتھ مجھ سے دریافت کیا، ”شاید آپ نے میری کُچھ اور کتابیں بھی خریدی ہوں گی؟“

میں نے کہا، ”مجھے یاد نہیں کہ آج سے پہلے کبھی آپ کا نام دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو“ اور پھر یکایک بلا ارادہ میرے منہ سے نکلا، ”اگر آپ یہ کتاب لینا چاہیں تو بخوشی لے سکتے ہیں“۔ یہ سُن کر وہ ذرا جھجکا۔ اظہارِ بے نیازی کے الفاظ ہونٹوں میں دبائے، اور نہایت شکر گزاری سے میرا تحفہ قبول کر لیا۔ جب اُس نے کتاب ہاتھ میں لی تو فرطِ خوشی سے اس کے چہرے پر سُرخی کی لہر دوڑ گئی۔

ساتھ ہی ایسے انداز سے جیسے کوئی قابل شرم بات بتاتا ہے، بولا، ”اب تک بھی میرے پاس کُچھ کتابیں ہیں، لیکن شاذ و نادر ہی اُن میں اضافہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ میں آپ کا آدھا شکریہ بھی ادا نہیں کر سکا“۔

یہاں ہم نے مصافحہ کیا اور اپنی اپنی راہ لی۔

(2)

ان دنوں میں نے شہر کیمڈن میں رہائش اختیار کر رکھی تھی۔ شاید کوئی پندرہ دن کے بعد ایک روز پچھلے پہر کا وقت تھا کہ میں دو گھنٹے کی سیر کے بعد واپسی پر ہائی سٹریٹ میں کتابوں کی ایک دکان پر ٹھہرا۔ ایک شخص میرے قریب آیا۔ میں نے اُس پر نظر کی تو پہچان لیا کہ وہی کرسٹوفرسن ہے، ہم ایک دوسرے سے اس تپاک سے ملے جیسا کہ پُرانے دوست ملتے ہیں۔

فلاکت زدہ جنٹلمین نے جو دن کی روشنی میں پہلے سے زیادہ خستہ حال نظر آ رہا تھا، کہا، ”میں آپ کو پچھلے دنوں کئی بار دیکھتا رہا ہوں، مگر میں نے آپ کو بلانا مناسب خیال نہ کیا۔ میں رہتا بھی یہیں قریب ہی ہوں“۔

اپنے الفاظ کے مطلب پر غور نہ کرتے ہُوئے میں نے بھی یہی کُچھ کہا، اور ساتھ ہی دریافت کیا، ”کیا آپ اکیلے رہتے ہیں؟“

”اکیلا؟ نہیں حضرت، بیوی بھی ہے“۔

اب اُس کی آواز میں ایک عجیب قسم کی گھبراہٹ تھی، اُس کی نگاہیں نیچے جُھک گئیں اور اُس کے سر نے بھی بے چینی ظاہر کرنے والی ایک جنبش کی۔