لکھنؤ جانے کے واسطے جب ہم1 سب ملیح آباد اسٹیشن پہنچے۔ ریلوے کے عملے میں ہلچل مچ گئی۔ اسٹیشن ماسٹر دوڑا آیا، میرے باپ کو، جھک کر سلام کیا، ویٹنگ روم نہیں تھا، پلیٹ فارم پر کرسیاں، بنچیں، اور اسٹول رکھ دیئے گئے اور ہم سب، حسبِ مرتبہ ان پر بیٹھ کر، ریل کا انتظار کرنے لگے2۔
گاڑی کا انتظار، الامان والحفیظ۔ ایک ایک دقیقے میں، لاکھوں صدیوں کا فشار، اعصاب میں، رہ رہ کر اینٹھن سی ہو رہی تھی، کوئی متھے ڈال رہا تھا کلیجے کو۔ جدھر سے گاڑی آنے والی تھی، اُدھر گھبرا گھبرا کر دیکھتا، بار بار مشیر احمد خاں سے پوچھتا اب گاڑی کب آئے گی، اور وہ، ہر بار مسکرا کر، جواب دیتے کہ بس اب آ ہی رہی ہے۔ میں ابھی اوبھ ہی رہا تھا کہ ریلوے کے ایک بنگالی ملازم نے ٹن، ٹن، ٹن، ٹن، گھنٹی بجا کر نعرہ مارا کہ ”رحیم3 آباد سے گاڑی چھوڑا“۔ میں نے مشیر خاں سے پوچھا یہ ”گاڑی چھوڑا“ کیا کہہ رہا ہے، انھوں نے ہنس کر کہا، یہ آدمی بنگالی ہے، بنگالی اسی طرح بولتے ہیں۔ میں نے دریافت کیا، اب گاڑی میں کتنی دیر ہے، انھوں نے کہا بس پانچ منٹ کی دیر ہے، میرا دل، بلیوں اُچھلنے لگا۔
تھوڑی دیر میں دیکھا کہ گاڑی، کمر لچکاتی اور دھواں اڑاتی گھڑ گھڑ، گھڑ گھڑ چلی آ رہی ہے، مجھے اس کے دھوئیں میں گلستاں سے ناچتے نظر آنے لگے۔ اور جب وہ عین پلیٹ فارم سے، دھن دھن، دھڑا، دھڑ دھڑا دھڑ کرتی، گزرنے لگی، تو پلیٹ فارم تھرانے لگا، پلیٹ فارم کی تھرتھراہٹ میرے خون میں دوڑنے لگی، ارد گرد کے ذرے اچھلنے کودنے لگے، اور میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
جب ہم سب، اطمینان کے ساتھ بیٹھ گئے، گارڈ نے جھنڈی ہلائی، اس کی جھنڈی دیکھ کر میری اُمنگیں کہروا ناچنے لگیں۔ جھنڈی ہلا کر، گارڈ نے سیٹی بجائی۔ ہائے کیا سریلی سیٹی تھی۔ اس کے جواب میں انجن نے سیٹی دی۔ چوں چوں کے ساتھ، پہیوں کو حرکت ہوئی، اور گاڑی، بڑے ٹھسّے کے ساتھ، چلنے لگی چھک، چھک، چھک، چھک ـــــــ اور دل سے آواز آنے لگی بھک، بھک، بھک، بھک ـــــــ اور جب گاڑی کی رفتار میں تیزی آگئی تو ہوا کے ٹھنڈے جھونکے میرے چہرے سے یوں ٹکرانے لگے کہ میرے دل میں، ایک انوکھا سرور، سرسرانے لگا، اور جب رفتار اور بھی تیز ہو گئی، تو پٹری کے کھمبے اور آموں کے باغ گھومنے جھومنے اور ناچنے لگے۔ اور، پٹری کے نیچے کی نالی، اس قدر تیزی کے ساتھ، دوڑنے لگی گویا ریل سے ریس کر رہی ہے۔ یہ سماں دیکھ کر، میرے دل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی ”میں، زیرِ لب، گنگنانے لگا“ چھک ۔ چھک ۔ چھک ۔ چھک ۔ گانے دو۔ گانے دو۔ گانے دو، چھک، چھک، چھک، چھک جانے دو، جانے دو، بھئی جانے دو ۔ آ ہا ہا ہا گانے دو، او ہو، او ہو، جانے دو‘‘4۔
اور جب، گاڑی، کاکوری کے پُل سے، گڑم گڑم، گڑم کرتی گزرنے لگی تو، میرے دانتوں کے نیچے، دوالی کی مٹھائی کے کھلونے ٹوٹنے لگے کرُم، کرُم، کرُم۔ ملیح آباد اور لکھنؤ کے مابین فاصلہ ہی کیا ہے، لے دے کر، صرف تیرہ میل اور اس قرب کی بناء پر، ہماری گاڑی سیکڑوں کھڑی ہوئی گاڑیوں کی قطاروں کے درمیان سے، گھڑم، گھڑم، شائیں شائیں کرتی، اور صدہا، لائن بدلنے والی، اتصالی پٹریوں کو، قچ قچ قچاک کھچ کھچ کھچاک ، اور کٹ، کٹ، کٹاٹ، کاٹتی اور تراشتی ہوئی، کوئی بیس منٹ کے اندر ہی، چار باغ لکھنؤ جنکشن، پہنچ گئی ـــــــ
الامان والحفیظ!۔ چار باغ کی، طوفاں بدوش و قیامت در آغوش ہلچل، گہما گہمی، دھکا پیل، افرا تفری، نفسی نفسی، چیخ پکار ، گاؤں گہار، الا لاہٹیں، گھبراہٹیں، ریل پیل، شائیں شائیں، غائیں غائیں، دھڑام دھڑام، اور، ڈھوم، ڈھوم، ڈھائیں، ڈھائیں ـــــــ پھر اُس پر، دوڑتے ٹھیلوں کی ، جگر خراش، گھڑ گھڑاہٹیں، قلیوں کی، قلی قلی کے نعروں کے ساتھ ، لنگوری جتیں، بد حواس مسافروں کے ارّاٹے، خوانچے والوں کا شور و غوغا ۔ ٹکٹ چیکروں پولیس والوں، ریلوے افسروں، بوجھ اُٹھائے قلیوں ، اور بچوں کو کاندھوں پر بٹھائے بد حواس مسافروں کے مابین دھکم دھکا۔ شنٹنگ کے دھماکے، ہزاروں سیٹیوں کی آوازیں، دھویں کے لچھے، لچھوں میں ، گھسے ہوئے تر بتر پُرزوں اور جلے ہوئے تیل کی بدبو، فرنگیوں کے، چھچھورے غرور میں ڈھلے ہوئے ، روکھے پھیکے ، چنگیزی چہرے ، اور میموں کی ، سایۂ شاخِ گل میں پلی ہوئی ، چھلاسی کمریں ـــــــ میں تو دیوانہ ہو گیا پلیٹ فارم پر قدم رکھتے ہی، فرنگیوں کی اَکڑ فوں دیکھتا تھا، تو میری پٹھنولی کی زبان پر موٹی سی گالی آ جاتی تھی، اور میموں کی طرف، نگاہ اُٹھاتا تھا، تو میرے ننھے سے شاعر کے منھ سے ”ہائے جانی‘‘5 نکل جاتا تھا ۔
اور جب اسٹیشن کا شور و غل ، حواس پر دباؤ ڈالتا تھا، تو میموں کی کمریں نگاہوں سے اوجھل ہو جاتیں، اور دہشت میرا احاطہ کر لیتی تھی۔ اور میرا عالم کہ یاراں فراموش کردند عشق کا سا ہو کر رہ جاتا تھا۔ میں ابھی اس شیر افگن شور و غوغا، اور اس جرات شکن بھیڑ بھاڑ میں گھرا ہوا کھڑا تھا کہ مشیر احمد خاں نے، دوڑ کر، میری انگلی پکڑ لی۔ اور ہمارا قافلہ ، اپنے سپاہیوں کے سنگین حلقے میں ، باہر جانے کے واسطے رینگنے لگا۔ ابھی ہم چند قدم ہی چلے ہوں گے کہ حامد علی خاں، بیرسٹر ، دوڑ کر، میرے باپ سے ہم آغوش ہو گئے6 ـــــــ اتنے میں، ایک نہایت چمکیلے سائین بورڈ نے میری آنکھوں میں زنجیر ڈال دی، میں، نظر جما کر اسے دیکھنے لگا، باپ سے کہا میاں ہم کو یہ بوتل لے دیجئے ـــــــ میاں انگریزی نہیں جانتے تھے، انھوں نے حامد علی خاں سے پوچھا، یہ کس چیز کا اشتہار ہے، انھوں نے، زور سے قہقہہ مار کر کہا، ہونہار بروا کے، چکنے چکنے پات، مبارک ہو خاں صاحب کہ صاحب زادے، بفضلِ خدا، ابھی سے شراب کی بوتل مانگ رہے ہیں7۔
الغرض، بصد ہزار دشواری، ہم باہر آئے، ہم لوگ، متعدد گھوڑا گاڑیوں، اور ملازمین، اکوں میں ، اپنی جائے قیام کی جانب روانہ ہو گئے ـــــــ میاں کی گاڑی میں مشیر احمد خاں تھے، اور میں، میاں سامنے کی سیٹ پر اور ہم دونوں ، کوچ وان کے طرف کی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ میاں کا بھرا حقہ ان کے سامنے، اور پانی کا، کٹورے سے ڈھکا ہوا لوٹا، نیچے رکھ دیا گیا۔
چلم کی آگ سے مجھے تکلیف پہنچ رہی تھی، مگر لکھنؤ آنے کی خوشی کی اس قدر فراوانی تھی کہ مجھ کو اس تکلیف میں بھی مزا آ رہا تھا۔ اور جب، سڑک کے نشیب و فراز سے، لوٹے پر ڈھکا ہوا کٹورا کھن کھنا اٹھتا تھا ، تو میرے دل میں گھنگھرو سے بجنے لگتے تھے۔
جب، ہماری گاڑی عیش باغ کے موڑ سے گزرنے لگی تو، سامنے کے ایک بہت بڑے تالاب کو دیکھ کر میں نے پوچھا، میاں اگر ہم اس میں کود پڑیں، تو کیا ڈوب جائیں گے؟8 یہ سننا تھا کہ ان کے چہرے کا رنگ، ہلدی کا سا ہو گیا۔ اور فرمایا بیٹا بد شگونی کی بات کبھی زبان پر نہ لانا چاہئیے، اللّٰہ تمھاری عُمر دراز کرے9 اب ہماری گاڑی اکبری دروازے10 کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔ اور ہمارا سامان ”بانس والی سرائے“11 میں جانے لگا۔ اور اربابِ لکھنؤ، ہمارے افغانی خط و خال، ہمارے قدوقامت، ہمارے سپاہیوں کی سج دھج ، اُن کے، بڑے بڑے پگڑ، ان کے، موٹے موٹے لٹھ، دیکھنے کے لیے، ٹھٹ لگا کر، ہمارے گرد و پیش جمع ہو گئے۔
میں نے اکبری دروازے میں، جیسے ہی قدم رکھا تو یہ دیکھا اس چوڑے چکِلے دروازے کے داہنے بائیں ، لکڑی کے تختوں پر مٹی کے اس قدر سجل ، حسین ، سبک اور نازک کھلونے12 اوپر تلے رکھے ہوئے ہیں کہ باید و شاید ـــــــ انھیں دیکھ کر یہ خیال ہونے لگا کہ قریب جاؤں گا تو ہر کھلونا، پلکیں جھپکانے اور باتیں کرنے لگے گا، اور گجریا بھاؤ بتانے لگے گی۔ اور سقوں کو اگر ذرا سا بھی چھو لیا، تو ان کی بھری مشکوں سے، دھل دھل ، پانی بہنے لگے گا۔

