جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

مدینہ زہرا اور اس کا قصر

ہمارے بعض دوست جو آگرہ اور دہلی کی قدیم اسلامی عمارتوں کے کھنڈر دیکھ آئے ہیں وہ اگلے اسلامی جبروت کو یاد کر کر کے اکثر اوقات اس درجہ متاثر ہو جاتے ہیں کہ دنیا کی تمام ترقیاں اور ناموروں کی ساری عزتیں ان کی نظر میں ہیچ معلوم ہونے لگتی ہیں۔ دنیا کی ناپائداری اور انسانی کمالات کی بےوقعتی دیکھ کے واقعی زندگی سے جی ہٹا جاتا ہے اور دل پر کچھ ایسی افسردگی طاری ہو جاتی ہے کہ کچھ کرنے ہی کو جی نہیں چاہتا۔ اگرچہ قدیم کھنڈروں کی زیارت سے یہ بہت بُرا اثر دلوں پر پڑتا ہے۔ اور پست ہمتی آئندہ ترقیوں سے روکنے لگتی ہے۔ لیکن اس سے ایک عظیم الشان فائدہ بھی ہوتا ہے۔ ضعیف دل اور جلد تھک جانے والی طبیعتیں چاہے مایوس ہو کے بیٹھی رہیں۔ مضبوط اور مستقل دل انہیں حسرت کدوں کو ناموری کی ایک نظیر پاتے ہیں اور اُن میں یہ جوش پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے قدیم عالی ہمت بزرگوں نے جب ایسے ایسے اولوالعزمی کے کام کیے ہیں تو ہمیں بھی کچھ نہ کچھ کرنا ہی چاہیے۔ اور اگر ہم حقیقت میں مایوس ہو گئے ہیں اور ہم سے کچھ نہیں ہو سکتا تو ایک حیثیت سے قدیم منہدم عمارتوں کی طرف ہمیں اور زیادہ توجہ کرنا چاہیے۔ اصل میں پوچھیے تو منہدم عمارات قدیم نہیں ہیں بلکہ سلف کی ناموریوں اور ان اگلی اولوالعزمیوں کی مجسم لاشیں ہیں جو آج ہمیں بے گور و کفن پڑی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ اگر ہمیں توفیق ہوتی یا ہم میں ہمت ہوتی تو ہم ان لاشوں کے ساتھ عمدہ سلوک کرتے اور انہیں اچھے اچھے کفنوں میں لپیٹ کے رکھتے اور اگر اتنی توفیق نہیں تو ہمیں چاہیے کہ یہ لاشیں اپنی قوم کے سامنے ڈال دیں تا کہ سب کے سب حلقۂ ماتم باندھ کے ان کے گرد بیٹھیں اور روتے روتے ان کے ساتھ اپنے آپ کو بھی فنا کر دیں۔

اے وہ دوستو! جو ہندوستان کی عمارتوں پر آنسو بہا رہے ہو سُنو۔ یہ عمارتیں تو اس ملک میں ہیں جہاں پانچ کروڑ آدمی توحید کے قائل اور ان پر حسرت ناکی سے آنسو بہانے والے موجود ہیں اور جہاں ایسی آزاد گورنمنٹ ہے جو تمہاری حسرتوں میں شریک ہونے کو اور تمہیں تسلی دینے کو موجود ہے۔ آؤ ہم تمہیں وہ اسلامی یاد گاریں دکھائیں جو ایسی سرزمین میں ہیں جہاں ایک متنفس بھی نہیں جس پر ٹھیک طور سے موحّد کا اطلاق ہو سکے۔ جہاں کی اکثر عمارتیں کلیسا کا کام دے رہی ہیں۔ کسی زمانے میں وہاں ایک خدائے واحد پکارا جاتا تھا اور آج وہ توحید پامال کر دی گئی اور اب انہیں عمارتوں میں علی الاعلان تین خدا پُکارے جاتے ہیں۔ ایسی عمارتیں بھی خوش نصیب تھیں کہ کسی طرح سہی، دست برد زمانہ سے بچ تو رہیں۔ افسوس تو اُن عمارتوں کا ہے جو ویرانوں میں پڑی ہوئی ہیں اور کسی کو اتنی اجازت بھی نہیں کہ آج ان کے کھنڈروں پر بیٹھ کے اگلے جاہ و جلال کو یاد کرے اور دو آنسو بہائے۔ غرناطہ کے قصر حمراء کا نام اکثر لوگ سُن چکے ہیں مگر قرطبہ کے گرد و جوار کی عمارتوں کا تذکرہ بہت کم لوگوں نے سُنا ہو گا۔ ہسپانیہ عظمیٰ کے اموی خلیفہ امیرالمومنین ابو المعترف عبدالرحمان الناصر لدین اللہ کو عمارتوں کا نہایت شوق تھا اگرچہ اُس کی زندگی زیادہ تر فتوحات اور فوج کشی میں گزری مگر جس عظمت و شان کی عمارتیں اس نے قرطبہ کے گرد و جوار میں تعمیر کرائیں ممکن نہیں کہ کوئی بادشاہ سو برس اطمینان کے ساتھ حکومت کرنے کی صورت میں بھی تیار کرا سکے۔

عبدالرحمان ثالث سلسلہ خلافت میں اندلس کا آٹھواں تاجدار تھا اور اپنے نام کے لحاظ سے تیسرا عبدالرحمان تھا جو ہسپانیہ کے اورنگ خلافت پر جلوہ افروز ہوا۔ پہلا عبدالرحمان بن معاویہ بانی خلافت اسپین تھا جو مشرقی دنیا میں بنی امیہ کے زوال کے بعد عباسیوں کے ہاتھ سے بچ کر نکل گیا اور افریقہ کے ریگستانوں میں دشت نوردی کرتے کرتے اندلس کا فرمانروا ہو گیا۔ عبدالرحمان بن معاویہ لیاقت اور نیز شجاعت کے لحاظ سے ایسا شخص تھا کہ یوروپین اور نیز ایشیا کے مورخین کے قلم اس کے کارنامے دکھاتے وقت بڑا جوش و خروش دکھا جاتے ہیں۔ عبد الرحمان بن معاویہ 171ھ787-88ء میں واصل بحق ہوا۔ دوسرا عبدالرحمان عبدالرحمان بن حکم تھا جو چوتھا جانشین خلافت اسپین تھا۔ عبدالرحمان بن حکم نے بھی دنیا میں بڑی بڑی اولوالعزمیاں دکھائیں اور 238ھ852-53ء میں دنیا سے رخصت ہوا۔ تیسرا عبدالرحمان الناصرلدین اللہ تھا جس کا حال مختصراً ہم بیان کرنا چاہتے ہیں۔ خلیفہ ناصرلدین اللہ شاہزادہ محمد بن عبداللہ کا بیٹا تھا باپ ایام ولیعہدی میں خلیفہ عبداللہ کے مخالف ہو گیا تھا اور خود شاہی فوج کے مقابلہ میں ایسا زخمی ہوا کہ دو ہی چار روز کے بعد مر گیا اور اسی وجہ سے ناصرلدین اللہ کو لوگ عبدالرحمان بن محمد المقتول کہتے تھے۔ شاہزادۂ محمد کے مرنے کے بعد خلیفہ عبداللہ کو اپنے پوتے عبدالرحمان سے ایسی محبت ہو گئی کہ اس کے سامنے وہ تمام دنیاوی سامان کو ہیچ جانتا تھا اس کی تعلیم و تربیت کے لیے ملک کے منتخب علما اور اہل کمال مامور کیے گئے۔ آٹھ ہی برس کے سن میں قرآن کی تعلیم سے فراغت ہو گئی اور تمام مسائل اعتقادی از بر کرا دیے گئے۔ اُس کے بعد حدیث کی کتابیں پڑھائی گئیں۔ پھر تاریخ اور تمام علوم کی طرف توجہ کی گئی۔ شاہزادۂ عبدالرحمان ایک زبردست عالم کے رتبہ کو پہنچ چکا تو فنون جنگ سکھائے گئے۔ 5 ربیع الاول 300ھ20 اکتوبر 912ء کو خلیفہ عبداللہ نے سفر آخرت کیا جس کے بعد عبدالرحمان الناصرلدین اللہ خلیفہ قرار پایا۔ خلیفہ ناصرلدین اللہ جب تخت پر بیٹھا ہے اُس وقت بائیس ہی برس کی عمر تھی۔ مگر مورخین اعتراف کرتے ہیں کہ اُس کی دانائی اور ہوشیاری اس سن کی حیثیت سے بدرجہا زیادہ تھی۔ علاوہ فہم و فراست کے خدا نے عبدالرحمان کو صورت بھی ایسی دی تھی کہ تمام ملک میں اس کے حسن و جمال کا شہرہ تھا۔ عبدالرحمان کی ماں ماریہ ایک معزز عیسائی خاندان کی لڑکی تھی۔ عبدالرحمان نے تخت پر بیٹھتے ہی ملک کی آمدنی تین حِصّوں پر تقسیم کر دی۔ ایک حصّہ سے فوج آراستہ کی جاتی تھی۔ ایک حصہ عمارات کے کام آتا تھا اور ایک حصّہ بیت المال یعنی خزانۂ شاہی میں جمع کیا جاتا تھا۔ اور اسی انتظام کی وجہ سے اس کو تعمیر کے متعلق اپنے حوصلہ پورا کرنے کا بخوبی موقع ملا۔ 305ھ917-18ء میں قرطبہ کے سب سے بڑے بازار میں آگ لگ گئی۔ اور ایسی آگ لگی کہ کئی روز تک کسی طرح بجھائی نہ جا سکی۔ تین شبانہ روز عالیشان اور سر بہ فلک عمارتوں پر شعلے بھڑکتے رہے۔ خانماں برباد اہل قرطبہ کے آنسو اس فیاض اور اولوالعزم بادشاہ خلیفہ الناصرلدین اللہ نے یوں پونجھے کہ حکم دیا کہ تمام منہدم عمارتیں نسبت سابق کے زیادہ خوشنمائی اور خوبصورتی کے ساتھ تعمیر کر دی جائیں اور کل مصارف کا بار خود سلطنت پر ڈالا جائے۔

یوں تو اس حوصلہ مند خلیفہ نے خاص قرطبہ میں صدہا عمارتیں تعمیر کرائیں مگر اس کے شوق اور اس کی اولوالعزمی نے اپنا پورا زور اُس وقت دکھایا جب اس کے حکم سے قصر زہراء کی بنیاد ڈالی گئی۔ خود اسپین کا مورخ کانڈی‌Conde کہتا ہے کہ اس خلیفہ کے حرم میں ایک پری جمال اور حوروش لونڈی تھی بادشاہ اس سے نہایت مانوس تھا اور اس کے سراپا ناز شوق خلیفہ کے شاہی حوصلوں کو اور لے اُڑے۔ زہراء اس لونڈی ہی کا نام تھا اور اس کی طرف منسوب کر کے بادشاہ نے اس محل کا نام قصر زہراء رکھ دیا خلیفہ ناصرلدین اللہ بہار اور خزاں کے موسم ایک نہایت ہی عمدہ سبزہ زار میں گزارا کرتا تھا جو قرطبہ سے چار پانچ میل کے فاصلے پر دریائے وادی الکبیر کے کنارے واقع تھا اسی سبزہ زار میں اس قصر کی بنیاد ڈالی گئی۔ قصر کے بعد اسلامی جوش نے اس کے برابر ایک مسجد تعمیر کرائی جو جامع زہراء کے نام سے یاد کی گئی۔ اور آخر شاہی دربار داروں کی ضرورت سے خلیفہ نے اس قصر کے گرد ایک پورا شہر آباد کر دیا جو مدینتہ الزہراء کہلاتا تھا افسوس ملک اسپین کا جغرافیہ آج اس شہر سے خالی معلوم ہوتا ہے مگر آثار قدیم ڈھونڈنے والا تواریخ کے صفحوں پر دیکھے گا کہ مدینتہ الزہراء ایک نہایت ہی خوش نما بلکہ اپنی شان و شوکت کے لحاظ سے ایک عجیب و غریب شہر تھا۔

مورخین کہتے ہیں کہ قصر زہراء کی تیاری کے بعد تمام مبصروں اور جہاندیدہ لوگوں نے اتفاق کر لیا کہ دنیائے اسلام اس عمارت کی نظیر سے خالی ہے حتیٰ کہ ان دنوں غیر سلطنتوں کے سفیر اور دور دور کے مسافر آکے اس عمارت کو حیرت و استعجاب کی نگاہوں سے دیکھتے تھے اور یقین کر لیتے تھے کہ ایسی دنیاوی بہشت نہ دید ہے نہ شنید بلکہ اعتراف کرتے تھے کہ اس خوشنمائی اور عظمت و شان کی طرف کسی کا خیال بھی نہ گیا ہو گا۔