خط (1) — 12 ستمبر 1905ء (جلد اوّل، خط 20)
مخدوم و مکرم مولوی صاحب، السّلام علیکم
آپ سے رخصت ہو کر اسلامی شان و شوکت کے اس قبرستان میں پہنچا جسے دہلی کہتے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن پر خواجہ سیّد حسن نظامی اور شیخ نذر محمد صاحب اسسٹنٹ انسپکٹر مدارس موجود تھے۔ تھوڑی دیر کے لیے شیخ صاحب موصوف کے مکان پر قیام کیا۔ ازاں بعد حضرت محبوب الٰہیؒ کے مزار پر حاضر ہوا اور تمام دن وہیں بسر کیا۔
اللہ اللہ، حضرت محبوب الٰہیؒ کا مزار بھی عجیب جگہ ہے بس یہ سمجھ لیجیے کہ دہلی کی پرانی سوسائٹی حضرت کے قدموں میں مدفون ہے، خواجہ حسن نظامی کیسے خوش قسمت ہیں کہ ایسی خاموش اور عبرت انگیز جگہ میں قیام رکھتے ہیں۔ شام کے قریب ہم اس قبرستان سے رخصت ہونے کو تھے کہ میر نیرنگ نے خواجہ صاحب سے کہا کہ ذرا غالب مرحوم کے مزار کی زیارت بھی ہو جائے کہ شاعروں کا حج یہی ہوتا ہے، خواجہ صاحب موصوف ہم کو قبرستان کے ایک ویران سے گوشے میں لے گئے، جہاں وہ گنجِ معانی مدفون ہے1 جس پر دہلی کی خاک ہمیشہ ناز کرے گی۔ حسنِ اتفاق سے اس وقت ہمارے ساتھ ایک نہایت خوش آواز لڑکا ولایت نام تھا اس ظالم نے مزار کے قریب بیٹھ کر
|
دل سے تری نگاہ، جگر تک اُتر گئی |
کچھ ایسی خوش الحانی سے گائی کہ سب کی طبیعتیں متاثر ہو گئیں بالخصوص جب اس نے یہ شعر پڑھا:
|
وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاں |
اٹھیے بس اب کہ لذّتِ خوابِ سحر گئی |
تو مجھ سے ضبط نہ ہو سکا۔ آنکھیں پُرنم ہو گئیں اور بے اختیار لوحِ مزار کو بوسہ دے کر اس حسرت کدہ سے رخصت ہوا۔ یہ سماں اب تک ذہن میں ہے اور جب کبھی یاد آتا ہے تو دل کو تڑپا جاتا ہے۔
اگرچہ دہلی کے کھنڈر مسافر کے دامنِ دل کو کھینچتے ہیں مگر میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ ہر مقام کی سیر سے عبرت اندوز ہوتا۔ شہنشاہ ہمایون کے مقبرے2 پر فاتحہ پڑھا، دارا شکوہ کے مزار کی خاموشی میں دل کے کانوں سے ’’ہوالموجود‘‘3 کی آواز سنی اور دہلی کی عبرتناک سرزمین سے ایک ایسا اخلاقی اثر لے کر رخصت ہوا جو صفحۂ دل سے کبھی نہ مٹے گا۔
3؍ ستمبر کی صبح کو میر نیرنگ اور شیخ محمد اکرام اور باقی دوستوں سے دہلی میں رخصت ہو کر بمبئی کو روانہ ہوا اور 4؍ کو خدا خدا کر کے اپنے سفر کی پہلی منزل میں پہنچا۔ ریلوے اسٹیشن پر تمام ہوٹلوں کے ٹکٹ ملتے ہیں۔ مگر میں نے ٹامس کک45 کی ہدایت سے انگلش ہوٹل میں قیام کیا اور تجربہ سے معلوم کیا کہ یہ ہوٹل ہندوستانی طلبا کے لیے جو ولایت جا رہے ہوں نہایت موزوں ہے۔ ریلوے اسٹیشن یہاں سے قریب ہے، گھاٹ یہاں سے قریب ہیں۔ ٹامس کک کا دفتر یہاں سے قریب ہے۔ غرض کہ ہر قسم کا آرام ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شہر کے باقی تمام ہوٹلوں کی نسبت ارزاں ہے۔ صرف تین روپیہ یومیہ دو اور ہر قسم کا آرام حاصل کر لو۔ یہاں کا منتظم ایک پارسی پیر مرد ہے جس کی شکل سے اس قدر تقدس ظاہر ہوتا ہے کہ دیکھنے والے کو ایران کے پرانے وخشور (نبی) یاد آ جاتے ہیں۔ دکانداری نے اس کو ایسا عجز سکھا دیا ہے کہ ہمارے بعض علماء میں باوجود عبادت اور مرشد کامل کی صحبت میں بیٹھنے کے بھی ویسا انکسار پیدا نہیں ہوتا۔ کارلائل نے کیا خوب کہا ہے:
’’محنت ہی بہت بڑی عبادت ہے‘‘6
میرے دل پر اس پیر مرد کی صورت کچھ ایسا اثر کرتی تھی کہ بعض اوقات اُسے دیکھ کر میری آنکھیں پرنم ہو جاتی تھیں لیکن جب اُس کی وقعت میرے دل میں اندازہ سے زیادہ ہو گئی تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا، جس کا بیان بعض وجوہ سے ضروری ہے۔ میں ایک شام نیچے کی منزل میں کرسی پر بیٹھا تھا کہ پارسی پیر مرد کمرے سے باہر نکلا۔ اُس کی بغل میں شراب کی ایک بوتل تھی۔ جب اُس نے مجھے بیٹھے ہوئے دیکھا تو اُس کو چھپانے کی کوشش کی اور میں نے دُور سے تاڑ کر آواز دی کہ سیٹھ صاحب ہم سے کیوں چھپاتے ہو، خوشی سے اس کا شوق کرو۔ ذرا مسکرایا اور کچھ پیے ہوئے بھی تھا بولا:
|
’’شرابِ شوق پینے سے سبھی گم دور ہو جائے‘‘ |
میں نے سن کر کہا واہ رے بڈھے خدا تیری عمر دراز کرے اور تیری پرانی شاخ سے بہت سا میوۂ نورس پیدا ہو کر بمبئی کی کھیت باڑی میں بکتا پھرے۔
اس ہوٹل میں ایک یونانی بھی آ کر مقیم ہوا۔ جو ٹوٹی پھوٹی سی انگریزی بولتا تھا۔ میں نے ایک روز اُس سے پوچھا تم کہاں سے آئے ہو؟ بولا چین سے آیا ہوں اب ٹرانسوال7 جاؤں گا۔ میں نے پوچھا چین میں تم کیا کام کرتے تھے۔ کہنے لگا سوداگری کرتا تھا لیکن چینی لوگ ہماری چیزیں نہیں خریدتے۔ میں نے سُن کر دل میں کہا ہم ہندیوں سے تو یہ افیمی ہی عقل مند نکلے کہ اپنے ملک کی صنعت کا خیال رکھتے ہیں۔ شاباش افیمیو شاباش! نیند سے بیدار ہو جاؤ۔ ابھی تم آنکھیں ہی مل رہے ہو کہ اس سے دیگر قوموں کو اپنی اپنی فکر پڑ گئی ہے8 ۔ ہاں ہم ہندوستانیوں سے یہ توقع نہ رکھو کہ ایشیا کی تجارتی عظمت کو ازسرِ نو قائم کرنے میں تمہاری مدد کر سکیں گے ہم متّفق ہو کر کام کرنا نہیں جانتے۔ ہمارے ملک میں محبت اور مروّت کی بو باقی نہیں رہی۔ ہم اُس کو پکّا مسلمان سمجھتے ہیں جو ہندوؤں کے خون کا پیاسا ہو اور اُس کو پکّا ہندو خیال کرتے ہیں جو مسلمان کی جان کا دشمن ہو۔ ہم کتاب کے کیڑے ہیں اور مغربی دماغوں کے خیالات ہماری خوراک ہیں۔ کاش خلیجِ بنگالہ کی موجیں ہمیں غرق کر ڈالیں! مولوی صاحب، میں بے اختیار ہوں، لکھنے تھے سفر کے حالات اور بیٹھ گیا ہوں وعظ کرنے۔ کیا کروں؟ اس سوال کے متعلق تاثرات کا ہجوم میرے دل میں اس قدر ہے کہ بسا اوقات مجھے مجنون سا کر دیا اور کر رہا ہے۔
ایک شب میں کھانے کے کمرے میں تھا کہ دو جنٹلمین میرے سامنے آ بیٹھے۔ شکل سے معلوم ہوتا تھا کہ یورپین ہیں، فرانسیسی میں باتیں کرتے تھے۔ آخر جب کھانا کھا کر اُٹھے تو ایک نے کرسی کے نیچے سے اپنی ترکی ٹوپی نکال کر پہنی جس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ یہ کوئی ترک ہے۔ میری طبیعت بہت خوش ہوئی اور مجھے یہ فکر پیدا ہوئی کہ کس طرح ان سے ملاقات ہو، دوسرے روز میں نے خواہ مخواہ باتیں شروع کیں یورپ کی اکثر زبانیں سوائے انگریزی کے جانتا تھا میں نے پوچھا فارسی جانتے ہو۔ بولا بہت کم۔ پھر میں نے فارسی میں اس سے گفتگو شروع کی۔ لیکن وہ نہ سمجھتا تھا آخر بمجبوری ٹوٹی پھوٹی عربی میں اس سے باتیں کیں۔
یہ نوجوان ترک ینگ ترک پارٹی910 سے تعلق رکھتا ہے اور سلطان عبدالحمید کا سخت مخالف ہے۔ باتوں باتوں میں مجھے معلوم ہوا کہ شاعر بھی ہے میں نے درخواست کی کہ اپنے شعر سناؤ۔ کہنے لگا میں کمال بے11 (ترکی کا سب سے بڑا مشہور زندہ شاعر12) کا شاگرد ہوں اور اکثر پولیٹکل معاملات پر لکھا کرتا ہوں۔ کمال بے کے جو اشعار اس نے سنائے سب کے سب نہایت عمدہ تھے لیکن جو شعر اپنے سُنائے وہ سب کے سب سلطان کی ہجو میں تھے اُن میں سے ایک شعر یہاں درج کرتا ہوں:
|
ظلم و جورن تو سفوجہ بر ملّتے محوا یلیور |
آدمیت ملک و ملّت دشمنِ عبدالحمید |
یعنی کبیر ظلم و جَور نے تمام قوم کو مٹا دیا ہے۔ عبدالحمید آدمیت اور ملک و قوم سب کا دشمن ہے۔

