جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

متنبّیہ کا مہر

(1)

عرب کا وہ شمالی مشرقی حِصّہ جو دؔجلہ و فراؔت کے دواب میں واقع ہے۔ ازمنۂ قدیم میں مسوپوٹامیا کہلاتا تھا۔ مگر اب وہ الجزؔیرہ کے نام سے موسوم و مشہور ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ غالباً محل وقوع ہے۔ کہ دو دریاؤں کے وسط میں واقع ہے۔

کوئی دس بجے کا عمل ہے۔ آج بنی ہواؔزن کے مختلف قبائلِ کے خیموں کے سامنے والے میدان میں غیر معمولی مجمع ہے۔ بے شمار مرد اور عورتیں جمع ہیں۔ اور اُن سب کی توجہ کا مرکز ایک مستِ شباب دوشیزہ ہے۔ جو مجمع سے غیر معمولی جوش کے ساتھ بے باکانہ خطاب کر رہی ہے۔

اُس کی عمر اُنیس سال سے زیادہ نہیں معلوم ہوتی۔ جسم بھرا ہُوا گُداز، مگر متناسب ہے۔ آنکھوں میں بلا کی چمک ہے۔ قد اگرچہ کشیدہ نہیں ہے۔ مگر پست کہنا بھی خلافِ حقیقت ہے۔ دوشیزہ کا نام سجاؔح ہے۔

سجاؔح تقریر کر رہی ہے۔ وہ غضب کی آتش زباں ہے۔ مگر باوجود مستِ شباب اور دوشیزہ ہونے کے اُس کا لباس نیز اندازِ تخاطب مردانہ ہے!

یہ دوشیزہ بدرجۂ غایت فصیح و بلیغ ہونے کے علاوہ نہایت حوصلہ مند اور مستقل مزاج ہے۔ اس کے طرز تکلم میں کاہنہ عورات کی مانند شان تحکم ہے۔ مگر وہ کوئی معمولی خطؔیبہ یا شاؔعرہ نہیں ہے۔

سجّاح کچھ ایسے دلکش الفاظ اور مُسجح و مقفےٰ جملات و فقرات کی بارش کر رہی ہے۔ کہ اُس کے مُنہ سے پُھول جھڑتے معلوم ہوتے ہیں۔ اُس کا کلام سامعین کے دِلوں میں گھر کر کے گویا ہزاروں زن و مرد کو اُس کا مطیع و منقاد کر رہا ہے۔

عربی جوانوں کے دِلوں کی حالت تو کچھ پُوچھئے ہی نہیں۔ خطیہ کا شباب، اُس کے دِلدوز الفاظ، اس کی چشم و ابرو، اور اس کے دِلربایانہ ناز و انداز، ان بیچاروں پر بیحد ظلم کر رہے ہیں!

سجاؔح، حاؔرث بن سوید بن عقفان کی دختر ہے۔ اور حارث قبیلہ بنی تمیم کا ایک فرد ہے۔ بنی تمیم قبائل ہوازن میں سے ایک قبیلہ ہے۔ قبیلہ بنی تغلب میں سجاح کی نانہال ہے۔

اس مجمع میں زیادہ تر قبائِل ہوازن، عقفان اور ان کے قرب و جوار کے خیموں کے افراد قبائِل شریک ہیں۔ بنی تغلب بھی ہیں۔

سجاح، شاعرہ یا خطیبہ نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چُکے ہیں۔ بلکہ وہ دعویدار نبّوت ہے۔ چنانچہ وہ اپنے آپ کو نبیہ کہتی۔ اور اپنے خطبوں میں ایسے ہی دعاوی کرتی ہے۔ اس کا موضوع تقریر اس وقت بھی یہی ہے۔ اور یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے۔ کہ بنت شباب سجاح بڑی ہی عالمہ، عاقلہ اور حکیمہ ہے۔

قبائِل بنی ہوازن اور قبیلہ بنی عقفان، سجاح کو نبیہ تسلیم کر چُکے ہیں۔ خلیفہ دوم کا پُر آشوب زمانہ ہے۔ اعراب، ادائیگیٔ زکوٰۃ میں لیت و لعل کر رہے ہیں۔ ارتداد خوفناک رفتار سے بڑھ رہا ہے، پس سجّاح کی کامیابی کا ایک سبب یہ بھی ہے۔

اُس کے جدّی اور نانہالی قبائِل نے اُسے نبیہ اس خیال سے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ کہ وہ اس کی وجہ زیادہ نجیب و شریف اور اعلیٰ و ارفع سمجھے جا سکیں۔ وہ یہ کہہ سکیں۔ کہ اُن کے قبیلے میں بھی نبّوت آ گئی ہے۔ اور اس طرح قریشی فخر و غرور خاک میں مِلا سکیں۔

اس مجمع میں مسیحی قبیلہ بنی تغلب کا مشہور۔ شجاع مگر (جوان العمر) سردار ہذیل بن عمران بھی موجود ہے۔ اور شاید سجاح کی دلکش آنکھیں ہزؔیل کا دل مفتوح و مسخر کر چُکی ہیں۔

قبیلہ بنی اؔباد کا جوان سردار، زیاد بن ہلال قبیلۂ بنی نمر کا ادھیڑ عمر سردار عقہ بن ہلال بنی شیبان کا بزرگ سردار سلیل بن قیس۔ علاوہ ازیں اور بہت سے عالی رُتبہ مردوں کے دِل سجاح کی طرف کھینچے جاتے ہیں!

ان لوگوں نے بایں ہمہ ابھی سپر نہیں ڈالی ہے۔ بلکہ وہ عذابِ تذبذب میں گرفتار ہیں۔ رسولِ کریمؐ کی وفات نے اُن کے ایمان ضرور متزلزل کر دیے ہیں۔ اور اُن کے دِلوں میں تخم ارتداد ضرور جم چُکا ہے تاہم یہ امر واقعہ ہے۔ کہ اُنہوں نے ابھی علانیہ سجاح کی نبّوت تسلیم نہیں کی۔

سجاح اپنا تقریری سلسلہ جاری رکھتے ہُوئے بولی:۔

”یا ایّہا الناس! خدائے پاک و برتر، اور ارحم الراحمین کی رحمت، بے حد و بے پایاں ہے۔ پھر بھلا تُم ہی سوچو کہ غیرتِ حق یہ کیسے گوارا کر سکتی ہے کہ دُنیا کا کوئی بھی حِصّہ روحانی رہنما سے خالی رہے۔ اگر ایسا ہو (جو نہیں ہو سکتا) تو پھر غضب ہی آ جائے۔ وحشت، جہل اور گمراہی عام ہو جائے! فسق و فجور اور گناہگاری کی حد نہ رہے! پس حضرت محمدؐ کی وفات کے بعد کسی نبی کا معبوث ہونا لازمی تھا، لہٰذا خدائے تعالیٰ نے مجھے تمہیں میں سے اٹھایا۔ تا کہ مَیں تمہاری رہنمائی کروں، اور تمہیں گمراہی سے بچاؤں۔ پس سلامتی اور بشارت ہے اُس کے لئے جو میری نبّوت اور توحید کا اعتراف اور میری بیعت کر لے۔ اور لوگو! مَیں تم سے علانیہ یہ بھی کہہ دیتی ہوں کہ خدائے جبّار و قہار کے عذابِ الیم میں گرفتار ہوں گے، وہ گمراہ لوگ جو میری نبّوت سے انکار کریں گے! اور وہ دن زیادہ دُور نہیں ہے۔ مگر اُس روز کسی کی توبہ نہیں قبول ہو گی۔ کہ بابِ توبہ بند ہو چُکا ہو گا!

اے لوگو! سُنو! نعمات الہٰی کے اجارہ دار تنہا قریش ہی نہیں ہیں۔ نہیں رحمتِ خداوندی عام ہے۔ پس خُدا نے اپنے اسی قانون کے ماتحت، قریش سے شرفِ نبّوت لے کر بنی تمیم کو عطا کیا ہے۔ لہٰذا مومنین کا فرض یہ بھی ہے کہ وہ سرکش اور مغرور قریش اور اُن منکرین سے سخت انتقام لیں۔ جو میری نبّوت کی مخالفت کریں۔ وہ خواہ انصار و مہاجرین ہی کیوں نہ ہوں کہ شریعتِ حقّ کسی کی رعایت روا نہیں رکھتی۔ ہاں! ہمیں بالآخر مکّہ۔ مدینہ اور تمام عرب، بالکل اُسی طرح مفتوح کرنا اور اعراب سے اقرارِ رسالت کرانا ہو گا، جس طرح حضرت محمدؐ اُن سے اعتراف کرا چُکے ہیں۔

ایک شخص۔ کیا ہم لوگ، مدینہ زکوٰۃ بھیجیں۔ جیسا کہ ہم سے طلب کی جا رہی ہے؟

سجّاح۔ ہرگز نہیں!

دوسرا۔ کیوں؟ کیا وجہ؟

سجّاح۔ جب مدینہ میں نبی ہی موجود نہیں، تو پھر زکوٰۃ وہاں کیوں بھیجی جائے؟ ہاں وہاں روپیہ بھیجنا گویا اُسے دوزح میں جلانا ہے۔ پھر زکوٰۃ کی ادائیگی رحمتِ حق کے خلاف بھی تو ہے! کیوں کہ وہ غنی ہے۔ اس کے خزانے بیحد و بے پایاں ہیں۔ وہ (نعوذ باللہ) مفلس نہیں ہے! وہی تو انسان کو سب کچھ دینے والا ہے۔ پس اُس کا نام لے کر لوگوں سے ٹیکس وصول کرنا، ایک ایسا گُناہ ہے، جسے خدا کبھی معاف نہیں کر سکتا! کہ یہ امر اُس کی شان کو بٹّہ لگاتا ہے!

آواز۔ الحق۔ الحق!

ایک شخص۔ مگر نبوت تو حضرت رسولِ کریم ﷺ پر ختم ہو چُکی۔ چنانچہ حضرت کو اسی لئے خاتم النبین کہتے ہیں۔

سجّاح۔ لوگو! میں اس جاہلانہ سوال کا جواب پہلے ہی دے چُکی ہوں۔ کہ یہ امر رحیم و کریم خدا کی شان سے بعید ہے۔ کہ دُنیا نعمت الہام سے محروم کر دِی جائے۔ یعنی اُسے گناہگاری کی خندق میں گرنے۔ اور برباد ہونے کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے! الحق کہ یہ امر رحمتِ خداوندی سے نہایت بعید ہے۔

ایک اور شخص۔ مگر نبی ہمیشہ مرد ہی ہوتے رہے ہیں۔

سجّاح۔ یہ غلط ہے کہ مرد ہی نبی ہوتے ہیں! دُنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی مختلف زمانوں میں آتے رہے۔ مگر ہمیں نام اُن میں سے چند ہی کے معلوم ہیں۔ پھر کون کہہ سکتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار مرد ہی نبی ہوں۔ اور اُن میں عورت ایک بھی نہ ہو۔ نہیں، یہ مار تو خداوند تعالیٰ کی عام رحمت کے خلاف ہے۔ بھلا یہ کیوں کر ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ یہ نعمت صرف مردوں ہی تک محدود رکھے۔ اور عورت کو اس سے محروم کر دے! نہیں! واللہ یہ ممکن نہیں۔ ہرگز نہیں۔

سجاح یہ کہہ کر خاموش ہو گئی۔

چند لمحے بعد۔ زیاؔد، عقؔہ، سلؔیل اور دیگر قبائِل کے سردار آگے بڑھے۔ اور ان سب نے سجاح کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اور اس کے ہاتھوں کو بوسے دیے۔

یہ لوگ قبیلوں کے سردار تھے۔ پس ان کے ساتھ اُن کے قبائِل بھی سجاح کی اُمّت میں شامِل ہو گئے۔ اب اس طرح اُس کی جمعیت بہت بڑھ گئی۔ اور غیر معمولی جوش و خروش پھیل گیا۔

(2)

خلیفۃ المسلمین حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت خالد، حضرت اسامہ اور دیگر صحابۂ کرام۔ مسجد نبوی میں تشریف فرما، اور مصروف گفت و شنید ہیں۔

خالد۔ ایک زمانہ وہ تھا۔ جب ہماری قوم شرک و بدعات اور بد اخلاقیات کی دلدل میں پھنسی ہوئی تھی۔ ہم بُت پرستی اور باطل پرستی کے دوزخ میں پڑے جل رہے تھے۔ ہمارے قبیلے قبیلے کا معبود بت جُدا جُدا تھا۔ تمام عرب میں باہمی مخالفت و مخاصمت کی آگ بھڑکی ہُوئی تھی۔ جِس میں خُشک و تر جل رہے تھے۔ کہ یکایک غیرتِ حق کو حرکت ہُوئی۔ اور خدائے تعالیٰ نے رسول اکرمؐ کو معبوث کیا۔ الحمدللہ