اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

پہلا مشاعرہ

پہلا مشاعرہ

یہ غالباً 1910ء یا 1911ء کی بات ہے کہ میں اپنے باپ کی معیت میں، حضرت مولانا رضا فرنگی محلی کے مشاعرے میں سب سے پہلی بار شریک ہوا اور دنگ ہو کر رہ گیا تھا۔

آئیے، میں آپ کو مشاعرے میں لے چلوں، تاکہ آپ خود دیکھ لیں، کہ شفاف چاندنی بچھی ہوئی ہے، چاندنی پر قالین ہیں، گاؤ تکیے، دیواروں سے لگے ہوئے ہیں ــــ ادھر ادھر صاف ستھرے اگالدان، نیچوں میں ہار لپٹے حقے، شال باف سے منڈھی ہوئی چھوٹی چھوٹی کوری ہانڈیاں، ہانڈیوں میں چاندی کے ورق کی معطر گلوریاں اور الائچی دانے، تمباکو، اور قوام کی ڈبیاں رکھی ہوئی ہیں، شعراء زیادہ تر انگرکھے اور کم تر شیروانیاں پہنے اپنے اپنے مراتب کے لحاظ سے، دوزانو بیٹھے ہوئے ہیں، سب کے سروں پر ٹوپیاں ہیں ــــ سامعین میں سے کوئی بھی ننگے سر نہیں ہے۔ آپس میں آہستہ آہستہ باتیں ہو رہی ہیں، گلوریاں کھائی اور حقے پیئے جا رہے ہیں ــــ اور جو شاعر، مشاعرے کے فرش پر قدم رکھتا ہے وہ حاضرین کو جھک جھک کر، غیرِ ملفوظ سلام کر رہا ہے حاضرین، اس کے حسبِ مرتبہ، نیم قد، یا سرو قد، جوابی سلاموں سے اس کا خیر مقدم کر رہے ہیں ــــ لیجئے، اب میرِ مشاعرہ کے سامنے شمع آ گئی ہے۔ اور مولانا رضا کی غزل سے حسبِ دستور مشاعرے کا آغاز ہو رہا ہے ــــ اور داد سے چھت گونجنے لگی ہے۔ کس کی یہ مجال ہے کہ اثنائے غزل خوانی میں کوئی مصرع نہ اٹھائے، حقہ پی لے، پان کھا لے، آپس میں سرگوشی کرنے لگے یا کوئی ادھر سے اٹھ کر ادھر بیٹھ جانے کی جسارت کر سکے۔

میرِ مشاعرہ کے بعد، اب شمع گردش کر رہی ہے نو مشق نوجوانوں کی صفوں میں اور کمی  بیشی کے ساتھ سب کو داد مل رہی ہے اور معمولی اشعار کے سروں پر بھی ’’ماشااءاللہ‘‘ کے سہرے باندھے جا رہے ہیں، لیجئے نو مشقوں میں اب میری باری آ گئی۔ ارے غضب ہو گیا، شمع سامنے رکھی ہوئی ہے۔ رعبِ محفل سے میں کانپ رہا ہوں۔ شعرا کی صفوں سے آوازیں آ رہی ہیں ’’بسم اللہ، صاحب زادے بسم اللہ‘‘۔ لیکن صاحب زادے کا دم نکلا ہوا ہے۔ کیا مجال کہ منہ سے ایک حرف بھی نکل سکے ــــ اب میرے باپ مجھ سے فرما رہے ہیں ’’پڑھتے کیوں نہیں، پٹھان کا بیٹا تو بارہ برس کی عمر ہی سے رن میں تلوار چلانے لگتا ہے ــــ اور ایک تم ہو کہ تم سے غزل نہیں پڑھی جا رہی ہے۔‘‘ اب مرزا محمد ہادی صاحب رسوا، اپنی جگہ سے اٹھ کر میرے پہلو میں آگئے ہیں، اور میری پیٹھ ٹھونک کر فرما رہے ہیں۔ ’’صاحب زادے، آپ تو شاعر، شاعر کے بیٹے، شاعر کے پوتے، اور شاعر کے پرپوتے ہیں، پڑھیئے اور گرج کر پڑھیئے ــــ اب بڑی ہمت کر کے، میں مطلع پڑھ رہا ہوں، مطلع پر داد مل رہی ہے! اور داد کے نشے میں شعر پڑھ رہا ہوں۔

اے نسیمِ صبح کے جھونکو، یہ تم نے کیا کیا

میرے مستِ خواب کی زلفیں پریشاں ہو گئیں

اس شعر پر مطلع سے زیادہ داد پا رہا ہوں ــــ اور، ولولے کے ساتھ دوسرا شعر سنا رہا ہوں؎

میری آنکھیں، جانتی ہیں، کربِ افراطِ خوشی

خندہ زن دیکھا کسی کو اور گریاں ہو گئیں

اب داد کا غلغلہ زیادہ بلند ہو رہا ہے۔ اور ’’سبحان اللہ، ماشاء اللہ‘‘ سے مشاعرہ گونج رہا ہے۔ اور مرزا محمد ہادی رسوا، حضرتِ صفی سے کہہ رہے ہیں ’’مولانا، دیکھئے آپ نے اس شعر کے تیور، یہ عمر اور اتنی گہری بات ــــ اور اب میں آخری شعر پڑھ رہا ہوں۔

ہائے میری مشکلو، تم نے بھی کیا دھوکا دیا

عین دلچسپی کا عالم تھا کہ آساں ہو گئیں

دیکھئے چھتیں اڑ رہی ہیں اور دھوئیں پار ہو رہے ہیں اس شعر کی داد سے ــــ اور فرما رہے ہیں ’’اللہ نظرِ بد سے بچائے‘‘۔

مشاعرے سے داد کے رطل ہائے گراں پی کر جھومتا جھامتا، گھر آیا، خوشی کے مارے دیر تک نیند نہیں آئی ــــ اور سو گیا تو خواب میں رات بھر یہ دیکھتا رہا کہ پریاں، بھینچ بھینچ کر مجھے گلے لگا رہی ہیں۔

غسل مجھ پر واجب ہو گیا ــــ صبح اٹھتے ہی حمام کیا اور ناشتے سے فارغ ہو کر، جب اپنے باپ کی خواب گاہ کے برآمدے سے ہو کر گزرنے لگا، تو باپ کی آواز آئی۔ ’’ادھر آئیے جناب!‘‘ دم نکل گیا اس آوازِ غضب سے ــــ اور جب، لرزتا ہوا ــــ ان کی خواب گاہ میں گیا تو انھوں نے، بڑی بھاری آواز میں، ارشاد فرمایا۔1 ’’دیکھئے صاحب! یہ میری دلی تمنا ہے کہ آپ اس دنیا میں پھلیں، پھولیں، عمرِ مسیح و خضر پائیں، آپ کی دولت میری دولت سے بڑھ جائے، آپ کا مرتبہ مجھ سے ہزار گنا فزوں ہو جائے، آپ زندگی کے ہر شعبے میں سبقت لے جائیں مجھ سے ــــ مگر کان کھول کر سن لیجئے کہ میں اس کو برداشت نہیں کر سکتا کہ خاں صاحب آپ مجھ سے شاعری میں بھی بڑھ جائیں2 ــــ رات کے مشاعرے میں آپ کو مجھ سے زیادہ داد ملی، اب آپ کا، میرے ساتھ مشاعرے جانا بند ــــ قطعی بند ــــ غضبِ خدا کا، باپ سے زیادہ بیٹے کو داد ملے، میں یہ الٹی گنگا بہنے کا موقع نہیں دینے گا۔ ــــ سنا خاں صاحب آپ نے؟؟

میرے باپ میر کو غالب پر ترجیح دیتے، ہلکی پھلکی زبان میں شعر کہتے، اور داغ کے اس شعر پر عامل تھے

کہتے ہیں اسے زبانِ اردو

جس میں نہ ہو رنگ فارسی کا

ایک روز میں نے ان کی خدمت میں اپنی ایک غزل اصلاح کے واسطے پیش کی ــــ جس میں جا بجا فارسی ترکیبیں تھیں ــــ اور ایک مصرع تھا ــــ

ہماری زندگی یعنی وفائے راز داں تک ہے

انھوں نے، تیوریوں پر ڈال کر ارشاد فرمایا کہ ’’سبحان اللہ، یعنی وفائے راز داں تک،’’اس ’یعنی‘ کی داد نہیں دی جا سکتی ــــ مجھے اس بات کا شدید خوف ہے کہ آٹھ دن میں ــــ ’شمارِ سبحہ مرغوبِ بتِ مشکل پسند آیا۔‘ تک آ جاؤ گے۔ ناصاحب میں تمہیں اصلاح نہیں دوں گا۔ اور تمہیں عزیز صاحب کے سپرد کر دوں گا۔ وہ بھی ’یعنی وفائے راز داں‘ اور ’شمارِ سبحہ‘ کے برتنے والوں میں سے ہیں، دونوں میں خوب نباہ ہو جائے گا ــــ یہ فرما کر، انھوں نے عزیز صاحب کو بلا کر، مجھے ان کا شاگرد بنا دیا ــــ اور یہ سلسلۂ تلمذ پانچ چھ برس کے اندر ہی منقطع ہو گیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرتِ عزیز بہت ہی اچھے استاد اور بہت ذی علم بزرگ تھے ــــ اور جہاں تک کہ زبان کی صحت اور لہجے کی نجابت کا تعلق ہے، ان کی ذات سے مجھ کو نہایت کثیر فائدہ حاصل ہوا، لیکن جب مجھ کو واضح طور پر یہ محسوس ہونے لگا کہ میری فکر کا جادہ ان سے مختلف ہے اور ہم دونوں کی تخیل ایک ہی سمت سفر نہیں کر رہی ہو۔ اور ان کی اصلاحوں سے اشعار کا لفظی رنگ و روغن تو ضرور ابھر آتا ہے لیکن معنویت دھندلی ہو کر رہ جاتی ہے ــــ تو میں نے اصلاح لینا ترک کر دیا۔

لیکن اس سے میرے اور ان کے تعلقات میں کسی قسم کی تلخی راہ نہیں پاسکی، میں ہمیشہ ان کے روبرو سر جھکاتا، اور وہ ہمیشہ میرے سر پر ہاتھ پھیرتے رہے۔

ایک دن جب کہ میں بڑے دن کی تعطیل میں گھر آیا ہوا تھا ــــ میری ماں نے بڑے درد بھرے لہجے میں مجھ سے ارشاد فرمایا ’’ننھے، تمہارے باپ میرٹھ والی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، میں سوتیا ڈاہ سہہ نہیں سکوں گی، مجھے میرے باپ کے گھر پہنچا دو، ورنہ میں سنکھیا کھا کر سو جاؤں گی۔‘‘ ماں کی یہ بات سن کر میرا دل کانپ گیا۔ میں نے عرض کیا، ’’اماں آپ گھبرائیں نہیں، میں آپ کو چھ سات دن کے اندر ہی نانا جان کے وہاں پہنچا دوں گا۔‘‘

اس کے بعد میں نے اپنے بڑے بھائی شفیع احمد خاں اور ابرار حسن سے مشورہ کیا اور ہاتھ بٹانے کو کہا ــــ وہ دونوں آمادہ ہو گئے ــــ لیکن سوال یہ تھا کہ اتنے بڑے اور وہ بھی ریزرو کمپارٹمنٹ میں سفر کرنے کے لئے روپیہ کہاں سے آئے گا۔

ہم دو روز تک یہی سوچتے رہے کہ روپیہ کیونکر فراہم کیا جائے، لیکن کوئی صورت سمجھ میں نہیں آئی ــــ تیسرے دن ابرار آئے اور کہنے لگے ’’ کیا کہیں گے آپ بھی، روپے کی ایسی تدبیر سوچ کر آیا ہوں کہ پٹ ہی نہیں پڑ سکتی ــــ آپ جانتے ہیں کہ بشیر ماموں (میرے باپ) اور محمد علی چچا کے درمیان آج کل ان بن ہے، آپ اسی وقت ان کے پاس چلے جائیں اور ساری داستان سنائیں، اور مجھ کو یقین ہے کہ بشیر ماموں کی دل آزاری کے واسطے، وہ کھٹ سے ڈیڑھ دو ہزار روپے دے دیں گے۔‘‘