اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

پہلا مشاعرہ

مجھے ابرار کی یہ تدبیر پسند آئی، اور جی کڑا کر کے، محمد علی چچا کی طرف روانہ ہو گیا۔ اور جب ان کی کوٹھی کے لکڑی کے زینے کو طے کر کے اوپر پہنچا تو یہ دیکھا کہ وہ ایک جڑواں صوفے پر بیٹھے حقہ پی رہے ہیں، اور ان کے پہلو میں ایک بلا کی نوخیز طوائف بیٹھی گنگنا رہی ہے اور سامنے کے صوفے پر چچا کے مصاحب سکندر مرزا صاحب اس کے گلے کی داد دینے میں سرگرم ہیں۔

یہ سوچ کر کہ بے موقع آگیا ہوں، میرا دل چاہا کہ الٹے پاؤں چلا جاؤں ــــ لیکن اس نوخیز طوائف کی صورت اور اس کی آواز نے پاؤں میں زنجیر ڈال دی ــــ اور میں نظر جمائے اور طاقتِ سماعت کو حاضر کئے، اس کی صورت دیکھنے اور اس کا ترنم سننے لگا کہ، اتنے میں چچا نے حقے کا ایک لمبا سا کش لے کر، دروازے کی جانب نظر اٹھائی تو دیکھا میں کھڑا ہوا ہوں، اور حیرت و شرم کے ساتھ، بے ساختہ ان کے منہ سے نکل گیا ــــ ’’ارے غلام شبیر3‘‘ میں نے سلام کیا۔

وہ طوائف اچھل کر کھڑی ہو گئی ــــ اور میرے دل پر شہابِ ثاقب کی سی لکیر ڈالتی ہوئی دوسرے کمرے میں چلی گئی اور سکندر میرزا صاحب بھی اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں چلے گئے۔

چچا سے میں نے تمام ماجرا  بیان کر کے دو ہزار طلب کئے ــــ انھوں نے زبان سے ایک حرف بھی نہیں کہا، اٹھے اور الماری سے دو ہزار کے نوٹ نکال کر میرے حوالے کر دیے ــــ میں نے چچا کو جھک کر سلام کیا، اور اس طوائف کو پھر ایک نظر دیکھ لینے کی تمنا لئے ہوئے گھر آ گیا۔

روپیہ آگیا تو ابرار کو لکھنؤ روانہ کر کے ایک سیکنڈ کلاس کمپارٹمنٹ کو ریزرو کرا کے، ملیح آباد منگا لیا، اور شام ہوتے ہی، مکان کے عقبی دروازے سے نکل کر، ہم سب اپنے کمپارٹمنٹ میں آگئے، اور تمام کھڑکیاں اندر سے بند کر کے، روشنی گل کر دی۔

تھوڑی دیر میں لکھنؤ جانے والی گاڑی آگئی، اور ہمارا درجہ بریک کے پیچھے لگا دیا گیا۔

ابھی گاڑی چھوٹنے میں دو تین منٹ باقی تھے کہ پلیٹ فارم پر میرے باپ کی آواز گونج اٹھی۔4 ’’اسٹیشن ماسٹر صاحب، کیا اس گاڑی سے میرے لڑکے سفر کر رہے ہیں؟‘‘

اسٹیشن ماسٹر کو رشوت دے کر ہم اپنا چکے تھے، اس نے کہا ’’خاں صاحب! آپ کے صاحب زادوں میں سے اس گاڑی میں کوئی سفر نہیں کر رہا ہے‘‘۔

میرے باپ کو اطمینان نہیں ہوا ــــ اسٹیشن ماسٹر سے فرمایا ’’دو چار منٹ گاڑی رکوا لیجئے، تاکہ میرے آدمی ایک ایک درجے کو دیکھ لیں، ممکن ہے آپ کی نظر نہ پڑی ہو‘‘۔ گاڑی رکوا دی گئی ــــ اور نوکر چاکر اور اقرباء نے پوری گاڑی کھنگال ڈالی، ہم نہیں ملے ہم تو اندھیرے درجے میں بریک کے پیچھے دبکے ہوئے تھے۔ کسی ڈھونڈنے والے اور خود میاں نے بھی، ہمارے ڈبے کی طرف اس خیال سے نظر بھی نہیں اٹھائی کہ، وہ یہ سمجھے کہ وہ ڈبہ خالی جا رہا ہے۔

گاڑی تقریباً پانچ چھ منٹ تک ملیح آباد اسٹیشن پر کھڑی رہی، اور ان چند لمحوں کے اندر ہزاروں صدیوں کا مجموعی خوف ہمارا احاطہ کئے رہا ــــ ہم سب اتنی دیر تک سولی پر لٹکے رہے، میاں کی آواز بجلی کی طرح ہمارے دلوں پر گر رہی تھی، اور میں اندر سے چٹخنی لگی کھڑکیوں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ اب ٹوٹیں، اب ٹوٹیں ــــ مجھ کو اپنے انفاس کی آمد و شد سے ڈر لگ رہا تھا، پسینے پر پسینے آ رہے تھے، تمام جسم برابر بھیگتا چلا جا رہا تھا، اور دل یوں کھٹ، کھٹ، کھٹ، کھٹ، دھڑک رہا تھا کہ ہر بار یہ گمان ہوتا تھا کہ سینہ توڑ کر باہر نکل آئے گا۔

خدا کی قسم، اس وقت اگر ڈائن موت، جبڑا کھول کر سامنے آ جاتی کہ میرے جبڑوں میں آؤ گے یا باپ کے قبضے میں جاؤ گے تو میں فوراً اس کے جبڑوں میں گھس جاتا، کہ اتنے میں گاڑی نے سیٹی دی، سیٹی کی آواز سے دل دہل گیا، پہیوں میں چوں چوں شروع ہوئی گاڑی رینگنے لگی، اوپر کی سانس نیچے آئی، کھڑے رونگٹے بیٹھنے لگے، سانس کا نظام درست ہونے لگا، اور جب کاکوری کے پل پر گاڑی پہنچ گئی تو میں نے جیسے ہی درجے کی روشنی کھولی تو یہ دیکھا کہ میری ماں سجدے میں ہیں، عباسی خانم مغلانی فرش پر اوندھی پڑی ہوئی، آہستہ آہستہ ’’نادِ علی‘‘ پڑھ رہی ہیں ــــ اور ابرار اور بڑے بھائی، سیٹوں کے نیچے سے برآمد ہو رہے ہیں ــــ یہ سماں دیکھ کر میری ہنسی نکل گئی، ابرار نے قہقہہ لگایا، اور بھائی صاحب کے تیوروں پر بل پڑ گئے ــــ۔ اماں، میری بلائیں لینے لگیں ــــ لیکن عباسی خانم، بدستور اوندھی پڑی رہیں ــــ یہاں تک کہ چار باغ آگیا۔

ٹونڈلہ جنکشن پر گاڑی رکی تو ایک لمبے تڑنگے، بڑی بڑی گچھے دار مونچھوں کے تھانہ دار صاحب، آٹھ دس پولیس والوں کے ساتھ آئے اور بڑے تحکمانہ انداز سے پوچھا ’’آپ کا نام کیا ہے؟‘‘ ــــ میں نے بگڑ کر کہا۔ ’’رستمِ دوراں شبیر حسن خاں‘‘۔ سر سے لے کر پاؤں تک اس نے مجھ کو دیکھا اور کہا ’’میں آپ سب کو یہاں اتار لینے کے واسطے آیا ہوں۔‘‘ میں نے بھنا کر جواب دیا ’’کس کی مجال ہے کہ ہم کو اتارے!‘‘ اس نے حکم دیا سپاہیوں کو کہ ان کا سامان اتار لو، میں، میرے بھائی اور ابرار ڈنڈے لے لے کر پلیٹ فارم پر کود پڑے، اور میں نے پولیس والوں سے ڈانٹ کر کہا ’’خبردار ہمارے درجے میں قدم نہ رکھنا۔‘‘ اتنے میں ہمارے درجے کے سامنے لوگوں کے ٹھٹ لگ گئے ــــ تھانہ دار نے انگلی بلند کر کے کہا۔ ’’میں اسباب اتروائے بغیر نہیں مانوں گا۔‘‘ میں نے ڈنڈا زمین پر مار کر کہا ’’اگر ہمت ہے تو سامان اتار کر دیکھ لو۔‘‘ تھانہ دار نے کہا۔ ’’آپ نہیں مانیں گے۔‘‘ میں نے کہا ’’جب تک زندہ ہوں نہیں مانوں گا۔‘‘ لوگوں کا ہجوم اور ہماری آوازوں کا زور شور اسٹیشن کے انگریز سپرنٹنڈنٹ کو ہمارے درجے کی طرف کھینچ لایا۔ آتے ہی اس نے تھانہ دار سے، انگریزی میں پوچھا ’’معاملہ کیا ہے ــــ ؟‘‘

تھانہ دار نے بڑی نرم آواز میں جواب دیا کہ ’’میں ان لڑکوں کے باپ اور نانا کا ملنے والا ہوں، ان کے باپ نے مجھے تار دیا ہے کہ وہ دوسری گاڑی سے یہاں آ رہے ہیں، میں ان کے خاندان کو یہاں اتار لوں۔‘‘ ریلوے سپرنٹنڈنٹ نے پوچھا ’’گرفتاری کا وارنٹ آپ کے پاس ہے؟‘‘ تھانہ دار نے جھینپ اور ڈر کر جواب دیا کہ ’’یہ باپ اور بیٹوں کا پرائیویٹ معاملہ ہے اس میں وارنٹ کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ سپرنٹنڈنٹ نے بگڑ کر کہا ’’آپ قانون کی گرفت میں آچکے ہیں، پولیس افسر ہو کر آپ ایسی خلافِ قانون بات کر رہے ہیں اور وہ بھی ریلوے پلیٹ فارم کے سے پبلک مقام پر ــــ آئیے میرے دفتر میں‘‘۔

اس کے بعد، ہمارا درجہ آگرے جانے والی گاڑی میں جوڑ دیا گیا ــــ اور ہم آگرے، اور آگرے سے دھول پور پہنچ گئے، اور نانا جان سے تمام ماجرا بیان کر دیا ــــ ہماری داستان سن کر میری سوتیلی نانی نے نانا جان سے کہا ’’تم بشیر احمد کے غصے کو نہیں جانتے، وہ بڑا غضب ناک پٹھان ہے، اسی وقت مہاراجہ کے پاس جاؤ، اور ان سے پورا حال کہہ کے حویلی کے چاروں طرف پولیس کا پہرا بٹھوا دو۔‘‘ نانا جان اسی وقت مہاراجہ کے پاس گئے اور حویلی کے گرد پولیس کا پہرا بٹھا دیا گیا۔

دوسری  گاڑی سے میرے باپ دھول پور آگئے، لیکن انتہائی دانش مندی کی بناء پر ڈاک بنگلے میں ٹھہر گئے اور اپنے بہنوئی نواب احمد خاں کو جو میرے بڑے بھائی کے خسر تھے، نانا جان کی حویلی سن گن لینے کے لئے روانہ کر دیا۔

نواب پھپا نے آ کر جب پہرے چوکی کا حال بتایا تو میرے باپ نے نواب پھپا سے کہا، میں آپ کے ساتھ گاڑی میں چلتا ہوں، گاڑی کو باہر روک لوں گا ــــ آپ نواب صاحب کے پاس جائیں ــــ میرا سلام کہیں، اگر وہ مجھے بلانے پر آمادہ ہو جائیں تو پھر کوئی دشواری ہی نہیں ہوگی، میرے بلانے سے اباء کریں تو آپ حویلی سے نکل کر، ڈیوڑھی کے چبوترے پر کھڑے ہو جائیں اور کسی نوکر سے یہ کہیں کہ نواب صاحب نے اپنے داماد کو بلایا ہے، وہ پھاٹک پر گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہیں، انھیں بلا لاؤ ــــ یہ جادو چل گیا، میرے باپ، نانا کی حویلی میں، پہرے داروں کا سلام لیتے ہوئے داخل ہو گئے۔

نانا جان سنگِ مرمر کی چوکی پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے کہ کھلے ہوئے زینے سے میرے باپ کی پیشانی نمودار ہوئی، نانی نے چیخ مار کر کہا ’’ارے بشیر احمد‘‘، نانا، نانی کی چیخ سن کر گھبرا گئے ہاتھ لگا تو حقہ گر گیا اور چلم ٹوٹ گئی ــــ ہم سب لوگ گدگدا کر بھاگ کھڑے ہوئے، اور سامنے کے سنگین کمرے میں داخل ہو کر اندر سے کنڈیاں لگا لیں ــــ حواس غائب ہو گئے، اور عباسی خانم کے پاس سے کھراہند کے بھبکے آنے لگے۔