اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

پہلا مشاعرہ

لیکن یہ دیکھ کر کہ میاں نے نانا جان کو جھک کر سلام کیا، اور اُن کا ہاتھ سینے سے لگا کر روتے ہوئے یہ کہا کہ ’’بابا آپ کے سرِ عزیز کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے عقدِ ثانی کا کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا، نہ جانے کس نے کان بھر دیئے کہ یہ لوگ مجھ سے بگڑ کر یہاں آگئے، میں اپنے والدِ مرحوم کی روح کی قسم کھا کر وعدہ کرتا ہوں کہ زندگی بھر عقدِ ثانی نہیں کروں گا ــــ اور سچے دل سے یہ کہتا ہوں کہ آپ کی صاحب زادی اور اپنے بچوں سے مجھے یہ شکایت مطلق نہیں ہے کہ وہ سب یہاں کیوں چلے آئے ــــ اگر ایسی افواہ سن کر وہ اپنی ماں کی مدد  نہ کرتے اور ان کو آپ کے قدموں تک نہ پہنچا دیتے تو میں ان کی شرافت سے مایوس ہو جاتا اور یہ سمجھ لیتا کہ جو بچے اپنی ماں کے وفادار نہیں، وہ میرے کیا ہو سکتے ہیں‘‘۔

یہ سن کر نانا کا چہرہ بحال ہو گیا، میری ماں کو آواز دی کہ اپنے بچوں کو لے کر یہاں آجا ــــ ہم آئے تو میاں نے ہم سب کو گلے لگا لیا اور فرمایا ’’میرے گھر کے ڈوبے آفتاب  یہاں مل گئے ــــ خدا کی قسم میں تم سے ناخوش نہیں ہوں، اور تم نے اپنی ماں کو ریزرو گاڑی میں لا کر میری لاج رکھ لی ــــ اگر خدانخواستہ عام درجے میں لاتے تو میں زندگی بھر کسی کو منہ نہ دکھا سکتا ــــ‘‘

جب ہم سب ملیح آباد آگئے تو میرے باپ نے میری ماں سے کہا ’’آپ کو کچھ خبر بھی ہے کہ آپ کے یہ بڑے صاحب زادے یہاں کس شرط پر تشریف لائے ہیں؟‘‘ میری ماں نے پوچھا کس شرط پر! میرے باپ نے فرمایا ’’اس شرط پر کہ میں امانی گنج کا پورا باغ ان کے نام لکھ دوں۔‘‘ میری ماں نے چھاتی  پیٹ کر کہا ’’ہے ہے شفیع احمد، شریف بیٹے باپ سے یہی برتاؤ کرتے ہیں ــــ ؟؟ ‘‘

میرے باپ، قول کے دھنی تھے، دوسرے ہی روز امانی گنج کا باغ بھائی صاحب کے نام لکھ دیا، اور فرمایا ’’شبیر  کل اس کے جواب میں بڑا باغ، جو اس سے آٹھ گنا بڑا ہے، تیرے نام لکھ دوں گا۔‘‘ میں نے کہا ’’میاں آپ مجھے خوش کرنا چاہتے ہیں تو میرے نام نہیں، اماں کے نام لکھ دیجئے۔‘‘ ــــ میاں نے میری پیٹھ ٹھونک کر کہا ’’شاباش شاباش تو بڑے دل کا آدمی ہے‘‘ ــــ اور دوسرے دن بڑا باغ، میری ماں کے نام لکھ دیا5۔