پانچ سال ہوئے فروری 1932ء میں منشی پریم چند نے رسالہ ’’ہنس‘‘ بنارس کا ایک ’’اتم کتھا‘‘ نمبر شائع کیا تھا جس میں مشاہیرِ ادب اور بعض دیگر معززینِ ملک کے خودنوشت حالاتِ زندگی درج کیے گئے تھے۔ اس نمبر میں پریم چند جی نے ’’جیون سار‘‘ کے عنوان سے اپنے سوانحِ حیات بھی لکھے تھے۔ اسی مضمون کا ترجمہ ذیل میں ہدیۂ ناظرین کیا جاتا ہے۔
ایڈیٹر
میری زندگی ہموار میدان کی طرح ہے جس میں کہیں کہیں گڑھے تو ہیں لیکن ٹیلوں، پہاڑوں، گہری گھاٹیوں اور غاروں کا پتہ نہیں ہے۔ جن حضرات کو پہاڑوں کی سیر کا شوق ہو انھیں یہاں مایوسی ہوگی۔
میرا جنم سنمبت 1880ء میں ہوا، والد ڈاک خانہ میں کلرک تھے، والدہ مریض تھیں۔ ایک بڑی بہن بھی تھی۔ اس وقت والد شاید بیس روپیہ پاتے تھے، چالیس روپیہ تک پہنچتے پہنچتے ان کا انتقال ہو گیا۔ یوں تو وہ بڑے دور اندیش، محتاط اور دنیا میں آنکھیں کھول کر چلنے والے آدمی تھے، لیکن آخری عمر میں ایک ٹھوکر کھا ہی گئے اور خود تو گرے ہی تھے، اسی دھکے میں مجھے بھی گرا دیا۔ پندرہ برس کی عمر میں انھوں نے میری شادی کر دی جس کے چند سال بعد ہی انھیں سفرِ آخرت درپیش ہو گیا۔ اس وقت میں نویں کلاس میں پڑھتا تھا، گھر میں میری بیوی، سوتیلی ماں اور ان کے دو لڑکے تھے۔ مگر آمدنی ایک پیسے کی نہ تھی۔ گھر میں جو کچھ تھا چھ ماہ تک والد کی علالت اور اس کے بعد تجہیز و تکفین میں خرچ ہو گیا۔ مجھے ایم-اے پاس کر کے وکیل بننے کا ارمان تھا۔ سرکاری ملازمت اس زمانہ میں بھی اتنی ہی مشکل سے ملتی تھی جتنی کہ اب۔ دوڑ دھوپ کر کے شاید دس بارہ روپیہ کی کوئی جگہ پا جاتا، مگر یہاں تو آگے پڑھنے کی دھن تھی۔ مگر پاؤں میں لوہے کی نہیں اشٹ دھات کی بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں اور میں پہاڑ پر چڑھنا چاہتا تھا۔
پاؤں میں جوتے نہ تھے، بدن پر ثابت کپڑے نہ تھے، گرانی الگ، دس سیر کے جو تھے۔ اسکول سے ساڑھے تین بجے چھٹی ملتی تھی۔ کوئینس کالج بنارس میں پڑھتا تھا، ہیڈ ماسٹر صاحب نے فیس معاف کر دی تھی، امتحان سر پر تھا اور میں بانس کے پھاٹک پر ایک لڑکے کو پڑھانے جایا کرتا تھا، جاڑے کا موسم تھا، چار بجے شام کو پہنچ جاتا اور چھ بجے چھٹی پاتا تھا، وہاں سے میرا گھر پانچ میل پر تھا۔ تیز چلنے پر بھی آٹھ بجے رات سے پہلے گھر نہ پہنچ سکتا۔ سویرے پھر آٹھ بجے گھر سے چل دیتا ورنہ وقت پر اسکول نہ پہنچتا۔ رات کو کھانا کھا کر کپی کے سامنے پڑھنے بیٹھتا اور نہ معلوم کب سو جاتا۔
میٹریکولیشن تو کسی طرح پاس ہو گیا لیکن سیکنڈ ڈویزن میں پاس ہوا اور کوئینس کالج میں داخلہ کی کوئی امید نہ رہی۔ فیس صرف اوّل درجہ میں پاس ہونے والوں کی معاف ہو سکتی تھی۔ خوش قسمتی سے اسی سال ہندو کالج کھل گیا تھا۔ میں نے اس نئے کالج میں پڑھنے کا ارادہ کیا۔ مسٹر رچرڈ سن پرنسپل تھے، ان کے مکان پر گیا۔ وہ سر سے پاؤں تک ہندوستانی لباس میں ملبوس تھے اور دھوتی پہنے فرش پر بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔ لیکن مزاج تبدیل کرنا اتنا آسان نہ تھا۔ میری گزارش سن کر، ابھی میں آدھی ہی بات کہہ پایا تھا، بولے کہ ’’گھر پر میں کالج کی بات نہیں سنتا‘‘۔ ناچار کالج گیا، ملاقات تو ہوئی مگر ناامیدی کے سوائے کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ اب کیا کروں، اگر کسی کی سفارش لے آتا تو شاید میری درخواست پر غور ہوتا۔ لیکن ایک دیہاتی لڑکے کو شہر میں جانتا ہی کون تھا؟
روز گھر سے اسی ارادے سے نکلتا کہ کہیں سے سفارش لکھا لاؤں لیکن بارہ میل کی منزل مار کر شام کو یوں ہی گھر واپس آ جاتا۔ شہر میں کوئی بات پوچھنے والا بھی نہ تھا۔
کئی دنوں کے بعد ایک سفارش ملی، ایک صاحب ٹھاکر اندر ناراین سنگھ ہندو کالج کی مجلسِ انتظامیہ کے رکن تھے۔ ان سے جا کر رویا، انھیں مجھ پر رحم آ گیا اور انھوں نے سفارشی چٹھی لکھ دی۔ اس وقت میری خوشی کی انتہا نہ تھی۔ بہرحال خوش خوش گھر آیا، دوسرے دن پرنسپل صاحب سے ملنے کا ارادہ تھا لیکن گھر پہنچتے ہی مجھے بخار آ گیا اور دو ہفتے سے پہلے نہ ٹلا۔ نیم کا کاڑھا پیتے پیتے ناک میں دم آ گیا۔ ایک دن دروازے پر بیٹھا ہوا تھا کہ میرے پروہت جی آ گئے۔ میری حالت دیکھ کر مزاج پرسی کی اور فوراً کسی کھیت سے ایک جڑ کھود لائے اور اسے دھو کر سات دانے کالی مرچ کے ساتھ پسوا کر مجھے پلا دیا، اس نے جادو کا اثر کیا۔ بخار چڑھنے میں گھنٹے بھر کی دیر تھی مگر اس دوا نے گویا گھنٹہ بھر کے اندر ہی اس کا گلا گھونٹ دیا۔ میں نے پنڈت جی سے بار بار اس جڑی کا نام پوچھا مگر انھوں نے نہ بتایا، کہا، ’’نام بتا دینے سے اس کا اثر جاتا رہے گا۔‘‘
غرض ایک مہینے کے بعد دوبارہ مسٹر رچرڈ سن سے ملا اور انھیں ٹھاکر صاحب کا سفارشی خط دکھلایا۔ انھوں نے میری طرف گھور کر دیکھتے ہوئے پوچھا:
’’اتنے دنوں تک کہاں تھے؟‘‘
’’بیمار ہو گیا تھا۔‘‘
’’کیا بیماری تھی؟‘‘
میں اس سوال کے لیے تیار نہ تھا، اگر بخار بتاتا ہوں تو شاید صاحب مجھے جھوٹا سمجھیں، بخار میری سمجھ میں معمولی بات تھی جس کے لیے اتنی لمبی غیر حاضری کی ضرورت نہ تھی۔ کوئی ایسی بیماری بتانے کی فکر ہوئی جو مجبوری اور تکلیف کے علاوہ رحم کے جذبات کو بھی ابھار سکے۔ اس وقت مجھے اور کسی بیماری کا نام یاد نہ آیا، ٹھاکر اندر ناراین سنگھ سے جب میں سفارش کے لیے ملا تھا تو انھوں نے اپنے اختلاجِ قلب کے مرض کا ذکر کیا تھا، ان کے الفاظ مجھے یاد آ گئے۔
میں نے کہا، ’’پلپٹیشن آف ہاٹ سر‘‘ (Palpitation of Heart Sir)
صاحب نے متعجب ہو کر میری طرف دیکھا اور کہا، ’’اب تم بالکل اچھے ہو؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
’’اچھا فارمِ داخلہ بھر کر لاؤ۔‘‘
میں نے سمجھا چلو بیڑا پار ہوا، فارم لیا، خانہ پری کی اور پیش کر دیا۔ صاحب اس وقت کسی کلاس میں پڑھا رہے تھے۔ تین بجے مجھے فارم واپس ملا، اس پر لکھا تھا، ’’اس کی لیاقت کی جانچ کی جائے۔‘‘
یہ نیا مرحلہ پیش آیا تو میرا دل بیٹھ گیا، انگریزی کے سوا اور کسی مضمون میں پاس ہونے کی امید نہ تھی اور حساب و ریاضی سے تو میری روح کانپتی تھی، جو کچھ یاد تھا وہ بھی بھول گیا تھا، اب کوئی دوسری صورت کیا ہو سکتی تھی؟ تقدیر پر بھروسہ کر کے کلاس میں گیا اور اپنا فارم دکھایا، پروفیسر صاحب بنگالی تھے، انگریزی پڑھا رہے تھے، واشنگٹن ارونگ کا ’’Rip Van Winkle‘‘ سبق تھا۔ میں پیچھے قطار میں جا کر بیٹھ گیا اور دو ہی چار منٹ میں مجھے معلوم ہو گیا کہ پروفیسر صاحب اپنے مضمون پر پوری طرح حاوی ہیں۔ گھنٹہ ختم ہونے پر انھوں نے آج کے سبق پر مجھ سے مختلف سوالات کیے اور میرے جوابات سن کر میری عرضی پر ’’اطمینان بخش‘‘ کا لفظ لکھ دیا۔
دوسرا گھنٹہ حساب کا تھا، اس کے پروفیسر بھی بنگالی تھے، میں نے اپنا فارم دکھایا، نئی درس گاہوں میں عموماً وہی طلبا آتے ہیں جنھیں کہیں جگہ نہیں ملتی، یہاں بھی یہی حال تھا۔ کلاسوں میں کم استعداد اور نا قابل طلباء بھرے پڑے تھے، پہلے ریلے میں جو آیا وہ بھرتی ہو گیا، بھوک میں ساگ پات سبھی لذیذ معلوم ہوتا ہے، مگر اب پیٹ بھر گیا تھا، طلباء چن چن کر لیے جاتے تھے۔ ان پروفیسر صاحب نے حساب میں میرا امتحان لیا اور میں فیل ہو گیا۔ فارم پر حساب کے خانہ میں ’’ناقابلِ اطمینان‘‘ لکھ دیا گیا۔
