جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

رومیو و جولیٹ

شکسپیر کے ڈرامے عمومًا دو حصوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں، ایک ٹرجیڈی اور دوسرے کومیڈی۔ ٹرجیڈی اُس ڈراما کو کہتے ہیں جس میں کہ زیادہ تر افسوس اور عبرت ناک واقعات درج ہوں اور جس کا انجام رنج دہ اور پُر درد ہو۔ کومیڈی اس کے برعکس وہ ڈراما ہے جس میں کسی قسم کا کشت و خون ظہور میں نہ آوے، درمیان میں واقعات خواہ کسی قدر نازک اور پیچیدہ آن پڑیں، لیکن انجام اُن سب کا بخوشی طے ہو۔

رومیو اور جولیٹ شکسپیر کی موثر ٹرجیڈی ہے۔ یہ ڈراما دو خاندانوں کے حالات کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ کہ کس قدر اُن میں رنجیدگی اور نا اتفاقی واقع ہوئی۔ یہاں تک کہ ایک خاندان کے آدمی دوسرے خاندان کے ممبران کو دیکھنے تک کے روا دار نہ تھے۔ اگر بہ رضا و قضا دو آدمیوں کو کسی موقع پر ملنے کا اتفاق بھی ہو جاتا تو بغیر جنگ کے معاملہ مطلق طے نہ ہوتا۔ آخر کار وہ متفق ہوئے تو ایسے کہ جس قدر پہلے اُن میں ایک دوسرے کے خلاف عناد اور غرور کا مادہ بھرا ہوا تھا۔ اُسی قدر اب وہ یک جان و دو قالب ہو گئے۔

(1) کیپولیٹ اور مانٹیگ دو مشہور اور متمول خاندان ویرونا میں اپنی زندگی کے ایام، جاہ و جلال سے بسر کرتے تھے۔ ان دونوں خاندانوں میں کچھ تنازعات مدت سے چلے آتے تھے۔ صرف اسی وجہ سے اُن کی شکر رنجی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ کیپولیٹ کے ملازمین کے لیے مانٹیگ کے ملازمین سے ملنا بغیر لڑائی کے محال ہوتا۔ اس قسم کے دنگے اور فساد ہمیشہ ویرونا کے گلی کوچوں میں خون بہائے رکھتے۔

(2) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ لارڈ کیپولیٹ نے بڑی مکلف دعوت کی جس میں کہ بہت سی خوبصورت لیڈیاں اور جنٹلمین مدعو تھے۔ غرض کہ وہاں ہر ایک آدمی کو سوائے مانٹیگ فیملی کے داخل ہونے کی اجازت تھی۔ اس محفل میں رومیو فرزندِ لارڈ مانٹیگ کی معشوقہ روزالین بھی موجود تھی جو برعکس اپنے عاشق کے اُس کو حقارت کی نظر سے دیکھتی تھی۔ رومیو کے دوست حقیقی بنولیو نے اُس کو آمادہ کیا کہ وہ بھی اس محفل میں شریک ہو۔ چونکہ اُس کے لیے معمولی لباس میں وہاں جانا سخت خطرناک تھا۔ اس لیے اُس نے ایک اجنبی لباس میں اپنے تئیں وہاں پہنچایا۔ بنولیو کا رومیو کو وہاں جانے کے لیے اُکسانے کا مدعا صرف یہی تھا کہ رومیو روزیلین کے حُسن کو دوسری خوبصورت لیڈیوں کے حُسن سے مقابلہ کر کے اُس کا خیال اپنے دل سے ترک کر دے اور کسی ایسی عورت سے محبت کرے جو خود بھی اُس پر فدا ہو۔ بنولیو اور مرکویشیو رومیو کا دوسرا دوست بھی بھیس بدل کر ساتھ ہو لیے۔ میزبان نے بڑے تپاک سے اُن کا استقبال کیا اور ان کو کسی نفیس جگہ پر بٹھایا۔ ناچ کا حکم ہوا۔ ناچ کا شروع ہونا ہی تھا کہ رومیو کی نظر ایک نوجوان دوشیزہ حسین لڑکی پر پڑی۔ اس قدر فریفتہ ہوا کہ ہزار جان سے اُس کے زیب و زینت اور حُسن کی تعریفیں شروع کیں۔ جبکہ یہ کلمات اپنی زبان سے نکال رہا تھا۔ ٹائی بلٹ نے جو کہ لارڈ کیپولیٹ کا بھتیجا تھا اور جو کہ رومیو کی آواز کو اچھی طرح سے پہچانتا تھا، اُسے سن لیا۔ فوراً ایسا شور و غل کیا کہ جس سے ہر فرد بشر چوکنا ہو گیا۔ آخر کار چند چیدہ آدمیوں نے اُس سے کہا، ”کہ ایسا مت کرو۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ مخالفین ہماری مجلس میں موجود ہیں مگر چونکہ اُنہوں نے یہاں نہایت شریفانہ برتاؤ رکھا ہے اس لیے لازم ہے کہ ہم بھی اُن سے شریفانہ طریقہ ہی اختیار کریں“۔ یہ سن کر ٹائی بلٹ نے سخت پیچ و تاب کھا کر اپنے آپ کو خاموشی پر مجبور کیا۔ لیکن اُس نے اپنے دل میں حلف اُٹھائی کہ اس مداخلتِ بیجا کا بدلہ رومیو سے کسی اور موقع پر اعلیٰ پیمانہ پر لوں گا۔ جب ناچ ختم ہو چکا، رومیو اُس جگہ پر جہاں کہ وہ لیڈی کھڑی تھی ٹکٹکی باندھے رہا۔ حتیٰ کہ اُس نے اس کے قریب پہنچنے کی جراءت کی اور نہایت حلیمی سے اُس کی طرف مخاطب ہو کر یہ کلمات کہے: ”پیاری بی بی! میری التجا سنیو اور اسے منظور کیجو تاکہ مجھے مایوسی نہ ہو“۔ آخر کار بہت سی گفتگو کے بعد وہ لیڈی اپنے والدین کے مکان کو روانہ ہوئی۔

(3) اس کی روانگی کے بعد رومیو کو اُس لیڈی کے حسب و نسب معلوم کرنے کی خواہش ہوئی۔ دریافت کرنے پر اُسے معلوم ہوا کہ وہ خاندان کیپولیٹ کے رکن اعظم کی جانشین لڑکی جولیٹ ہے۔ دوسری طرف جب جولیٹ کو معلوم ہوا کہ اس کا عاشق خاندان مانٹیگ سے ہے تو اُس نے رومیو کی طرح ایک آہ سرد بھری جو یہ ظاہر کرتی تھی کہ اس حالت میں فریقین کی محبت باعثِ خطرہ اور شادی امر محال ہو گی۔ لیکن چونکہ محبت کی آگ دونوں طرف بھڑک چکی تھی اس لیے چین کس کو۔ ہر چہ آید برسر فرزند آدم بگذردانسان پر جو بھی (اچھا یا برا) وقت آتا ہے، بالآخر گزر ہی جاتا ہے۔ دونوں بیتاب تھے۔ اس بیتابی نے رومیو کو مجبور کیا کہ اپنے دوستوں سے تھوڑی دیر کے لیے رخصت لے کر اپنے آپ کو جولیٹ کے مکان تک پہنچائے۔ جوشِ محبت کا یہ عالم تھا کہ باغ کی ایک بلند دیوار پر سے چھلانگنا اس کے لیے ایک بڑے بھاری رہزن سے بھی آسان ہو گیا۔ اندر پہنچ کر وہ مکان کے صحن کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ اتفاق سے جولیٹ بھی ایک دریچہ کے قریب آ گئی۔ اس وقت حسن کی شعاعوں نے رومیو کے دل پر ایسا ہی اثر کیا جیسے کہ سورج کی خوشنما کرنیں علی الصباح شاعرانِ نیچر پر کیا کرتی ہیں۔ ابھی جولیٹ رومیو کو دیکھنے نہ پائی تھی اور دل ہی دل میں اپنے پیارے عاشق کا خیال کر کے لمبی اور سرد سانسیں نکال رہی تھی کہ یکا یک بیخود ہو کر اور اپنے آپ کو عالمِ تنہائی میں سمجھ کر یہ کلمات اُس نے اپنی زبان سے نکالے۔ ”رومیو پیارے رومیو! اپنے نسب سے انکار کرو اور اپنے نام پر پردہ ڈالو تاکہ ہماری محبت حقیقی بن سکے۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو میں ایسا کرنے پر آمادہ ہوں“۔ ان پیارے لفظوں نے رومیو کے دل پر ایسا ہی اثر کیا جیسے کہ ایک پیارے معشوق کے الفاظ ایک عاشق صادق کے دل پر عمومًا کیا کرتے ہیں۔ آخر کار وہ خاموش نہ رہ سکا اور جولیٹ کے جواب میں اس طریقہ سے کہا جیسے کہ اُس کے الفاظ اُسی کو مخاطب کیے گئے تھے کہ ”مجھے تیری خاطر اپنے حسب و نسب سے انکار ہے اگر واقعی یہ دونوں چیزیں ہماری حقیقی خوشی میں خلل انداز ہیں“۔ یہ الفاظ سُن کر جولیٹ کسی قدر خوف زدہ ہو گئی اور پکاری کہ کون ہے۔ اس اندھیری رات میں باغ کی چار دیواری کے اندر جب اُسے معلوم ہوا کہ یہ رومیو ہے وہ اور بھی بیتاب ہوئی تا کہ ایسا نہ ہو کہ مخالفین یعنی خاندان کیپولیٹ کے آدمی اُسے یہاں دیکھ کر گرفتار کر لیں اور ہلاک کر دیں۔ پوچھا کہ تم کس طرح یہاں تک پہنچے اور کس نے تمہاری رہنمائی کی۔ رومیو نے جواب میں کہا کہ صرف تمہاری محبت نے۔ اگر سات سمندر بھی میرے اور تیرے درمیان حائل ہوتے تب بھی تیری خاطر میں ان کو عبور کرنے کی کوشش کرتا۔ یہ سُن کر جولیٹ فرطِ محبت سے پھولی نہ سما سکی اور گوارا نہ کر سکی کہ کسی قسم کے شتر غمزے دکھا کر رومیو کی خواہش کو اور بڑھا دے۔ بلکہ اُس نے نہایت حلیمانہ طریقہ سے اپنی محبت کا اعتراف کیا۔ اسی اثناء میں جولیٹ کی ملازمہ با آواز بلند پکاری کہ بی بی آؤ۔ رات بہت گذر چکی ہے دن نکلنے کو ہے تھوڑی دیر آرام کرو۔ بی بی سونے کے کمرے تک پہنچنے بھی نہ پائی تھی کہ پھر لوٹی تا کہ چند اور باتیں رومیو سے کر لے۔ رومیو نے دوبارہ تاکیداً کہا ”اگر تمہاری محبت واقعی سچی محبت اور مدعا شادی ہے تو میں حاضر ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک قاصد تمہاری طرف بھیجوں گی تا کہ وہ نکاح کا وقت مقرر کر سکے۔ بعد ازاں میری قسمت تم پر مبنی ہو گی۔ جہاں چاہو مجھے لے چلو“۔ بار بار کمرے تک پہنچ کر جولیٹ پھر واپس آ جاتی یہی حال رومیو کا تھا۔ دونوں طاقتِ جدائی صرف چند گھنٹوں کے لیے بھی گوارا نہ کر سکتے تھے آخر کار خدا حافظ کہہ کر دونوں ایک دوسرے سے رخصت ہوئے۔