جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

شہر لندن کے تاریخی حالات

جب سرسید لندن‌London گئے ہیں اس زمانے میں وہاں اور ہندوستان میں ملکہ وکٹوریا‌Victoria کی حکومت تھی۔ ذیل کی تقریر میں (جو سرسید نے مشنری سکول، گورکھ پور میں، بتقریبِ سالگرۂ ملکہ وکٹوریہ، 29 مئی1874ء کو کی) پہلے ملکہ وکٹوریا کے کچھ سوانحی حالات بیان کیے، پھر لندن کے لوگوں کی معاشرت، ایمانداری، دیانت، سچائی اور قومی ہمدردی کا کچھ حال سنایا؛ ازاں بعد شہر لندن کے ایسے تاریخی حالات بیان کیے جو سفر نامے میں نہیں ہیں۔ چونکہ یہ بیان سرسید کے سفرِ لندن کا ایک حصہ ہے اس لیے ہم اسے سرسید کی ان تقریروں سے لے کر یہاں درج کرتے ہیں جن کا مجموعہ مولانا امام الدین گجراتی نے مرتب کیا اور جسے ملک فضل الدین تاجر کتب لاہور نے 21 فروری 1900ء کو شائع کیا۔

(محمد اسماعیل پانی پتی)

سوانحِ ملکہ وکٹوریا

پیدائش اور والد کا انتقال

اپنی تقریر کی ابتدا میں سید صاحب نے پہلے کچھ مختصر حال ملکہ وکٹوریا کی ولادت کا بیان کیا اور فرمایا کہ حضور ممدوحہ کے پدرِ بزرگوار کا نام ایڈورڈ آف کینٹ‌Edward of Kent ہے اور 24 مئی 1819ء کو حضور ممدوحہ بمقام کنزنکٹن پیلس‌Kensington Palace میں پیدا ہوئیں۔ اگلے ہی سال میں حضور ممدوحہ کے شفیق باپ نے قضا کی اور ہماری ملکہ معظمہ یتیم ہو گئیں۔ اس وقت یہ بات کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ آ سکتی تھی کہ یہ بن باپ کی لڑکی ایک روز ایسی عظمت اور شان کو پہنچے گی کہ یورپ اور افریقہ اور ایشیا اور امریکہ ہر ایک حصۂ ملک میں اس کی حکومت اور طاقت کا لوگ اقرار کریں گے۔

تعلیم و تربیت

اب میں آپ صاحبوں کو بتلاتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے جس کے سبب ہماری ملکہ معظمہ نے ایسی بڑی ناموری حاصل کرنے کی قابلیت پیدا کی؛ یہ حضور ممدوحہ کی مادرِ مشفقہ کی تعلیم کا نتیجہ تھا۔ حضور ممدوحہ کی والدہ ماجدہ کا نام ڈچس آف کینٹ‌Duchess of Kent ہے جو بادشاہِ بلجیم‌Belgium کی بہن تھیں، انھوں نے بعد انتقال اپنے شوہر کے بڑے استقلال اور قابلیت کے ساتھ اپنی یتیم لڑکی کی تعلیم و تربیت کا اہتمام خود اپنے ذمے لیا۔ سب سے پہلے انھوں نے جناب ملکہ معظمہ کو ورزش سکھلائی یعنی وہ کام جن سے بدن چست اور طبیعت خوش رہے۔ ہمارے ملک کے آدمی ابھی اس اہم معاملے کی خوبی سے آگاہ نہیں ہیں اور اپنی اولاد کی صحتِ جسمانی کا زیادہ لحاظ نہیں کرتے، حال آنکہ یہ ابتدائی احتیاط ہر ایک قسم کی تعلیم کی جڑ ہے۔ اگر بچوں کی صحت و عافیت میں ابتدا سے کچھ خلل آ جاوے تو پھر ان کی ہر ایک قسم کی استعداد پژمردہ ہو جاتی ہے اور وہ تعلیم کے اعلیٰ درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔

ورزش کے بعد جس چیز کی (ملکہ وکٹوریا کو) تعلیم دی گئی وہ اعتدال ہے یعنی ہر ایک کام میں سلامت روی اختیار کرنا۔

اس کے علاوہ گھوڑے کی سواری اور جہازی سفر وغیرہ امور کی بھی تعلیم دی گئی تاکہ جب کبھی سفر پیش آ جاوے یا فوجوں کے ساتھ رہنے کی ضرورت پڑے تو حضور ممدوحہ ہر ایک موقع پر مستعد رہیں۔

ان سب باتوں کے علاوہ ایک اور بڑی عمدہ چیز سکھلائی گئی یعنی کفایت شعاری جو بادشاہوں کے لیے نہایت ضروری ہے مگر اس ملک کے لوگ شاید اس کو بہت کم سمجھیں گے، اس لیے کہ یہاں ہمیشہ ایسے بادشاہوں نے فرمانروائی کی جن کو کفایت شعاری سے کچھ غرض نہ تھی، جس وقت جس کام میں ان کا جی چاہا خزانہ صرف دیا۔ کوئی ان سے پوچھنے والا نہ تھا؛ برخلاف اس کے ہماری ملکہ معظمہ کی طبیعت میں ابتدا ہی سے ایسا اعتدال اور کفایت شعاری داخل کی گئی کہ کسی وقت اس سے قدم باہر نہیں رکھا۔

وائیس کونٹ مل برن‌Viscount Melbourne صاحب نے حضور ممدوحہ کو ان تمام اصولِ انتظامِ سلطنت کی تعلیم دی جن کے بموجب اس وقت انگلستان کی سلطنت میں کارروائی ہوتی تھی۔

تخت نشینی

آخر اس تمام عمدہ تعلیم کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب بادشاہ ولیم چہارم‌William IV نے انتقال کیا اور صحیح النسب وارثِ سلطنت نہ رہا تو بموجب قانونِ انگلستان کے 20 جون 1837ء کو ہماری ملکہ معظمہ خلد اللہ ملکہا و سلطنتہااللہ اس کا ملک اور اس کی سلطنت ہمیشہ قائم رکھے تخت نشین ہوئیں جو اس وقت ہر طرح سے ایسے بڑے عہدے کے لائق تھیں۔

شادی

10 فروری 1840ء کو حضور ممدوحہ کی شادی ہوئی اور 1841ء میں پرنس آف ویلز‌Prince of Wales ولی عہدِ سلطنت پیدا ہوئے اور اب حضور ممدوحہ کا سن پچپن سال کو پہنچا۔

ملکہ وکٹوریا کا عہد

جناب ملکہ معظمہ کے عہد کی نسبت جس قدر تعریف اور توصیف کی جاوے، وہ سب بجا اور درست ہوگی۔ میں اس وقت ایک بڑے لائق مصنف لارڈ بروہم‌Lord Brougham کا قول بیان کرتا ہوں جس نے بہت ہی مختصر اور سیدھے اور سچے لفظوں میں ہماری ملکہ معظمہ کی نسبت رائے دی ہے؛ لیکن قبل اس قول کے بیان کرنے کے میں آپ صاحبوں پر یہ ظاہر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ یورپ کے مصنفوں کے بیان کو ایشیائی مصنفوں کے بیان پر قیاس نہ کریں جن کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے بادشاہوں کی تعریف میں وہ باتیں بیان کرتے ہیں جن کی کچھ اصل نہیں ہوتی اور محض جھوٹ ہوتی ہیں اور جن سے ہرگز کسی بادشاہ کے اصلی حالات معلوم نہیں ہو سکتے۔ یورپ کے مصنفوں کا طرز اس سے بالکل برخلاف ہے، یہ مصنف کبھی کسی کی ایسی تعریف نہیں کرتے جس کا وہ مستحق نہ ہو۔ پس لارڈ بروہم کا قول جو میں اب بیان کرتا ہوں اس کی نسبت کسی طرح یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ اس نے اس بیان میں کچھ بھی مبالغہ کیا ہوگا۔ اس عالی مرتبہ مصنف کا وہ قول یہ ہے ’’کسی ملک میں ایسی ملکہ آج تک نہیں ہوئی جو پبلک اور پرائیویٹ باتوں میں ملکہ وکٹوریا سے بڑھ کر قابلِ تعریف اور رعایا کی شکر گذاری کی مستحق ہو‘‘۔

کیسی سچی اور کس قدر بڑی تعریف کی بات ہے اور جو سچ اور بالکل سچ ہے۔

انگلستان کی رعایا کو حقوق کی آزادی

کسی ملک کی رعایا کو اس قدر آزادی اور اس قدر حقوق حاصل نہیں ہیں جیسے انگلستان کی رعایا کو حاصل ہیں اور وہاں اگرچہ ایک بادشاہ مانا جاتا ہے لیکن اس کے اختیارات کی وہ کیفیت نہیں ہے جیسے آپ صاحبوں کے خیال میں سمائی ہوئی ہوگی اور جیسے ایشیا کے بادشاہوں کی کیفیت تھی جن کو یہ اختیار تھا کہ جس شخص کی نسبت جو حکم چاہیں دے دیں، جس کام میں جس قدر چاہیں خزانہ صرف کر دیں۔ انگلستان کے بادشاہ کی حالت بالکل اس کے برعکس ہے؛ یہاں بادشاہ کے اختیارات محدود ہیں اور تمام قوانین جن پر سلطنت کی کل کارروائی منحصر ہوتی ہے، رعایا کی منظوری کے بعد جاری ہوتے ہیں، بادشاہ کو ہرگز یہ اختیار نہیں ہے کہ سلطنت کے خزانے کو اپنی مرضی کے مطابق جہاں چاہے صرف کر دے۔

اس ضمن میں ایک نصیحت آمیز واقعہ

میں جس عرصے میں لندن میں مقیم تھا تو پارلیمنٹ میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ آئر لینڈ‌Ireland میں جناب پرنس آف ویلز ولی عہدِ سلطنت کے واسطے ایک قطعۂ اراضی جو بہت عمدہ موقع پر واقع تھا، سلطنت کے خزانے سے خرید کیا جاوے اور لارڈ اسچکر صاحب نے ایسی خوبصورتی سے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا کہ اس کو پرائیویٹ مقاصد سے نکال کر بالکل ایک پولیٹیکل معاملہ بنا دیا اور بیان کیا کہ جو مخالفت آئر لینڈ کی رعایا کو لندن کے شاہی خاندان سے ہے اس کے لحاظ سے یہ بات بہت ہی ضرور ہے کہ خاندانِ شاہی کے واسطے اس ملک میں اس قسم کی جائداد پیدا کی جاوے اور ان کا اس ملک میں اکثر قیام ہو تاکہ اس ذریعے سے ایک خاص قسم کا ارتباط خاندانِ شاہی کو اس ملک کی رعایا سے پیدا ہووے۔

مگر پارلیمنٹ کے ممبروں نے اس تمام وجوہات سے انکار کیا اور ہرگز اس بات پر راضی نہ ہوئے کہ پرنس آف ویلز ولی عہدِ سلطنت کے واسطے شاہی خزانے سے اس قسم کا خرچ روانہ کیا جاوے۔

پس جب رعایا کی آزادی اور ان کی مداخلت انتظامِ مملکت میں اور ان کے حقوق اس قدر بڑھے ہوئے ہیں تو لارڈ بروہم کا قول نہایت ٹھیک ہے۔

آزادیٔ حقوق کے متعلق ہند و انگلینڈ‌ کی رعایا میں فرق

ہمارے اس ملک ہندوستان کی نسبت لوگ البتہ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ہم کو ایسے حقوق حاصل نہیں جیسے رعایائے انگلستان کو حاصل ہیں؛ قانون بنانے میں اور امور میں جو ملک کی حالت پر مؤثر ہیں، یہاں کے لوگوں کی رائے کو کچھ وقعت نہیں ہے۔