اس فرق کی وجہ
میں بھی اس بیان سے انکار نہیں کر سکتا اور اس نقصان کو افسوس کے ساتھ تسلیم کرتا ہوں لیکن اس کے ساتھ ہی انصافاً میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ یہ تمام خرابی صرف اس لیے ہے کہ ہم لوگوں نے ابھی ایسی لیاقت حاصل نہیں کی ہے جو انگلستان کی سی رعایا کے حقوق ہم کو حاصل ہوں اور میری قطعی یہ رائے ہے کہ اگر ہمارے ملک کے آدمی ویسی ہی لیاقت حاصل کر لیں جیسی انگلستان والوں نے کی ہے اور ان لیاقتوں کو ویسی ہی نیک نیتی اور خیر خواہی سے استعمال میں لاویں جیسی نیک نیتی اور خیر خواہی اہلِ انگلستان کو اپنی گورنمنٹ کی نسبت ہے تو بلاشبہ وہ تمام حقوق اس ملک کی رعایا کو بھی حاصل ہو جاویں گے۔ ایک بڑے مصنف کا قول ہے ’’گو آزادی رعایا کا اصلی حق ہے لیکن اس قسم کے حقوق اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب کہ رعایا میں ان حقوق کو واجبی طور سے اور نیک نیتی سے برتنے کے لیے لیاقت موجود ہو‘‘؛ پس ہمارے ملک والوں کو اگر انگلستان کی رعایا کے سے حقوق کی آرزو ہے تو ان کو بھی ویسی ہی لیاقت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
شہر لندن کی تاریخ اور اس کی موجودہ حالت
اب میں لندن کے شہر کی مختصر کیفیت بیان کرتا ہوں جس کی مجھ سے خواہش کی گئی ہے مگر پھر اس بات کا عذر کرتا ہوں کہ وقت کی تنگی کی وجہ سے کچھ زیادہ بیان نہیں کر سکتا۔
لندن کا شہر ایک قدیمی شہر ہے اور قبل حضرت مسیح علیہ السلام کے جب ’’لییر شیرز‘‘1 نے لشکر کشی کی تو اس وقت یہ شہر آباد تھا اور اب یہ شہر تمام دنیا میں سب سے بڑا شہر ہے اور اگر میری یاد نے غلطی نہ کی ہو تو قریب بیس میل لمبا اور دس بارہ میل چوڑا ہے اور 35 لاکھ آدمی کے قریب اس میں آباد ہیں۔ اگرچہ یہ شہر اپنی خوبصورتی میں پیرس سے اور عمدگیٔ موقع میں قسطنطنیہ سے بہتر نہیں ہے لیکن آبادی اور مال و دولت کی کثرت کے لحاظ سے اب دنیا میں کوئی شہر اس کی ہمسری نہیں کر سکتا۔
لندن میں آب رسانی کا انتظام
1255ء میں اول ہی اول چیپ سیڈ میں پانی کے نل اس شہر میں لگ گئے تھے، جس کو آج وہ ترقی ہے کہ دیکھنے سے علاقہ رکھتی ہے؛ کوئی گھر اور موقع باقی نہیں جہاں ان نلوں کے ذریعے سے پانی نہ پہنچتا ہو، ایک مقام پر گھما دینے سے اس تمام علاقے کے گھروں کے حوض پہلی منزل سے لے کر اونچی منزل تک سب بھر جاتے ہیں اور جب کوئی حوض بھر جاتا ہے تو پھر اس میں پانی جانا بند ہو جاتا ہے اور جب سب حوض بھر جاتے ہیں تو وہ کل از خود بند ہو جاتے ہیں۔
شہر میں روشنی کا اہتمام
روشنی کا اہتمام بھی اس شہر میں مدت سے ہے؛ 1316ء میں لالٹینوں کی روشنی سڑکوں پر شروع ہو گئی تھی جس نے اب وہ ترقی پائی ہے کہ اس سے پہلے خیال میں بھی نہیں آ سکتی تھی، ہر ایک گھر گیس کی صاف روشنی سے منور ہے جو ایک نہایت لطیف ہوا ہے۔
عمارات کی طرز
طرزِ عمارت میں بھی پہلے کی بہ نسبت بہت زیادہ ترقی ہو گئی ہے۔ شہر میں ایک موقع پر پرانی عمارت کے کچھ مکان اتفاق سے اب تک اپنی پہلی حالت پر قائم ہیں، ان کے دیکھنے سے اس وقت کی طرزِ عمارت کا حال معلوم ہو جاتا ہے۔
پچھلا طرزِ عمارت اس شہر کا یہ تھا کہ نیچے کا درجہ پاٹ کر اس کے آگے چھجا نکالتے تھے اور دوسرا درجہ چھجے کے اوپر سے بنانا شروع کرتے تھے اور پھر چھجا نکال کر تیسرا درجہ اس پر بناتے تھے، اس طرح مکان درجہ بدرجہ اوپر کو پھیلتا جاتا تھا؛ یہاں تک کہ کبھی مقابل کے دو مکان اونچے اور چوڑے ہوتے آپس میں مل جانے کے قریب ہو جاتے تھے اور غالباً یہ طرز اس لیے اختیار کیا گیا تھا کہ ان مکانات کے اطراف میں جو لوگ راستہ چلیں ان کو بارش اور برف سے امن ملے۔
وبا اور آتش زدگی سے شہر کی تباہی
1665ء میں اس شہر میں ایک بہت بڑی وبا پھیلی جس میں بہت کثرت سے انسانوں کی جانیں تباہ ہوئیں اور 1666ء میں ایک سخت آگ لگی؛ اس عظیم آتش زدگی میں تیرہ ہزار گھر جل کر خاکِ سیاہ ہو گئے اور بہت ہی نقصان ہوا۔
تباہی کی اصلی وجہ اور اس کا انسداد
جب متواتر دو برسوں میں یہ دو سخت آفتیں شہر پر نازل ہوئیں تب وہاں ایک بڑی کمیٹی منعقد کی گئی اور بہت سی تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ نکلا کہ یہ دونوں آفتیں شہر کی طرزِ عمارت کی وجہ سے پیش آئیں؛ پس اسی وقت سے عمارت کا طرز بدلا گیا جس سے اس قسم کی مصیبتیں رک گئیں اور اب وہ شہر ایسی عمدہ رونق پر پہنچ گیا ہے۔
تباہی کا یادگاری مینار
1666ء کی آتش زدگی کی یادگار میں ایک بہت بڑا مینار تیار کیا گیا ہے جو اب تک موجود ہے اور 200 فٹ بلند ہے اور جس کو دیکھ کر لوگ اس بڑی مصیبت سے واقف ہوتے ہیں اور طرزِ عمارت کی تبدیلی کی قدر کرتے ہیں۔
لندن کی ایک عبرت انگیز تاریخی عمارت
لندن کے مشہور مکانات میں سے ٹاور آف لندن بھی ایک مکان عبرت سے ذکر کرنے کے لائق ہے۔ یہ لندن کا ایک قدیم قلعہ ہے؛ 1078ء میں بادشاہ ولیم اول نے اس میں ایک محل وائٹ ٹور کے نام سے تعمیر کیا، ملکہ الزبتھ اور کنگ جیمس کے زمانے تک وہ محل بادشاہوں کے رہنے کا مکان رہا اور اس کے بعد سے قید خانہ ہو گیا؛ بڑے بڑے نامی سردار اس میں قید ہوئے اور بہت سی جانیں نہایت بے رحمی کے ساتھ اس میں ضائع ہوئیں، بہت سے خون اس میں بہائے گئے، وہ لوہے کا تبر جس نے بڑے بڑے بادشاہوں اور سرداروں کی گردنیں کاٹی ہیں اور کاٹ کا کندہ جس پر وہ گردنیں کٹی ہیں، ٹاور کے اسلحہ خانے میں اب تک موجود ہے۔
اسی مکان میں ایک اور برج ہے جس کی سیر سے انسان کے دل پر ایک عجیب حیرت اور عبرت طاری ہوتی ہے۔ یہ برج ایک نہایت ہی مستحکم عمارت ہے اور اس میں صرف ایک دروازہ ہے جس کے مضبوط کواڑوں کے بند ہو جانے کے بعد، وہ برج پوری مایوسی کا عالم ہو جاتا ہے۔ بڑے بڑے نامی سردار جو اس برج میں قید ہوئے ہیں، ان میں سے اکثروں نے اپنے ان بد اقبالی کے وقتوں میں کوئی کوئی فقرہ در و دیوار کے اوپر کسی ذریعے سے کندہ کر دیا ہے؛ یہ سب فقرے اب تک جوں کے توں موجود ہیں اور اس قدر پر اثر ہیں کہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی انسان ان کو دیکھے اور اس کا دل بھر نہ آوے۔
ان کے علاوہ اور بہت سے مکانات اور نہایت عجیب عجیب اور نادر نادر چیزیں اس شہر میں ہیں جن کے بیان کے لیے ایک زمانہ درکار ہے اس لیے میں پھر عذر کرتا ہوں اور زیادہ کیفیت وہاں کی چیزوں کی میں بیان نہیں کر سکتا۔
لندن کے تاجر
(یہاں میں) کچھ مختصر سا ذکر اس سچائی کا بھی کروں گا جو وہاں عموماً برتی جاتی ہے۔ ایک ادنیٰ بات یہ ہے کہ جب کوئی بازار میں جاتا ہے تو جس سوداگر کی دوکان میں گزر ہوتا ہے، وہ سوداگر اس کے ساتھ نہایت اخلاق اور انسانیت سے پیش آتا ہے۔ جس چیز کی ضرورت ہوئی اس کو پسند کر لیا اور مالکِ دوکان کو اس کی تفصیل اور مکان کا پتہ لکھا دیا، نہ قیمت کی کچھ تکرار ہے، نہ سودا ٹھہرانے میں ناحق کی بک بک ہے؛ اگر کسی نے کسی چیز کی قیمت دریافت کی تو بہت ملائمت سے اس کا جواب مل گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس سوداگر کا نوکر گاڑی پر سوار، ان سب چیزوں کو لیے ہوئے دروازے پر آ موجود ہوتا ہے اور وہ سب چیزیں سپرد کر جاتا ہے اور اگر قیمت پہلے سے ادا نہیں کر دی گئی ہے تو مالک کی طرف سے اس کا بل اپنے ساتھ لاتا ہے اور روپیہ لے جاتا ہے۔ اب ہم لوگوں کو غور کرنا چاہیے کہ وہاں ادنیٰ ادنیٰ موقع پر بھی کس درجے سچائی برتی جاتی ہے اور اس سے کس قدر آرام ملتا ہے۔
لندن کے بدمعاش
اس میں بھی شک نہیں کہ لندن میں بدمعاش بھی پورے ہوتے ہیں، جو کام وہاں کے بدمعاش کر گزرتے ہیں، وہ اور کسی جگہ کے بدمعاشوں سے ممکن نہیں ہے۔
اہلِ لندن کی راست بازی
لیکن لحاظ کے قابل یہ امر ہے کہ اس بدمعاشی کے ساتھ وہاں نیکی اور راست بازی کس قدر شائع ہے؟ روز مرہ اخباروں میں یہ اشتہار دیکھے جاتے ہیں کہ ’’کسی شخص کی سونے کی گھڑی فلاں جگہ سے پڑی ہوئی کسی شخص کو ملی ہے اور اب وہ فلاں جگہ رکھی ہوئی ہے جس کی ہو وہ آ کر لیوے‘‘۔
