جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

شہر لندن کے تاریخی حالات

بعض سررشتوں کے ملازم اپنے کسی افسر کی نالائقی ثابت کرنے کے واسطے کوئی غلط حساب اس کے سامنے پیش کر کے تصدیق کرا لیتے ہیں اور زیادہ روپیہ اس کے ذریعے سے وصول کر لیتے ہیں اور پھر اس کے بعد اس زرِ زائد کا نوٹ وزیر کے پاس لفافے میں چلا آتا ہے اور اس کے ساتھ ایک چٹھی اس افسر کی شکایت میں ہوتی ہے کہ دیکھیے فلاں افسر اس قدر نالائق ہے کہ اس نے غلط حساب کو تصدیق کر دیا۔

پس جہاں چند بدمعاش ہوتے ہیں وہاں ایسے ایسے نیک دل انسان بھی کثرت سے موجود ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس شہر کی خوبی اور نیک نامی اور تجارت دن بدن بڑھتی جاتی ہے اور یہ سب باتیں عمدہ تعلیم کی بدولت ہیں۔

مسلمانوں کی گذشتہ تعلیم و تہذیب

جس زمانے میں ہماری قوم کی تعلیم بھی عمدہ تھی، ہم میں بھی یہ سب خوبیاں موجود تھیں اور جب سے ہماری تعلیم ناقص ہو گئی، وہ سب خوبیاں ہم میں سے جاتی رہیں۔ ہماری قوم نے ایک وقت میں علوم اور فنون میں ایسی ترقی کی تھی اور ایسی فیاضی سے اپنے علوم سے یورپ کی قوموں کو نفع پہنچایا کہ بڑے بڑے مصنفوں نے اس بات کا اقرار کر لیا ہے کہ اگر مسلمان ان علوم میں ایسی ترقی نہ کرتے اور ان سے اور قوموں کو ایسا فائدہ نہ پہنچتا جیسا پہنچا تو آج دنیا میں ان علوم و فنون کا نام بھی نہ ہوتا؛ قرطبہ کی یونیورسٹی نے اور ہماری بغداد کی یونیورسٹی نے اپنے علوم و فنون کی ترقی کی وجہ سے تمام دنیا میں علم کا آفتاب روشن کر دیا۔

انگریزوں نے جو کچھ لیا ہم سے لیا

یہ انگریزوں کی قوم جو آج ایسی اعلیٰ درجے کی شائستگی میں ہمارے اوپر حکومت کر رہی ہے، انھیں یونیورسٹیوں اور مدرسوں سے اس کو علوم و فنون کی روشنی پہنچی۔ آج اتفاق سے ہم اور وہ قوم جس نے ایک زمانے میں ہم سے علم حاصل کیا اور ہم سے بہت اعلیٰ درجے پر پہنچ گئی ہے، اتفاق سے اس ملک ہندوستان میں جمع ہو گئے ہیں۔

قرض کی واپسی کا مطالبہ

پس ہمارا ان سے یہ دعویٰ ہے کہ جو قرض ان لوگوں نے ہم سے لیا تھا، وہ اب ہم ان سے وصول کریں اور میں نہایت سچے دل سے شکر کرتا ہوں کہ وہ قوم اس قرض کو مع سود دینے کے لیے بڑی فیاضی سے حاضر ہے یعنی جو بہت سے علوم و فنون خود اس نے اپنی محنت اور تلاش سے مستزاد کیے ہیں، وہ ہم کو سود میں دینے کے لیے حاضر ہے مگر ہم اپنے تعصب اور جہالت اور نالائقی کی وجہ سے ان سے محروم ہیں۔

اپنی قوم کی خدمت میں گذارش

پس میری خواہش یہ ہے کہ ہماری قوم اپنے خستہ حال کو دیکھے اور جو عمدہ موقع اس کو اتفاق سے ہاتھ آیا ہے، اس سے فائدہ اٹھانے میں کوتاہی نہ کرے اور سب ایک دل ہو کر اس میں کوشش کریں اور آپس کی ضد اور بغض اور حسد سے برباد نہ کر دیں۔