اثرِ ابنِ عباسؓ
ایک قول حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے منسوب ہے کہ انھوں نے فرمایا:
’’انّ اللہَ خلقَ سبعَ أرضین فی کُلِّ أرضٍ آدمَ کآدمِکُم ونوحًا کنوحِکُم، ابراھیمَ کابراھیمِکُم عیسیٰ کعیساکُم ونبیٌّ کنبیِّکُم۔‘‘
(ترجمہ) ’’تمہاری اس دنیا جیسی سات زمینیں اللہ نے پیدا کی ہیں، ہر زمین پر ایک آدم ہے، تمہارے آدم کی طرح، ایک نوح تمہارے نوح جیسا، ابراہیم تمہارے ابراہیم کی طرح، عیسیٰ تمہارے عیسیٰ کی طرح اور ایک نبی تمہارے نبی کی مثل پیدا کیا۔‘‘
اس روایت نے کئی مباحث پیدا کر دیے۔ عقیدۂ ختمِ نبوت بھی متاثّر ہوتا ہے، تناسخ کے عقیدے کو بھی تقویت ملتی ہے اور امکانِ نظیر کا سوال بھی اسی سے پیدا ہوا۔ بہادر شاہ ظفر کے عہد میں مولانا فضل حق خیر آبادی اور دوسرے علماء کے درمیان تحریری مناظرہ بھی ہوا۔ غالب نے بھی مولانا خیر آبادی کی فرمائش پر ایک مثنوی لکھی جو اُن کے کلیّاتِ نظمِ فارسی میں موجود ہے۔ اسی میں غالب نے کہا ہے:
|
ہر کجا ہنگامۂ عالم بود |
رحمۃٌ للعالمینے ہم بود |
(ترجمہ: جہاں بھی دنیا کا ہنگامہ ہوگا، وہاں ایک رحمۃ للعالمین بھی ہوگا)
پھر یہ مسئلہ دوسرے بعض مسائل کی طرح احناف کے دو دھڑوں میں اختلاف کا سبب بن گیا۔ مولانا محمّد قاسم نانوتوی نے اسی سلسلہ میں تحذیر الناس عَن اِنکارِ اثرِ ابن عبّاس لکھی۔ اُن کے شاگرد مولانا سید احمد حسن محدّث امروہی نے ازالۃ الوَسواس تصنیف کی۔ علمائے بریلی، بدایوں اور لکھنؤ نے بھی اس بحث میں حصّہ لیا۔ مولانا عبد الحیؒ فرنگی محلی نے بھی لکھا۔ مولانا عبد السمیع بیدل رامپوری (شاگردِ مرزا غالب وخلیفۂ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ) نے اپنی کتاب انوارِ ساطعہ میں بھی اِس مسئلہ سے بحث کی ہے۔
ماخذ:
(بہ شکریہ) پروفیسر نثار احمد فاروقی، شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی۔
اسماعیلیہ فرقہ
یہ فرقہ امام جعفر صادق کے فرزند اسماعیل کو امامِ ہفتم اور اُن کے فرزند محمد کو امامِ قائم مانتا تھا۔ یہ لوگ اپنے عقاید چھپاتے تھے اور باطنی کہلاتے تھے۔
مصر میں اسماعیلی فرقہ کا بہت اثر تھا۔ ایران میں سلجوقی دور میں حکیم ناصر خسرو (ولادت 394ھ) نے اپنی مشہور کتاب ’’زاد المسافرین‘‘ میں اسماعیلی عقاید کے بنیادی مسائل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
ماخذ:
ڈاکٹر رضا زادہ شفق — تاریخِ ادبیاتِ ایران۔ ص81 - 180
اقبال اور مسئلۂ فلسطین1
اقبال کو ذاتی طور پر مسئلۂ فلسطین اور عربوں کے مستقبل سے نہایت گہری دلچسپی تھی۔ وہ مس فارقوہرسن کو لکھتے ہیں:
’’فلسطین پر یہودیوں کا بھی کوئی حق نہیں۔ یہودیوں نے تو اس ملک کو رضامندانہ طور پر عربوں کے فلسطین پر قبضہ سے بہت پہلے خیرباد کہہ دیا تھا، صیہونیت بھی کوئی مذہبی تحریک نہیں۔ علاوہ اس امر کے کہ مذہبی یہودیوں کو صیہونیت سے کوئی دلچسپی نہیں، خود فلسطین رپورٹ نے اس امر کو روزِ روشن کی طرح واضح کر دیا ہے۔‘‘2
ہندوستان میں جتنی فلسطین کانفرنسیں ہوئیں سب میں اقبال کے مشورے اور ہمدردیاں شامل تھیں۔ علامہ نے فلسطین رپورٹ کے خلاف مسلمانانِ لاہور کی کانفرنس کے موقع پر ایک بیان دیا تھا، جس میں انھوں نے لکھا تھا:
’’عربوں کے ساتھ جو ناانصافی برتی گئی ہے، مجھے اس کا ایسا ہی شدید احساس ہے، جیسا مشرقِ قریب کی صورتِ حال سے واقف کسی شخص کو ہو سکتا ہے۔ یہ مسئلہ مسلمانانِ عالم کو ایک موقع بہم پہنچاتا ہے کہ وہ پوری قوت سے اس امر کا اعلان کر دیں کہ وہ مسئلہ جس کا حل برطانوی سیاستدان تلاش کر رہے ہیں، محض قضیۂ فلسطین ہی نہیں بلکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا شدید اثر تمام دنیائے اسلام پر ہوگا — مسئلۂ فلسطین کو اگر اس کے تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو فلسطین ایک خالص اسلامی مسئلہ ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو فلسطین میں مسئلۂ یہود تو 13 صدیاں ہوئیں حضرت عمرؓ کے یروشلم میں داخلہ سے قبل ختم ہو چکا تھا۔ فلسطین سے یہودیوں کا جبری اخراج کبھی بھی عمل میں نہیں آیا بلکہ بقول پروفیسر ہوکنگ یہود اپنی مرضی اور ارادہ سے اس ملک سے باہر پھیل گئے اور ان کے مقدس صحائف کا غالب حصہ فلسطین سے باہر ہی مرتب و مدوّن ہوا۔ مسئلۂ فلسطین کبھی بھی عیسائیوں کا مسئلہ نہیں رہا۔ زمانۂ حال کے تاریخی انکشافات نے ’’پیٹر دی ہرمٹ‘‘ کی ہستی ہی کو محلِ اشتباہ قرار دے دیا ہے3‘‘ … الخ
پہلی جنگِ عظیم کا افسوسناک انجام یہ تھا کہ نزلہ عالمِ اسلام پر گرا۔ اُدھر ترکی کی خلافتِ اسلامیہ کا شیرازہ بکھر گیا اور اتحادیوں نے سیاسی بندر بانٹ اور تقسیم کا پرانا حربہ آزادی سے استعمال کیا۔ چنانچہ ترکی کا مشرقی حصہ روس کے ہاتھ لگا اور مغرب کے یورپی صوبے بلقان، ہنگری، بلغاریہ وغیرہ مکمل طور پر خود مختار ہو گئے۔ شام فرانس کے ہاتھ لگا اور مصر و عراق پر برطانیہ نے قبضہ جمایا۔ اس طرح عالمِ اسلام کے حصّے بخرے ہو گئے۔ فلسطین کا مسئلہ ذرا بین الاقوامی نوعیت کا تھا، اس لیے اسے ’’تہذیب و ترقی‘‘ کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے برطانیہ کے زیرِ انتداب رکھا گیا۔ اقبال اس صورتِ حال پر روشنی ڈالتے ہیں اور یورپ کی اس سیاسی چال کو سامنے لاتے ہیں کہ وہ پہلے کمزور ممالک کو ظلم کا نشانہ بناتا ہے اور پھر اُس کے غم میں مگرمچھ کے آنسو بھی بہاتا اور ہمدردی ظاہر کرتا ہے تاکہ عالمی سیاسیات میں ساکھ بھی قائم رہے اور اپنا مقصد بھی نکل آئے۔ یورپ اس حکمتِ عملی کو تہذیب اور اصلاح، انتداب اور نگرانی کا نام دیتا ہے لیکن یہ استحصال کے سوا اور کچھ نہیں:
|
ہر ملتِ مظلوم کا یورپ ہے خریدار |
اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے |
|
جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا دل |
تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدۂ دشوار |
|
ترکانِ جفا پیشہ کے پنجے سے نکل کر |
بیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار |
جمعیتِ اقوام (’’LEAGUE OF NATIONS‘‘) نے اس زمانے میں بھی عربوں اور ایشیائیوں کے ساتھ موجودہ امتیازی سلوک جاری رکھا تھا اور اس پر یہودی اور مغربی ممالک مسلّط تھے۔ اقبال اسی لیے اسے کہیں ’’داشتۂ پیرکِ افرنگ‘‘ کہتے ہیں، کہیں اُن کفن چوروں سے تشبیہ دیتے ہیں، جو مشرق کو قبرستان بنا کر اسے بھی تقسیم کر لینے کے درپے رہتے ہیں۔ ع
|
بہرِ تقسیمِ قبور انجمنے ساختہ اند |
|
|
ترجمہ قبروں کی تقسیم کے لیے انھوں نے ایک انجمن بنا رکھی ہے |
اقبال مغربی سیاسیات پر یہودیوں کے بڑھتے ہوئے اثر کو سمجھ گئے تھے۔ اُن کا خیال ہے کہ ایک نہ ایک دن یورپ ان کے دامِ فریب کا شکار ہو کر رہے گا:
|
تاک میں بیٹھے ہیں مدّت سے یہودی سود خوار |
جن کی روباہی کے آگے ہیچ ہے زورِ پلنگ |
|
خود بخود گرنے کو ہے پکّے ہوئے پھل کی طرح |
دیکھیے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ |
اپنی دوسری نظم ’’یورپ اور یہود‘‘ میں یہی خیال ظاہر فرماتے ہیں:
|
ہے نزع کی حالت میں یہ تہذیب جواں مرگ |
شاید ہوں کلیسا کے یہودی متولّی! |
5؍ جون 67ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد یہودی اور یہود نواز حلقوں کی ایک رائے یہ سننے میں آ رہی ہے کہ یہودیوں کو عرب نے ان کے وطن سے نکالا تھا، اس لیے اگر انھوں نے اپنا وطن دوبارہ زبردستی لے لیا ہے، تو اس میں ان کا کیا قصور، یہ سرزمین تو جیسا کہ صیہونی (ZOINISTS) کہتے ہیں ارضِ موعودہ (PROMISED LAND) ہے، جہاں ہر یہودی کا آنا ضروری ہے۔
اقبال نے اپنے خطوط و بیانات میں اس کا جواب دیا تھا کہ یہودی فلسطین سے اپنی مرضی سے نکلے تھے اور یہ ’’خروج‘‘ عربوں کی فتحِ فلسطین سے پہلے ہی ہو چکا تھا، تاہم اقبال نے یہودیوں کے اس دعوے کو تسلیم کرتے ہوئے ایک چبھتا ہوا سوال یہ اٹھا دیا کہ اگر فلسطین پر یہودیوں کا حق ہے تو عربوں کا حق اسپین اور سسلی اور دوسرے یورپین مفتوحہ علاقوں پر کیوں نہیں ہو سکتا ہے۔ یہودیوں کا یہ دعویٰ ایسا ہی ہے، جیسے ریڈ انڈین امریکہ پر اور ہُن، گاتھ اور گال قومیں برطانیہ پر دعویٰ کر دیں یا ہندوستان کے آریہ ایران اور روس پر دعویٰ کر دیں کہ ان کا وطنِ اصلی واپس دیا جائے — اقبال کی نظر میں یہ تاریخ پر ظلم، اس کے ساتھ مذاق اور اسے اپنی مرضی سے بدلنے کی مضحک کوشش ہے۔ اگر انھیں وطن دینا ہی ہے تو جرمنی میں دینا چاہیے جہاں سے وہ نکالے گئے۔ اپنے دعویٰ سے ہزار سالہ دستبرداری اور خاموشی کے بعد یہودیوں کا نیا دعویٰ بالکل بے دلیل ہے اور اس کے پیچھے مغرب کا ہاتھ ہے:
|
ہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق |
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عرب کا |
|
مقصد ہے ملوکیتِ انگلیس کا کچھ اور |
قصہ نہیں تاریخ کا یا شہد و رطب کا! |
